پھر بھی انھیں الفاظ مل گئے
Al-Risala, March 1983, pp. 7–8
By Maulana Wahiduddin Khan
مکہ کے سردار قبیلہ بنی ہاشم سے مطالبہ کرتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے کر دیں تاکہ وہ آپ کو قتل کر دیں۔ مگر بنو ہاشم کے سردار ابو طالب نے کہا: خدا کی قسم محمد کو ہم تمہارے حوالے نہیں کریں گے، یہاں تک کہ ہمارا ایک ایک شخص ہلاک ہو جائے۔ بالآخر نبوت کے ساتویں سال قریش نے بنو ہاشم کے خلاف بائیکاٹ کا معاہدہ لکھا جو کعبہ کے اندر آویزاں کیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بنو ہاشم مجبور ہوئے کہ مکہ کے باہر ایک گھاٹی (شعب بنی المطلب) میں پناہ لیں یہ بے حد سخت امتحان تھا۔ گھر کا اندوختہ شروع کے کچھ دنوں میں کام آتا رہا۔ اس کے بعد یہ نوبت آگئی کہ درخت کی جڑوں اور پتوں سے لوگ پیٹ بھرنے لگے۔ باہر کا قافلہ مکہ آتا تو آپ کے ساتھی بازار جاتے کہ کچھ کھانے پینے کا سامان خرید کر لائیں۔ مگر ابو لہب نکل کر تاجروں سے کہتا کہ تم لوگ محمد کے ساتھیوں کو اتنی زیادہ قیمت بتاؤ کہ وہ خریدنے سے عاجز رہیں۔ چنانچہ وہ قیمتیں بہت بڑھا دیتے اور آپ کے ساتھی اس حال میں واپس آتے کہ ان کے بچے بھوک سے رو رہے ہوتے اور ان کا پیٹ بھرنے کے لئے ان کے پاس کچھ نہ ہوتا۔
جب تین سال گزر گئے تو ایسا ہوا کہ دیمک کعبہ کے اندر داخل ہوئی اور مذکورہ ظالمانہ معاہدہ (صحیفہ) کو کھا گئی۔ اللہ کے نام کے سوا اس میں کچھ باقی نہ رہا۔ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر کر دی ۔ آپ نے ابو طالب سے اس کو بیان کیا۔ ابو طالب نے کہا، کیا آپ کے رب نے آپ کو اس سے باخبر کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا۔ اس کے بعد ابو طالب قریش کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ میرے بھتیجے نے مجھے بتایا ہے ، اور وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا ، کہ تمہارے صحیفہ پر خدا نے دیمک مسلط کر دی اور وہ اس کی تمام ظلم و جور کی دفعات کو کھا گئی، اب اس میں صرف خدا کا نام باقی رہ گیا ہے، اس لئے تم لوگ کعبہ کا دروازہ کھول کر اس صحیفہ کو دیکھو۔ اگر یہ بات صحیح ہو تو تم کو چاہئے کہ تم اپنے ظلم سے باز آجاؤ۔ قریش کے سردار اس پر راضی ہو گئے۔ انھوں نے کعبہ کا دروازہ کھول کر صحیفہ نکالا تو واقعہ وہ خبر بالکل صحیح تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دی تھی، مگر اس کے باوجود وہ اپنے ظلم اور سرکشی سے باز نہ آئے اور ابو طالب سے کہا : یہ تمہارے بھتیجے کا جادو ہے (دھن اسحر
چھوڑی ہوئی سنت عاصلمُ صلّ الله عِليهِ وسلم كَ سنّ ِ ولادت میں ھے ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مکی دور میں قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت ترین دشمن بنے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ آپ پھر بھی ان کی نصیحت اور خیر خواہی میں لگے ہوئے تھے۔ آپ برابر ان کی ہدایت اور نجات کے لئے دعا کرتے رہتے (يبذل لهم النصيحة ويدعوهم الى النجاة مما هم
اسی زمانہ کا واقعہ ہے کہ طفیل بن عمر والدوسی مکہ آئے۔ قریش نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس طرح بدگمان کر دیا کہ وہ آپ سے ملتے ہوئے ڈرتے تھے۔ تاہم ایک روز انھوں نے بیت اللہ میں آپ سے قرآن سنا اور اس سے اتنا متاثر ہوئے کہ مسلمان ہو گئے۔ اس کے بعد طفیل بن عمر والدوسی اپنے وطن گئے۔ وہاں انھوں نے اپنے قبیلہ والوں کو اسلام کی دعوت دی۔ مگر باپ اور بیوی کے سوا کسی نے اسلام قبول نہ کیا۔ وہ دوبارہ مکہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انھوں نے قبیلہ دوس کے بارے میں سخت تاثر کا اظہار کیا۔ اس سلسلہ میں ابن اسحاق نے ان کی جو روایت نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:
ثم دعوت دو سا الى الاسلام فأبطو اعلی ثم جئت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم بمکۃ فقلت له يانبي الله انه قد غلبنى على دوس الرنا فادع الله عليهم فقال اللھم اھد دوسًا، ارجع الى قومك فادعھم و ارفق بھم (سيرة ابن هشام)
پھر میں نے قبیلہ دوس کو اسلام کی دعوت دی ، مگر انھوں نے ماننے میں دیر کی ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مکہ آیا اور آپ سے کہا کہ اے خدا کے رسول ، قبیلہ دوس کھیل تماشے میں منہمک ہے ، اس کے لئے بد دعا کیجئے ۔ آپ نے فرمایا ، اے اللہ قبیلہ دوس کو مجھ سے فرمایا کہ تم اپنی قوم کی طرف واپس اس کو اسلام کی دعوت دو اور اس کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔
کہنے والے نے آپ سے بددعا کی درخواست کی تھی مگر آپ اس کے جواب میں دعا کرنے لگے ۔