Al-Risala · April 1983

Self will not accept not-self

Al-Risala, April 1983, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ چھوٹے سلف (انسان) کی خود داری کی ایک مثال ہے۔ اسی پر بڑے سلف (خدا) کی غیرت اور خود داری کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا تمام غیرت مندوں سے زیادہ غیرت مند اور تمام یکتا پسندوں سے زیادہ یکتا پسند ہے۔ خدا کسی حال میں بھی کسی قسم کی دوئی کو گوارہ نہیں کرتا۔ وہ ہر دوسرے قصور کو معاف کر دے گا مگر شرک کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔

وہ کون خوش قسمت لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کے مقبول بندے ٹھہریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے سلف کے خول کو توڑ کر خدا کے سلف میں گم ہونے پر راضی ہو گئے۔ جو اپنی یا کسی دوسرے کی یکتائی کو بھلا کر خدا کی یکتائی کے آگے جھک گئے۔ جنہوں نے ہر قسم کے شرک کو چھوڑ کر توحید خالص کو اختیار کر لیا۔ انسان کے لئے اگرچہ یہ مشکل ترین کام ہے کہ وہ اپنے سوا کسی دوسرے کا اقرار کرے۔ جب بھی کوئی شخص کسی دوسرے کو مانتا ہوا نظر آئے تو وہ یا تو خوف کی بنیاد پر ہوگا یا مصلحت کی بنیاد پر تا ہم یہی وہ عطیہ جو کوئی انسان کبھی کسی کو نہیں دیتا اسی کا مطالبہ انسان کے خالق نے انسان سے کیا ہے۔ اور اسی کا نام اسلام ہے۔ مسلم وہی ہے جو اپنی خودی کا اثاثہ اپنے خالق کو دینے پر راضی ہو جائے۔ جو اپنے آپ کو پوری طرح خدا کی سپردگی میں دے دے۔ جو ہر اعتبار سے خدا کا تابع فرمان اس میں شک نہیں کہ یہ انسان کے لئے ناقابل برداشت کو برداشت کرنا ہے۔ مگر اسی کو خدا نے اپنی جنت کی قیمت بنا دیا ہے۔ جنت کی انوکھی نعمت اسی خوش نصیب کے حصہ میں آئے گی جو اس انوکھے عطیہ کی صورت میں اس کی قیمت پیش کر دے۔

Printed page