ایک آیت
Al-Risala, March 1983, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۲۵ کے آخر میں خدا کی رحمتوں کا ذکر ہے۔ خدا نے زمین کو انتہائی محکم قانون کے تحت گھارکھا ہے جس سے رات دن اور موسم پیدا ہوتے ہیں۔ وہ حیرت انگیز انتظام کے تحت بارش برساتا رہتا ہے وہ زمین پر انسان کے لئے طرح طرح کا رزق پیدا کرتا ہے۔ وہ سمندر کے کھاری پانی کو میٹھا بنا کر ہماری ضروریات پوری کرتا ہے۔ ایک عجیب و غریب حیاتیاتی نظام کے تحت وہ ہم کو اولاد عطا کرتا ہے۔ اس نے زمین و آسمان کی وسیع کائنات کو حیرت انگیز طور پر ہمارے موافق بنارکھا ہے۔ اس قسم کی نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد
الرحمن فسئل بہ خبیرا وہ بڑی رحمت والا ہے، اس کی شان (رحمت) کسی
جاننے والے سے پوچھو۔
قرآن کی یہ آیتیں تو حید اور آخرت کے اثبات میں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن کائنات میں اتنے کامل طور پر رحمت و قدرت کا نظام قائم ہو اس کے بارے میں یہ گمان کرنا بالکل بے بنیاد ہے کہ اس کا خدا ایک سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ یا اس کا خاتمہ عدل پر نہ ہو گا، اور وہ یوں ہی بے انجام طور پر ختم ہو جائے گی۔ اس ذیل میں فرمایا کہ کائنات میں خدا کی رحمت و قدرت کے نظام کا حال کسی جاننے والے سے پوچھو۔ جو شخص کائنات میں غور و مشاہدہ کر رہا ہو، جس نے کائنات کے نظام میں جھانک کر دیکھا ہو اس سے اس کی تفصیلات پوچھو تو وہ بتائے گا کہ یہ کائنات کیسی کائنات ہے۔ اور اس میں انسان کے لئے کیسے کیسے قیمتی انتظامات کئے گئے ہیں۔
اس کا مصداق موجودہ زمانہ میں سائنس داں بھی ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ وہ سائنس داں جنہوں نے زمین و آسمان کے نظام کا مطالعہ کیا ہے وہ اس کی حکمت و معنویت کو اس قدر حیران کن انداز میں بیان کرتے ہیں کہ ان کو سن کر اور پڑھ کر آدمی کے رونگٹے کھڑے ہوں اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو جائے (ملاحظہ ہو، مذہب اور جدید چیلنج صفحہ ۸۲-۱۸۰)
واضح ہو کہ اس آیت میں سوال کا تعلق اللہ کی "رحمانیت" کو پوچھنے سے ہے نہ کہ دین حق کی بابت
اللہ کی رحمانیت کے واقعات آپ کسی بھی عالم کائنات سے پوچھ سکتے ہیں۔ مگر اللہ کا دین تو صرف پیغمبر ہی کے ذریعہ معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اور اب قیامت تک کے لئے اللہ کے مستند پیغمبر صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
"جاننے والے سے پوچھو ایک عام لفظ ہے۔ جب بھی کسی کلام میں یہ لفظ آئے تو دیکھنا ہوگا کہ کس چیز کے بارے میں پوچھنا مراد ہے۔ جس چیز کی بابت پوچھنا مطلوب ہے اسی چیز کے جاننے والے سے پوچھنا مراد ہوگا نہ کہ کسی دوسری چیز کے جاننے والے سے۔
اس قسم کا سوالیہ اسلوب قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر سورہ انبیاء میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین یہ کہتے تھے کہ یہ تو عام انسانوں کی طرح ایک انسان ہیں (ھل ھذا الا بشر مثلکم) پھر وہ خدا کے پیغمبر کیسے ہو سکتے ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ نبی عربی سے پہلے جس کو بھی ہم نے رسول بنا کر بھیجا انسانوں ہی میں سے بھیجا جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ پس سابق اہل کتاب سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے (فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون)
اس آیت میں اہل ذکر سے مراد یہود ہیں۔ قریش سے کہا جارہا ہے کہ اگر تم کو یہ شبہ ہے کہ رسول انسان کیسے ہو سکتا ہے تو یہود سے پوچھ لو۔ کیونکہ تم جانتے ہو کہ ان کے یہاں کثرت سے پیغمبر آتے رہے ہیں۔ وہ تم کو بتائیں گے کہ ان کے یہاں جتنے پیغمبر آئے سب انسان ہی تھے۔ ان میں سے کوئی بھی فرشتہ یا اور کوئی غیر انسانی مخلوق نہ تھا۔