Al-Risala · January 1983

Rashdall Hastings, Universities, p. 368

Al-Risala, January 1983, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر آدمی کے اندر کوئی خوبی ہو تو مخالف بھی کس طرح اس کو ماننے پر مجبور ہوتا ہے۔ حتی کہ اگر کچھ لوگ تعصب یا ضد میں ابتداءً آپ کو نہ مانیں تو اس نہ ماننے کو بھی مستقل نہ سمجھئے۔ اگر فی الواقع آپ کے اندر کوئی قابل قدر چیز ہے تو جلد وہ دن آئے گا جب نہ ماننے والے کو اپنے نہ ماننے پر پچھتاوا ہو اور دہ دوبارہ آپ کے اعتراف پر مجبور ہو جائے۔ ابن رشد دنیا میں موجود نہ تھا کہ وہ اپنا دفاع کرے یا اپنے حق کے حصول کے لئے احتجاج و مطالبہ کی تاہم اس کا عمل لوگوں کے سامنے موجود تھا۔ پیرس یونیورسٹی کے ذمہ داروں نے ابن رشد کی تعلیم تو بند کر دی۔ مگر بہت جلد ان کو احساس ہوا کہ ابن رشد کی کتابوں کا بدل ان کے پاس موجود نہیں ہے۔ ابن رشد خواہ ان کے لئے ایک غیر مطلوب انسان ہو مگر اپنی نسلوں کی تعلیم تو بہرحال ان کے لئے ایک مطلوب بالآخر انھیں محسوس ہوا کہ ابن رشد کو چھوڑنا صرف اس قیمت پر ممکن ہے کہ خود اپنی نسلوں کی تعلیم ناقص رہ جائے۔ وہ ابن رشد کو نظر انداز کر سکتے تھے مگر اپنے آپ کو نظر انداز کرنا ان کے لئے ممکن نہ تھا۔ چنانچہ انھوں نے ابن رشد کی کتابوں کو دوبارہ اختیار کر لیا۔ کوئی شخص اگر یہ حیثیت حاصل کرلے کہ وہ دوسروں کی ضرورت بن جائے تو دوسرے اس کو نظر انداز نہیں کر سکتے، خواہ یہ دوسرے اس کے حریف کیوں نہ ہوں۔

Printed page