Al-Risala · June 1983

دعوت الی اللہ

Al-Risala, June 1983, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

مصطفی محمد عمارۃ کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے: جواہر البخاری و شرح القسطلانی۔ میں امام بخاری اور شیخ قسطلانی کی کتابوں سے ۸۰۰ سے زیادہ حدیثیں منتخب کرکے مختلف عنوانات کے تحت درج کی گئی ہیں۔ ضخیم کتاب میں ہر قسم کے عنوانات ہیں مگر "دعوت الی اللہ" یا اس کے ہم معنی کو ئی عنوان

اس کا مطلب یہ نہیں کہ مصنف کو دعوت و تبلیغ سے متعلق احادیث پہنچیں نہیں۔ نے جن حدیثوں کو پڑھا اور سنا ان میں یقیناً دعوت و تبلیغ والی حدیثیں موجود تھیں۔ مگر ذہن کی مخصوص ساخت کی وجہ سے وہ ان کے ذہن کا جز نہ بن سکیں۔

خود مصنف کی زیر نظر کتاب سے ثابت ہے کہ ان کو دعوت و تبلیغ کی احادیث پہنچی تھیں۔ مگر ان کے ذہن سے ان کا دعوتی مفہوم اوجھل رہ گیا۔ چنانچہ انہوں نے ان احادیث کو دعوت و تبلیغ کے خانہ میں درج نہیں کیا بلکہ کسی اور خانہ میں ان کو نقل کر دیا۔ کتاب کے صفحہ ۲۹۴ پر یہ حدیث ملتی ہے:

عن ابی موسی الاشعرى قال قال رسول الله | ابو موسی اشعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ صلى الله عليه وسلم، مثلی ومثل ما بعثنی الله | علیہ وسلم نے فرمایا میری مثال اور اس چیز کی به كمثل رجل اتی قوماً فقال رأیت الجيش | مثال جس کو لے کر خدا نے مجھے بھیجا ہے اس بعينتي وانی انا النذیر العریان فالنجاء | آدمی کی سی ہے جو ایک قوم کے پاس آیا اور کہا النجاء، فاطاعته طائفة فاد لجوا علی مهلهم | کہ میں نے اپنی دونوں آنکھوں سے دشمن کا لشکر فنجوا وكذبته طائفة فصبحهم الجيش | دیکھا ہے اور میں تم کو کھلا ڈرانے والا ہوں۔ فاجتاحهم - | بچو بچو۔ پھر ایک گروہ نے اس کی بات مانی اور رات کو سویرے چل پڑا اور وہ بچ گیا۔ گروہ نے نہ مانا چنانچہ صبح کو دشمن کا لشکر اس پر ٹوٹ پڑا اور اس کو ہلاک کر ڈالا۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تو اس کا خاص مقصد یہ تھا کہ آپ لوگوں کے سامنے ”نذیر عریان بن جائیں اور ان کو قیامت کے

آنے والے ہولناک دن سے آگاہ کردیں ۔ جو شخص آپ کی بات مان کر اپنی اصلاح کرلے گا وہ جنت میں جائے گا ۔ اور جو شخص آپ کی بات نہیں مانے گا اور اس کے مطابق اپنے کو درست نہیں کرے گا اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔

یہ حدیث واضح طور پر دعوت و تبلیغ کے بارہ میں ہے مگر صاحب کتاب نے اس کو جس عنوان کے تحت درج کیا ہے وہ یہ ہے :

باب الخوف من الله تعالى والانتهاء عن المعاصى والجنة قريبة ۔

اللہ تعالیٰ کا خوف اور گناہوں سے رکنا اور یہ کہ جنت قریب ہے۔

بعد کے زمانہ میں لکھی جانے والی اکثر کتابوں کا یہی حال ہے۔ ان کتابوں میں آپ طہارت سے ۔ لے کر قتال تک کے تمام ابواب پائیں گے۔ مگر دعوت الی اللہ اور تبلیغ ما انزل اللہ کا اس میں کوئی باب یہ صرف عام مصنفین کا حال نہیں ہے بلکہ بڑے بڑے علماء اور مصنفین بھی اس سے مستثنی نہیں ۔

یہی سبب ہے کہ بعد کے دور میں مسلمانوں میں ہم ہر طرح کی سرگرمیاں دیکھتے ہیں مگر دعوت الی اللہ اور شہادت حق کی سرگرمی ہمیں ان کے یہاں نظر نہیں آتی۔ اگر چہ اسلام کی اشاعت کا کام کسی بھی دور میں بند نہیں ہوا۔ ہر دور میں خدا کے بندے بے شمار تعداد میں خدا کے دین میں داخل ہوتے رہے اور آج بھی داخل ہورہے ہیں۔ مگر یہ سب زیادہ تر اسلام کی اپنی قوت سے ہورہا ہے نہ کہ شعوری طور پر مسلمانوں کی کسی دعوتی جدوجہد سے ۔ بعد کی تاریخ میں مسلمانوں کے درمیان پیدا ہونے والی یہ سب سے بڑی کمی ہے جس نے مسلمانوں کو غیر مسلمین کے مقابلہ میں خدا کی نصرت سے محروم کردیا ہے ، جب تک اس کمی کو دور نہ کیا جائے مسلمانوں کو کبھی دنیا میں برتری کا مقام حاصل نہیں ہوسکتا ۔ موجودہ زمانہ میں بظاہر مسلمانوں کے درمیان "دعوت اسلامی کا کافی چرچا نظر مگر ان کی کارروائیوں کو دیکھنے اور ان کی کانفرنسوں میں شرکت کے بعد میرا احساس یہ ہے کہ مختلف اسباب سے لوگ دعوت کا نام تو لے رہے ہیں۔ مگر شاید ان پر یہ واضح نہیں کہ دعوت سے حقیقتًا کیا مراد ہے۔ لوگ سیاسی ہنگامے برپا کرتے ہیں اور قومی مسائل پر پرجوش تقریریں کرتے ہیں اور اسی کو دعوت کا عنوان دے رہے ہیں۔ حالانکہ دعوت خدائی پیغام رسانی کا نام ہے نہ کہ قومی اور مادی ہنگامہ آرائی کا ۔

Printed page