فخر نہیں ذمہ داری
Al-Risala, February 1981, pp. 29–31
By Maulana Wahiduddin Khan
پاکستان کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے یکم اکتوبر ۱۹۸۰ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک تقریر کی۔ ان کی ڈیڑھ گھنٹہ کی یہ تقریر ان کے اپنے الفاظ میں دنیا بھر کے ۹۰ کروڑ مسلمانوں کے نمائندہ کی حیثیت سے تھی۔ ان کی لکھی ہوئی تقریر کا ایک پیراگراف یہ تھا:
As they enter the 15th Century Hijra, the Islamic peoples, who have rediscovered their pride in their religion, their great culture and their unique social and economic institutions, are confident that the advent of this century would mark the beginning of a new epoch, when their high ideals of peace, justice, equality of man, and their unique understanding of the universe, would once again enable them to make a worthy contribution to the betterment of mankind. اب کہ اسلامی قومیں پندرہویں صدی ہجری میں داخل ہورہی ہیں، انہوں نے اپنے مذہب، اپنے عظیم کلچر اور اپنے بے مثل سماجی اور معاشی اداروں میں اپنے فخر کو دوبارہ دریافت کر لیا ہے۔ ان کو یقین ہے کہ اس صدی کا آغاز ایک نئے عہد کی ابتدا ثابت ہوگا جب کہ امن، انصاف، انسانی برابری اور کائنات کے بارے میں ان کا بے مثل شعور ان کو دوبارہ اس قابل بنائے گا کہ وہ انانیت کی بھلائی میں قابل قدر حصہ ادا کر سکیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے یہ بات موجودہ مسلمانوں کی تعریف کے طور پر کہی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اسی میں مسلمانوں کا وہ المیہ بھی چھپا ہوا ہے جس نے موجودہ زمانہ میں ان کی تمام اسلامی کوششوں کو بے قیمت بنا دیا ہے۔ آج ساری مسلم دنیا میں اسلام کے نام پر زبر دست سرگرمیاں جاری ہیں مگر یہ ساری دھوم فخر (Pride) کے پر پر ہے نہ کہ ذمہ داری کے طور پر۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیوی سرگرمی فخر کے احساس کی بنیاد پر اٹھتی ہے (حدید:۲۳) اور اخروی سرگرمی عبدیت کے احساس کی بنیاد پر (ذاریات:۵۶) فخر سے انسانیت اور مطالبہ کا جذبہ ابھرتا ہے اور عبدیت سے عجز اور ذمہ داری کا۔ اسلامی تحریک وہ ہے جو جہنم سے ڈرانے کے لیے اٹھے۔ مگر موجودہ زمانہ کی
اسلامی تحریکیں دنیا میں بڑائی حاصل کرنے کے جذبہ سے اٹھی ہیں۔ قومی سربلندی کے احساس نے ان کو کھڑا کیا آج کے مسلمانوں کے لئے اسلام ایک ناز کی چیز ہے نہ کہ حقیقت آخرت کی صراط مستقیم۔ یہ واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ یہ تحریکیں مسلمانوں کی قومی تحریکیں ہیں نہ کہ حقیقی معنوں میں اسلامی تحریکیں مسلمانوں کے یہاں آج جس مذہب کی دھوم ہے وہ قومی مذہب ہے نہ کہ خدائی مذہب۔ کیونکہ قومی مذہب سے ہمیشہ فخر کی نفسیات ابھرتی ہے اور خدائی مذہب سے ذمہ داری کی نفسیات۔
حقیقی اسلام آدمی کے اندر عجز اور تواضع پیدا کرتا ہے اور جہاں عجز اور تواضع ہو وہاں گویا ساری بھلائیاں جمع ہوگئیں۔ کیونکہ ہر خرابی کی جڑ کبر اور ہر اچھائی کی جڑ عجز ہے ایسے افراد میں ان کے اسلام کے لازمی نتیجہ کے طور پر خدا کا خوف، آخرت کی طلب، باہمی اتحاد، ایک دوسرے کی خیر خواہی، شکایتوں سے درگزر کرنا، تعمیری کاموں کی طرف توجہ اور حقوق کے مقابلہ میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ اور جس سماج میں ایسی نفسیات والے انسان قابل لحاظ تعداد میں پیدا ہو جائیں وہ اپنے آپ دنیا میں سب سے اونچا مقام حاصل کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس قومی اسلام آدمی کے اندر فخر و ناز کی نفسیات پیدا کرتا ہے اور جہاں فخر و ناز کے جذبات ہوں وہاں گویا تمام برائیاں جمع ہوگئیں۔ ایسے افراد کے اندر انانیت، آخرت سے بے خوفی، اپنی غلطیوں کو دیکھنے کے بجائے دوسروں کا احتساب اور پھر ان کیفیات کے نتیجہ میں اختلاف اور باہمی ٹکراؤ عام ہو جاتا ہے۔ وہ خاموش تعمیری کام کے مقابلہ میں نمائشکی کاموں کی طرف رغبت رکھتے ہیں۔ وہ پیچھے چلنے کے بجائے ہمیشہ آگے چلنے کے خواہاں رہتے ہیں۔ وہ اپنے معمولی کام کو بڑے بڑے الفاظ میں بیان کرتے ہیں تاکہ اپنے برتری کے جذبہ کو تسکین دے سکیں۔ اسلام ایسے لوگوں کے درمیان کرنے سے زیادہ کہنے کی چیز ہوتا ہے۔ اور جہاں ایسا اسلام ہو وہاں لوگوں کے اوپر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے نہ کہ خدا کی رحمت و نصرت۔
یہودیوں کی صہیونی تحریک قدیم اسرائیلی عظمت کو واپس لانے کی تحریک ہے۔ ہندوؤں کی آرایس ایس تنظیم اپنے شان دار ماضی کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے اٹھی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی بھی ایک پر فخر دنیوی تاریخ ہے اور موجودہ زمانہ کی مسلم تحریکیں کسی نہ کسی اعتبار سے اسی پر فخر ماضی کو واپس لانے کے جذبہ سے ابھری ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہودیوں اور ہندوؤں کی تحریکیں مذہبی اصطلاحات استعمال کرنے کے باوجود حقیقی معنوں میں مذہبی تحریکیں نہیں ہیں، وہ یقینی طور پر صرف قومی تحریکیں ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کی اسی قسم کے جذبات کے تحت اٹھنے والی تحریکیں بھی محض اس لئے اسلامی تحریکیں نہیں بن جائیں گی کہ وہ اپنے مقصد کو اسلامی الفاظ میں بیان کرتی ہیں۔ کے عمل کو حقیقت کے اعتبار سے دیکھتا ہے نہ کہ ظاہر کے اعتبار سے۔ جو تحریک قومی نفسیات کے ساتھ اٹھے وہ خدا کی نظر میں قومی تحریک ہی رہے گی، اس کا قرآن و حدیث کے الفاظ استعمال کرنا کسی بھی طرح اس کو اسلامی
تحریک کا مقام نہیں دے سکتا۔ اور نہ اس پر خدا کے وہ وعدے پورے ہو سکتے جو صرف حقیقی اسلامی تحریک کے لئے مقدر ہیں۔