تذکیر القرآن
Al-Risala, January 1983, pp. 22–25
By Maulana Wahiduddin Khan
وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَأْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا إِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِيْ کتاب مُّبِيْنٍ ﴿٦١﴾ أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٦٢﴾ الَّذِينَ آمَنُوا وَ كَانُوا يَتَّقُونَ ﴿٦٣﴾ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿٦٤﴾ وَلَا يَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿٦٥﴾ اور تم جس حال میں بھی ہو اور قرآن میں سے جو حصہ بھی سنا رہے ہو اور تم لوگ جو کام بھی کرتے ہو، ہم تمھارے اوپر گواہ رہتے ہیں جس وقت تم اس میں مشغول ہوتے ہو۔ اور تیرے رب سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز غائب نہیں، نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی، مگر وہ ایک واضح کتاب میں ہے۔ اللہ کے دوستوں کے لئے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے، ان کے لئے خوش خبری ہے دینی کی زندگی میں اور آخرت میں، اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں، یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور تم کو ان کی بات غم میں نہ ڈالے۔ زور سب اللہ ہی کے لئے ہے، وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ ۶۱ - ۶۵ دعوت اس دنیا کے تمام کاموں میں مشکل ترین کام ہے۔ داعی اپنے پورے وجود کو دعوتی عمل میں شامل کرتا ہے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ کسی پیغام کا داعی بن سکے۔ اس سے بھی زیادہ سخت مرحلہ وہ ہے جو مخاطبین کی طرف سے پیش آتا ہے۔
داعی جب خدا کے دین کو بے آمیز صورت میں پیش کرتا ہے اور اس کو کھلے دلائل کی زبان میں مبرہن کر دیتا ہے تو وہ تمام لوگ بپھر اٹھتے ہیں جو خود ساختہ دین کو خدا کا دین بتا کر دیندار بنے ہوئے ہوں یا دنیا پیشوائی کا مقام حاصل کئے ہوئے ہوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد پروپیگنڈا، سازشیں، حتی کہ جارحانہ کارروائیاں، ہر چیز کو وہ اپنے لئے جائز کر لیتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں ملی ہوئی آزادی انھیں موقع دیتی ہے اور وہ داعی کے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ صورت حال یہاں تک پہنچتی ہے کہ دلیل کی طاقت تمام تر ایک طرف ہو جاتی ہے اور مادیات کی طاقت تمام تر دوسری طرف۔
یہ صورتِ حال بلاشبہ بے حد سخت ہے۔ اس کے بعد ایک طرف یہ ہوتا ہے کہ مخالفین حق کے حوصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے کو کامیاب سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف داعی پر بھی یہ خیال گزرتا ہے کہ کیا خدا اس معاملہ میں غیر جانب دار ہے۔ کیا وہ مجھے حق و باطل کے اس معرکہ میں ڈال کر خود علیحوہ ہوگیا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا حق کا ساتھ نہ دے۔ مخالفین کا بے دلیل ہو جانا اور دلیل کی قوت کا تمام تر داعی کی طرف ہونا یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا داعی کے ساتھ ہے نہ کہ دوسرے گروہ کیونکہ دلیل موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے۔ جس کے ساتھ دلیل ہے اس کے ساتھ گویا خدا مخالفین حق کو جارحیت کا موقع صرف اس آزادی کی وجہ سے مل رہا ہے جو امتحان کی خاطر انہیں دی امتحانی دنیا کے ختم ہوتے ہی یہ صورتِ حال بدل جائے گی۔ اس وقت عزت و برتری اس کے لئے ہوگی جو دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوا تھا۔ جو لوگ دلیل سے خالی تھے وہ وہاں کی دنیا میں رسوا اور ناکام ہو کر رہ جائیں گے۔ اللہ کے سچے داعیوں کا گروہ خدا کے دوستوں کا گروہ ہے۔ اللہ ان کو آخرت میں ایک ایسی اعلیٰ زندگی کی خوش خبری دیتا ہے جہاں نہ انھیں پچھلی زندگی کے لئے کوئی پچھتاوا ہو گا اور نہ اگلی زندگی کے لئے کوئی اندیشہ۔
اَلَا اِنَّ لِلَّهِ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ ؕ وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ شُرَكَاءَ ؕ اِنْ يَّتَّبِعُونَ اِلَّا الظَّنَّ و ان ھم اِلَّا يَخْرُصُونَ ﴿۶۶﴾ هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيْهِ و النھار مُبْصِرًا ؕ اِنَّ فِيْ ذَلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّقَوْمٍ سنو، جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب اللہ ہی کے ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے سواشریکوں کو پکارتے ہیں وہ کس چیز کی پیروی کر رہے ہیں، وہ صرف گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور وہ محض اٹکل دوڑا وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم سکون حاصل کرو۔ اور دن کو روشن بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں۔ ۶۶ - ۶۷ زمین و آسمان کے پیچھے کون ہے جو اس کو سنبھالے ہوئے ہے اور اس کو چلا رہا ہے۔ ہر زمانہ میں انسان کی تلاش کا مرکزی نکتہ رہا ہے۔ مگر اس سوال کا صحیح جواب پانا اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی ماوراے طبیعیات دنیا تک دیکھ سکے اور ماوراے طبیعیات تک دیکھنے والی آنکھ کسی کو حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دہ جواب جو وہ بطور خود قائم کرتا ہے وہ محض قیاس و گمان کی بنیاد پر ہوتا ہے نہ کہ
حقیقی علم کی بنیاد پر۔
اس دنیا میں حقیقی علم کی بنیاد پر بولنے والے صرف وہ لوگ ہیں جن کو پیغمبر کہا جاتا ہے۔ مخصوص لوگ ہیں جن کا ربط عالم بالا سے براہِ راست قائم ہوتا ہے۔ خدا خود انہیں اپنی طرف سے حقیقت کی خبر دیتا ہے۔ اس لئے اس دنیا میں پیغمبر کا علم ہی واحد علم ہے جس پر یقینی طور پر بھروسہ کیا جا سکے۔ پیغمبروں کے دعوے کی صداقت کو جانچنے کے لئے اگرچہ ہمارے پاس کوئی براہ راست ذریعہ نہیں تاہم ایک بالواسطہ ذریعہ یقینی طور پر موجود ہے۔ اور وہ کائنات کی آیات (نشانیاں) ہیں۔ پیغمبروں کے بیان کردہ معنوی حقائق کی عملی تصدیق کر رہی ہیں۔
مثال کے طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری زمین پر رات کے بعد دن آتا ہے اور دن کے بعد رات آتی یہ گردش ایک انتہائی محکم نظام کی وجہ سے وجود میں آتی ہے جو ریاضیاتی صحت کی حد تک منظم ہے۔ مزید یہ کہ یہ گردش حیرت ناک حد تک ہماری زندگی کے موافق ہے۔ اس کے پیچھے واضح طور پر ایک با مقصد منصوبہ کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ صورت حال یقینی طور پر ایک ایسے قادر مطلق اور رحمان و رحیم کے وجود کا ثبوت ہے جس کی خبر پیغمبر دیتے ہیں۔
جو لوگ اپنے خیال کے مطابق ”شریکوں کی پیروی کر رہے ہیں، وہ شرکا ر خواہ قدیم الہیاتی شرکا ر ہوں یا جدید مادی شترکار، وہ کسی واقعی حقیقت کی پیروی نہیں کر رہے ہیں۔ بلکہ صرف اپنے قیاس و گمان کی پیروی کر رہے ہیں۔ پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والی حقیقت کی تصدیق ساری کائنات کر رہی ہے مگر ”مشرکین“ جس چیز کے مدعی ہیں اس کی تصدیق کرنے والا کوئی نہیں۔
قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ۨ سُبْحٰنَهُ ۨ هُوَ الْغَنِيُّ ۨ لَهُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۨ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۢ بِهٰذَا ۭ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ قُلْ اِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيْدَ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنایا ہے۔ وہ پاک ہے، بے نیاز ہے۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔ کیا تم اللہ پر ایسی بات گھڑتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔ ان کے لئے بس دنیا میں تھوڑا فائدہ اٹھا لینا ہے ۔ پھر ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے۔ پھر ان کو ہم اس انکار کے بدلے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے ٦٨۔
خدا کے لئے بیٹے بیٹیاں ماننا خدا کو انسان کے اوپر قیاس کرنا ہے۔ انسان کیوں اور محدودتیوں کا شکار ہے ، اس لئے اس کو اولاد کی ضرورت ہے تا کہ ان کے ذریعہ وہ اپنی کیوں اور محدودیتوں کی تلافی کرے مگر خدا کے معاملہ میں یہ قیاس بالکل بے بنیاد ہے۔
مخلوقات کا نظام خود ہی اس قسم کے خالق کی تردید ہے۔ مخلوقات کا عالمی نظام جس خدا کی شہادت دے رہا ہے وہ یقینی طور پر ایک ایسا خدا ہے جو اپنی ذات میں آخری حد تک کامل ہے۔ وہ ہر قسم کے عیبوں اور کمیوں سے پاک ہے۔ خدا اگر اپنی ذات میں کامل نہ ہوتا ، اگر وہ عیبوں اور کمیوں والا خدا ہوتا تو کبھی وہ موجودہ کائنات جیسی کائنات کو نہیں بنا سکتا تھا اور نہ اس کو اس طرح چلا سکتا تھا جس طرح وہ انتہائی معیاری صورت میں چل رہی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر جس خدائے واحد کا تصور پیش کر رہا ہے اس کا وجود تو زمین و آسمان کی تمام نشانیوں سے ثابت ہے۔ مگر مشرکین نے خدا کا جو تصور بنا رکھا ہے، اس کا کوئی ثبوت موجودہ کائنات میں موجود نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ بے ثبوت خدا کو ماننا خود ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ جو خدا سرے سے موجود نہ ہو وہ کیسے کسی کی مدد پر آئے گا اور کیسے کسی کو بامراد کرے جو خدا حقیقی طور پر موجود ہے، مشرکین اس کو مانتے نہیں ، اور جس خدا کو مانتے ہیں اس کا کہیں وجود نہیں۔ ایسی حالت میں مشرکین موجودہ کائنات میں کیونکر کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ان کے لئے جو واحد انجام مقدر ہے وہ صرف یہ کہ بالآخر وہ بے بس اور بے سہارا ہو کر رہ جائیں اور ہمیشہ کے لئے ذلت و ناکامی میں پڑے رہیں۔ موجودہ دنیا میں انکار یا شرک کا رویہ اختیار کرنے سے کسی کا کچھ بگڑتا نہیں۔ اس سے آدمی غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے۔ مگر موجودہ صورت حال صرف امتحان کی مہلت کی بنا پر ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو امتحان کی وجہ سے عمل کی آزادی دی گئی ہے۔ جیسے ہی امتحان کی مدت ختم ہوگی موجودہ صورت حال بھی ختم ہو جائے گی۔ اس وقت آدمی دیکھے گا کہ اس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں ہے جس کا وہ اپنے آپ کو مالک سمجھ کر سرکش بنا ہوا تھا۔
حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نے عقل سے کہا : ”اے عقل ، اس کائنات میں میں نے تجھ سے افضل، تجھ سے حسین اور تجھ سے بہتر مخلوق پیدا نہیں کی۔ ‘‘ انسان کو ایسی عظیم نعمت دینے کا یہ تقاضا ہے کہ اس کی ذمہ داری بھی عظیم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کے نزدیک سچائی کا انکار سب سے بڑا جرم ہے۔ سچائی کو جب دلیل سے ثابت کر دیا جائے تو آدمی کے اوپر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اس کو مانے۔ عقلی طور پر ثابت شدہ ہو جانے کے بعد اگر وہ سچائی کا انکار کرتا ہے تو وہ ناقابل معافی جرم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ خدا نے جب انسان کو ایسی عقل دی جس سے وہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا جان سکے تو اس کے بعد کیا چیز ہوگی جو خدا کے یہاں اس کے لئے عذر بن سکے۔