Al-Risala · January 1983

تم میں سے سلطان کون ہے

Al-Risala, January 1983, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

سلطان محمد فاتح نے ایک دیہاتی کی زبان سے یہ الفاظ سنے تو وہ اس کو بہت ناگوار گزرے ۔ اس نے محسوس کیا کہ دیہاتی نے بھرے مجمع میں اس کی توہین کر دی۔ وہ اٹھ کر خاموشی سے اپنے محل کے اندر اس کی سادہ مزاجی پر اس کا احساس سلطانی غالب آگیا اور اس کے بعد سے اس نے وزیروں اور درباریوں کی مجلس میں بیٹھنا بند کر دیا۔

سلطان نے اب یہ طریقہ اختیار کیا کہ وہ لوگوں سے الگ ایک دریچہ کے پیچھے بیٹھتا اور وہاں بیٹھ کر اپنے وزیروں کی باتیں یا لوگوں کی درخواستیں سنتا۔ دھیرے دھیرے مزید تبدیلی آئی اور بعد کو یہ اصول بھی باقی نہ رہ سکا۔

سلطان سلیمان اعظم (۱۵۲۰ - ۱۵۶۶ء) کے دور سے ایسا ہوا کہ سلاطین ترکی نے وزیروں کی مجلس میں شرکت بالکل بند کر دی۔ اس کے بعد یہ ہونے لگا کہ وزراء کی مجلس صدر اعظم کے ساتھ بیٹھ کر بحث و مشورہ کرتی اور اس کے بعد وہ فیصلہ تک پہنچتی اس کو صدر اعظم سلطان تک پہنچا دیتا۔ کو سن کر اپنا حکم سنا دیتا جو اس باب میں آخری ہوتا۔

آدمی بظاہر اچھا ہوتا ہے۔ وہ دیکھنے والوں کو ٹھیک معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہ صورت حال اسی وقت تک باقی رہتی ہے جب تک کوئی جھٹکا نہ پڑے۔ جب اس کے نفس کو کوئی جھٹکا لگتا ہے تو اس کے بعد وہ بدل کر دوسرا انسان بن جاتا ہے۔

Printed page