Al-Risala · March 1983

خدا کے حکم کے آگے جھک جانا

Al-Risala, March 1983, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

طائف کے قبیلہ ثقیف کا ایک خاندان بنو عمیر بن عمیر تھا۔ اور قبیلہ بنو مخزوم کا ایک خاندان بنو مغیرہ ۔ ان دونوں خاندانوں کے درمیان زمانہ جاہلیت میں سود کی لین دین کا معاملہ جاری تھا۔ فتح مکہ کے بعد دونوں خاندان اسلام لائے تو اس وقت بنو عمیر بن عمیر کا سود بنو مغیرہ کے ذمہ واجب الادا تھا۔ چنانچہ بنو عمیر بن عمیر نے بنو مغیرہ سے اپنے سودی بقایا کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد بنو مغیرہ نے آپس میں مشورہ کیا اور طے شدہ فیصلہ کے مطابق کہا کہ ہم اسلام لانے کے بعد اپنی اسلامی کمائی سے سود نہیں ادا کریں گے۔ اس پر جھگڑا بڑھا۔ وقت مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عتاب بن اسید حاکم تھے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی۔ آپ نے اس کے جواب میں قرآن کی یہ آیت لکھ کر بھیج دی : اے ایمان والو! سے ڈرو اور بقایا سود کو چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو۔ اگر تم ایسا نہ کرو تو تم سے اللہ اور اس کے رسول کی جنگ ہے (البقرۃ ۲۷۹ - ۲۷۸) اس آیت کو سنتے ہی بنو عمیر بن عمیر کا ذہن بدل گیا۔ انھوں نے کہا: ہم اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور بقایا سود کو چھوڑتے ہیں (نتوب الی اللہ ونذر ما بقی من الربا، تفسیر ابن کثیر، المجلد الاول، صفحہ ۳۷۹)

Printed page