تضاد کی زمین پر
Al-Risala, January 1983, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۹۷۷ کے الیکشن میں کانگریس کو شکست ہوئی اور ہندوستان میں جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہو گئی۔ اس کے بعد ۱۹۷۹ء میں ایک مسلمان کانگریسی لیڈر نے دہلی میں "ملت بچاؤ" کے نام پر "جیل بھرو" کی تحریک چلائی۔ انھوں نے اعلان کیا کہ جب تک ہماری مانگیں پوری نہ ہوں ہماری تحریک جاری رہے گی ۔ جلدی ہی جنتا پارٹی کی حکومت ختم ہو گئی اور کانگریس پارٹی کی حکومت دوبارہ قائم ہو گئی۔ کے تمام مسائل اب بھی بدستور پوری شدت کے ساتھ موجود تھے۔ مگر جنتا حکومت کے خاتمہ کے ساتھ مذکورہ لیڈر کے مطالبات بھی ختم ہو گئے ۔ جنتا پارٹی کے زمانہ میں جیل بھرو کی تحریک چلانے والے مجاہد نے کانگریس کی حکومت کے زمانہ میں راجیہ سبھا کی کرسی شکریہ کے ساتھ قبول کرلی۔ موجودہ زمانہ میں تمام مسلم لیڈر اسی قسم کے تضاد پر زندہ ہیں ، ان کو جو لیڈری حاصل ہے وہ صرف ان کے تضاد کی قیمت ہے نہ کہ فی الواقع ان کی حق پرستی کی قیمت ۔
ایک بزرگ ہندوستان میں اس مہم کی قیادت کریں گے کہ کسی دینی ادارہ میں صدر کا بیٹا صدر نہ ہو۔ مگر عرب میں جاکر وہ اس پر راضی ہو جائیں گے کہ ایک بادشاہ کے بعد اس کا بیٹا ملک کا بادشاہ بنے۔ ایک قائد پاکستان میں عوامی جمہوریت کی تحریک چلائیں گے مگر پیٹرو ڈالر کے دیس میں غیر جمہوری نظام کے ساتھ ساز گاری کرلیں گے۔ ایک جماعت مصر اور شام میں "مکمل اسلام" سے کم کسی چیز پر راضی نہ ہوگی ۔ مگر اسی جماعت کے افراد دولت مند عرب ممالک میں جزئی اسلام پر مطمئن ہو کر بڑے بڑے مشاہرے قبول کرلیں گے ۔
یہی موجودہ زمانہ میں تمام اسلامی شخصیتوں اور مسلم جماعتوں کا حال ہے۔ وہ ایک مقام پر جس باطل کے خلاف جھنڈا اٹھانے کے چیمپیئن بنیں گے، دوسرے مقام پر اسی باطل کی موجودگی پر خاموش رہیں گے، صرف اس لئے کہ اس خاموشی کی قیمت ان کو اعزازات اور مفادات کی صورت میں مل رہی ہے۔ مگر ہمارے ان قائدین اور مفکرین کو جاننا چاہئے کہ تضاد کی زمین پر صرف شخصی عظمت کا محل کھڑا ہوتا ہے ، ملت کی عظمت کا محل کبھی تضاد کی زمین پر کھڑا نہیں کیا جاسکتا ۔