منافق کے ساتھ برتاؤ
Al-Risala, May 1983, pp. 144–33
By Maulana Wahiduddin Khan
امام شافعی نے اپنی کتاب الام میں ایک روایت ان الفاظ میں نقل کیا ہے : اخبرنا مالك عن ابن شہاب عن عطاء بن یزید اللیثی ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن عبید اللہ بن عدی بن الخیاران رجلار سار سے چپکے چپکے بات کی۔ ہم نے نہیں جانا کہ وہ چپکے النبی صلی اللہ علیہ وسلم فلم ندر ما ساتر حتی چپکے کیا کہہ رہا ہے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ جهر رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا هو علیہ وسلم با آواز بلند بولے تو ہم نے جانا کہ وہ يشاوره في قتل رجل من المنافقين فقال منافقین میں سے ایک شخص کو قتل کرنے کا مشورہ رسول الله صلى الله عليه وسلم اليس يشهد کر رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لا اله الا الله ۔ قال بلی ولا شهادة له اس کے جواب میں کہا ، کیا وہ لا الہ الا اللہ کی شہادت فقال اليس يصلى قال بلی ولا صلاة له فقال نہیں دیتا ہے۔ آدمی نے کہا ہاں ، مگر اس کی رسول الله صلى الله عليه وسلم أولئك الذين شہادت شہادت نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا نهى الله تعالى عنهم کیا وہ نماز نہیں پڑھتا ہے۔ آدمی نے کہا ہاں ، مگر اس کی نماز نماز نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جن کی طرف سے اللہ نے مجھ کو منع کر دیا ہے۔
بخاری و مسلم نے عبادہ بن الصامت سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بلایا پھر بیعت لی ۔ آپ نے ہم سے سمع و طاعت پر بیعت لی خواہ پسند ہو یا نا پسند ، مشکل ہو یا آسان۔ اور یہ کہ ہم اپنے اوپر ترجیح دئے جانے کو گوارا کریں اور اہلیت والے سے معاملہ میں نزاع نہ کریں الایہ کہ تم کھلا ہوا کفر دیکھو جس کے لئے تمہارے پاس خدا کی طرف سے دلیل ہو (بايعنا على السمع والطاعة في منشطنا ومكرهنا وعسرنا ويسرنا واثرة علينا وان لا ننازع الامر اهله الا ان تروا كفرا بواحا عندكم من الله فيه برھان)
روایات سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا تھا کہ فلاں فلاں اشخاص اگر چہ ظاہری طور پر مسلمان بنے ہوتے ہیں مگر حقیقۃ وہ منافق ہیں۔ اس کے باوجود
آپ نے ان سے مسلمانوں جیسا معاملہ فرمایا اور ان کے ظاہر احوال پر انہیں باقی رکھا۔ مسلم ، احمد، ابن ماجہ اور ابو داود نے اسامہ بن زید سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک سر یہ میں بھیجا۔ ہم صبح کو جہینہ کے علاقہ میں پہنچے۔ وہاں میں نے ایک آدمی کو پکڑا۔ اس نے فورا لا الہ پڑھا۔ پھر بھی میں نے اس کو نیزہ مار دیا۔ اس کے بعد میرے دل میں شبہ پیدا ہواا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا؛ کیا اس نے لا الہ الا اللہ کہا پھر بھی تم نے اس کو قتل کر دیا (قال لا الہ الا اللہ وقتلته) میں نے کہا اے رسول اللہ اس نے ہتھیار کے ڈر سے کہا تھا۔ آپ نے فرمایا: پھر کیوں نہ تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تاکہ تم کو معلوم ہو کہ اس نے واقعہ کہا ہے یا نہیں کہا ہے (افلا شققت على قلبه حتی تعلم اقالها ام لا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جملہ کو برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ کاش میں آج مسلمان ہوا ہوتا۔
حضرت عمر بن الخطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے عبد اللہ بن ابی (رئیس المنافقین) کے قتل کی اجازت دیجئے۔ مگر آپ نے ان کو اجازت نہیں دی۔ اسی طرح ابن ابی کے لڑکے عبد اللہ نے ابن ابی کو قتل کرنے کی اجازت مانگی جب کہ غزوہ مریسیع میں اس کا نفاق ظاہر ہو چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے انکار فرمایا اور کہا: بلکہ ہم اس سے نرمی کا معاملہ کریں گے اور اس سے اچھا تعلق رکھیں گے (بل نتفق به ونحسن صحبته)
اس سے معلوم ہو کہ کسی کو منافق قرار دیکر اس کو قتل کرنا سرا سر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ مخلص اور منافق کا تعلق اللہ سے ہے۔ وہی دونوں کو الگ کر کے ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم لوگوں سے ظاہری حالات کے مطابق معاملہ کریں۔ مدینہ کے منافقین یہود سے ملے ہوئے تھےوہ اسلام کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ بظاہر مسلمان مگر اندر سے نامسلمان تھے ۔ اس کے باوجود ان کو قتل نہیں کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں اقتدار حاصل تھا مگر آپ ان کی حقیقت جانتے ہوئے ان کو برداشت کرتے رہے یہاں تک کہ منافقین اپنی طبعی موت مر کر اللہ کے یہاں حساب دینے کے لئے پہنچ گئے۔