Al-Risala · March 1983

No, I am not Reddy. I am Zail Singh

Al-Risala, March 1983, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

میں ریڈی نہیں ہوں۔ میں ذیل سنگھ ہوں (ہندوستان ٹائمس ۴ دسمبر ۱۹۸۲)

عین ممکن ہے کہ یہ کوئی واقعہ نہ ہو بلکہ محض ایک لطیفہ ہو۔ مگر سوال یہ ہے کہ کسی شخص کو ایسا لطیفہ بنانے کی جرات کیسے ہوئی۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ گیانی ذیل سنگھ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ انگریزی زبان کم جانتے ہیں۔ ٹیکساس کے آپریشن میں پر اگر رادھا کرشنن یا جواہر لال نہرو ہوتے تو کسی لطیفہ گو کو ایسا لطیفہ گھڑنے کی جرات نہ ہوتی۔

باہر کی دنیا آپ کو اتنا ہی جانتی ہے جتنا آپ نے اس کو بتایا ہے اور آپ کی جو تصویر اس کے ذہن میں ہے اسی کے مطابق وہ آپ کے ساتھ سلوک کرتی ہے۔ اگر دوسروں سے آپ کو برے سلوک کا تجربہ ہو تو دوسروں کو برا سمجھنے کے بجائے خود اپنے اندر اس کے اسباب تلاش کیجئے۔ کیونکہ اپنی کمی کو دور کر کے آپ زیادہ بہتر طور پر دوسروں کے برے سلوک سے بچ سکتے ہیں۔

یونان کے ایک آرٹسٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک آدمی کی تصویر بنائی جس کے ہاتھ میں انگور کا خوشہ تھا۔ اس نے تصویر کو بازار میں رکھ دیا۔ اس کے دوست نے اس کے بعد اسے مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ تم نے انگور کی تصویر اتنی کامیاب بنائی ہے کہ چڑیاں اس کو واقعی سمجھ کر اس پر چونچ مارتی ہیں۔ کہا: آدمی کی تصویر بنانے میں مجھ سے غلطی ہوگئی۔ ورنہ چڑیاں اس قسم کی جرات ہی نہ کرتیں۔ اب آرٹسٹ نے دوسری تصویر بنائی۔ اس تصویر میں بھی ایک آدمی انگور کا خوشہ لئے ہوئے تھا۔ کا خوشہ دوبارہ اس قدر مطابق فطرت تھا کہ چڑیاں اس کو دیکھ کر اس کے پاس آئیں۔ مگر اب انھیں چونچ مارنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ کیونکہ جو آدمی انگور کا خوشہ لئے ہوئے تھا اس کی آنکھیں اس قدر غضب ناک تھیں کہ ان کو دیکھتے ہی چڑیاں واپس لوٹ جاتیں۔

Printed page