صحابی کی توبہ
Al-Risala, March 1983, pp. 11–12
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھوتا ہے تو وہ فوراً چو نک پڑتے ہیں، پھر اسی وقت ان کو سوجھ آجاتی ہے۔ اور جو شیطان کے بھائی ہیں وہ ان کو گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں، پھر وہ کمی نہیں کرتے (الاعراف ۲۰۲۔ اللہ کا ڈر کس طرح آدمی کو برائی کے وقت چونکا دیتا ہے، اس کی ایک مثال حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر کا واقعہ ہے۔ بنو قریظہ ایک یہودی قبیلہ تھا جو مدینہ کے قریب آباد تھا۔ غزوہ احزاب کے موقع پر معاہدہ کے خلاف بنو قریظہ نے غداری کی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف فوج بھیجی۔ تقریباً ایک مہینہ تک ان کا محاصرہ جاری رہا۔ اس کے بعد بنو قریظہ کی درخواست پر حضرت سعد بن معاذ کو ان کے معاملہ کا حکم بنایا گیا کہ وہ جو فیصلہ کریں فریقین اس کو منظور کر لیں۔
اس دوران میں بنو قریظہ نے حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر انصاری کو بلایا۔ زمانہ جاہلیت میں ابو لبابہ اور بنو قریظہ کے درمیان اچھے تعلقات تھے اور ابھی تک ان سے ان کے مالی معاملات باقی تھے۔ بنو قریظہ کو امید تھی کہ وہ ان کو صحیح مشورہ دیں گے۔ حضرت ابو لبابہ جب بنو قریظہ کے یہاں پہنچے تو بنو قریظہ کے مرد اور عورت اور بچے سب ان کے گرد جمع ہو گئے ۔ ان میں بہت سے رونے لگے۔
بنو قریظہ نے حضرت ابو لبابہ سے پوچھا کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ کیا ہم رسول اللہ کے حکم کو منظور کر لیں اور اس کے فیصلہ پر راضی ہو جائیں۔ یہ بہت جذباتی موقع تھا۔ حضرت ابو لبابہ کو معلوم تھا کہ بنو قریظہ کے لئے قتل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ کیونکہ تورات میں غدر کی سزا یہی ہے۔ تاہم ان کی زبان پر یہ الفاظ نہ آسکے۔ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اپنی حلق پر انگلیاں پھیرتے ہوئے بتایا کہ حکم کو ماننا اپنے آپ کو ذبح کرانا ہے (اشار بید کا الى حلقہ انہ الذبح ، سيرة ابن كثير)
بنو قریظہ سے تعلق کی بنا پر حضرت ابو لبابہ سے یہ عمل ہو گیا۔ مگر اس کے فوراً بعد ان کا جو حال ہوا وہ ان کے اپنے الفاظ میں یہ تھا :
قال ابولبابۃ فو اللہ مازالت قدمای من خدا کی قسم میرے دونوں پاؤں ابھی اپنی جگہ سے ہٹے مکانہما حتی عرفت انی قد خنت اللہ ورسولہ بھی نہ تھے کہ میں نے جان لیا کہ میں نے اللہ اور اُس کے (سیرۃ ابن کثیر) رسول کی خیانت کی ہے۔
حضرت ابو لبابہ احساس جرم لئے ہوئے بنو قریظہ کے یہاں سے لوٹے ۔ چنانچہ وہ اپنے گھر نہیں گئے بلکہ مسجد نبوی پہنچے۔ وہاں انھوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ لیا۔ انھوں نے عہد کیا کہ میں نہ کچھ کھاؤں گا اور نہ کچھ پیوں گا ۔ یہاں تک کہ میری موت آجائے یا اللہ میری توبہ قبول کرلے۔ اسی حال میں ایک ہفتہ مسلسل فاقہ کی وجہ سے غشی طاری ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا : ابو لبابہ اگر سیدھے میرے پاس آجاتے تو میں ان کی بخشش کے لئے دعا کرتا۔ مگر جب وہ ایسا کر گزرے ہیں تو میں اپنے ہاتھ سے ان کو نہ کھولوں گا ، جب تک کہ اللہ کی طرف سے حکم نہ آجائے۔ بالآخر اللہ کی طرف سے توبہ نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کھول کر انھیں آزاد کیا۔
غلطی سچے مومن سے بھی ہوتی ہے اور منافق سے بھی۔ نہ صرف چھوٹی غلطیاں بلکہ بڑی غلطیاں بھی دونوں سے تاہم دونوں کی غلطیوں میں ایک فرق ہے۔ مومن کا حال یہ ہوتا ہے کہ بشری تقاضے کی بنا پر اس سے غلطی تو ہو جاتی ہے۔ مگر جلد ہی بعد وہ چونک اٹھتا ہے۔ اس کا احتساب خویش کا جذبہ اس کو اپنی غلطی پر متنبہ کر دیتا ہے ، اس وقت نہایت شدت کے ساتھ اس کے اوپر برعکس جذبہ طاری ہوتا ہے۔ وقت اگر بظاہر وہ اطاعت خداوندی سے باہر نکل گیا تھا تو اب دگنا شدت کے ساتھ وہ اطاعت خداوندی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ وہ روتا ہے ، وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے ، وہ بے تابانہ چاہنے لگتا ہے کہ کسی طرح وہ اپنی پچھلی غلطی کی تلافی کرے اور آئندہ ایسی غلطی سے اپنے آپ کو بچا کر رکھے۔ اس کے برعکس منافق کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ غفلت کے ساتھ غلطی کرتا ہے اور غلطی کرنے کے بعد بھی بدستور غفلت میں پڑا رہتا ہے۔ اپنی غلطی کے احساس سے اس کے اندر کوئی تڑپ پیدا نہیں ہوتی۔ اس پر شرمندگی اور تلافی کا کوئی طوفان نہیں گزرتا۔ وہ اپنی غلطی کے صرف دنیوی پہلوؤں پر نظر رکھتا ہے نہ کہ ان پہلوؤں پر جو آخرت میں اس کے سامنے ظاہر ہوں گے۔
مومن کی غلطی اس کو خدا سے اور قریب کر دیتی ہے اور منافق کی غلطی صرف اس کو خدا سے دور کرنے کا سبب بنتی ہے۔