Al-Risala · May 1983

یکساں برتاؤ

Al-Risala, May 1983, pp. 23–24

By Maulana Wahiduddin Khan

ویل للمطففین ۔ الذین اذا اکتالوا علی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ وہ لوگ کہ الناس يستوفون ۔ واذا کالوهم جب دوسروں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں۔ او وزنوهـم يخسرون . الا يظن اولئك جب دوسروں کو ناپ کر یاد تول کر دیں تو گھٹا کر دیں انهم مبعوثون ليوم عظيم ۔ يوم کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن وہ اٹھائے يقوم الناس لرب العالمين (المطففین) جانے والے ہیں، اس دن جب کہ تمام لوگ خداوند عالم کے سامنے کھڑے ہوں گے دوسروں کو ان کے حق سے کم کرکے دینا برا ہے۔ مگر دوسروں سے لیتے وقت پورا پورا لینا اور اپنے پاس سے دوسروں کو دینا ہو تو کمی کرکے دینا اور بھی زیادہ برا ہے۔ جو آدمی ایسا کرے وہ خدا کی نظر میں سخت گنہگار ہے۔ ایسا آدمی گویا خود ہی اپنے جرم کو ثابت کر رہا ہے۔ کیونکہ اس کا عمل بتا رہا ہے کہ وہ انصاف اور نا انصافی کے فرق کو جانتا ہے۔ ظلم کا ظلم ہونا اس پر بخوبی واضح ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو وہ اپنی ذات کے لئے کم ملنے کے بارہ میں اتنا حساس کیوں ہوتا۔ جو دکان دار خریدتے ہوتے پورا تول کرلے اور بیچتے ہوئے کم تول کردے، اس کے بدترین مجرم ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ ظاہر الفاظ کے مطابق اس آیت میں لین دین کو صحیح رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ یہ ہے کہ یہاں انسان کی ایک نفسیاتی برائی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اور وہ ہے اپنے لئے کچھ پسند کرنا اور دوسروں کے لئے کچھ۔

وہ سارے لوگ اس آیت کے ذیل میں آتے ہیں جن کا حال یہ ہو کہ وہ دوسروں کی عزت نہ کریں اور خود یہ چاہیں کہ ان کی عزت کی جائے۔ جو خود کسی کو سلام نہ کریں مگر یہ چاہیں کہ لوگ انہیں جو دوسروں کے ساتھ کبھی انصاف نہ کریں مگر اپنے لئے یہ چاہیں کہ لوگ ان کے ساتھ مکمل انصاف کریں۔ خود وعدہ خلافی کریں تو انہیں کوئی احساس نہ ہو مگر جب دوسرا ان کے ساتھ وعدہ خلافی کرے تو بھڑک اٹھیں۔ وہ دوسروں سے خدمت لینے کو اپنا حق سمجھیں مگر دوسرے کی خدمت کرنا انہیں بالکل یا نہ رہے۔ مزدور سے کام لیتے ہوئے یہ چاہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ کام کرے مگر اجرت دیتے وقت یہ چاہیں کہ کم سے کم اجرت دینی پڑے۔ وہ دوسروں کو بے فکری کے ساتھ ستائیں مگر جب انھیں کوئی تکلیف پہنچائے تو چیخ اٹھیں۔

انسانی زندگی کے لئے خدا کا پسندیدہ اصول یہ ہے کہ آدمی کا جو برتاؤ لینے میں ہو۔ کا برتاؤ دینے میں ہو۔ جو آدمی اس کے خلاف عمل کرے وہ خدا کے نقشے کے خلاف چل رہا ہے۔ اور خدا کے نقشے کے خلاف چلنے والے کے لئے خدا کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔ تحریکیں ناکام کیوں موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے جو تحریکیں اٹھائیں۔ وہ سب کی سب اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ اس کا سبب مذکورہ آیت کی روشنی میں معلوم کیا جاسکتا ان تحریکوں کے لیڈر دوسروں سے اپنے خلاف جس ظلم کی شکایت کر رہے تھے وہ خود دوسروں کے خلاف وہی ظلم کر رہے تھے۔ قرآن کے مطابق ایسے لوگوں کے لئے اس دنیا میں خدا کا غضب ہے نہ کہ خدا کی نصرت ۔

الرسالہ مارچ ۱۹۸۳ صفحہ ۴۴ پر ایک تنقیدی مضمون شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں اگر چہ کسی کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ تاہم مسلمانوں کے کچھ لیڈر جو اپنے اعلان کے مطابق ، قوم کے خلاف ظالموں کے ظلم کو ختم کرنے کی مہم چلا رہے ہیں ؛ انہوں نے محسوس کیا کہ اس کی زدان کےاوپر پڑ رہی ہے ان کے آدمی ہمارے دفتر میں آئے ۔ وہ بے مشتعل تھے۔ انہوں نے ہم کو برا بھلا کہا اور دھمکیاں دیں۔ ہم تمہارے اوپر مقدمات چلائیں گے ہم تم کو نکال باہر کریں گے۔ ہم تمہارا خاتمہ کر دیں گے ، وغیرہ۔ میں نے کہا کہ میرے ساتھ آپ جو کچھ کریں گے وہ تو بعد کی بات ہے۔ آپ دیکھئے کہ اپنے اس طرز عمل سے آپ خود اپنے کو کس خانہ میں ڈال رہے ہیں۔ آپ ثابت کر رہے ہیں کہ آپ کا معیار اپنے لئے کچھ ہے اور دوسروں کے لئے کچھ۔

آپ کے بیان کے مطابق آپ کو ہمارے سے ایک مضمون سے شکایت پیدا ہو گئی حالانکہ اس میں آپ کا نام شامل نہ تھا۔ ایسے صرف ایک مضمون کی بنا پر آپ ہم سے اتنا بگڑے ہوئے ہیں کہ ہم کو مٹا ڈالنا چاہتے ہیں۔ پھر جن لوگوں کو آپ ظالم کہتے ہیں ان کے پاس تو آپ کے خلاف اس سے بہت زیادہ بڑی بڑی شکایتیں یہ لوگ جو ظلم کر رہے ہیں وہ بھی یوں ہی بلا سبب نہیں کر رہے ہیں۔ بلکہ مختلف قسم کی شکایتوں اور ناراضگیوں کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔ پھر آپ کے لئے معمولی شکایت کی بنا پر کسی کو برباد کرنے کا منصوبہ بنانا اگر جائز ہے تو وہی دوسرے لوگوں کے لئے ناجائز کیوں ہو۔ یہ تضاد موجودہ زمانہ کے تمام مسلم لیڈروں میں موجود ہے اور یہی تضاد ان کی تمام تحریکوں کو بے نتیجہ بنائے ہوئے ہے۔

Printed page