ہار مان لینا
Al-Risala, June 1983, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ کے ایک شخص نے ۱۸۳۱ء میں تجارت کی۔ اس میں وہ ناکام ہوگیا۔ میں اس نے ملکی سیاست میں حصہ لیا مگر وہاں بھی اس نے شکست کھائی۔ اس نے دوبارہ تجارت کی۔ اس بار بھی وہ اپنی تجارت کو چلانے میں ناکام رہا۔ ۱۸۳۵ء میں اس کے اعصاب جواب دے گئے۔ ۱۸۳۶ء میں وہ دوبارہ سیاست میں داخل ہوا۔ اس کو امید تھی کہ اس بار اس کی پارٹی اس کو کانگریس کی ممبری کے لئے نامزد کردے گی۔ مگر آخر وقت میں اس کی امید پوری نہ ہوسکی۔ اس کا نام پارٹی کے امیدواروں کی فہرست میں نہیں آیا۔ ۱۸۵۵ء میں اس کو پہلی بار موقع ملا کہ وہ سینٹ کے لئے کھڑا ہو۔ مگر وہ الیکشن میں ہار گیا۔ ۱۸۵۸ء میں وہ دوبارہ سینٹ کے الیکشن میں کھڑا ہوا اور دوبارہ شکست کھائی۔
یہ بار بار ناکام ہونے والا شخص ابراہام لنکن (۶۵۔ ۱۸۰۹) تھا جو ۱۸۶۰ء میں امریکہ کا صدر منتخب ہوا۔ اس نے امریکہ کی تعمیر میں اتنا بڑا کام کیا کہ آج وہ نئے امریکہ کا معمار سمجھا
ابراہام لنکن کو امریکہ کی قومی اور سیاسی تاریخ میں اتنا معزز نام کیسے ملا اور وہ اس اونچے مقام تک کس طرح پہنچا، ڈاکٹرنارمن ونسنٹ پیل کے الفاظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ ـ وہ جانتا تھا کہ شکست کو کس طرح تسلیم کیا جائے :