Al-Risala · May 1983

تعمیر کی طاقت

Al-Risala, May 1983, pp. 19–20

By Maulana Wahiduddin Khan

چینی مفکر کنفیوشس کا قول ہے: "ایک چھوٹا چراغ روشن کرنا اس سے بہتر ہے کہ تم تاریکی کو برا کہو۔ " کیونکہ تاریکی کو برا کہہ کر ہم تاریکی کو دور نہیں کر سکتے۔ لیکن ہم اگر تاریکی میں ایک چراغ جلا دیں تو تاریکی اپنے آپ جاتی رہے گی۔

رات کے وقت اگر آپ کے چاروں طرف اندھیرا پھیلا دیا ہو تو اس کے خلاف لفظوں کا طوفان اٹھا کر آپ اس سے نجات نہیں پاسکتے۔ البتہ اگر آپ ایک شمع حاصل کرکے اس کو جلا دیں تو آپ دیکھیں گے کہ رات کے باوجود آپ کا ماحول روشن ہوگیا ہے۔

برائی کو ختم کرنا ہے تو بھلائی کا آغاز کر دیجئے ۔ آپ کو لوگوں کی طرف سے بدسلوکی کا تجربہ ہو تو آپ ان سے حسن سلوک کے ساتھ پیش آئیے۔ لوگ ظالم بنے ہوئے ہوں تو آپ انصاف کرنا شروع کر دیجئے ۔ لوگ آپ کے ساتھ امتیاز برت رہے ہوں تو آپ اس پر صبر کر کے اپنی کمیوں کی تلافی میں لگ لوگ آپ کو اپنی تنقیدوں کا نشانہ بنائے ہوئے ہوںتو آپ ان کو نظر انداز کر کے اپنے اصل کام میں مصروف ہو جائیے ۔ یہی کسی مسئلہ کو حل کرنے کا واحد طریقہ ہے ۔ اس کے سوا جتنے طریقے ہیں وہ مسئلہ کو الجھانے والے ہیں نہ کہ مسئلہ کو حل کرنے والے۔

ایک مسلم نوجوان ایک مسجد میں امام مقرر ہوئے ۔ اس مسجد کے بارہ میں مشہور تھا کہ یہاں کوئی امام ٹھہرتا نہیں۔ وہاں جتنے امام آئے سب تھوڑے تھوڑے دن کے بعد بیزار ہو کر چلے گئے۔ کے لوگ اماموں کو بہت کم تنخواہ دیتے تھے ۔ ان کو عزت کی نظر سے تو دیکھنے کا سوال ہی نہ تھا۔ نوجوان کے اندر تعمیری مزاج تھا۔ اس نے سوچا، میرے پیش رو جو چیز مطالبہ کے ذریعہ حاصل نہ کر سکے، میں اس کو انشاء اللہ عمل کے ذریعہ حاصل کروں گا۔ اس نے خاموشی کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ وہ نہ صرف اپنے مقررہ فرائض کو حسن و خوبی ادا کرے گا، بلکہ فرائض سے زیادہ کام کرنے کی کوشش کرے گا۔ وہ مسجد کی صفائی کا پہلے سے زیادہ اہتمام کرتا۔ مسجد سے ملی ہوئی زمین پہلے خالی پڑی رہتی تھی اب اس نے اس کی صفائی کرکے وہاں سبزی اور پھول لگا دیئے اور آبپاشی اور محنت کرکے اس کو سبزہ زار بنا دیا۔ محلے کے لڑکے جو صبح وشام کھیل کود میں رہتے تھے ان کو مسجد میں بلا کر پڑھانا شروع کر دیا۔ اسی کے ساتھ وہ لوگوں کی تلخ باتوں کا جواب بھی میٹھے انداز میں دیتا۔ وہ لوگوں کی بدسلوکی کے باوجود ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا۔

اس قسم کے کاموں کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے مسجد والوں کے دل جیت لئے۔ لوگ اس سے اتنا خوش ہوئے کہ اپنے آپ اس کی تنخواہ بڑھادی۔ اس کو کثرت سے تحفے ملنے لگے ۔ ہر آدمی اس کو عزت کی نظر سے دیکھنے لگا۔ لوگوں کی خواہش ہوئی کہ اس کے لئے ایسا انتظام کریں کہ وہ یہاں مستقل یہاں سے چھوڑ کر کہیں اور نہ جائے۔ چنانچہ اس کے لئے مسجد سے متصل ایک رہائشی کوارٹر بنایا گیا تاکہ وہ اپنے گھر والوں کو وہاں لائے اور دل جمی کے ساتھ وہاں رہے۔ زندگی کا یہی راز ہے جس کو شیکسپیئر نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے۔ تمہیں کیا چاہئے، جو کچھ بھی تمہیں چاہئے اس کو مسکراہٹ کی طاقت سے حاصل کرو نہ کہ تلوار کی طاقت سے ۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے محض وقتی جذبات کے تحت کام کرتے ہیں۔ اگر وہ سوچ سمجھ کر کام کریں تو انہیں معلوم ہو کہ وہ جو کچھ "تلوار" کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کو وہ "مسکراہٹ" کے ذریعہ زیادہ بہتر طور پر حاصل کر سکتے ہیں۔ آدمی کو بیک وقت دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ پیسہ اور اخلاق۔ پیسہ آپ کو آپ کی ضرورتیں دیتا ہے اور اخلاق آپ کو لوگوں کے درمیان اچھی طرح رہنے کے قابل بناتا ہے۔ آدمی کو اگر اپنی مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے پیسہ چاہئے تو اسی کے ساتھ اس کو لوگوں سے اچھا نباہ کرنے کے لئے اچھا اخلاق بھی چاہئے۔ مگر اکثر آدمی پہلی چیز حاصل کرنے کے لئے محنت کرتے ہیں اور دوسری چیز حاصل کرنا بھول جاتے ہیں۔ چین کی ایک کہاوت میں ان دونوں چیزوں کی اہمیت کو بڑی خوبی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ اگر تمہارے پاس دو پیسے ہوں تو ایک سے روٹی خریدو اور دوسرے سے پھول۔ روٹی تمہیں زندگی دے گی اور پھول تم کو جینے کا فن سکھائے گا۔

Printed page