معبود کی طلب
Al-Risala, April 1983, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
روس کے خلائی مسافر اندرن نکولائیف اگست ۱۹۶۲ میں جب ایک خلائی پرواز سے واپس ہوئے تو ۲۱ اگست کو ماسکو کی ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا :
جب میں زمین پر اترا تو میرا جی چاہتا تھا کہ میں زمین کو چوم لوں انسان جیسی ایک مخلوق کے لئے زمین پر جو بے حساب موافق سامان جمع ہیں وہ معلوم کائنات میں کہیں روسی خلا باز جب زمین سے دور خلا میں گیا تو اس نے پایا کہ وسیع خلا میں انسان کے لئے صرف حیرانی اور سرگشتگی ہے۔ وہاں انسان کے سکون اور حاجت براری کا کوئی سامان نہیں۔ اس تجربہ کے بعد جب وہ زمین پر اترا تو اس کو زمین کی قیمت کا احساس ہوا ، ٹھیک ویسے ہی جیسے شدید پیاس کے بعد آدمی کو پانی کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ زمین اپنے تمام موافق امکانات کے ساتھ اس کو اتنی محبوب معلوم ہوئی کہ اس کا جی چاہا کہ اس سے لپٹ جائے اور اپنے جذبات محبت کو اس کے لئے نثار کر دے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو شریعت میں اللہ بنانا کہا گیا ہے۔ آدمی خالق کو نہیں دیکھتا ، اس لئے وہ مخلوق کو اپنا الہ بنالیتا ہے۔ مومن وہ ہے جو ظاہر سے گزر کر باطن تک پہنچ جائے ، جو اس حقیقت کو جان لے کہ یہ جو کچھ نظر آرہا ہے یہ کسی کا دیا ہوا ہے۔ زمین میں جو کچھ ہے وہ سب کسی برتر ہستی کا پیدا کیا ہوا وہ مخلوق کو دیکھ کر اس کے خالق کو پا لے اور خالق کو اپنا سب کچھ بنالے۔ وہ اپنے تمام بہترین جذبات کو خدا کے لئے نثار کر دے۔
روسی خلا باز پر جو کیفیت زمین کو پا کر گزری وہی کیفیت مزید اضافہ کے ساتھ آدمی پر خدا کو پا کر گزرنا مومن وہ ہے جو سورج کو دیکھے تو اس کی روشنی میں خدا کے نور کو پالیے۔ وہ آسمان کی وسعتوں میں خدا کی لامحدودیت کا مشاہدہ کرنے لگے۔ وہ پھول کی خوشبو میں خدا کی مہک کو پائے اور پانی کی روانی میں خدا کی بخشش مومن اور غیر مومن کا فرق یہ ہے کہ غیر مومن کی نگاہ مخلوقات میں اٹک کر رہ جاتی ہے اور مومن مخلوقات سے گزر کر خالق تک پہنچ جاتا ہے۔ غیر مومن مخلوقات کے حسن کو خود مخلوقات کا حسن سمجھ کر انھیں میں محو ہو جاتا ہے۔ مومن مخلوقات کے حسن میں خالق کا حسن دیکھتا ہے اور اپنے آپ کو خالق کے آگے ڈال دیتا ہے۔ غیر مومن کا سجدہ چیزوں کے لئے ہوتا ہے اور مومن کا سجدہ چیزوں کے خالق کے لئے۔