دین کے نام پر بے دینی
Al-Risala, March 1983, pp. 23–29
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی تین سورتوں (الاعراف، طٰهٰ، الشعراء) میں یہ بات کہی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ کو خدا نے اس کے بعد وہ خدا کے حکم کے مطابق شاہ مصر فرعون کے دربار میں گئے۔ انھوں نے فرعون کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکل کر میرے ساتھ صحرائے سینا میں جانے دے (ارسل معنا بنی اسرائیل) اس کے جواب میں فرعون نے اپنے درباریوں کے سامنے جو تقریر کی اس میں اس نے کہا کہ موسیٰ چاہتے ہیں کہ تم کو تمھارے ملک مصر سے نکال دیں (يريد ان يخرجكم من ارضكم) حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو ساتھ لے کر خود ملک مصر سے نکل جانے کی بات کی تھی۔ مگر فرعون نے لازم کے صیغہ کو متعدی کا صیغہ بنا دیا۔ اس نے کہا کہ موسیٰ ہم لوگوں کو مصر سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ فرعون نے اپنی قوم اور اپنے درباریوں کو موسیٰ کے خلاف بھڑکانے کے لیے آنجناب کی طرف وہ بات منسوب کر دی جو آپ نے خود نہیں فرمائی تھی ۔
فرعون کا کلمہ واضح طور پر شرارت کا کلمہ تھا۔ یہ ویسا ہی تھا جیسے موجودہ زمانہ کے ظالم حکمراں یہ کرتے ہیں کہ اگر وہ کسی شخص سے ناراض ہوں تو وہ اپنی خفیہ پولیس کے ذریعہ اس انکشاف کا اعلان کرتے ہیں کہ وہ حکمراں کو قتل کر کے حکومت پر قبضہ کرنے کی سازش کر رہا تھا۔ اس طرح وہ اپنے اس عمل کے لیے جواز فراہم کرتے ہیں کہ اس شخص کو بغاوت کا مجرم قرار دے کر ہلاک کر دیں ۔
فرعون شرک اور کفر کا علم بردار تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں اسلام کے ایسے علم بردار پیدا ہوئے ہیں جو قرآن سے فرعون کے الفاظ (يريد ان يخرجكم من ارضكم) لے لیتے ہیں۔ اور پھر کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کی دعوت عام معنوں میں صرف ایک دینی دعوت نہ تھی بلکہ وہ سیاسی انقلاب برپا کرنے کا منصوبہ تھا۔ موسیٰ اس لیے اٹھے تھے کہ فرعون کو اقتدار کے تخت سے بے دخل کر کے اس پر قبضہ کریں اور ملک میں حکومت الہیہ کا نظام قائم کریں۔ وہ کلمہ موسیٰ کے بجائے کلمہ فرعون سے پیغمبر کا مشن برآمد کر رہے ہیں۔ فرعون کا کلمہ صرف اس قابل ہے کہ اس کو شرارت کے خانہ میں جگہ ملے۔ مگر جو لوگ فرعون کے کلمہ سے پیغمبر کا مشن برآمد کر رہے ہیں ان کے قول کو آخر کس خانہ میں رکھا جائے ۔
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ يَقَوْمِ إِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمُ مَقَامِي وَتَذْكِيرِي بِايَاتِ اللَّهِ فَعَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَيَّ وَلَا تُنْظِرُونِ ﴿۷۱﴾ فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿۷۲﴾ فَكَذَّبُوهُ فنجیناہ و من مَعَهُ فِي الْفُلْكِ وَجَعَلْنَهُمْ خَلَئِفَ وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا باٰیاتنا ۖ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنذَرِينَ ﴿۷۳﴾ اور ان کو نوح کا حال سناؤ۔ جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم، اگر میرا کھڑا ہونا اور اللہ کی آیتوں سے نصیحت کرنا تم پر گراں ہو گیا ہے تو میں نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ تم اپنا متفقہ فیصلہ کر لو اور اپنے شریکوں کو بھی ساتھ لے لو، تم کو اپنے فیصلہ میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ پھر تم لوگ میرے ساتھ جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر گز رو اور مجھ کو مہلت نہ دو۔ اگر تم اعراض کرو گے تو میں نے تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگی ہے۔ میری مزدوری تو اللہ کے ذمہ ہے۔ اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ پھرا نھوں نے اس کو جھٹلا دیا تو ہم نے نوح کو اور جو لوگ اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی اور ان کو جانشین بنایا۔ اور ان لوگوں کو غرق کر دیا جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا۔ کیا انجام ہوا ان کا جن کو ڈرایا گیا تھا ﴿۷۳ - ۷۱﴾ حضرت نوح قدیم ترین زمانہ کے رسول ہیں۔ وہ جب تک خاموش تھے، قوم ان کی عزت کرتی رہی، مگر جب آپ حق کے داعی بن کر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو بتلانے لگے کہ ایسا کردار و ویسا نہ کرو تو وہ قوم کی نظر میں ایک ناپسندیدہ شخص یہاں تک کہ قوم نے اعلان کر دیا کہ تم اپنی تبلیغ و نصیحت سے باز آؤ ورنہ ہم تم کو اپنی زمین میں نہیں رہنے دیں گے۔ حضرت نوح نے کہا کہ تم لوگ میرے معاملے کو ایک انسان کا معاملہ سمجھتے ہو، اس لئے ایسا کہہ رہے ہو۔ مگر یہ معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ مجھ سے لڑنے کے لئے تم کو خدا سے لڑنا پڑے گا۔ تم کو اگر یقین نہ ہو تو تم اس طرح تجربہ کر سکتے ہو کہ اپنے ساتھیوں اور شریکوں کو ملا کر میرے خلاف کوئی متفقہ منصوبہ بناؤ اور اپنی تمام طاقت کے ساتھ اس کی تعمیل کرگزرو۔ دیکھو گے میرے مقابلہ میں تمھارا ہر منصوبہ ناکام ہے۔ موجودہ دنیا میں داعی حق کی صداقت کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے۔ کوئی بھی اس کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔
جو شخص خدا کی طرف سے حق کی دعوت لے کر اٹھے وہ ہمیشہ نشانی (دلیل) کے زور پر اٹھتا ہے۔ دلیل چونکہ ایک ذہنی چیز ہے اس لئے ظاہر پسند انسان اس کی عظمت کو سمجھ نہیں پاتا۔ وہ ذہنی طور پر لاجواب ہونے کے باوجود اس کے
آگے جھکنے سے انکار کر دیتا ہے۔
حق کے داعی کو جن آداب دعوت کا لازمی طور پر لحاظ کرنا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ داعی اپنے مدعو سے کسی بھی قسم کا معاشی اور مادی مطالبہ نہ کرے۔ خواہ اس یک طرفہ دست برداری کی وجہ سے اس کو کتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے۔ ایسا کرنا اس لئے ضروری ہے کہ دونوں کے درمیان آخر وقت تک داعی اور مدعو کا تعلق باقی رہے، وہ کسی بھی حال میں قومی حریف اور مادی رقیب کا تعلق نہ بننے پائے۔
حضرت نوح نے جب اتمام حجت کی حد تک حق کا پیغام پہنچا دیا، پھر بھی ان کی قوم سرکشی پر قائم رہی تو سرکشوں کو سیلاب میں غرق کر کے زمین ان سے خالی کرا لی گئی اور مومنین نوح کو موقع دیا گیا کہ وہ زمین کے وارث بن کر اس پر آباد ہوں۔ اسی کو قرآن کی اصطلاح میں "خلافت" کہا جاتا ہے۔ سیلاب سے پہلے قوم نوح زمین کی خلیفہ بنی ہوئی تھی، سیلاب کے بعد مومنین نوح زمین کے خلیفہ قرار پائے۔
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ ۚ كَذَلِكَ نَطْبَعُ عَلَى قُلُوبِ الْمُعْتَدِينَ ﴿۷۴﴾ پھر ہم نے نوح کے بعد کتنے رسول بھیجے۔ وہ ان کے پاس کھلی کھلی دلیلیں لے کر آئے، مگر وہ اس پر ایمان لانے والے نہ بنے جس کو پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اسی طرح ہم حد سے نکل جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں ۷۴ ، اس آیت میں "حد سے گزر جانے والا" ان لوگوں کو کہا گیا ہے جن کا حال یہ ہوتا ہے کہ ایک بار اگر وہ حق کا انکار کر دیں تو اس کے بعد وہ اس کو اپنی ساکھ کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور پھر اس کو مسلسل نظر انداز کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگوں کی نظر میں ان کا علم دین اور ان کا بر سر حق ہونا مشتبہ نہ ہونے پائے۔
جولوگ اس قسم کا رویہ اختیار کریں ان کو دنیا میں یہ سزا ملتی ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ یعنی خدا کے قانون کے تحت ان کی نفسیات دھیرے دھیرے ایسی بن جاتی ہیں کہ بالآخر حق کے معاملہ میں ان کا شدت احساس باقی نہیں رہتا۔ ابتداءً ان کے اندر جو تھوڑی سی حساسیت زندہ تھی وہ بھی بالآخر مردہ ہو کر رہ جاتی ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتے کہ حق اور ناحق کے معاملہ میں تڑپیں اور نا حق کو چھوڑ کر حق کو قبول کر لیں۔ حضرت نوح اور ان کے بعد آنے والے بیشتر رسولوں کی تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے۔
اللہ کی طرف سے جب بھی کوئی داعی حق آتا ہے تو وہ اس حال میں آتا ہے کہ اس کے گرد کسی قسم کی ظاہری عظمت اس کے پاس جو واحد چیز ہوتی ہے وہ صرف دلیل ہے۔ جو لوگ دلیل کی زبان میں حق کو مانیں وہی داعی حق کو مانتے ہیں۔ جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ دلیل کی زبان انھیں متاثر نہ کر سکے وہ داعی حق کو پہچاننے سے بھی محروم رہتے ہیں اور اس کا ساتھ دینے سے بھی۔
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ مُوْسٰى وَهٰرُونَ إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَإِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِينَ فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا إِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُبِينٌ قَالَ مُوْسَى أَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَكُمْ أَسِحْرٌ هٰذَا وَلَا يُفْلِحُ الساحرون قَالُوا أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاءُ فِي الْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ پھر ہم نے ان کے بعد موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا، مگر انھوں نے گھمنڈ کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے سچی بات پہنچی تو انھوں نے کہا، یہ تو کھلا ہوا موسیٰ نے کہا کہ کیا تم حق کو جادو کہتے ہوجب کہ وہ تمھارے پاس آچکا ہے۔ کیا یہ جادو ہے، حالاں کہ جادو والے کبھی فلاح نہیں پاتے۔ انھوں نے کہا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم کو اس راستے سے پھیر دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، اور اس ملک میں تم دونوں کی بڑائی قائم ہو جائے، اور ہم کبھی تم دونوں کی بات ماننے والے نہیں ہیں فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں نے اپنی مجرمانہ ذہنیت کی بنا پر موسیٰ اور ہارون کی بات نہیں مانی۔ چیزوں کو دلیل کے معیار سے دیکھنے کے بجائے جاہ و اقتدار کے معیار سے دیکھتے تھے۔ اس خود ساختہ معیار کے نام پر انھوں نے اپنے کو اونچا اور موسیٰ و ہارون کو نیچا سمجھ لیا۔ ان کی یہ نفسیات ان کے لئے اس حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن گئی جو ان کے نزدیک ایک چھوٹا آدمی ان کے سامنے پیش کر رہا تھا۔
حضرت موسیٰ کی استدلال کی زبان جب فرعون کی سمجھ میں نہیں آئی تو آپ نے عصا اور ید بیضا کے معجزات ان معجزات کا توڑ فرعون کے پاس نہ تھا۔ چنانچہ اس نے کہا کہ یہ جادو ہے۔ اس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں اپنی شکست کو ایک جھوٹی توجیہہ میں چھپانے کی کوشش کی۔ اس نے لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ موسیٰ کا معاملہ حق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ جادو کا معاملہ ہے، یہ صحیح ہے کہ جادو اور معجزہ میں کچھ ظاہری مشابہت ہوتی ہے۔ جلد معلوم ہو جاتا ہے کہ جادو محض شعبدہ اور کرشمہ تھا۔ اس کے مقابلہ میں معجزہ کو مستقل کامیابی حاصل ہوتی ہے، جادو بالآخر جادو ثابت ہوتا ہے اور معجزہ بالآخر معجزہ۔
اس موقع پر فرعون نے لوگوں کو حضرت موسیٰ کی دعوت سے پھیرنے کے لئے دواور باتیں کہیں ۔ ایک یہ کہ موسیٰ ہم کو ہمارے آبائی دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ فرعون کو چاہئے تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کے پیغام کو حق اور ناحق کی
اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ مگر اس نے اس کو آبائی اور غیر آبائی معیار سے جانچا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حق اور ناحق کے معیار سے دیکھنے میں اپنے آپ کو غلط ماننا پڑتا۔ جب کہ آبائی اور غیر آبائی کی تقسیم میں اپنی روش پر بدستور موجود رہنے کا جواز مل رہا تھا۔
فرعون نے دوسری بات یہ کہی کہ "موسیٰ اور ہارون اس ملک میں اپنی کبریا ئی قائم کرنا چاہتے ہیں" یہ بھی عوام کو بھڑکانے کے لئے محض ایک سیاسی شوشہ تھا، کیونکہ حضرت موسیٰ نے تو اول مرحلہ میں فرعون کے سامنے یہ بات رکھ دی تھی کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ فرعون کو خدا کا پیغام پہنچائیں اور اس کے بعد بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں چلے جائیں۔ ایسی حالت میں یہ الزام سراسر خلاف واقعہ تھا کہ وہ مصر کی حکومت پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُونِي بِكُلِّ سَحِرٍ عَلِيمٍ فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُوسَى أَلْقُوا مَا أَنْتُمْ مُلْقُونَ * فَلَمَّا أَلْقَوْا قَالَ مُوسَى مَا جِئْتُمْ بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ اور فرعون نے کہا کہ تمام ماہر جادوگروں کو میرے پاس لے آؤ۔ جب جادو گر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈالو۔ پھر جب جادو گروں نے ڈالا تو موسیٰ نے کہا کہ جو کچھ تم لائے ہو وہ جادو ہے۔ بے شک اللہ اس کو باطل کر دے گا، اللہ یقیناً مفسدوں کے کام کو سدھرنے نہیں دیتا۔ اور اللہ اپنے حکم سے حق کو حق کر دکھاتا ہے خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ ۷۹ - ۸۲ فرعون کا ماہر جادوگروں کو بلانا اس لئے نہ تھا کہ وہ سمجھتا تھا کہ جادو گروں کے ذریعہ وہ حضرت موسیٰ کو زیر کر لےگا۔ یہ کسی عقلی فیصلہ سے زیادہ فرعون کی اس بڑھی ہوئی خواہش کا نتیجہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کو نہ مانے۔ خدا کے پیغمبر کو جادوگروں کے ذریعہ غلط ثابت کرنے کا منصوبہ ایک ایسا منصوبہ تھا جس کا ناکام ہونا پہلے سے مگر آدمی جب کسی حقیقت کو نہ ماننا چاہے تو اس کی یہ خواہش اس کو یہاں تک لے جاتی ہے کہ وہ احمقانہ تدبیروں سے اس کا مقابلہ کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ وہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کا بند باندھتا ہے حالاں کہ وہ خود جان رہا ہوتا ہے کہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کی کوئی حقیقت نہیں۔
چنانچہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ جادو گروں نے میدان میں رسیاں اور لکڑیاں پھینکیں جو دیکھنے والوں کو رینگتے ہوئے سانپ کی صورت میں دکھائی دیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ بہت بڑا سانپ بن کر
میدان میں دوڑنے لگا۔ حضرت موسیٰ کا یہ "سانپ" محض سانپ نہ تھا، وہ در اصل خدا کی ایک طاقت تھی جو اس لئے ظاہر ہوئی تھی کہ حق کو حق اور باطل کو باطل ثابت کر دے۔ چنانچہ اس کے سامنے آتے ہی جادوگروں کی رسی رسی رہ گئی اور ان کی لکڑی لکڑی۔
یہ خود اپنے منتخب کئے ہوئے میدان میں فرعون کی شکست تھی۔ مگر اب بھی فرعون نے شکست نہ مانی۔ اب اس نے حضرت موسیٰ کی تردید کے لئے کچھ اور الفاظ تلاش کر لئے جس طرح اس کو پہلے مرحلہ میں آپ کی تردید کے لئے کچھ الفاظ مل گئے تھے۔
فَمَا آمَنَ لِمُوسَىٰ إِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّن قَوْمِهِ عَلَىٰ خَوْفٍ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَإِهِمْ أَن يَفْتِنَهُمْ ۚ وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الْمُسْرِفِينَ وَقَالَ مُوسَىٰ يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ فَقَالُوا عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ وَنَجِنَّا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ پھر موسیٰ کو اس کی قوم میں سے چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا، فرعون کے ڈر سے اور خود اپنی قوم کے بڑے لوگوں کے ڈر سے کہ کہیں وہ ان کو کسی فتنہ میں نہ ڈال دے، بے شک فرعون زمین میں غلبہ رکھتا تھا اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو حد سے گزر جاتے ہیں۔ اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو، اگر تم واقعی فرماں بردار ہو۔ انھوں نے کہا، ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کے لئے فتنہ نہ بنا۔ اور اپنی رحمت سے ہم کو کافر لوگوں سے نجات دے۔ ۸۴ - ۸۳ نئے فکر کو قبول کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے معاشرہ میں نئے نئے مسائل سے دو چار یہی وجہ ہے کہ زیادہ عمر کے لوگ اکثر کسی نئے فکر کو قبول کرنے میں محتاط ہوتے ہیں۔ سے زیادہ عمر کے لوگوں پر مصلحت کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ وہ نئے فکر کی صحت کو ماننے کے باوجود آگے بڑھ کر اس کا ساتھ نہیں دے پاتے۔
مگر نوجوان طبقہ عام طور پر اس قسم کی مصلحتوں سے خالی ہوتا ہے۔ چنانچہ ہمیشہ تاریخ میں ایسا ہوا ہے کہ کسی نئی اور انقلابی دعوت کو قبول کرنے میں وہی لوگ زیادہ آگے بڑھے جو ابھی زیادہ عمر کو نہیں پہنچے تھے۔ صورتِ حال حضرت موسیٰ کے ساتھ پیش آئی۔
حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے والے نوجوانوں کو ایک طرف فرعون کا خطرہ تھا۔ دوسری طرف خود اپنی قوم کے بڑوں کی طرف سے ان کو حوصلہ افزائی نہیں ملی۔ یہ بڑے اگرچہ حضرت موسیٰ کی نبوت کو مانتے تھے۔ مگر اپنی مصلحت اندیشی کی بنا پر وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بیٹے بیٹیاں پر جوش طور پر حضرت موسیٰ کا ساتھ دیں اور اس کے نتیجہ میں وہ فرعون کے ظلم کا شکار بنیں۔
مگر اس قسم کی صورت حال کا تقاضا یہ نہیں ہوتا کہ آدمی مخالفین حق کے ڈر سے خاموش ہو کر بیٹھ جائے۔ اس کو چاہئے کہ وہ انسانی مخالفتوں کے مقابلہ میں خدائی نصرتوں پر نظر رکھے، وہ خدا کے بھروسہ پر اس حق کا ساتھ دینے کے لئے اٹھ کھڑا ہو جس کا ساتھ دینے کے لئے ذاتی طور وہ اپنے آپ کو عاجز پا رہا تھا۔ وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى وَأَخِيهِ أَنْ تبوالقومکما بِمِصْرَ بُيُوتًا وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً و اقیموا الصلوٰۃ و بشر الْمُؤْمِنِينَ )
اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لئے مصر میں کچھ گھر مقرر کرو اور اپنے ان گھروں کو قبلہ بناؤ اور نماز قائم کرو۔ اور اہل ایمان کو خوش خبری دے دو ۸۷ قبلہ کے معنی عربی زبان میں مرجع یا مرکزِ توجہ کے ہیں۔ یہاں گھروں کو قبلہ بنانے سے مراد یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی بستیوں میں کچھ گھروں یا ان گھروں کے بعض مناسب حصوں کو اس مقصد کے لئے مخصوص کر دیا جائے کہ وہ حضرت موسیٰ کی دینی جدوجہد کے لئے بطور مرکز کے کام دیں۔ یہاں تنظیمی اجتماعات ہوں، باہمی مشورے ہوں۔ دعوتی عمل کی خاموش منصوبہ بندی کی جائے۔
حضرت موسیٰ کی توحید و آخرت کی باتیں مصر کے بادشاہ فرعون کو سخت ناگوار تھیں۔ اس نے ان کے اوپر نہایت سخت قسم کی پابندیاں عائد کردیں۔ یہاں تک کہ کھلے طور پر دینی سرگرمیاں جاری رکھنا ان کے لئے سخت دشوار ہو گیا۔ اس وقت حکم ہوا کہ فرعون سے ٹکرانے کے بجائے یہ کرو کہ اپنے کام کو قریبی دائرہ میں سمیٹ لو۔ اپنی بستیوں میں چھوٹے چھوٹے دعوتی اور تنظیمی مراکز بنا کر محدود دائرہ میں خاموشی کے ساتھ اپنا کام جاری رکھو۔ ان حالات میں ان کو جو دوسرا حکم دیا گیا وہ نماز کی اقامت تھا۔ یعنی اللہ سے تعلق جوڑنے اور اس سے مدد مانگنے کے لئے نمازوں کا اہتمام، انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی۔ نماز دراصل خدا سے قریب ہو کر خدا سے مدد مانگنے کی ایک صورت ہے۔ نماز میں مشغول ہو کر بندہ اپنے آپ کو عجز اور تواضع کے مقام پر لاتا ہے اور عجز اور تواضع ہی وہ مقام ہے جہاں بندہ اور خدا کی ملاقات ہوتی ہے۔ بندہ کے لئے اپنے رب سے ملنے کا دوسرا کوئی مقام نہیں۔ یہ جو پروگرام بتایا گیا اسی کی تکمیل میں ان کے لئے فلاح اور نجات کا راز چھپا ہوا تھا۔ یہ حکم گویا اس بات کی خوش خبری تھی کہ خدا ان کو اس حالت سے نکالنے والا ہے جس میں ان کے دشمنوں نے ان کو مبتلا کر دیا ہے۔