Al-Risala · April 1983

نمائشیی حق پرستی

Al-Risala, April 1983, pp. 47–48

By Maulana Wahiduddin Khan

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پتھر کے اوپر کچھ مٹی جم جاتی ہے۔ اس مٹی کے اوپر سبزہ اگ آتا ہے۔ دیکھنے میں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ کوئی کھیت ہو۔ لیکن اگر زور کی بارش ہو جائے تو مٹی سمیت سارا سبزہ بہہ جاتا ہے اور اس کے بعد صرف پتھر کی صاف چٹان باقی رہ جاتی ہے جو ہر قسم کی ہریالی اور نباتات سے بالکل خالی ہوتی ہے۔

یہی معاملہ اکثر انسانوں کا ہے۔ وہ دیکھنے میں بظاہر ہر بالکل ٹھیک معلوم ہوتے ہیں۔ ظاہری طور طریق میں بہت ”شاداب‘‘ نظر آتے ہیں۔ مگر حالات کا ایک جھٹکا ان کی ساری شادابی اور ہریالی کو ختم کر دیتا ہے اس کے بعد ان کی شخصیت ایک سوکھے پتھر کی مانند ہو کر رہ جاتی ہے۔

ایک شخص جو بات چیت میں شرافت اور معقولیت کی تصویر بنا ہوا تھا وہ عملی تجربہ کے وقت اچانک ایک نامعقول انسان بن جاتا ہے۔ ایک شخص جو انصاف اور انسانیت کے موضوع پر تقریر کر رہا تھا وہ عمل کے موقع پر بے انصافی کا طریقہ اختیار کر لیتا ہے۔ ایک شخص جو مسجد کے رکوع اور سجدہ میں تواضع کا مظاہرہ کر رہا تھا وہ مسجد کے باہر انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں گھمنڈ اور خود پسندی کا مجو اسمہ بن جاتا ہے۔ جو دوسروں کو عالی ظرفی اور حقوق رسی کی تلقین کر رہا تھا جب اس کا اپنا وقت آتا ہے تو وہ بغض، حسد اور ظلم کے راستہ پر چلنے لگتا ہے یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کی آزمائش ہو رہی ہے۔ یہ آزمائش معمول کے حالات میں نہیں ہوتی بلکہ غیر معمولی حالات میں ہوتی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ آدمی عین اس وقت ناکام ہو جاتا ہے جب کہ اس کو سب سے زیادہ کامیابی کا ثبوت دینا چاہئے۔

لوگ باتوں میں حق پرستی کا ثبوت دے رہے ہیں حالانکہ حق پرستی وہ ہے جس کا ثبوت عمل سے دیا جائے، لوگ دوستی کے وقت خوش اخلاق بنے رہتے ہیں حالانکہ خوش اخلاق وہ ہے جو بگاڑ کے وقت خوش اخلاق ثابت ہو۔ لوگ خدا کے سامنے تواضع کی رسم ادا کر کے مطمئن ہیں حالانکہ کسی کا متواضع ہونا یہ ہے کہ وہ بندوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں تواضع پر قائم بنے۔

چٹان کی مٹی پر کی جانے والی کھیتی نمائش کھیتی ہے۔ ایسی کھیتی کسی کسان کے کچھ کام آنے والی نہیں۔ کا ایک ہی ریلا اس کو جھوٹی کھیتی ثابت کر دیتا ہے۔ اسی طرح نمائش حق پرستی بھی جھوٹی حق پرستی ہے جس کو قیامت کا سیلاب اس طرح باطل ثابت کر دے گا کہ وہاں اس کے لئے کچھ نہ ہوگا جس کا سہارا رہے۔

حضرت مسیح کے وعظوں میں سے ایک وعظ میں داعی اور مدعو کی تمثیل ہے۔ یہاں ہم اس تمثیل کا عربی اور اردو ترجمہ نقل کرتے ہیں:

ومن أشبه هذا الجيل يشبيه أولاداً پس اس زمانہ کے لوگوں کو میں کس سے تشبیہ دوں جالسين في الاسواق ينادون الى اصحابهم وہ ان لڑکوں کی مانند ہیں جو بازاروں میں بیٹھے ہوئے ويقولون : زمرنا لكم فما رقستم وندبنا اپنے ساتھیوں کو پکار کر کہتے ہیں۔ ہم نے تمہارے لئے لكم فما بكيتم (متی ۱: ۱۶۱) بانسری بجائی اور تم نہ ناچے ۔ ہم نے ماتم کیا اور تم نہیں روئے خدا کا داعی خدا کے سمندر میں نہاتا ہے۔ اس طرح اس کے لئے ممکن ہونا ہے کہ وہ خدا کی دنیا میں خدا کے گیت وہ فطرت کے ساز پر خدا کے ابدی نغمے چھیڑے۔ ان نغمات میں ایک طرف خدا کے حسن و کمال کی تجلیاں ہوتی ہیں جن کا تقاضا ہوتا ہے کہ ان کو سن کر آدمی رقص کراٹھے ۔ دوسری طرف ان نغمات میں خدا کی پکڑ کی تنبیہات ہوتی ہیں جو ایک حساس انسان کو تڑپا کر اسے رلا دیں۔ داعی خدا کے جمال و جلال کا مظہر ہوتا ہے۔ اتنا غافل ہے کہ وہ ان چیزوں سے کوئی اثر نہیں لیتا۔ داعی کے کلام کی صورت میں خدا بالکل اس کے قریب مگر اس وقت بھی وہ خدا کو نہیں پاتا۔ اس میں نہ حمد خداوندی کی کیفیات جاگتیں اور نہ خوفِ خدا سے اس کی آنکھیں تر ہوتیں ۔ وہ نازک ترین پیغامات کو بھی پتھر کی طرح سنتا ہے نہ کہ اس انسان کی طرح جس کو خدا نے وہ عقل دی ہے جو باتوں کی گہرائی کو پالے اور وہ دل دیا ہے جو درد سے تڑپ اٹھے۔ خدا کی طرف سے ایک پکارنے والے کا وجود میں آنا کسی مشین پر بجنے والے ریکارڈ کا وجود میں آنا نہیں یہ روح انسانی میں ایک ایسے انقلاب کا برپا ہوتا ہے جس کی شدت آتش فشاں پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت داعی کا بولنا اپنے جگر کے ٹکڑوں کو باہر لانا ہوتا ہے۔ اس کا لکھنا اپنے خون کو سیاہی بنانے کے بعد وجود میں آتا ہے۔ اس کے نغمے محض نغمے نہیں ہوتے بلکہ روح انسانی میں ایک خدائی بھو نچال کی آواز ہوتے ہیں۔ مگر اس دنیا کا شاید یہ سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے کہ ایسے ربانی کلمات بھی انسان کو متاثر نہیں کرتے۔ پورے وجود کے ساتھ اس کے سامنے "نذیر عرياں “ بن جاتا ہے، اس کے باوجود وہ اندھا بہرا بنا رہتا ہے۔ کے سامنے جنت کی کھڑکیاں کھولی جاتی ہیں پھر بھی وہ وجد میں نہیں آتا۔ اس کو بھڑکتے ہوئے جہنم کا نقشہ دکھایا جاتا ہے پھر بھی اس پر گریہ طاری نہیں ہوتا۔ اس کے سامنے خدا خود آکر کھڑا ہو جاتا ہے پھر بھی وہ سجدہ نہیں کرتا۔ انسان سے زیادہ نازک مخلوق خدا نے کوئی نہیں بنائی مگر انسان سے زیادہ بے حسی کا ثبوت بھی کوئی نہیں دیتا۔

Printed page