زندگی کا معرکہ
Al-Risala, May 1983, pp. 20–22
By Maulana Wahiduddin Khan
" سب کچھ لٹ جانے پر بھی مستقبل باقی رہتا ہے " بودی کا یہ قول زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بیان کر رہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے امکانات لٹ گئے ہوں تو وہ یقینی طور پر ماضی کے امکانات ہوں گے نہ کہ مستقبل کے امکانات۔ آدمی خواہ کتناہی زیادہ برباد ہو جائے ۔ بہر حال اس کی بربادی اس کے ماضی کی بربادی ہوتی ہے۔ اس کا مستقبل پھر بھی پوری طرح اس کے لئے موجود ہوتاہے۔ کی طرف اپنے سفر کا آغاز کر کے دوبارہ اپنے لئے ایک نئی کامیاب زندگی پا سکتا ہے۔ کسی حادثہ سے دوچار ہونے کے بعد اگر آدمی یہ کہہ سکے کہ میں نے ماضی کو کھویا ہے مگر میں نے مستقبل کو نہیں کھویا۔ تو گویا کہ اس نے جو چیز کھوئی تھی اس سے بھی زیادہ بڑی چیز اس نے دوبارہ پالئی۔
کیوں کہ اس کا یہ احساس اس کو ایک نیا آغاز عطا کرتا ہے ، اور اس دنیا میں حقیقی آغاز ہی کا دوسرا نام کامیابی ہے ۔
رابرٹ کوئیرنے نہایت صحیح کہا ہے کہ اسسان کی سب سے اچھی دوست اس کی دس انگلیاں ہیں "دس انگلیوں سے اس کی مراد آدمی کے دو ہاتھ ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی کے دو ہاتھ ، جن میں اس کی دس انگلیاں ہیں ، یہ اتنے قیمتی ہیں کہ ساری دنیا کا تمام سونا بھی ان کی قیمت نہیں۔ آدمی جب اپنا باہر کا اٹھا کوکا ہو، اس وقت بھی اس کی دس انگلیاں اس کے پاس پوری طرح موجود انہیں انگلیوں اور انہیں دونوں ہاتھوں سے اس نے حاصل کیا تھا جو کچھ اس نے حاصل اب دوبارہ وہ ان کو استعمال کرکے پھر وہی چیز پا سکتا ہے جس کو اس نے پہلے حاصل کیا تھا، اور پھر اس نے ان کو کھو دیا۔
مسٹر جے سی ملک ایک فوجی پائلٹ تھے ۔ انہوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں فائٹر پائلٹ (ہندوستان ٹائمز ۵ مئی ۱۹۸۲) کے بارے میں ایک مضمون شائع کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ فوجی پائلٹ جب ایک جنگی جہاز لے کر اڑتا ہے تو یہ اس کے لئے گویا موت کی طرف سفر کرنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس کا آواز سے تیز رفتار جہاز اتنی بلندی پر اڑتا ہے جہاں عملاً مہیب خلا کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اپنا سارا سفر مشین کے اعتماد پر کرتا ہے ۔ وہ یا تو اپنا کام کرکے دوبارہ اپنے سابقہ مقام پر واپس آجاتا ہے یا دشمن کا نشانہ بن کر ختم ہو جاتا ہے۔
فوجی پائلٹ کے اس جوکھم کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر ملک نے ایک بڑا سبق آموز جملہ لکھا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ پائلٹ کے اندر اس وقت جو آدمی ہے وہ ڈر کو جانتا ہے ، اس کے اندر جو کارکن ہوا باز ہے اس نے اپنے آپ کو اس کے لئے تیار کر رکھا ہے کہ وہ اس پر قابو پائے۔
The man in him knows fear. But the professional pilot in him has taught and trained himself to master it یہ بات جو مضمون نگار نے فوجی پائلٹ کے بارے میں کہی ہے وہی زندگی کے عام معرکہ کے لئے بھی صحیح زندگی ایک سخت معرکہ ہے جس کا سامنا ہر آدمی کو کرنا پڑتا ہے۔ انسان کی کمزوریاں ان کو ڈراتی ہیں اس کے بظاہر ناموافق حالات اس کو بے ہمت کرتے ہیں۔ لیکن آدمی کو اگر زندگی کا معرکہ جیتنا ہے تو اس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو سنبھالے ، مشکلات سے گھبرانے کے بجائے وہ مشکلات پر فتح حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔
حافظہ پیچھے دیکھتا ہے اور امید آگے "رام چندر رنڈن کا یہ قول اسی حقیقت کو ایک انداز سے بیان کرتا ہے۔ ڈریا نا امیدی دراصل حافظہ کا ایک معاملہ ہے۔ ہمارے ذہن میں جو پچھلی یادیں چھپی ہوئی ہیں ان میں سے کسی یاد کو ہم اپنے ساتھ جوڑ کر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ صورت جو فلاں کے ساتھ پیش آئی تھی وہ ہمارے ساتھ بھی نہ پیش آجائے۔ اگر ہم پچھلی یادوں کو نظر انداز کر کے آگے کے امکانات پر اپنے ذہن کو جمادیں تومعلوم ہوگا کہ جہاں ہم صرف خطرہ دیکھ رہے تھے وہیں ہمارے لئے ایک نیا شاندار امکان چھپا ہوا تھا ۔ کسی نے صحیح کہا ہے " ہر خاتمہ ایک نئے امکان کا آغاز ہے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس راز کو جانتے ہوں۔
ایک مقولہ ہے کہ ہوائیں اکثر اوقات اس رخ کے خلاف چلتی ہیں جو کہ کشتیاں چاہتی ہیں (الریاح فی معظم الاحیان تجری علی خلاف ما تریدہ السفن)
زندگی ایک نا ہموار سفر ہے ۔ زندگی میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آپ کے باہر کے حالات بالکل ویسے ہی ہوں جیسا کہ آپ چاہتے ہیں ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حالات آپ کے ساتھ موافقت نہیں کرتے ۔ آپ کو اپنی زندگی کا سفر حالات سے لڑکر طے کرنا ہوتا ہے۔ زندگی کی مثال دندانہ دار پہیہ (Cog Wheel) کی ہے ۔ ایک دندانہ انسان کا ہے اور دوسرا دندانہ قدرت کا ۔ جب تک قدرت کا پہیہ نہ چلے ، انسان کا پہیہ نہیں چل سکتا۔ انسان جو کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے وہ ان کو محض اپنی ذاتی کوشش سے حاصل نہیں کر سکتا۔ ذاتی کوشش کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ باہر کے اسباب اس کے ساتھ موافقت کریں۔ گویا کہ موجودہ دنیا میں کسی کامیابی کو پانے کے لئے بیک وقت دو چیزیں ضروری ہیں ۔ آدمی کی اپنی ذاتی محنت ۔ دوسرے ، باہر کے حالات کی موافقت ۔
آدمی کو یقیناً اپنے آپ پر قابو حاصل ہے ۔ مگر خارجی اسباب پر اس کا کوئی اختیار نہیں۔ حالت میں موجودہ دنیا میں کامیابی کی صرف ایک ہی صورت ہے ۔ یہ کہ ہم اپنی زندگی کا منصوبہ بناتے ہوئے خارجی اسباب کا بھی ضرور لحاظ رکھیں ۔ خشکی پر چلنے کی قوت رکھتے ہوئے سمندر میں چھلانگ نہ لگائیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ حالات سے ہم آہنگی کر کے اپنا راستہ نکالنے کا نام کامیابی ہے۔ اگر چہ بہت سے لوگ حالات سے لڑکر اپنا راستہ نکالنے میں کامیابی کا راز بتاتے ہیں ۔ (نوٹ) یہ تقریر ۱۰۔ دسمبر ۱۹۸۲ء کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔