مومن کی معاشی زندگی
Al-Risala, May 1983, pp. 7–8
By Maulana Wahiduddin Khan
یايها الذین امنوا اذا نودى للصلوة من يوم الجمعة فاسعوا الى ذكر الله وذروا البيع ذلكم خير لكم ان كنتم تعلمون . فاذا قضيت الصلوة فانتشروا في الارض وابتغوا من فضل الله واذكروا الله كثيرا لعلكم تفلحون . واذا راوا تجارة او لهوا انفضوا اليها وتركوك قائما. قل ما عند الله خير من اللهو ومن التجارة والله خير الرازقين . (جمعہ - رکوع آخر) " اے ایمان لانے والو! جب جمعہ کی نماز کے لئے پکارا جائے تو اللہ کی یاد کی طرف دوڑ پڑو، اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم جانو۔ پھر جب نماز ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ۔ اور اللہ کا رزق تلاش کرو، اور اللہ کو خوب یاد کرو، تاکہ تم کو فلاح حاصل ہو۔ وہ کوئی تجارت یا تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف چلے جاتے ہیں اور تجھ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔ کہہ دو کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تماشا اور تجارت سے زیادہ بہتر ہے۔ اور اللہ بہترین رازق ہے۔ یہ آیتیں پہلی بار ایک خاص موقع پر ایک خاص معاملے کے بارے میں اتری تھیں مگر ان میں ہمارے لئے دائمی نصیحت ہے۔ دراصل اس میں مسلمانوں کی معاشی زندگی کا وہ اصول بتایا گیا ہے جس کے مطابق انھیں ہمیشہ زندگی گزارنی چاہئے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ (یثرب)
پہنچے تو وہاں ایک بار بڑا سخت قحط پڑا۔ مقامی بازار میں غذائی چیزیں نایاب ہوگئیں۔ اس زمانے میں ایک تاجر دحیہ بن خلیفہ انگلی شام جاکر وہاں سے آٹا، گیہوں، زیتون کا تیل وغیرہ لاتا اور مدینہ کے بازار میں فروخت اس کا معمول تھا کہ جب وہ شہر میں داخل ہوتا تو آگے آگے طبل بجواتا، جو اس بات کا اعلان ہوتا تھا کہ خوراک سے لدا ہوا قافلہ آگیا ہے۔ ایک بار جمعہ کا دن تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے خطبہ دے رہے تھے کہ عین اسی کے درمیان طبل کی آوازیں آنے لگیں۔ لوگ خطبہ چھوڑ کر اس کی طرف کیونکہ یہ ڈر تھا کہ اگر شروع میں نہ پہنچے تو سامان فروخت ہو جائے گا۔ اور پھر خریداری کے لئے اگلی آمد کا انتظار کرنا پڑیگا۔ جب جانے والے جاچکے تو رسول اللہ نے پوچھا " اب کتنے لوگ رہ گئے ہیں ؟ جواب دیا گیا کہ بارہ مرد اور ایک عورت۔ آپ نے فرمایا والذی نفسی بیدہ لو تتابعتم حتی قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری لم يبق منكم احد لسال بكم الوادی نارا - جان ہے۔ اگر تم سب لوگ چلے جاتے حتیٰ کہ کوئی
ایک بھی یہاں نہ رہ جاتا تو یہ وادی تمہارے لئے آگ کی وادی بن جاتی ۔ (تفسیر ابن کثیر)
معلوم ہوا کہ یہ اقتصادی غلطی جو مسلمانوں سے ہوئی یہ اتنی بڑی غلطی تھی کہ اس کے جرم میں ان پر پتھر برس سکتا تھا، اور ان کے پاؤں کے نیچے کی زمین ان کے لئے انگارہ بن سکتی تھی، مگر چند آدمیوں کی وجہ سے اللہ نے اپنا رحم فرمایا۔ اللہ نے اس موقع پر مندرجہ بالا آیتیں نازل فرمائیں اور یہ بتایا کہ مسلمانوں کو اپنی روٹی اور معاش کے مسئلہ میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے ۔ جس سے وہ خدا کے محبوب بن سکتے ہیں اور خدا کے عذاب سے بچ سکتے ہیں۔
اس حیثیت سے جب ہم ان آیتوں پر غور کرتے ہیں تو ہماری معاشی زندگی کے لئے پہلا اصول یہ ملتا ہے کہ جب کبھی ایسا موقع آئے کہ ایک طرف ہماری خرید و فروخت ہو اور دوسری طرف ذکر الہی کی پکار ہو تو ہم خرید و فروخت کو چھوڑ دیں اور ذکر الہی کی طرف دوڑ پڑیں (فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ)۔ اپنے معاشی دھندوں میں اسی وقت تک آزاد ہیں جب تک خدا کی کوئی بات ہماری سرگرمیوں سے ٹکرا نہ رہی ہو۔ جب بھی دونوں میں ٹکراؤ پیدا ہو تو لازماً ہمیں خدا کو لینا چاہئے ، نہ کہ معاش کے تقاضوں کو۔
ہماری معاشی زندگی کے لئے دوسرا اصول جو ان آیتوں میں ملتا ہے وہ یہ ہے کہ جب ہم حصول رزق میں مشغول ہوں تو ایسا نہ ہو کہ بس وہی ہمارا سب کچھ بن گیا ہو، بلکہ اس کے ساتھ ہم خدا کو خوب یاد کر رہے ہوں۔ (وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا) ہمارے دل ودماغ میں خدا بسا ہوا ہو۔ اور ہماری زبان سے بار بار ایسے کلمات ٹپک رہے ہوں جو یہ بتاتے ہوں کہ ظاہری طور پر اگر چہ ہم معاشی دھندے میں مشغول ہیں مگر ہماری توجہ اور ہماری اصل سوچ ہر آن خدا کی طرف لگی ہوئی ہے۔
ہماری معاشی زندگی کا تیسرا اہم اصول وہ ہے جو آخری آیت میں بتایا گیا ہے۔ یعنی ہماری معاشی کامیابیاں یا ہماری زندگی کے لئے معاش کی اہمیت کبھی ہم کو اس دھوکے میں نہ ڈالے کہ یہی سب سے بڑی چیز ہے یا یہی ہماری زندگی کا اصل مسئلہ ہے۔ بلکہ جو کچھ خدا کے پاس ہے اسی کو ہم سب سے بڑی چیز سمجھتے ہوں (مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التَّجَارَةِ) نہ معاشی ناکامی ہم کو اس احساس میں مبتلا کرے کہ ہم تو بالکل لٹ گئے، اور اب ہمارے لئے اس دنیا میں کچھ نہیں رہا، اور نہ معاشی کامیابی ہمارے اندر یہ گھمنڈ پیدا کرے کہ ہمیں جو کچھ پانا تھا وہ ہم نے پالیا۔ بلکہ ہر حال میں ہم خدا کی رحمت