Al-Risala · June 1983

موت کا مرحلہ

Al-Risala, June 1983, pp. 16–17

By Maulana Wahiduddin Khan

موت کا لمحہ تمام قابل قیاس اور ناقابلِ قیاس لمحات سے زیادہ شدید ہے۔ ہر دوسری مصیبت جس کے لئے آدمی پریشان ہوتا ہے۔ اس مصیبت کے مقابلہ میں بیچ ہے جو موت کی صورت میں اس کے سامنے آنے والی ہے۔

موت زندگی کے سخت ترین مرحلہ کی طرف سفر ہے۔ یہ کامل بے اختیاری، کامل بے سروسامانی اور کامل بے مددگاری کے مرحلہ میں داخل ہونا ہے۔ دنیا کی ہر تکلیف کی ایک حد ہوتی ہے، موت ہم کو ایک ایسی دنیا میں داخل کردیتی ہے جس کی تکلیفوں اور مصیبتوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ موجودہ دنیا میں بھی آدمی باعتبارِ حقیقت اسی حال میں ہے۔ انسان اپنی ذات کے اعتبار سے اتنا کمزور ہے کہ وہ معمولی ناخوشگوار ی کو بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ ایک سوئی کا چبھنا، ایک دن کی بھوک پیاس، چند دن کے لئے نیند نہ آنا بھی اس کے پورے وجود کو تڑپا دیتا ہے۔ موجودہ دنیا میں اس کو اس کی ضرورت کے مطابق تمام چیزیں حاصل ہیں اس لئے وہ اپنی بے چارگی کو بھولارہتا ہے۔ وہ اپنی حقیقت سے ناآشنا رہتا ہے۔

اگر آدمی سے موجودہ دنیا چھین لی جائے۔ جہاں پانی اور غذا ہے، جہاں ہوا اور روشنی ہے، جہاں فطرت کی قوتوں کو مسخر کرکے تمدن بنانے کے امکانات ہیں۔ اگر موجودہ دنیا آدمی سے چھین لی جائے تو خلا کے کسی دوسرے مقام پر وہ اپنے لئے اس قسم کی ایک اور دنیا کی تخلیق نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد اس کا انجام اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ وہ اندھیرے میں بھٹکتارہے۔

دنیا میں آدمی پر مصیبت پڑتی ہے تو وہ آہ و ویلا کرتا ہے۔ لیکن اگر وہ آنے والے دن کو جانے تو وہ کہے گا کہ خدا یا جو کچھ بیت رہا ہے اس سے کہیں زیادہ سخت ہے وہ جو بیتنے والا ہے۔ دنیا میں آدمی کو عزت اور آرام حاصل ہو تو وہ فخر اور گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ آنے والے لمحات کو جانے تو وہ کہے گا کہ خدا یا اس عزت اور آرام کی کوئی حیثیت نہیں، اگر آنے والے طویل تر مرحلہ میں وہ باقی نہ رہے۔

موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں، وہ ایک نئے مرحلۂ حیات کا آغاز ہے۔ یہ نیا مرحلہ کسی کے لئے تمام مصیبتوں سے زیادہ بڑی مصیبت کا غار ہوگا اور کسی کے لئے تمام راحتوں سے زیادہ بڑی راحت کا دروازہ ۔

بائبل میں یہود کے بگاڑ کے بارہ میں یہ الفاظ آتے ہیں :

" یہ باغی لوگ اور جھوٹے فرزند ہیں۔ جو خدا کی شریعت کو سننے سے انکار کرتے ہیں۔ بینوں سے کہتے ہیں کہ غیب بینی نہ کرو۔ اور نبیوں سے کہ ہم پر سچی نبوتیں ظاہر نہ کرو۔ ہم کو خوشگوار باتیں اور ہم سے جھوٹی نبوت کرو۔ پس اسرائیل کا قدوس یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تم اس کلام کو حقیر جانتے ہو اور ظلم اور کُج روی پر بھروسا کرتے ہو اور اسی پر قائم ہو، اس لئے یہ بدکرداری تمہارے لئے ایسی ہوگی جیسے پھٹی ہوئی دیوار جو گرا چاہتی ہے۔ وہ اسے کمہار کے برتن کی طرح توڑ ڈالے گا۔ بے دریغ چکناچور کرے گا۔ اس کے ٹکڑوں میں ایک ٹھیکرا بھی ایسا نہ ملے گا جس میں چولہے پر سے آگ یا حوض سے پانی لیا جائے ۔ (یسعیاہ باب ۳۰)

یہود کا بگاڑ یہ نہیں تھا کہ انہوں نے دین کو چھوڑ دیا تھا۔ ان کا بگاڑ یہ تھا کہ وہ خود ساخته دین پر تھے اور اس کو خدا کا دین بتاتے تھے۔ خدا کے جو بندے انہیں سچے دین کی طرف بلاتے ان کو وہ حقیر جانتے تھے اور ان کو نظر انداز کرتے تھے۔ اس کے برعکس جو لوگ جھوٹی کرامتوں اور گھڑی ہوئی بُشا رتوں کے نام پر انہیں بلاتے ان کے گرد وہ جوق در جوق جمع ہو جاتے۔ یہود کو ایسا دین پسند نہیں آتا تھا جو ان کی زندگیوں میں تبدیلی کا تقاضا کرتا ہو۔ دین کو پسند کرتے تھے جس میں اپنی زندگی کا ڈھانچہ توڑنا نہ ہو۔ بس کچھ اوپری اور نمائشی کام کر کے جنت کی ضمانت مل جائے۔ مگراس قسم کا دین اللہ تعالی کو پسند نہیں۔

خدا کے کلام کو حقیر جاننا اور ظلم اور کُج روی پر بھروسہ کرناجس میں یہود مبتلا تھے وہی آج پوری طرح مسلمانوں کے اندر پایا جاتا ہے۔ دوسروں سے مسلمانوں کے جو مادی جھگڑے ہیں ان میں یہ چیز سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ ان جھگڑوں میں خدا کے بتائے طریقہ پر چلنے کا فائدہ ان کی سمجھ میں نہیں البتہ ظالمانہ مقابلہ اور جھوٹی سرگرمیوں میں وہ خوب اپنا وقت اور مال خرچ کرتے ہیں۔ قسم کی سرگرمیاں خدا کی نظر میں " بدکرداری " ہیں اور ان کا نتیجہ ان کے حق میں بھی وہی نکلے گا جو یہود کے حق میں نکلا۔ یہ کہ ان کا گھر پھٹی ہوئی دیوار کی طرح گر پڑے اور وہ مٹی کے برتن کی طرح توڑ ڈالے جائیں۔

Printed page