Al-Risala · March 1983

Guide to Modern Wickedness, P. 153

Al-Risala, March 1983, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

نفرت اور خوف کے جذبات کو ابھار کر تحریکیں چلانا قرآن کے الفاظ میں عداوت (البقرہ ۳۷) کی بنیاد پر تحریک چلانا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو حدیث میں اندھے جھنڈے اور جاہلی نعرہ کے تحت لڑنا کہا گیا ہے: من قتل تحت رايـة عميـة يغضب جو شخص کسی اندھے جھنڈے کے تحت مارا جائے ، وہ للعصبيـة ويقاتل للعصبيـة نليـس مـن عصبیت کے لئے غصہ کرے اور وہ عصبیت کے لئے

لڑے تو وہ میری امت میں سے نہیں ہے۔

کسی فرد یا گروہ کو برائی کی علامت قرار دے کر اس کے پیچھے پڑنا خود ایک بہت بڑی برائی ہے۔ پھر برائی کے بیج سے بھلائی کا پھل کیسے نکلے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی تحریکیں ، خواہ وہ حق و صداقت کے نام پر اٹھائی گئی ہوں، ہمیشہ منفی تحریکیں ہوتی ہیں۔ اور منفی عمل سے کبھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔ کی دنیا، زمین سے آسمان تک، مثبت سرگرمیوں کی دنیا ہے۔ شہد کے چھتہ سے لے کر عظیم کہکشانی نظاموں تک، ہر جگہ مثبت اصولوں کی کارفرمائی ہے۔ ایسی دنیا میں وہی تحریک نتیجہ خیز ہوگی جو مثبت بنیادوں پر اٹھائی گئی ہو۔ منفی بنیادوں پر کیا جانے والا شعور و غل اور اکھیڑ پچھاڑ ایک قسم کا شیطانی عمل ہے ، اور شیطانی عمل سے ملکوتی نتیجہ ظاہر نہیں ہو سکتا۔

منفی نعرے لے کر اٹھنا شخصی قیادت قائم کرنے کے لئے انتہائی مفید ہے۔ مگر اس قسم کی تحریک اصلاح کے مقصد کے لئے اتنی ہی بے فائدہ ہے۔ ہر تحریک اپنی دعوت اور سرگرمیوں کے مطابق اپنے متاثرین کا ذہن بناتی ہے۔ جو تحریک منفی بنیادوں پر اٹھے وہ یقیناً اپنے عمل کے دوران لوگوں کا ذہن بھی منفی انداز کا بنائے گی۔ پھر ایسے منفی ذہن کے لوگوں کا انجام خدا کی مثبت دنیا میں اس کے سوا کیا ہے کہ وہ یہاں بالکل بے جگہ ہو جائیں اور کوئی کارنامہ انجام نہ دے سکیں۔

Printed page