قومی کردار
Al-Risala, January 1983, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۹۶۵ء کا واقعہ ہے۔ ہندوستان کے ایک صنعت کار مغربی جرمنی گئے۔ وہاں ان کو ایک کار خانہ میں جانے کا موقع ملا۔ وہ اِدھر اُدھر گھوم کر کارخانہ کی کارکردگی دیکھتے رہے۔ اس درمیان میں وہ ایک کاریگر کے پاس کھڑے ہوگئے اور اس سے کچھ سوالات کرنے لگے۔ بار بار خطاب کرنے کے باوجود کاریگر نے کوئی توجہ نہیں دی۔ وہ بدستور اپنے کام میں لگا رہا۔
کچھ دیر کے بعد کھانے کے وقفہ کی گھنٹی بجی۔ اب کاریگراپنی مشینوں سے اٹھ کر کھانے کے ہال کی طرف جانے لگے۔ اس وقت مذکورہ کاریگر ہندوستانی صنعت کار کے پاس آیا۔ اس نے صنعت کار سے ہاتھ ملایا اور اس کے بعد تعجب کے ساتھ کہا: کیا آپ اپنے ملک کے کاریگروں سے کام کے وقت بھی باتیں کرتے اگر اس وقت میں آپ کی باتوں کا جواب دیتا تو کام کے چند منٹ ضائع ہوجاتے اور کمپنی کا نقصان جس کا مطلب پوری قوم کا نقصان تھا۔ ہم یہاں اپنے ملک کو فائدہ پہنچانے آتے ہیں، ملک کو نقصان پہنچانے کے لئے نہیں آتے۔
یہی وہ کردار ہے جو مغربی قوموں کی ترقی کا راز ہے۔ ۱۹۴۵ء میں اتحادی طاقتوں (الائیڈ پاورس) نے جرمنی کو بالکل تباہ کر دیا تھا، مگر صرف ۲۵ سال بعد جرمنی دوبارہ پہلے سے زیادہ طاقت ور بن چکا ہے اور اس ترقی کا راز یہی ہے کہ وہاں کا ہر فرد اپنی یہ ذمہ داری سمجھتا ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی کو بخوبی طور پر وہ اپنی ذات کو اپنی قوم کے تابع سمجھتا ہے۔ ہر آدمی اپنی ذات کی تکمیل میں لگا ہوا ہے۔ مفاد کی قیمت پر نہیں بلکہ ذاتی جدوجہد کی قیمت پر۔ جہاں ذات اور قوم کے مفاد میں ٹکراؤ ہو، وہاں وہ قوم کے مفاد کو ترجیح دیتا ہے، اور اپنی ذاتی خواہش کو دبا لیتا ہے۔
قوم کی حالت کا انحصار ہمیشہ فرد کی حالت پر ہوتا ہے۔ فرد کے بننے سے قوم بنتی ہے اور فرد کے بگڑنے سے قوم بگڑ جاتی ہے۔ قوم کا معاملہ وہی ہے جو مشین کا معاملہ ہوتا ہے۔ مشین اسی وقت صحیح کام کرتی ہے جب کہ اس کے پرزے صحیح ہوں۔ اسی طرح قوم اس وقت درست رہتی ہے جب کہ اس کے افراد اپنی جگہ پر درست کام کر رہے ہوں۔ مشین بنانا یہ ہے کہ پرزے بنائے جائیں۔ قوم بنانا یہ ہے کہ افراد بنائے جائیں۔ فرد کی اصلاح کے بغیر قوم کی اصلاح اسی طرح نا ممکن ہے جس طرح پرزے تیار کئے بغیر مشین کھڑی کرنا۔