Al-Risala · February 1981

کرنے کا کام

Al-Risala, February 1981, pp. 31–32

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام چونکہ آخری دین ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے وجود کے اعتبار سے قیامت تک باقی اسی لئے دین کا تحفظ بھی ایک ضروری اور مطلوب کام ہے۔ موجودہ زمانہ کسی بعض تحریکوں نے اس اعتبار سے یقیناً مفید خدمات انجام دی ہیں، وہ اسلام کے فکری اور عملی نقشہ کی محافظ ثابت ہوئی ہیں۔ بعض ادارے قرآن اور حدیث اور اسلامی مسائل کے علم کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ بعض جماعتیں اسلامی عبادات کے ڈھانچہ کو ایک نسل سے دوسری تک پہنچانے کا کام کر رہی ہیں۔ کچھ اور ادارے قرآن وحدیث کا متن صحت و صفائی کے ساتھ چھاپ کر ہر جگہ پھیلا رہے ہیں۔ یہ تمام کام بجائے خود مفید ہیں مگر بہر حال وہ تحفظ دین کے کام ہیں نہ کہ دعوت دین جہاں تک اسلام کو دعوتی قوت کی حیثیت سے زندہ کرنے کا سوال ہے وہ موجودہ زمانہ میں ابھی تک واقعہ نہ بن سکا۔ حتی کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو شاید اس کا شعور بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر ایسے کاموں کو اسلامی دعوت کا عنوان دے دیتے ہیں جن کا اسلامی دعوت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

پندرہویں صدی ہجری میں کی حقیقی اسلامی کام کے آغاز کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم اس صورت حال کو ختم کریں جس نے ساری دنیا میں اسلامی تحریک کو سیاسی تحریک کے ہم معنی بنا رکھا ہے مسلمان ہر ملک میں وقت کے حکمرانوں کے خلاف شور و شر برپا کرنے میں مشغول ہیں کہیں ان کی یہ تحریک غیر مسلم اقتدار کے خلاف برپا ہے اور کہیں مسلم اقتدار کے خلاف کہیں وہ مسلح جدوجہد کے روپ میں ہے اور کہیں زبانی اور قلمی احتجاج کے روپ میں۔ وہ ایک اسلامی سیاسی فلسفہ کے زیر سایہ کام کر رہی ہے اور کہیں فلسفہ اور نظریہ کے بغیر متحرک ہے۔ کہیں اس نے علی عنوان اختیار کر رکھا ہے اور کہیں نظامی عنوان ۔ تاہم سارے فرق و اختلاف کے باوجود نتیجہ سب کا ایک ہے۔ جدید امکانات کو دعوت توحید اور انذار آخرت کے لئے استعمال نہ کرنا اور اپنی قوتوں کو بے فائدہ طور پر مفروضہ حریفوں کے خلاف محاذ آرائی میں ضائع کرتے رہنا۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں بالکل الٹی کارکردگی کا ثبوت دیا ہے خدا نے دعوت حق کی راہ سے سیاسی رکاوٹ کو دور کر کے انھیں موقع دیا تھا کہ وہ آزادانہ حالات میں خدا کے تمام بندوں تک خدا کا پیغام پہنچا دیں۔ وہ خدا کے بندوں کو خدا کی اس اسکیم سے باخبر کر دیں جس کے تحت اس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جس کے مطابق وہ ایک ایک شخص کا حساب لینے والا ہے۔ مگر انھوں نے دوبارہ نئے نئے عنوان سے اپنے خلاف سیاسی رکاوٹیں کھڑی کر لیں۔ خود ساختہ سیاسی جہاد میں ہر ایک مشغول ہے ، مگر دعوتی جہاد میں اپنا حصہ ادا کرنے کی فرصت کسی کو نہیں۔

قرآن میں ہے کہ اللہ اس کی مدد کرتا ہے جو اللہ کی مدد کرے (حج : ۴۰)۔ ہر دور میں خدا اپنے دین کے حق میں کچھ امکانات کھولتا ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ کچھ لوگ ہوں جو خدا کے اشارہ کو سمجھیں اور خدا کے منصوبہ میں اپنے آپ کو شامل کر دیں۔ صحابہ کرام وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے اپنے زمانہ میں خدائی منصوبہ کو سمجھا اور اپنے آپ کو پوری طرح اس کے حوالہ کر دیا۔ اس کا نتیجہ وہ عظیم انقلاب تھا جس نے انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا۔

بارش کا آنا خدا کے ایک منصوبہ کا خاموش اعلان ہے۔ یہ کہ آدمی اپنا بیج زمین میں ڈالے تاکہ خدا اپنے کائناتی انتظام کو اس کے موافق کرکے اس کے بیج کو ایک پوری فصل کی صورت میں اس کی طرف لوٹائے۔ کسان اس خدائی اشارہ کو فوراً سمجھ لیتا ہے اور اپنے آپ کو اس خدائی منصوبہ میں پوری طرح شامل کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ ایک لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت میں اس کو واپس ملتا ہے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں، ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں، اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے حق میں کچھ نئے مواقع کھولے تھے۔ یہ مواقع کہ اقتدار کا حریف بنے بغیر توحید اور آخرت کی دعوت کو عام کیا جائے۔ جو کام پہلے معجزاتی سطح پر انجام دینا پڑتا تھا، اس کو عام طبیعیاتی استدلال کی سطح پر انجام دیا جائے۔ جو کام پہلے تعصب کے ماحول میں کرنا پڑتا تھا اس کو مذہبی رواداری کے ماحول میں کیا جائے۔ جو کام پہلے حیوانی رفتار سے کیا جاتا تھا اس کو مشینی رفتار کے ساتھ انجام دیا جائے۔ یہ موجودہ زمانہ میں خدا کا منصوبہ تھا۔ خدا نے سارے بہترین امکانات کھول دئے تھے اور اب صرف اس کی ضرورت تھی کہ خدا کے کچھ بندے ان کو استعمال کرکے ان امکانات کو واقعہ بننے کا موقع دیں۔ مگر مسلم قیادت خدا کے اس منصوبہ میں شامل ہونے کے لئے تیار نہ ہوئی۔ اس نے نئے نئے عنوانات کے تحت وہی سیاسی جھگڑے دوبارہ چھیڑ دئے جن کو خدا نے ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں ختم کیا تھا۔ انھوں نے اسلامی دعوت کو سیاسی اور قومی دعوت بنا کر دوبارہ اسلام کو اقتدار کا حریف بنا دیا اور کہا کہ یہی عین خدا کا پسندیدہ دین ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدعو قوموں کے ساتھ ہر جگہ بالکل بے فائدہ قسم کی مقابلہ آرائی شروع ہوگئی اور سارے نئے امکانات غیر استعمال شدہ حالت میں پڑے رہ گئے۔ کام کی ایک سوسال سے بھی زیادہ لمبی مدت مسلمانوں نے کھو دی۔ یہاں تک کہ شیطان نے بیدار ہو کر قدیم شرک کی جگہ جدید شرک (کمیونزم) کی صورت میں کھڑا کر دیا۔ اب کم از کم کمیونزم کے زیر تسلط علاقوں میں دوبارہ کام کرنے کی وہی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں جو اس سے پہلے شرک کے زیر تسلط علاقوں میں پائی جاتی تھیں۔ تاہم غیر کمیونسٹ دنیا میں اب بھی کام کے مواقع کھلے ہوئے ہیں اور یہاں پندرھویں صدی ہجری میں اس صالح جدوجہد کا آغاز کیا جاسکتا ہے جو چودھویں صدی ہجری میں نہ کیا جاسکا۔

نوٹ: یہ مقالہ اسلامی سمینار (بھوپال) میں ۱۸ جنوری ۱۹۸۱ء کو پڑھا گیا۔

Printed page