Al-Risala · March 1983

ایک سفر

Al-Risala, March 1983, pp. 39–43

By Maulana Wahiduddin Khan

وسط افریقہ میں ایک ملک ہے جس کا نام روانڈا ہے۔ اس کے دارالسلطنت کا نام کیگالی (Kigali) یہاں پہاڑوں کے خوبصورت ماحول میں کھلی فضا کے اندر ایک اسلامی مرکز قائم ہے۔ ۱۹۸۱ میں مجھے یہاں لکچر دینے کے لئے بلایا گیا میرے اور میرے ساتھی کے لئے دو ہوائی ٹکٹ بھی آچکے تھے۔ مگر آخر وقت میں بعض وجوہ سے سفر ملتوی کر دینا پڑا۔ اس موقع کے لئے جو لکچر ترتیب دیئے گئے تھے ان کا اردو ایڈیشن ”احیار اسلام“ کے نام سے کتاب کی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔

اگست ۱۹۸۲ میں عالمی مؤتمر میں شرکت کے لئے طرابلس گیا تو وہاں سے دوبارہ کیگالی کے سفر کا انتظام طرابلس کی الھیئۃ المشترکۃ نے یہ انتظام کیا کہ میں طرابلس سے واپسی میں کیگالی اور ابوظبی اور کویت وغیرہ کا سفر کرتے ہوئے دہلی واپس جاؤں۔ اس پروگرام کے تحت میں ۳۱ اگست ۱۹۸۲ کو کیگالی پہنچا اور ۱۵ ستمبر ۱۹۸۲ تک وہاں مقیم رہا۔

لیبیا اور متحدہ عرب امارات کے باہمی تعاون سے ۱۹۷۵ میں ایک اسلامی ادارہ قائم ہوا جس کا صدر دفتر طرابلس میں ہے اور جس کا نام ہے :

الهيئة المشتركة لتاسيس المراكز الثقافية الاسلامية اس ادارہ کے موجودہ ذمہ دار ڈاکٹر طاہر محمد الشویدی ہیں۔ اس ادارہ کا خاص مقصد یہ ہے کہ افریقہ اور ایشیا کے ملکوں میں اسلامی مراکز قائم کئے جائیں جن میں مسجد ، مدرسہ ، ہال ، اسپتال ، لائبریری اور دعوتی ادارے یہ مراکز ایک طرف مقامی مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرتے ہیں اور دوسری طرف مقامی غیر مسلم آبادی میں اسلام کی تبلیغ کا کام انجام دیتے ہیں۔ ہیئت کی طرف سے اس قسم کے مراکز گابون، ٹوگو، مالی، بورونڈی ، یوگنڈا، زامبیا، انڈونیشیا وغیرہ میں قائم کئے گئے ہیں۔ انھیں میں سے ایک مرکز وہ ہے جو روانڈا کے دارالسلطنت کیگالی میں قائم ہے۔ اس مرکز کے تحت تقریباً ایک درجن شعبے کام کر رہے ہیں۔

طرابلس سے ہم ۳۰ اگست کو فرانسیسی ہوائی کمپنی کے ذریعہ روانہ ہوئے۔ راستہ میں جہاز ایک گھنٹہ کے لئے مالٹا میں اترا۔ اس طرح موقع ملا کہ ہم جہاز سے باہر آکر مالٹا کو دیکھیں جو آج کل سیاحوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مالٹا کی زمین پر قدم رکھتے ہوئے عجیب احساس ہوا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں آزادی ہند کی مسلح تحریک کے نتیجہ میں ہندوستان کے مسلم قائدین کو جلا وطن کیا گیا تھا۔ میں نے سوچا : ہمارے لیڈر موجودہ صدی کے آغاز میں ایک ناکام سیاسی تحریک کی خاطر اس جزیرہ میں آئے اور ناکام سیاسی تحریک کی خاطر اس سے واپس چلے گئے۔

برعکس اگر وہ اللہ کے دین کے داعی بن کر ’’مالٹا‘‘ آتے تو شاید آج اس علاقہ کی تاریخ بالکل دوسری ہوتی۔ میں ان کا آنا بھی کامیابی کا آنا ہوتا اور جانا بھی کامیابی کا جانا۔

پیرس سے ہم کو جہاز بدلنا تھا۔ اس کی وجہ سے چند گھنٹے پیرس میں گزرے۔ دہلی کی پرہجوم آبادی کے مقابلہ میں پیرس ایک سونا شہر معلوم ہوتا ہے۔ تاہم وہ یورپ کا قدیم ترین ترقی یافتہ شہر ہے۔ ہم کو افریقہ کے ایک ملک سے افریقہ کے دوسرے ملک میں جانا تھا۔ مگر اس کے لئے ہم کو یورپ کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ اس وقت ہمارا پیرس اترنا اس بات کی علامت تھا کہ آج کسی مسلمان کو ’’لیبیا‘‘ سے ’’روانڈا‘‘ جانا ہو تو اس کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ اپنے لئے کوئی ’’پیرس‘‘ تلاش کرے۔ کیگالی سے ہم نے دہلی ٹیلی فون کیا تو اس کا رابطہ بھی پیرس سے قائم ہوا ۔

یہ ہماری آج کی صورت حال ہے۔ مگر کسی زمانہ میں پیرس اس بات کی علامت تھا کہ اسلام کے علم برداروں کی پیش قدمی جو مکہ سے شروع ہوئی وہ خشکی اور تری کو پار کرتی ہوئی یورپ کے مرکزی شہر پیرس تک پہنچ چکی ہے۔ آج بھی پیرس کی بعض قدیم عمارتوں میں عربی کتبات موجود ہیں جو گزرے ہوئے عہد کی یاد

۳ اگست کو ہم کیگالی (روانڈا) پہنچے۔ روانڈا وسط افریقہ میں خط استوا پر واقع ہے۔ اس کے ایک طرف یوگنڈا، دوسری طرف تنزانیہ اور تیسری طرف فرانس ہے۔ اس کا رقبہ ۲۶ ہزار مربع کلومیٹر اور آبادی دو ملین (۲۰ لاکھ) ہے۔ اس کا دارالسلطنت کیگالی ہے۔ پورا ملک سرسبز پہاڑیوں سے بھرا ہوا ہے۔ مختلف فصلیں آبپاشی کے بغیر پیدا ہوتی ہیں۔

میرا قیام اصلا کیگالی میں رہا۔ تاہم مجھے ایک طرف یوگنڈا تک جانے کا موقع ملا جہاں سرحد کے دونوں طرف کثرت سے چائے کے ہرے بھرے فارم پھیلے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ہم بحیرہ مہازی( (Muhazi) تک گئے جو تقریباً سو میل لمبا ہے اور روانڈا اور زائر کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔ شہر کے علاوہ یہاں کی دیہاتی زندگی کو بھی تفصیل سے دیکھنے کا موقع ملا۔

عیدی امین (سابق صدر یوگنڈا) کی تصویر ہمارے یہاں بہت خراب ہے۔ مگر یوگنڈا کے لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر بہت اچھا آدمی تھا۔ وہ اسلام دوست تھا اور اس نے ایسی پالیسی اختیار کی کہ اس کے زمانہ میں یوگنڈا میں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا۔ اس کی وجہ سے کلیسا اس کو بے حد ناپسند کرتا تھا۔ غیر ملکیوں کو یوگنڈا سے نکالنے میں عیدی امین نے جو سخت انداز اختیار کیا اس کی وجہ سے اس کے مخالفین کو موقع مل گیا کہ اس کو دنیا کے سامنے وحشی انسان کے روپ میں پیش کریں، حتیٰ کہ اس کو ملک سے نکال باہر کریں۔ ــــ اس سے اندازہ ہوتا ہے

کہ صحافت کے میدان میں مسلمانوں کی پس ماندگی موجووہ زمانہ میں کتنے وسیع نتائج تک پہنچ رہی ہے۔ یوگنڈا کی سرحد پر میں نے دیکھا کہ چھوٹے چھوٹے بچے نوٹوں کی گڈیاں ہاتھ میں لئے ہوئے گھوم رہے ہیں دہ آنے جانے والوں کے لئے نوٹوں کا تبادلہ کر رہے تھے۔ ان بچوں کے لئے اس قسم کا کوئی خطرہ نہیں تھا کہ کوئی ان کے نوٹ چھین کر بھاگ جائے گا۔

روانڈا ابھی صنعتی انقلاب سے اور ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگ بہت سادہ ہیں۔ ہوتا ہے کہ وہ اپنی ابتدائی فطرت پر قائم ہیں۔ چنانچہ اسلام ان کے درمیان تیزی سے پھیل رہا ہے۔ روانڈا میں کلیسا کافی طاقتور ہے اور وہ اسلامی تبلیغ کا مخالف ہے۔ مگر یہاں کا موجودہ صدر جنرل ہابیا ریمانہ(Habia (Habia Remana) نہایت ہوشیار اور منصف مزاج ہے۔ اس نے کھلے طور پر اعلان کیا ہے کہ ہمارے ملک میں ہر مذہب کو آزادی ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں دخل دیئے بغیر اپنا مذہبی کام کرے ۔ کیگالی کے موجودہ اسلامی مرکز کے لئے حکومت نے کافی وسیع زمین مفت دی ہے اور اس پر چھ ملین ڈالر کے خرچ سے ایک بڑا اسلامی مرکز قائم کیا گیا ہے۔ مرکز تعمیر ہونے کے بعد صدر روانڈا نے اس کا افتتاح کیا اور اپنی تقریر میں کہا کہ روانڈا میں ہم اس طرح کے دور بھی اسلامی مراکز دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس قسم کے مراکز ہماری شان میں اضافہ کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ ملک کے اندر آزادی فکر کا نشان ہیں۔

کیگالی کے اسلامی مرکز کا خاموش تبلیغی کام تقریبا پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کے دو درجن داعی پیدل یا کاروں یا بائیسکلوں کے ذریعہ لوگوں تک پہنچتے ہیں اور ان کو خدا کے دین کی دعوت دیتے ہیں۔ میں نے اپنے زمانہ قیام (۳۱ اگست تا ۱۵ستمبر ۱۹۸۴ء) میں دیکھا کہ تقریباً روزانہ مختلف اطراف سے لوگ یہ خبریں لے کر آ رہے ہیں کہ فلاں مقام پر اتنے آدمی اسلام میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ تعداد اکائیوں میں نہیں بلکہ اکثر دہائیوں میں ہوتی ہے۔ حتی کہ کبھی سیکڑوں میں۔ آئے دن نو مسلموں کی جماعتیں مرکز میں آتی ہیں تاکہ یہاں کچھ دن رہ کر تعلیم و تربیت حاصل اسی کے ساتھ ہر ایک باصرار اپنا ختنہ کراتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ ان نو مسلموں میں تقریباً ۹۹ فی صد نوجوان ہیں۔ کام کی بڑھتی ہوئی رفتار کے لحاظ سے مرکز کے وسائل بہت کم ہیں۔ تاہم نہ صرف مرکز میں بلکہ مختلف مقامات پر نو مسلموں کی دینی تعلیم کے لئے مدارس قائم ہیں جن میں مرکز کے مقرر کر دہ معلمین ان کو اسلام کی تعلیم دیتے مقامی زبان (کینیا روانڈا) میں چھوٹی چھوٹی کتابیں سادہ دینی تعلیمات کے بارے میں شائع کی گئی ہیں ۔ ۱۳ اکتوبر ۱۹۸۴ء کو کیگالی کے اسلامی مرکز میں میرا لیکچر تھا۔ شہر کے اعلی تعلیم یافتہ لوگ اور کئی ملکوں کے سفراء وسیع لیکچر ہال (قاعة المحاضرات) میں موجود تھے۔ اجتماع میں تقریباً نصف تعداد مسلمانوں کی تھی اور تقریباً نصف تعداد غیر مسلموں کی۔

یہاں مرکز کا اسٹاف کافی وسیع ہے۔ مگر ان میں کوئی اردو جاننے والا نہیں۔ روانڈا کی سرکاری زبان چنانچہ شرکاء کی اکثریت فرانسیسی زبان جاننے والوں پر مشتمل تھی۔ میں نے اپنا لکچر اس طرح تیار کیا کہ اولاً میں نے اپنی ہندوستانی عربی میں لکچر کو املاء کرایا اس کے بعد مرکز کے ڈائرکٹر جناب محمد سلیمان القائد، جو میری عربی کتابیں پڑھے ہوئے ہیں، انھوں نے میری عربی کو عربوں کی زبان میں لکھا۔ اس کے بعد اس عربی لکچر سے جناب سالم جابی (غینیا) نے اس کو فرانسیسی زبان میں منتقل کیا۔

لکچر کی صورت یہ ہوئی کہ اولاً میں نے عربی زبان میں ابتدائی کلمات کہے جس کا فوری طور پر سالم جابی نے فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا۔ اس کے بعد جناب ادریس لمجی (روانڈا) نے میرا لکچر فرانسیسی میں پڑھ کر سنایا۔ بعد سائیکلو اسٹائل پر تیار کی ہوئی اس کی عربی اور فرانسیسی کاپیاں لوگوں کے درمیان تقسیم کی گئیں۔ جلد ہی انشاء اللہ کیگالی کے اسلامی مرکز کی طرف سے دونوں زبانوں میں اس لکچر کو کتاب کی صورت میں شائع کیا جائے گا۔ مقالہ (القرآن في مواجهة التحديات العصرية) اور کیگالی کا لکچر (دور الاسلام في التاريخ العالمي) دونوں اصلاً عربی زبان میں لکھے گئے۔ اس لئے فی الحال ان کا اردو نسخہ الرسالہ میں اشاعت کے لئے ہمارے پاس موجود نہیں۔ اسلامی مرکز (کیگالی) کا دعوتی کام اب تک زیادہ تر عوام میں ہو رہا ہے۔ مرکز کے ڈائرکٹر نے کہا: آپ کا یہ لکچر انشاءاللہ مرکز کے لئے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اولاً ہم اس لکچر کو فرانسیسی اور عربی اور مقامی زبان (کینیا روانڈا) میں شائع کریں گے اور اس کے بعد آپ کی دوسری چھوٹی کتابیں بھی فرانسیسی میں اور عربی میں شائع کریں گے۔ اس طرح انشاء اللہ یہاں کے تعلیم یافتہ طبقہ مثقفین) میں بھی ہمارا دعوتی کام شروع ہو جائے گا۔ اس سفر میں ایک اخوانی قائد سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ایک عرب ملک سے تعلق رکھتے تھے اور میری عربی کتابیں پڑھے ہوئے تھے۔ انھوں نے میرے اس نقطۂ نظر سے اتفاق کیا کہ اسلامی تحریک کا منشا نہ دعوت ہے نہ کہ ان کے نزدیک الاخوان المسلمون نے سیاسی طریق کار اختیار کر کے غلطی کی ہے۔ تا ہم ان کا اصرار تھا کہ ان کو اخوان المسلمون میں بدستور شامل رہنا چاہئے تا کہ وہ اندر سے اس کی اصلاح کی کوشش کر سکیں۔ میں نے کہا کہ اخوانیوں کا سیاسی طرقی کار کسی اتفاقی غلطی کا نتیجہ نہ تھا۔ وہ ان کے فکر میں اول روز سے شامل تھا، ان کی اٹھان ہی سیاست پر ہوئی تھی۔ اور کسی تحریک کی اٹھان جس فکر پر ہوتی ہے وہ آخر تک اسی پر قائم رہتی ہے، آپ درمیان سے اسے بدل نہیں سکتے۔ تاہم انھوں نے میرے نقطۂ نظر سے اتفاق نہیں کیا۔ نے انھیں ایک تحریر لکھ کردی اور کہا کہ اس کو پڑھ کر اپنے پاس محفوظ کر لیجئے اور دو سال بعد اس کو دوبارہ کھول کر پڑھئے گا اور پھر دو سالہ تجربات کا جائزہ لے کر مجھے بتائیے گا کہ آپ کا خیال درست تھا یا میرا خیال۔ یہ تحریر میری ہندوستانی عربی میں حسب ذیل تھی:

كل حركة انسانية، مهما كانت اسلامية وغير اسلامية فهي تجرى في مجراھا التي قدرلھا منذ البدر - لا يمكن لاحد ان يغير مجراھا من اولوسط - حتى لو حاول مؤسس تلك الحركة ھذا فلا ريب انه سیفشل - اذا كان رجل مع حركة ثم ظھر لہ ان فيها غلطا، فلا سبيل له الا ان يعتزل تلك الحركة و یبدأ من جديد - و اذا ھو قام على تصحیحھا و جعل یجتھد ان يتجه بتلك الحركة غير اتجاھھا فليس له فى النھایۃ الا الفشل۔ انما ينبغى عليه ان لا يضيع عمره الثمين الذى بقى عنده - ويستعمل نفسه فى العمل الصحيح و الجھد المثمر۔ ھذا ما عندى والعلِم عند الله العلى الخبير۔

Printed page