Al-Risala · February 1981

جدید انقلاب کی اسلامی اہمیت

Al-Risala, February 1981, pp. 24–26

By Maulana Wahiduddin Khan

جدید مغربی انقلاب ، اپنی عمومی حیثیت میں ، خود اسلام کا پیدا کردہ تھا۔ اس کے نتائج اسلامی نقطۂ نظر سے بے حد اہم تھے۔ اس انقلاب نے دنیوی اعتبار سے اس دعا کی تکمیل کر دی تھی جس کو خدا نے ان الفاظ میں ہمیں تلقین کیا تھا: اے ہمارے رب، ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے پچھلے لوگوں پر ڈالا (بقرہ) اس انقلاب کے نتیجہ میں زندگی کے نظام میں ہمارے موافق جو تبدیلیاں ہوئیں وہ خاص طور پر یہ تھیں :

قدیم زمانے کے بادشاہ لوگوں میں یہ عقیوہ بٹھاکر حکومت کرتے تھے کہ وہ سورج دیوتا یا چاند دیوتا کی یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں توحید کی دعوت فوراُ سیاسی اقتدار کی حریف بن جاتی تھی اور مشرک بادشاہوں کے ظلم کا نشانہ بنتی تھی۔ شرک کی تردید کو وہ اپنے حق حکمرانی کی تردید کے ہم معنی سمجھتے تھے۔ انقلاب کی تکمیل کے طور پر یورپ میں جو جمہوری انقلاب آیا ہے اس نے اس نزاکت کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا کیونکہ آج کا حکمراں عوامی رائے سے حکمرانی کا حق حاصل کرتا ہے نہ کہ خدا کے ساتھ اپنا مفروضہ الوہی رشتہ جوڑ کر۔ نے تاریخ میں پہلی بار یہ امکان کھول دیا کہ توحید کی تبلیغ اس اندیشہ کے بغیر کی جائے کہ پہلے ہی مرحلہ میں غیر ضروری طور پر اس کا ٹکراؤ سیاسی ادارہ سے ہو جائے اور وہ اس کو کچل کر رکھ دے، جیسا کہ اسلام سے پہلے ساری تاریخ میں ہوتا رہا ہے۔

قدیم زمانے میں مظاہر فطرت (سورج، چاند، دریا وغیرہ) کو مقدس سمجھا جاتا تھا۔ توحید کی بنیاد پر ہونے والے اسلامی انقلاب اور اس کے زیر اثر پیدا ہونے والے مغرب کے سائنسی انقلاب کے بعد یہ ہوا کہ فطرت کے واقعات خدائی مظاہر کے بجائے عام مادی مظاہر سمجھے جانے لگے۔ جو چیز پہلے پوجنے کی چیز سمجھی جاتی تھی وہ اب تحقیق و تجسس کی چیز بن گئی۔ اس کے نتیجہ میں جدید سائنسی اور تکنیکی انقلاب پیدا ہوا جس نے بے شمار نئی طاقتیں انسان کے قبضہ میں دے دیں۔ اس انقلاب کے ذریعہ تیز رفتار سواریاں وجود میں آئیں اور جدید ذرائع ابلاغ (پریس، ریڈیو وغیرہ) تک انسان کی دسترس ہوئی۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوگیا کہ کسی عقیدہ کی تبلیغ عالمی اور بین الاقوامی سطح پر کی جاسکے۔ خدا کے دین کی دعوت مقامی دعوت کے مرحلہ سے گزر کر عالمی دعوت کے مرحلہ میں داخل ہوگئی۔

اس انقلاب کے ذریعہ کائنات کے دہ چھپے ہوئے حقائق سامنے آئے جو توحید اور اس سے متعلق نظریات کے حق میں علمی اعلیٰ دلائل فراہم کر رہے ہیں۔ جنہوں نے قرآن کے کائناتی اشاروں کو کھول کر ہر ایک کے لئے انھیں قابل فہم بنا دیا ہے۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار وہ دور آیا جب کہ کائناتی نشانیاں معجزہ کا بدل دینی حقیقتوں کو مشاہداتی دلائل کی سطح پر ثابت کیا جا سکے۔

پھر اسی انقلاب کے ذریعہ تاریخ میں پہلی بار معاملات پر غور و فکر کا سائنسي، بالفاظ دیگر، واقعاتی نقطہ نظر پیدا ہوا۔ کائنات کا علم صرف اسی وقت حاصل ہوسکتا تھا جب کہ انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں اس پر غور کیا جائے۔ اس لئے اس کے اثر سے علمی دنیا میں یہی عام ذہن بن گیا۔ اب واقعات کو واقعات کی رو سے دیکھا جانے لگا نہ کہ خوش عقیدگی یا توہمات کے اعتبار سے۔ اب یہ فضا پیدا ہوئی کہ مذہب کی خالص علمی اور تاریخی تحقیق کی جائے۔ اسی انداز مطالعہ کا یہ نتیجہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں علمی سطح پر یہ تسلیم کر لیا گیا کہ اسلام کے سوا جتنے

مذاہب ہیں سب کے سب غیر تاریخی (اور اس بنا پر ناقابل اعتبار) ہیں۔ مذاہب کے درمیان جس مذہب کو تاریخی اعتباريت کا درجہ حاصل ہے وہ صرف اسلام ہے (ملاحظہ ہو دی بائبل دی قرآن اینڈ سائنس) مغرب کا غلبہ مسلم دنیا پر مسلم دنیا نے صلیبی جنگوں (۱۲۱۱ء - ۱۰۹۵) میں مسیحی یورپ پر فتح پائی تھی۔ مگر اس فتح کے بعد ہی برعکس عمل بھی شروع ہو گیا۔ مسیحی یورپ نے محسوس کیا کہ اس کی شکست کا سبب علمی اور فکری میدان میں مسلم دنیا سے اس کا پیچھے ہونا تھا۔ چنانچہ صلیبی جنگوں کے بعد یورپ نے تیزی سے مسلمانوں کے علوم اور عربی زبان کو سیکھنا شروع کر دیا۔ بعد کی صدیوں میں جب مسلم دنیا کے اہل علم یورپ کے ملکوں میں منتقل ہوئے تو وہاں عمل اور تیزی سے جاری ہو گیا۔ بالآخر مغرب کی ترقی اس نوبت کو پہنچی کہ وہ علم و عمل کے تمام شعبوں میں مسلم قوموں سے آگے اب اس نے مسلم ممالک میں داخل ہونا شروع کیا اور انیسویں صدی تک یہ حال ہوا کہ تقریباً تمام مسلم دنیا پر مغربی قوموں کا تسلط قائم ہو گیا۔

یہی سیاسی حادثہ اس بات کا سبب بن گیا کہ مذکورہ قیمتی امکانات اسلامی دعوت کے حق میں استعمال نہ ہو سکیں۔ صلیبی جنگوں میں ہاری ہوئی قوموں کو دوبارہ مسلم علاقوں میں گھستے ہوئے دیکھ کر لوگ بچھاٹھے ساری مسلم دنیا میں مغرب کے خلاف سیاسی زور آزمائی شروع ہو گئی۔ حتیٰ کہ بہت سے لوگ سیاسی مقابلہ آرائی ہی کو عین اسلام ثابت کرنے لگے تاکہ لوگ جب اجنبی حکمرانوں سے لڑ کر فارغ ہوں تو خود اپنے ملکی حکمرانوں کے خلاف مقدس سیاسی جہاد چھیڑ دیں۔ اس فضا میں کسی کو یہ سوچنے کا موقع ہی نہ ملا کہ جدید دنیا نے کچھ نئے امکانات کھولے ہیں اور وہ اسلام کے حق میں کامیابی کے ساتھ استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ جدید مواقع انتظار کرتے رہے کہ ہم ان کو استعمال کر کے اسلام کی دعوت کو سارے عالم میں پھیلا دیں اور نتیجہ خدا کی نصرت کے مستحق ہوں۔ ہماری سیاسی نفسیات نے ہم کو اُدھر توجہ دینے کی فرصت ہی نہ دی۔

Printed page