نامعلوم مستقبل
Al-Risala, June 1983, pp. 14–19
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی اس دنیا میں معصوم کلی کی طرح پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے والدین امنگوں اور حوصلوں کے ساتھ اس کو پالتے ہیں ۔ وہ بڑا ہوتا ہے ۔ اس کے بعد وہ ایک ایسی دنیا میں اپنی زندگی کی جدوجہد شروع کرتا ہے جہاں اس کے لئے تلخ تجربات اور ناخوشگوار یادوں کے سوا اور کوئی چیز موجود نہیں۔
انسان آرزوں کے محل بناتا ہے، صرف اس لئے کہ سنگین حقائق اس کی نفی کرکے اس کو ہمیشہ کیلئے مٹا وہ حوصلوں کی دنیا آباد کرتا ہے۔ مگر اس کے حوصلے صرف اس کے دماغ میں رہ جاتے ہیں۔ خارجی دنیا میں واقعہ نہیں بنتے ۔ وہ امیدیں قائم کرتا ہے ۔ مگر بہت جلد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی امیدیں فرضی سپنے کے سوا اور کچھ نہ تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زندگی ایک نازک شیشہ ہے جو صرف اس لئے دنیا میں آتی ہے کہ حالات کی چٹان سے ٹکرا کر چور چور ہو جائے۔ آدمی موجودہ دنیا میں اپنی زندگی کا آغاز سنہری آرزوں کے ساتھ کرتا ہے۔ مگر بالآخر جو چیز اس کے حصہ میں آتی ہے وہ صرف آرزوں کا ایک قبرستان ہے جو اس کے سینے میں دفن ہو کر رہ جاتا ہے کیسی کیسی امیدیں ، کیسی کیسی تمنائیں اور کیسے کیسے خواب ہوتے ہیں جن کی وہ اپنی روح کے سب سے نازک گوشہ میں پرورش کرتا ہے۔ مگر سب کا سب نا تمام رہتا ہے۔ کا قبرستان بنا ہوا زندگی کے دن پورے کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجاتا ہے جب کہ وہ ایک نامعلوم مستقبل کی طرف دھکیل دیا جائے ۔
انسان کا ماضی امیدوں اور تمناؤں کا ماضی ہے ۔ اس کا حال ناکامیوں اور حسرتوں کا بہت بڑا مزار ہے۔ اور اس کا مستقبل ایک نامعلوم دنیا کی طرف چھلانگ لگانا ہے۔ ہے یہ آغاز اور کیسا عجیب ہے اس کا انجام۔
خدا نے ایسا کیوں کیا۔ اس کی کم از کم ایک وجہ یہ ہے کہ آدمی زندگی کے بارہ میں سنجیدہ وہ زندگی میں کھو جانے کے بجائے زندگی کے آغاز و انجام کے بارہ میں سوچے ۔ سنجیدگی کے ساتھ اس معاملہ میں سوچے گا وہ اس کامل حکمت کو پالے گا جس کی طرف یہ ناقص دنیا ہر آن اشارہ کر رہی ہے ۔
وَقَالَ مُوْسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ أَتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِيْنَةً وَأَمْوَالًا فِي الحیاۃ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَنْ سَبِيْلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيْمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ اور موسیٰ نے کہا، اے ہمارے رب، تو نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں رونق اور مال اے ہمارے رب، اس لئے کہ وہ تیری راہ سے لوگوں کو بھٹکائیں۔ اے ہمارے رب، ان کے مال کو غارت کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے کہ وہ ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب کو دیکھ لیں۔ فرمایا، تم دونوں کی دعا قبول کی گئی۔ اب تم دونوں جمے رہو اور ان لوگوں کی راہ کی پیروی نہ کرو جو علم جو لوگ آخرت کی فکر کرتے ہیں وہ عام طور پر دنیوی ساز و سامان جمع کرنے میں ان لوگوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں جو آخرت سے بے فکر ہو کر دنیا حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہوں۔ دنیوی کی آخرت کی طرف دھیان لگانے کی قیمت ہے، اور دنیوی زیادتی آخرت سے غافل ہونے کی قیمت۔
مزید یہ کہ جس کے پاس دنیا کی رونق اور سامان زیادہ جمع ہو جائیں وہ بڑائی کے احساس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ اپنے اندر یہ صلاحیت کھو دیتے ہیں کہ کسی دوسرے کی زبان پر جاری ہونے والے حق کو پہچانیں اور اس کے آگے جھک جائیں۔ اپنے وسائل کو اگر وہ خدا کا عطیہ سمجھتے تو اس کو حق کی تائید میں استعمال کرتے، مگر وہ اس کو اپنا ذاتی کمال سمجھتے ہیں اس لئے وہ اس کو صرف اس مقصد کے لئے استعمال کرتے ہیں کہ حق کو دبائیں اور اس طرح ماحول کے اندر اپنی برتری قائم رکھیں۔ ”تاکہ وہ تیری راہ سے بھٹکائیں“ کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے دئے ہوئے مال و اسباب کو صرف اس لئے استعمال کیا کہ اس کے ذریعہ سے خدا کے بندوں کو خدا سے دور کریں انہوں نے اس کو حق کی خدمت میں لگانے کے بجائے باطل کی خدمت میں لگایا۔ یہاں شدت بیان کی خاطر کلام کا اسلوب بدل گیا ہے۔
حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے سامنے سچے دین کی دعوت پیش کی اور اپنی اعلیٰ صلاحیتوں اور خدا کی نصرتوں کے ذریعہ اس کو اتمام حجت کی حد تک واضح کر دیا، اس کے باوجود فرعون اور اس کے ساتھیوں نے آنجناب کے پیغام کو نہیں مانا۔ اس وقت حضرت موسیٰ نے دعا کی کہ خدا یا