Al-Risala · February 1981

مسلم دنیا میں سیاسی ردعمل

Al-Risala, February 1981, pp. 27–28

By Maulana Wahiduddin Khan

چودھویں صدی ہجری کا آغاز اس وقت ہوا جب کہ انیسویں صدی عیسوی کا خاتمہ ہو رہا تھا۔ اعتبار سے چودھویں صدی ہجری اسلامی تاریخ کی اہم ترین صدی تھی۔ کیوں کہ یہ اس وقت آئی جب کہ اسلامی انقلاب کے بعد شروع ہونے والا عمل اپنی آخری تکمیل کے مرحلہ تک پہنچ گیا تھا۔ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جس عالمی ہدایت کا دروازہ کھولا تھا، اس کو بروئے کار لانے کے حالات اور ضروری وسائل اپنی کامل صورت میں مہیا ہو کر ہمارے سامنے آ چکے تھے۔ مگر تاریخ کا غالباً یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ یہ دروازہ عین اس وقت خود مسلمانوں کے ہاتھوں بند ہو گیا جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں کھولا تھا۔ جدید انقلاب نے یورپ کو جو طاقتیں دی تھیں ان کو اس نے اسی طرح اپنے قومی عزائم کی تکمیل کے لئے استعمال کیا جس طرح کوئی بھی قوم ان حالات میں کرتی ہے۔ مغربی قوموں کی دسترس جیسے ہی جدید طاقتوں پر ہوئی ان کے یہاں وہ چیز وجود میں آئی جس کو مغربی استعمار کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنے جغرافیہ سے نکل کر خشکی اور تری میں اپنے جھنڈے گاڑے۔ قوموں کے درمیان اپنی تہذیب پھیلائی۔ جن لوگوں نے ان کے راستہ میں رکاوٹ ڈالی ان کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا۔ مغربی قوموں کے ان عزائم کا براہ راست شکار ہونے والے زیادہ تر مسلمان کیونکہ اس وقت یورپ کے باہر اکثر آباد دنیا مسلمانوں ہی کے زیرِ اقتدار تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ چیز جس کو ہم نے اسلامی انقلاب کا سیکولر نتیجہ کہا ہے، اس کا تعارف مسلمانوں سے اپنے پہلے ہی مرحلہ میں اس حیثیت سے ہوا گویا کہ وہ ایک دشمن طاقت ہے جو مسلمانوں کو ان کی تمام عظمتوں سے محروم کر کے ان کو ایک مغلوب اور پسماندہ قوم بنا دینا چاہتی ہے۔ مغربی انقلاب کا افادی پہلوان کی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا، وہ اس کو اپنے سیاسی اور اقتصادی حریف کی حیثیت سے دیکھنے لگے۔

چودھویں صدی ہجری اسلام کی پوری تاریخ میں پہلی صدی تھی جب کہ یہ امکان پیدا ہوا تھا کہ اسلام

کی دعوت توحید کو تیسر (آسانی) کے حالات میں انجام دیا جائے جب کہ اس سے پہلے صرف عُسر (سختی) کے حالات ہی میں اس کو انجام دینا ممکن ہوتا تھا۔ اسی طرح یہ واقعہ بھی پہلی بار ہوا کہ خود انسان کے اپنے مسلمات کے مطابق اسلام کا دیگر ادیان کے مقابلہ میں واحد معتبر دین ہونا ثابت کیا جائے اور اس کو اعلمی ترین علیٰ شواہد سے اس طرح مدلل کر دیا جائے کہ کسی کے لئے انکار کی جرات باقی نہ رہے۔ نیز اس صدی میں پہلی بار تیز رفتار سواریاں اور تبلیغ کے جدید ذرائع انسان کے قبضہ میں آئے جن سے کام لے کر اسلام کے پیغام کو بین الاقوامی سطح پر پھیلایا جا سکتا تھا۔ مگر جو قومیں ان خدائی برکتوں کو ہماری طرف لا رہی تھیں وہ اتفاقی حالات کے نتیجہ میں ہماری سیاسی حریف بن گئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ساری مسلم دنیا مغرب کے بارے میں مخالفانہ نفسیات کا شکار ہو گئی ، مغرب کی طرف سے آنے والے انقلاب کا افادی پہلو اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ حالاں کہ خدا نے مسلمانوں کے لئے ایسا امکان کھو لا تھا کہ وہ خود مغرب کے پیدا کردہ حالات کو اپنے دعوتی مقاصد میں استعمال کر کے مغرب کو نظریاتی طور پر فتح کر سکتے تھے۔ اگر مسلمانوں نے بروقت اس دانش مندی کا ثبوت دیا ہوتا تو چودھویں صدی ہجری میں وہ واقعہ دوبارہ نئے انداز سے پیش آتا جو آٹھویں صدی ہجری میں تاتاری فاتحین کے خادمان اسلام بن جانے کی صورت میں پیش آ چکا ہے۔

Printed page