Al-Risala · March 1983

اگر آدمی سنجیدہ ہو

Al-Risala, March 1983, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ اپنے چہرہ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں اور جس شخص کے پاس وہ بھی نہ ہو تو وہ ایک اچھے بول کے ذریعہ اپنے کو جہنم سے بچائے۔ اچھے بول کا بدلہ بھی دس گنا سے سات سو گنا تک ملتا ہے (من استطاع ان يقی وجهه من النار ولو بشق من تمرة فليفعل ومن لم يجد فبكلمة طيبة فان بھا تجزى الحسنة عشر امثالھا الى سبعمائة ضعف)

دوسری طرف حدیث میں یہ بھی ہے کہ جو شخص چپ رہا اس نے نجات پائی (من سكت نجا) اس سے معلوم ہوا کہ کبھی نیکی یہ ہوتی ہے کہ آدمی بولے اور کبھی سب سے بڑی نیکی یہ ہوتی ہے کہ آدمی چپ رہے۔ کبھی چلنا مطلوب ہوتا ہے اور کبھی بیٹھ رہنا۔ کبھی خدا کو پسند ہوتا ہے کہ اس کا بندہ آنکھ کھول کر دیکھے اور کبھی خدا کی سب سے بڑی پسند یہ ہوتی ہے کہ بندہ اپنی آنکھوں کو بند کرلے۔

کب ایک عمل مطلوب ہے اور کب دوسرا عمل، اس کی کوئی متعین فہرست نہیں بنائی جاسکتی۔ لیکن اگر آدمی خدا سے ڈرتا ہو، اگر اس کو آخرت کی پکڑ کا اندیشہ لگا ہوا ہو تو وہ خود جان لے گا کہ کس موقع پر اسے کیا کرنا چاہئے۔

اگر آدمی کا ذاتی معاملہ ہو، اگر اس کے اوپر زد پڑے تو اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ کس موقع پر اسے کیا کرنا چاہئے۔ مگر جب معاملہ دوسرے کی ذات کا ہو تو وہ اس کو سمجھ نہیں پاتا۔ اگر آدمی صرف اتنا کرے کہ جو چیز وہ اپنے لئے چاہتا ہے وہی دوسرے کو بھی دے اور جس چیز سے خود بچنا چاہتا ہے اس سے دوسروں کو بھی بچائے تو یہی اس کی اصلاح کے لئے کافی ہے ۔

اپنی ذات کے بارے میں آدمی کا عمل بتا رہا ہے کہ اس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ مگر اس علم کو آدمی صرف اپنے لئے استعمال کرتا ہے اور جب معاملہ دوسرے کا ہو تو وہ اس سے بے خبر ہو جاتا ہے۔

Printed page