The Call for Islam in South and Southeast Asia
Al-Risala, May 1983, pp. 37–47
By Maulana Wahiduddin Khan
انہوں نے کہا کہ اگر آپ شرکت کی منظوری دے دیں تو ہم حکومت مالدیپ کو ٹیکس کے ذریعہ پیغام بھیج دیں تاکہ وہ آپ کے سفر کے انتظامات کر سکیں۔ میں نے شرکت منظور کرلی۔ تا ہم جلد ہی بعد مجھے لیبیا کا سفر پیش آگیا اور سیٹ کا رزرویشن وقت پر نہ ہوسکا۔ میں لیبیا کے سفر سے واپس آیا تو مالدیپ کے سیمنار کی تاریخ میں صرف تین دن باقی ۹ جنوری کو روانہ ہو جانا میرے لئے بالکل ضروری تھا۔ معلوم ہوا کہ مالدیپ میں یہ سیاحوں کی آمد کا موسم ہے، اس لئے مدراس سے مالے (دارالسلطنت مالدیپ) جانے والے جہاز کی تمام سیٹیں بک ہو چکی ہیں۔ میرا نام ویٹنگ لسٹ میں نمبر ۴۶ پر ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوا کہ اب مالدیپ کا سفر ممکن نہ ہو سکے گا۔
میں نے اپنے آدمی کو وزارت خارجہ (نئی دہلی) کے دفتر میں بھیجا۔ ۸ جنوری کی شام کو ہمارا آدمی وزارت خارجہ کے دفتر میں اس وقت پہنچا جب وہاں دفتر کے کام کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ ڈپٹی سیکرٹری اپنی کرسی سے اٹھ چکے تھے۔ انہوں نے کھڑے کھڑے کیس کو سنا اور اس کے بعد دوبارہ اپنی کرسی پر بیٹھ گئے ۔ اپنے اسٹینو کو بلایا اور اسی وقت ایک خط تیار کر کے ہمارے آدمی کے حوالے کیا۔ کہ اس کو لے کر انڈین ایئر لائنز کے منیجر سے ملیں۔ چنانچہ وہ خط انڈین ایئر لائنز کے منیجر کو دکھایا گیا۔ نے فوری طور پر مدراس کے دفتر کو ٹیکس کیا اور کہا کہ ”مسٹر خان “ کو اعلیٰ ترین ترجیح کی بنیاد پر مالے جانے والے جہاز میں جگہ دی جائے۔
اس کے بعد ہمارا آدمی واپس آگیا۔ چند گھنٹے کے بعد فون کی گھنٹی بجی۔ یہ انڈین ایئر لائنز (نئی دہلی) کا ٹیلی فون تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آپ کی سیٹ مدراس سے کنفرم ہو گئی ہے۔ اس میں میں صرف
اتنا اضافہ کروں گا کہ یہ سب جس نے کرایا اس کا نام مسٹر آر۔ ایم اگروال تھا ! اس خط کا عکس یہاں درج کیا جارہاہے۔
ہماری پرواز ۹ جنوری کو صبح ساڑھے چھ بجے تھی۔ میں ہوائی اڈہ پہنچا تو معلوم ہوا کہ خراب موسم کی وجہ سے تمام پروازیں تین گھنٹے کے لئے موخر کردی گئی ہیں۔ یہ نیا مسئلہ تھا۔ کیونکہ دہلی سے تین گھنٹہ دیر سے روانگی کا یہ مطلب تھا کہ مدراس سے دوسرا جہاز نہ ملے۔ اسی حصیں ہیں میں پالمر پر اپنے جہاز پر سوار ہوگیا۔ مجھ سے ملی ہوئی سیٹ پر مسٹر سبرامنیم تھے جو دہلی الیکٹرک سپلائی انڈر ٹیکنگ (DESU) میں انجینئر ہیں۔ ان کو جب میرا قصہ معلوم ہوا تو فوراً انہوں نے دوڑ دھوپ شروع کر دی۔ وہ کئی بار جہاز کے پائلٹ سے ملے اور اس سے کہا کہ مدراس کے اسٹیشن کو پیغام بھیج کر جہاز کی پوزیشن معلوم کریں۔ پائلٹ نے بھی پوری ہمدردی ظاہر کی اور دوران پرواز اگلے اسٹیشن سے وائرلس کے ذریعہ ربط قائم کیا۔ مگر ادھر سے یہ پیغام ملاکہ "ہوائی جہاز مدراس سے روانہ ہو چکا ہے۔
میں مدراس پہنچا تو حسب قاعدہ ہوائی کمپنی نے ہوٹل (اڈ یار گیٹ ہوٹل) میں میرے قیام و طعام کا انتظام کیا۔ مگر اگلے جہاز سے سیٹ کے رزرویشن کا مسئلہ ابھی باقی تھا۔ مسٹر سبرامنیم نے دوبارہ میرا ساتھ دیا۔ وہ ہوٹل سے مجھ کو لے کر انڈین ایئرلائنز کے دفتر میں گئے ۔ اور وہاں ڈیوٹی آفیسر کو پوری صورت بتائی۔ ڈیوٹی آفیسر مسٹر سوامی ناتھن تھے ۔ انہوں نے نہایت دلچسپی کا اظہار کیا۔ میری روٹ کو کولمبو سے بدل کر تریوندرم کے راستہ سے کیا۔ تریوندرم کے راستہ سے جانے والے جہاز کی بھی تمام سیٹیں بھر چکی تھیں ۔ مگر انہوں نے ذمہ داروں سے اصرار کر کے مجھے اس میں سیٹ اسی کے ساتھ انہوں نے مالدیپ کی وزارت تعلیم کو ٹیلكس کے ذریعہ پیغام بھیجوایا کہ میں خراب موسم کی وجہ سے مدراس میں رک گیا ہوں اور ۱۰جنوری کو فلائٹ نمبر ۵۶۳ سے مالے
مدراس میں مجھے جس ہوٹل میں ٹھہرایا گیا وہاں دوسری چیزوں کے علاوہ بائبل (ایڈیشن ۱۹۸۰) کا ایک خوبصورت نسخہ بھی موجود تھا، اس نسخہ پر لکھا ہوا تھا، This Bible is placed by the Gideon یہ بائبل یہاں جیڈئن کی طرف سے رکھی گئی ہے۔
۱۸۹۸ء میں دو مسیحی مسافر وسکن سن (امریکہ) کے ایک ہوٹل میں ملے ۔ دونوں ایک دوسرے
विदेश मंत्रालय, नई दिल्ली-११ MINISTRY OF EXTERNAL AFFAIRS Dated 7th January, 1983 The Commercial Manager, Sh. Wahiduddin Khan, President of the Islamic Call and Research Centre has been invited by the Maldivian Government to participate in a seminar on the Islamic Call in South and South East Asia to be convened in Male from 10th to 12th January, 1983. Shri Khan will be travelling on the Delhi-Madras, Madras-Colombo, Colombo-Male sector starting from Delhi on 9th January, 1983. His ticket on the Madras-Colombo sector has not been confirmed so far. In view of the importance of the meeting which Shri Khan has to attend, we would strongly recommend that he be allotted a seat on the Madras-Colombo sector for the date mentioned above, on a top priority basis.
UNDER SECRETARY TO THE GOVT. OF INDIA
کے لئے اجنبی تھے ۔ تا ہم یہ ملاقات ان کی مستقل یکجائی کا سبب بن گئی۔ انہوں نے بعض اور سیکیوں کے مشورہ سے یہ طے کیا کہ وہ ایک تنظیم قائم کریں جس کا مقصد ہوٹلوں میں بائبل کی فراہمی ہو۔ بائبل (6-7 Book of Judges) سے لیا گیا ہے۔ آج یہ تنظیم دنیا بھر میں ۱۱۰ سے زیادہ ملکوں میں قائم ہو چکی ہے ۔ موجودہ بائبل کے آغاز میں جیڈین کا تعارف کرتے ہوئے یہ دلچسپ جملہ درج ہے : The Lord has opened doors for the placement of His word among many strategic groups of the population and in places through which large and important streams of national life pass from day to day خدا نے یہ دروازے کھول دئے ہیں کہ اس کا کلام آبادی کے بہت سے اہم حصوں کے درمیان اور اس کا کلام ایسے مقامات پر رکھا جائے جس کے راستے سے قومی زندگی کے بہاؤ کا بڑا اور اہم حصہ روزانہ گزرتا ہے۔
اس سے اندازہ کیجئے کہ موجودہ زمانہ میں تبلیغ کے کون سے نئے نئے راستے کھل گئے ہیں۔ اور فائدہ اٹھانے والے ان سے کس طرح فائدہ اٹھارہے ہیں۔ شروع کے ایک صفحہ پر ایک جس کا عنوان ہے ضرورت کے وقت مدد لو، (Help in time of need) اس کے بعد بتایا گیا ہے کہ آپ اپنے مشکل لمحات میں کس طرح بائبل سے اپنے لئے سہارا لے سکتے ہیں۔ سلسلہ میں چند عنوانات یہ ہیں :
Comfort in time of loneliness - Comfort in time of sorrow Relief in time of suffering - Guidance in time of decision Protection in time of danger - Courage in time of fear Peace in time of turmoil - Rest in time of weariness اس میں بتایا گیا ہے کہ بائبل کا ترجمہ اب تک دنیا کی ۱۰۰ سے زیادہ زبانوں میں ہو چکا ہے۔ اس کے آغاز میں بتایا گیا ہے کہ بائبل کی اہم ترین تعلیم وہ ہے جو (3:16 ,John) میں ان الفاظ میں ہے : کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تا کہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو، بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔
مدراس کے ہوٹل میں میں نے اپنے کمرہ سے کسی بات کے لئے استقبالیہ میں ٹیلی فون کیا۔ میں نے ہندوستانی میں کہا تو دوسری طرف سے آواز آئی ” میں نہیں سمجھا“ میں نے دوبارہ انگریزی میں کہا تو وہ فوراً سمجھ گیا۔ ہندوستان میں اگر آپ اعلیٰ معیار کے ہوٹل میں ٹھہریں یا ہوائی جہاز میں
سفر کریں تو آپ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ آپ انگریزی میں بولیں گے۔ اس ملک میں انگریزی زبان اب بھی اونچی حیثیت کی نشانی بنی ہوئی ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنے ملک میں نہیں بلکہ غیر ملک میں ہیں۔ اگرچہ اکثر انگریزی بولنے والے غلط انگریزی مگر اپنی پوزیشن کو نمایاں کرنے کے لئے وہ ایسا کرتے ہیں کہ ملکی زبان جانتے ہوئے انگریزی زبان میں بولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ صورت حال صرف اس وقت ختم ہوسکتی ہے جب کہ ملکی زبان علمی اور ادبی اعتبار سے انگریزی زبان جیسا مقام حاصل کرلے۔ اپیلوں سے شاید اس کا ختم ہونا ممکن نہیں۔
جنوری کی دوپہر کو ہمارا ہوائی جہاز مالدیپ کے اوپر اڑ رہا تھا۔ دو ہزار چھوٹے جزیروں کا یہ ملک ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک ٹوٹی ہوئی مالا ہے جس کے ہرے ہرے دانے ٹوٹ کر سمندر میں بکھر گئے ہوں ۔ ہوائی اڈہ خود بھی ایک چھوٹے جزیرہ پر ہے۔ یہاں صرف ہوائی اڈہ یہاں سے اسٹیمر پر ہم مالے نامی جزیرہ پر گئے ۔ جو مالدیپ کا دارالسلطنت ہے۔ میل لمبا ڈیڑھ میل چوڑا جزیرہ ہے۔ دو ہزار میں سے دوسو جزیرے آباد ہیں۔ تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار ہے۔ یہاں کی آبادی میں صد فی صد مسلمان ہیں۔ یہاں کوئی بھی غیر مسلم مالے میں میرا قیام سوسن گی (کمرہ نمبر ۱۰) میں تھا۔
سیمنار کی کاروائی ۱۰۔ ۱۲ جنوری ۱۹۸۳ کو ہوئی ۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل سے متعلق چار مقالے پیش ہوئے یہ مقالے مالدیپ کی وزارت تعلیم کی سیکریٹریٹ نے تیار کئے تھے۔ ہر مقالہ پہلے پڑھا جاتا اور اس کے بعد شرکاء اس پر اظہار خیال کرتے تھے۔
یہ اظہار عربی یا انگریزی زبان میں کیا گیا۔ میں نے ان مقالوں پر جو اظہار خیال کیا وہ انگریزی زبان میں تھا جو سیمنار کی فائنل رپورٹ میں شائع ہو چکا ہے۔
۱۱ جنوری کی شام کا کھانا دوسرے جزیرہ پر رکھا گیا ۔ وہاں ہم لوگ اسٹیمر پر گئے ۔ یہ جزیرہ صرف سیاحوں کے لئے ہے۔ یہاں سیاحوں کے نقطہ نظر سے عمارتیں اور ہوٹل تعمیر کئے گئے ہیں۔ کے وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم سمندر کے بیچ ایک سبزہ زار تختہ پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ سیمنار میں چار مقالے پڑھے گئے اور اس کے بعد شرکاء نے ان پر اظہار خیال کیا۔
مقالوں کے عنوانات حسب ذیل تھے :
جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں اسلام کی اشاعت ۔
جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں مخالف اسلام سرگرمیاں ۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں مسلم اقلیتوں کا مسئلہ ۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں آئندہ اشاعت اسلام کی کیا تدابیر اختیار کی جائیں۔ سیمنار میں مذکورہ علاقہ میں واقع تمام ملکوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ کے نمائندے شریک ہوئے ان کے نام یہ ہیں :
مالدیپ، ہندوستان ، سری لنکا ، بنگلہ دیش ، پاکستان ، ملائشیا ، تھائی لینڈ ، انڈونیشیا ، فلپائن، برما، سنگاپور، ماریشس ۔
مالدیپ مجمع الجزائر ہے۔ اور بحرہند کے وسط میں واقع ہے۔ تقریباً ساڑھے سات سو کلومیٹر لمبائی اور تقریباً سواسو کلومیٹر کی چوڑائی میں دو ہزار جزیرے پھیلے ہوئے ہیں۔ اتنے چھوٹے ہیں کہ انکا مجموعی زمینی رقبہ صرف تین سو مربع کلومیٹر ہوتا ہے۔ ان جزائر میں تقریباً دوسو جزیرے آباد ہیں۔ مالدیپ کی آبادی صرف ڈیڑھ لاکھ ہے۔ تمام کے تمام باشندے مسلمان ہیں۔ یہاں کے قانون کے مطابق کسی غیر مسلم کو مالدیپ کی شہریت نہیں دی جاسکتی۔ پہلے مالدیپ کے باشندے بدھسٹ تھے۔ بارہویں صدی عیسوی میں یہاں کے باشندے ایک ساتھ مسلمان ہوگئے۔ انہوں نے عرب تاجروں کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ۵۳۱ء میں مراکش سے ایک عرب تاجر یہاں پہنچا جس کا نام ابو البرکات یوسف علی بربری تھا۔ اس نے تبلیغ کی۔ کی تبلیغ سے مالدیپ کے تمام باشندے مسلمان ہوگئے۔
مالدیپ کی قدیم تاریخ معلوم نہیں۔ یہاں کی ابتدائی تاریخ کا ذریعہ وہ عرب مورخین یا سیاح ہیں جو مالدیپ آئے۔ المسعودی ، ۹۲، میں مالدیپ پہنچا۔ البیرونی نے ۱۰۳۰ میں مالدیپ کی سیاحت الادریسی بارہویں صدی کے آغاز میں مالدیپ آیا۔ ابن بطوطہ کی مالدیپ میں آمد ۱۳۴۷ء فرانسیسی ملاح فرانکوئی لیول (François Pyrard de Lavel) ۱۶۰۱ میں مالدیپ ان لوگوں نے اپنی سیاحتی ڈائری میں مالدیپ کے کچھ احوال لکھے ہیں جس تاج الدین پہلے مالدیپی ہیں جنہوں نے ۱۷۲۶ء میں مالدیپ کے حالات قلم بند کئے ۔
مالدیپ میں ۱۱۴۱ء سے لے کر ۱۵۵۸ء تک سلاطین کی حکومت تھی۔ اس کے بعد پرتگالیوں
نے مالدیپ پر حملہ کیا ۔ ۱۵۵۸ء میں مالدیپ پر پرتگالیوں کا قبضہ ہوگیا۔ اس کے بعد محمد خطیب کی رہنمائی میں آزادی کی جدوجہد شروع ہوئی ۔ جلد ہی پرتگالیوں کو واپس جانا پڑا۔ اور پندرہ سال بعد ۱۵۸۵ء میں سلطان کا راج دوبارہ قائم ہوگیا۔
۱۸۸۷ء میں مالدیپ برطانی راج کے ماتحت آگیا ۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پرامن طور پر مالدیپ کی آزادی کی کوشش شروع ہوئی۔ حکومت برطانیہ اور حکومت مالدیپ کے درمیان تقریباً دس سال کی گفتگو کے بعد جو لائی ۱۹۶۵ء میں ایک معاہدہ پر دونوں حکومتوں نے دستخط کئے۔ مطابق مالدیپ کو مکمل آزادی حاصل ہوگئی۔ اسی سال سے مالدیپ اقوام متحدہ کا ممبر ہے۔ مالدیپ میں صرف ہائر سیکنڈری تک کی تعلیم کا انتظام ہے۔ یہاں ابھی تک کوئی کالج نہیں۔ میں پیچھے ہونے کی وجہ سے اسکولوں کے ماسٹر اکثر بیرونی لوگ ہیں۔ یہاں کی تجارت زیادہ تر مچھلی اور تاہم کوریا اور جاپان کی کشتیاں یہاں کے سمندروں میں آتی رہتی ہیں۔ اور مچھلیاں پکڑ کر لے جاتی ہیں۔ اس کی وجہ سے مچھلی کی آمدنی پوری طرح مالدیپ کے حصہ میں نہیں آتی۔ سیاح کافی آتے ہیں وہ بلاشبہ اپنے ساتھ دولت لاتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ وہ بہت سے مسائل بھی لار ہے ہیں۔ فی الحال کوئی حل مالدیپ کے پاس نہیں۔
۱۳ جنوری کا دن یہاں کے خاص خاص مقامات کے لئے مقرر تھا۔ صبح کو ہم لوگ جزیرہ مالے سے بند یڈوز (Bandos Resort) کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ سفر برطانیہ کی بنی ہوئی ایک کشتی پر ہوا۔ جس پر لکھا ہوا تھا۔
دو گھنٹہ کا یہ سفر بڑا عجیب و غریب تھا۔ راستہ میں ہم دو اور جزیروں پر اترتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچے۔ اس سفر کے دوران بار بار مختلف جزیرے سامنے آتے رہے۔ دو ہزار کی تعداد میں پھیلے ہوئے جزیرے ناریل کے درختوں سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ ان کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے قدرت نے سمندر میں جگہ جگہ ہرے بھرے گلدستے پھیلا رکھے ہوں ۔
یہ سفر بڑا عجیب تھا۔ ہمارے چاروں طرف بحر ہند کا پانی موجیں مار رہا تھا۔ اس میں ہمارا اسٹیمر موجوں کو چیرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ چاروں طرف نیلا آسمان، اس کے اوپر بادل، سمندر میں جگہ جگہ ناریل کے درختوں سے ڈھکے ہوئے جزیرے ، ایسا محسوس ہوا جیسے ہم حسن اور معنویت کی ایک ابدی کائنات میں رواں دواں ہیں۔ میری زبان سے بے اختیار نکلا :
” کیسی عجیب بات ہوگی کہ یہاں ایسی حیرت ناک دنیا ہو اور اس کا کوئی خدا نہ ہو۔ Presented by Britain
حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننا ایک موجود واقعہ کو ماننا ہے نہ کہ کسی غیر موجود چیز کو ماننا۔ خدا تو اپنی صفات کے ساتھ موجود ہی ہے۔ اب بات صرف اتنی ہے کہ اس کو اس کی ذات کے ساتھ بھی مان لیا جائے۔
بینڈوز کا جزیرہ خاص طور پر سیاحوں کے لئے بنایا گیا ہے۔ وہاں کوئی دوسری آبادی نہیں ہے۔ چھوٹے سے جزیرے کے چاروں طرف سمندر لہریں مار رہا ہے۔ اس خوبصورت ماحول میں ہم نے چند گھنٹے گزارے۔ وہیں کھانا کھایا۔ اور اس کے بعد شام کو ملے واپس آ گئے۔
مالے پہنچے تو معلوم ہوا کہ ٹریولنگ ایجنٹ نے کہہ دیا ہے کہ ۵ جنوری کے جہاز میں تمام سیٹیں بک ہو چکی ہیں۔ اس لئے اس دن سیٹ نہیں مل سکتی۔ یہ میرے لئے بہت تشویش ناک خبر تھی۔ کیونکہ دہلی جلد پہنچنے ہی کے لئے میں نے لنکا کا سفر ملتوی کر دیا تھا۔ یہاں کے سیمنار میں جناب محمد حنیفہ (ٹرانسپورٹ منسٹر سری لنکا) بھی آئے تھے۔ انہوں نے دعوت دی کہ سری لنکا میں کچھ وقت قیام کریں۔ اس کے بعد وہاں سے دہلی کے لئے روانہ ہوں۔ مگر میں نے وقت کی کمی کے سبب محمد حنیفہ صاحب سے معذرت کر دی تھی۔ اب میں نے جناب برج نارائن صاحب (سفیر ہند مقیم مالدیپ) کو ٹیلی فون کیا۔ اور ان کے سامنے مسئلہ رکھا۔ انہوں نے کہا کہ اچھا میں ابھی آپ کو بتاتا ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے انڈین ایئر لائنز کے منیجر (مسٹر جوشی) سے ٹیلی فون پر بات کی اور چند منٹ کے بعد مجھے ٹیلی فون پر خبر دی کہ آپ کی سیٹ کنفرم ہو چکی ہے۔ آپ اپنے پروگرام کے مطابق سفر کریں۔ جناب برج نرائن صاحب نے مزید بتایا کہ انہوں نے فیکس کے ذریعہ دہلی میں میرے آفس کو اطلاع بھیج دی ہے کہ میں ۱۵؍ جنوری کی شام کو دہلی پہنچ رہا ہوں۔ مالدیپ میں صدارتی نظام ہے۔ ۱۲ جنوری کی شام کو یہاں کے صدر جناب مامون عبدالقیوم سے ان کی رہائشی قیام گاہ میں ملاقات ہوئی۔ وہ جامعہ ازہر کے تعلیم یافتہ ہیں۔ چنانچہ بے تکلف عربی بولتے ہیں مالدیپ میں چونکہ اعلیٰ تعلیم کا انتظام نہیں ہے۔ اس لئے یہاں کے نوجوان اعلیٰ تعلیم کے لئے باہر جاتے ہیں۔ ان میں بہت سے جامعہ ازہر (مصر) کے تعلیم یافتہ ہیں۔ وزیروں اور افسروں میں کافی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے مصر میں تعلیم پائی ہے اور عربی اچھی جانتے ہیں۔ وزیروں اور افسروں میں کئی لوگ ایسے تھے جو میری کتاب الاسلام متحدی پڑھے ہوئے تھے ان لوگوں نے خواہش ظاہر کی کہ میری مزید کتابیں بھی عربی اور انگریزی میں انہیں فراہم کی جائیں۔
یہاں ملیشیا کے ایک صاحب ملے، انہوں نے بتایا کہ الاسلامیہ متحدی کا ترجمہ ملائی زبان میں بھی شائع ہو چکا ہے۔
مالدیپ میں اردو جاننے والے بھی ہیں۔ چنانچہ کئی ایسے لوگ ملے جنہوں نے بتایا کہ وہ الرسالہ منگاتے ہیں، اور میری اردو کتابیں پڑھے ہوئے ہیں۔
ہندوستانی سفارت خانہ کے سکریٹری مسٹر نائر میرے کمرہ میں آئے اور معلوم کیا کہ مجھے کوئی ضرورت انہوں نے کہا کہ ہمارے لائق جو بھی خدمت ہو ہم اس کو کرنے کے لئے تیار ہیں۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس وقت مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔
مالدیپ کے نوجوان پوسٹ ماسٹر (مالک عبدالرزاق صاحب) تقریباً دو سال پہلے دہلی آئے تھے اور وہاں میرے دفتر میں مجھ سے ملے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ میں خود تو اردو نہیں جانتا مگر میرے دادا اچھی اردو جانتے ہیں۔ اور وہ آپ کی کتابیں بہت شوق سے پڑھتے ہیں۔ میں یہاں آیا تو مجھے ان سے ملنے کی خواہش تھی۔ مگر میں دونوں صاحبان کا نام بھول گیا۔ کچھ لوگوں سے ذکر کیا تو انہوں نے دریافت کر کے معلوم کیا اور مجھ سے ملاقات کا انتظام کیا۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے۔ Mr Abdul Wahab, Dhaharage, Machangoli, Male, Maldives عبدالوہاب صاحب مطالعہ کا بہت شوق رکھتے ہیں۔ اور خاص طور پر دینی کتابیں بہت پڑھتے رہتے ہیں۔ ان کو اولاً میری کتاب (علم جدید کا چیلنج) ملی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے بقیہ کتابیں حاصل کیں۔
مالدیپ میں چوری، قتل ، رشوت ، آپس کے لڑائی جھگڑے وغیرہ بالکل نہیں ہیں۔ حتی کہ مالے کے سواکسی اور جزیرہ پر کوئی پولیس پوسٹ بھی نہیں۔ یہاں کے باشندے عام طور پر بالکل پر امن طریقہ پر البتہ سیاحوں کی آمد سے کچھ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً لڑکیوں کی آزادی ، مہنگائی، معیار زندگی میں تبدیلی ، تنخواہوں میں اضافہ وغیرہ۔
مالدیپ کا دارالسلطنت جس جزیرہ پر قائم ہے اس کا نام مالے ہے۔ یہ صرف دو کلومیٹر مربع رقبہ میں ہے۔ وسیع سمندر کے درمیان اس قسم کے چھوٹے چھوٹے جزیروں کی کوئی حقیقت اگر یہاں جوار بھاٹا آئے تو ان جزیروں پر انسانی آبادی کا کوئی وجود نہ رہے۔ مگر قدرت کا یہ عجیب قانون ہے کہ اس قسم کے چھوٹے جزیروں پر جوار بھاٹا نہیں آتا۔ اگر آپ جزیرہ سے ایک
کشتی یا اسٹیمر پر سوار ہو کر نکلیں تو جزیرے کے کنارے موجیں ہلکی ہوں گی۔ مگر آپ جب دور سمندر کے درمیان پہنچیں گے تو پانی کی لہریں کافی تیز دکھائی دیں گی۔
مالدیپ کا ہندوستانی سفارت خانہ ہر مرحلہ میں بے حد معاون رہا۔ جناب سفیر صاحب اور مسٹر نائر (اتاشی) خود میرے یہاں آئے اور کہا کہ آپ کو جو ضرورت ہو اس کے لئے ہم حاضر ہیں۔ مالدیپ کے سیمنار میں مختلف ملکوں کے لوگوں نے شرکت کی۔ ہندوستان سے صرف میں نے نمائندگی کی۔ سیمنار میں تین زبانیں رائج تھیں ۔ انگریزی، عربی ، اور مالدیپی۔ زیادہ تر انگریزی میں اپنے خیالات ظاہر کئے۔ طریقہ یہ تھا کہ منتظمین سیمنار کی طرف سے اولا کوئی مقالہ پیش کیا جاتا اور اس کے بعد اس پر تبادلہ خیال ہوتا۔
۱۰ جنوری کو جناب موسیٰ فتحی قاسم (چیف جسٹس، مالدیپ ہائی کورٹ) نے مقالہ پیش کیا یہ مقالہ اصلاً عربی زبان میں تھا۔ اس کا عنوان تھا۔
الدعوة الاسلامية وكيف دخل الاسلام جنوب و جنوب شرقي آسيا مقالہ کے بعد مختلف لوگوں نے موضوع سے متعلق اپنے اپنے تاثرات ظاہر کئے۔ میں نے کہا کہ زیر بحث موضوع کے بہت سے پہلو ہیں۔ تاہم میرے نزدیک ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اسلامی علاقہ (Victory in Defeat) میں اسلامی دعوت کی تاریخ شکست میں فتح کا راز بتاتی ہے۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ اس علاقہ میں اسلام کے حاملین کی طرف سے کبھی کوئی فوج کشی نہیں اس کے باوجود یہ علاقہ مسلم اکثریت کا علاقہ ہے۔ یہ کیسے ہوا۔ یہ تاجروں اور صوفیوں کی تبلیغ کے ذریعہ۔
۱۶؍ جنوری ۱۹۸۳ کو میں دہلی واپس آگیا۔
THE INTRODUCTION TO ISLAM The INTRODUCTION TO ISLAM SERIES is the rendering into English of the Urdu Ta'arufi Set by Maulana Wahiduddin Khan. It provides the general public with an understanding of the basic teachings of divinely The titles in this series:
1. The Way to Find God 2. The Teachings of Islam 3. The Good Life 4. The Garden of Paradise 5. The Fire of Hell Jamiat Building, Qasimjan Street, Delhi 110 006