تذکیر القرآن
Al-Risala, June 1983, pp. 20–29
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کے اوپر وہ سزا نازل فرما جو تیرے قانون کے تحت ایسے سرکشوں کے لئے مقدر ہے۔ پر پیغمبر کی بد دعا خود خدا کے فیصلے کا اعلان ہوتا ہے جو نمائندہ خدا کی زبان سے جاری کیا جاتا ہے۔ حضرت موسیٰ کی دعا قبول ہو گئی ۔ تاہم جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے ، حضرت موسیٰ کی دعا اور فرعون کی تباہی کے درمیان ہم سال کا فاصلہ ہے۔ (تفسیر النسفی) - اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد بھی لمبی مدت تک یہ صورت حال باقی رہی کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھی اپنے آپ کو بے بس پاتے تھے ، اور دوسری طرف فرعون اور اس کے ساتھیوں کی شان و شوکت بدستور ملک میں قائم تھی۔ ایسی حالت میں آدمی اگر خدا کی اس سنت سے بے خبر ہو کہ وہ سرکشوں کو مہلت دیتا ہے تو وہ جلد بازی میں اصل کام چھوڑ دے گا اور مایوسی اور بددلی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔
وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدُوًّا حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿ه﴾ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ ﴿﴾ فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً ۚ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ آيَاتِنَا لَغَافِلُونَ ﴿﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پار کرا دیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے ان کا پیچھا کیا۔ سرکشی اور زیادتی کی غرض سے ۔ یہاں تک کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو اس نے کہا کہ میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں مگر وہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے۔ اور میں اس کے فرمانبرداروں میں ہوں ۔ کیا اب ، اور اس سے پہلے تو نافرمانی کرتا رہا اور تو فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔ پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لئے نشانی بنے اور بیشک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل رہتے ہیں ۹۲ - ۹ مصر میں حضرت موسیٰ کا مشن دو طرفہ تھا ۔ ایک ، فرعون کو توحید اور آخرت کی طرف بلانا ۔ دوسرے ، بنی اسرائیل کو مصر سے باہر صحرائی ماحول میں لے جانا اور وہاں ان کی تربیت کرنا۔ پر دعوت حق کی تکمیل ہو چکی تو اللہ کے حکم سے وہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے روانہ ہوئے۔ پہنچنے کے لئے انہیں دریا کو پار کرنا تھا۔ جب بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کی رہنمائی میں دریا کے کنارے پہنچے تو اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ نے پانی پر اپنا عصا مارا۔ پانی بیچ سے پھٹ کر دائیں بائیں کھڑا ہوگیا،
اور درمیان میں خشک راستہ نکل آیا۔ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل اس راستے سے با آسانی پار
فرعون اپنے لشکر کے ساتھ بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے آگے بڑھا۔ وہ دریا کے کنارے پہنچا تو دیکھا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل پانی کے درمیان ایک خشک راستہ سے گزر رہے ہیں۔ وسیع پاٹ نے پھٹ کر حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو راستہ دے دیا تھا۔ یہ واقعہ دراصل خدا کی ایک نشانی تھا۔ فرعون کو اس سے یہ سبق لینا چاہئے تھا کہ موسیٰ حق پر ہیں اور خدا ان کے مگر اس نے دریا کے پھٹنے کو خدائی واقعہ سمجھنے کے بجائے عام واقعہ سمجھا۔ اپنے اور موسیٰ کے درمیان فرعون کو صرف دریا نظر آیا ، حالانکہ وہاں خود خدا کھڑا ہوا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس واقعہ میں فرعون کے لئے اطاعت اور انابت کا پیغام تھا وہ اس کے لئے صرف سرکشی میں اضافہ کا سبب بن گیا ۔ اس نے ”دریا“ کو دیکھا مگر ”خدا“ کو نہیں دیکھا ۔ اس نے سمجھا کہ جس طرح موسیٰ اور ان کے ساتھیوں نے دریا کو پار کیا ہے اسی طرح وہ بھی دریا کو پار کر سکتا ہے۔ اپنے اس ذہن کے ساتھ فرعون اور اس کا لشکر دریا میں داخل ہوگئے۔ دریا کا پانی جو دو ٹکڑے ہوا تھا وہ موسیٰ اور ان ساتھیوں کے لئے ہوا تھا ، وہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کے لئے نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ فرعون اور اس کا لشکر جب بیچ دریا میں پہنچے تو خدا کے حکم سے دونوں طرف کا پانی مل گیا اور فرعون اپنے لشکر سمیت اس میں غرق ہو گیا۔ غرق ہوتے ہوئے فرعون نے ایمان کا اقرار کیا مگر وہ بے سود تھا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اختیاری ایمان معتبر ہے نہ کہ وہ ایمان جب کہ آدمی ایمان لانے پر مجبور
خدا سے نافرمانی اور سرکشی کا انجام ہلاکت ہے ، اس کا نمونہ دور رسالت میں بار بار انسان کے سامنے آتا تھا ۔ تاہم اس قسم کے کچھ نمونے خدا نے مستقل طور پر محفوظ کر دیئے ہیں تاکہ وہ بعد کے زمانہ میں بھی انسان کو سبق دیتے رہیں جبکہ نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا ہو۔ انہی میں سے ایک تاریخی نمونہ فرعون موسی (رئیس ثانی) کا ہے جس کی ممی کی ہوئی لاش ماہرینِ اثریات کو قدیم مصری شہر تھیبس (Thebes) میں ملی تھی اور اب وہ قاہرہ کے میوزیم میں نمائش کے لئے رکھی ہوئی ہے۔ وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍ وَرَزَقْتُهُم مَّنَ الطَّيِّبَاتِ فَمَا اخْتَلَفُوا حَتَّى جَاءَهُمُ الْعِلْمُ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
بنی اسرائیل قدیم زمانہ میں خدا کے دین کے حامل تھے ۔ ان کے ساتھ خدا نے یہ احسان کیا کہ ان کے دشمن (فرعون) سے ان کو نجات دی۔ اس کے بعد وہ ان کو سینا کی کھلی فضا میں لے گیا۔ وہاں ان کے لئے خصوصی انتظام کے تحت پانی اور رزق مہیا کیا۔ صحرائی تربیت کے ذریعہ ان کے اندر ایک نئی طاقتور نسل تیار کی ۔ اس نسل نے حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد ایک عظیم ملک فتح کیا اور شام اور اردن اور فلسطین جیسے سرسبز علاقہ میں بنی اسرائیل کی سلطنت قائم کی ۔ سو سال تک باقی رہی ۔
اس احسان کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ بنی اسرائیل خدا کے فرماں بردار اور شکر گزار رہتے اور خدا کے دین کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بناتے۔ مگر واضح رہنمائی کے ہوتے ہوئے وہ راہ سے بے راہ ہو گئے ۔
ان کا راہ سے بے راہ ہو نا کیا تھا۔ یہ آپس کا اختلاف تھا۔ ان کے پاس خدا کا اتارا ہوا العلم موجود تھا جو واحد سچائی تھا۔ مگر انہوں نے اس علم کی تشریح و تاویل میں اختلاف کیا اور ٹکڑے ٹکڑے (تفسیر النسفی) کوئی امت جب تک خدا کے اتارے ہوئے دین (العلم) پر رہتی ہے ، اس میں اتفاق واتحاد رہتا ہے۔ مگر بعد کو ان کے درمیان اس علم کی تشریح میں اختلافات شروع ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ایک اختلافی رائے لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور کچھ لوگ دوسری اختلافی رائے لے کر ۔ ہر ایک اپنے اپنے مسلک کو برحق ثابت کرنے کے لئے بحث مباحثہ اور تقریر اور مناظرہ کا طوفان کھڑا کرتا ہے۔ یہاں تک پہنچتی ہے کہ اصل العلم کتابوں میں بند پڑا رہتا ہے اور سارا زور ان کی تاویلات و تشریحات میں صرف ہونے لگتا ہے۔ اس طرح بنیادی دینی تعلیمات (العلم) میں متحد الرائے ہونے کے باوجود لوگ ذیلی تعلیمات میں مشغول ہو کر مختلف الرائے ہو جاتے ہیں ۔
" اللہ قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا" بظاہر متعدی ہے مگر حقیقۃً وہ لازم کا صیغہ ہے۔ یہ ہے کہ قیامت میں جب خدا ظاہر ہو گا تو ہر آدمی اپنے اختلاف کو بھول کر اسی بات کو مان لے گا جو واحد سچائی ہے۔ اگر وہ خدا سے ڈرتے تو آج ہی سب کے سب ایک رائے پر پہنچ جاتے۔ سے بے خوف ہو کر وہ الگ الگ راہوں میں بٹ گئے ہیں ۔ بے خوفی سے رایوں کا تعدد پیدا ہوتا ہے اور خوف سے رایوں کا اتحاد۔
فَإِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ فَسْئَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ * وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ فَتَكُونَ مِنَ الْخَسِرِينَ * پس اگر تم کو اس چیز کے بارے میں شک ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تو ان لوگوں سے پوچھو لو جو تم سے پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں۔ بیشک یہ تم پر حق آیا ہے تمہارے رب کی طرف سے ، پس تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو۔ اور تم ان لوگوں میں شامل نہ ہو جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا ہے ، اور نہ تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گے ۹۴ - ۹۵ پیغمبر بے آمیز حق کو لیکر اٹھتا ہے ، اور بے آمیز حق کی دعوت کو قبول کرنا انسان کے لئے ہمیشہ سخت دشوار کام رہا ہے۔ لوگ عام طور پر ملاوٹی حق کی بنیاد پر کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی دنیا پرستانہ زندگی پر حق کا لیبل لگا لیتے ہیں۔ ایسی حالت میں بے آمیز حق کی دعوت کو ماننا اپنی ذات کی نفی کی قیمت پر داعی حق کو ماننے کے لئے اس کے مقابلہ میں اپنے آپ کو چھوٹا کرنا پڑتا ہے ، اور اپنے آپ کو چھوٹا کرنا بلاشبہ انسان کے لئے مشکل ترین کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ حق کی دعوت اٹھے اور لوگ جوق در جوق اس کی طرف دوڑنا شروع کر دیں۔ حق کا استقبال اس دنیا میں ہمیشہ اعراض اور مخالفت کی صورت میں کیا گیا ہے۔
داعی جب اپنے ماحول میں حق کی یہ بے وقعتی دیکھتا ہے تو کبھی کبھی اس پر یہ شبہ گزرتا ہے کہ میں غلطی پر تو نہیں ہوں۔ اس آیت میں داعی کو اسی نفسیات سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس شبہ کے غلط ہونے کا ایک نہایت واضح ثبوت یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں اور داعیوں کو بھی ہمیشہ اسی طرح کی صورت حال سے سابقہ پیش آیا۔ جو لوگ سابق انبیاء کی تاریخ سے واقف ہیں ان کو بخوبی معلوم ہے کہ اس دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک پیغمبر اٹھے اور فورا اس کو عوامی مقبولیت پھر یہی بات اگر بعد کے زمانہ کے داعیوں کے ساتھ پیش آئے تو اس پر حیران و پریشان ہونے کی کیا ضرورت ۔
آدمی کی عقل اگر کسی چیز کی سچائی پر گواہی دے اور وہ صرف لوگوں کی بے توجہی یا مخالفت کی وجہ سے اس چیز کو چھوڑ دے تو یہ گویا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانا ہے۔ اللہ نشانیوں (دلائل) کے روپ میں انسان کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔ اس لئے جس چیز کی صداقت پر دلیل قائم ہو جائے
اس کو ماننا آدمی کے اوپر خدا کا حق ہو جاتا ہے۔ پھر جو شخص خدا کا حق ادا نہ کرے اس کے حصہ میں نقصان اور ہلاکت کے سوا کیا آئے گا۔
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لایومنون، وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونسَ ۖ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ بے شک جن لوگوں پر تیرے رب کی بات پوری ہو چکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے ، خواہ ان کے پاس ساری نشانیاں آجائیں جب تک کہ وہ دردناک عذاب کو سامنے آتا نہ دیکھ لیں۔ پس کیوں نہ ہوا کہ کوئی بستی ایمان لاتی کہ اس کا ایمان اس کو نفع دیتا ، یونس کی قوم کے سوا ۔ جب وہ ایمان لائے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا اور ان کو ایک مدت تک بہرہ مند ہونے کا موقع دیا ٩٦ - انسان کے سامنے جب ایک حق بات آتی ہے تو اس کی عقل گواہی دیتی ہے کہ یہ صحیح ہے۔ مگر کسی حق کو لینے کے لئے آدمی کو کچھ دینا پڑتا ہے اور اسی دینے کے لئے آدمی تیار نہیں ہوتا۔ کی خاطر آدمی کو دوسرے کے مقابلہ میں اپنے کو چھوٹا کرنا پڑتا ہے ۔ اپنے مفاد کو خطرہ میں ڈالنا ہوتا ہے۔ اپنی رائے اور اپنے وقار کو کھونا پڑتا ہے ۔ یہ اندیشے آدمی کے لئے قبول حق میں رکاوٹ بن جاتے جس چیز کا جواب اس کو قبولیت اور اعتراف سے دینا چاہئے تھا اس کا جواب وہ انکار اور مخالفت سے دینے لگتا ہے۔
آدمی کی نفسیات کچھ اس طرح بنی ہیں کہ وہ ایک بار جس رخ پر چل پڑے اسی رخ پر اس کا پورا ذہن چلنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بار حق سے انحراف کرنے کے بعد بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی دوبارہ حق کی طرف لوٹے ۔ کیونکہ ہر آنے والے دن وہ اپنے فکر میں پختہ تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس قابل ہی نہیں رہتا کہ حق کی طرف واپس جائے۔
اس طرح کے لوگ اپنے موقف کو بتانے کے لئے ایسے الفاظ بولتے ہیں جس سے ظاہر ہو کہ ان کا کیسا نظریاتی کیس ہے۔ مگر حقیقۃً وہ صرف ضد اور تعصب اور ہٹ دھرمی کا کیس ہوتا ہے جو اپنی دنیوی
مصلحتوں کی خاطر اختیار کیا جاتا ہے ۔ تا ہم عذاب خداوندی کے ظہور کے وقت آدمی کا یہ بھرم کھل جائیگا۔ خوف کی حالت اس کو اس چیز کے آگے جھکنے پر مجبور کر دے گی جس کے آگے وہ بے خوتی کی حالت میں جھکنے پر تیار نہ ہوتا تھا ۔
پچھلے زمانہ میں جتنے رسول آئے سب کے ساتھ یہ قصہ پیش آیا کہ ان کی مخاطب قوم آخر وقت تک ایمان نہیں لائی ۔ البتہ جب وہ عذاب کی پکڑ میں آگئے تو انہوں نے کہا کہ ہم ایمان قبول کرتے جب تک خدا انہیں دلیل کی زبان میں پکار رہا تھا۔ انہوں نے نہیں مانا اور جب خدا نے انہیں اپنی طاقتوں کی زد میں لے لیا تو کہنے لگے کہ اب ہم مانتے ہیں۔ مگر ایسا مانا خدا کے یہاں خدا کو وہ ماننا مطلوب ہے جب کہ آدمی دلیل کے زور پر جھک جائے نہ کہ وہ طاقت کے زور پر جھکے ۔
حضرت یونس علیہ السلام عراق کے ایک قدیم شہر نینوی میں بھیجے گئے۔ انہوں نے وہاں تبلیغ کی مگر وہ لوگ ایمان نہ لائے ۔ آخر حضرت یونس نے پیغمبروں کی سنت کے مطابق ہجرت کی۔ وہ یہ کہہ کر نینوی سے چلے گئے کہ اب تمہارے اوپر خدا کا عذاب آئے گا۔ حضرت یونس کے جانے کے بعد عذاب کی ابتدائی علامتیں ظاہر مگر اس وقت انہوں نے وہ نہ کیا جو قوم ہود نے کیا تھا کہ انہوں نے عذاب کا بادل آتے دیکھ کر کہا کہ یہ ہمارے لئے بارش برسانے آرہا ہے ۔ قوم یونس کے اندر فوراً چونک پیدا ہوگئی ۔ اپنے مویشیوں اور عورتوں اور بچوں کو لے کر میدان میں جمع ہوگئے اور خدا کے آگے عاجزی کرنے لگے ، اس کے بعد عذاب ان سے اٹھا لیا گیا۔ جس طرح ظہورِ عذاب سے پہلے کا ایمان قابل اعتبار ہے اسی طرح وقوع عذاب کے قریب کا ایمان بھی قابل اعتبار ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ اتنا کامل ہو جتنا کامل قوم یونس کا ایمان تھا۔
وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَا مَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ وَمَا كَانَ لِنَفْسِ أَنْ تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَ يَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ اور اگر تیرا رب چاہتا تو زمین پر جتنے لوگ ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ پھر کیا تم لوگوں کو مجبور کرو گے کہ وہ مومن ہو جائیں۔ اور کسی شخص کے لئے ممکن نہیں کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر ایمان لاسکے۔ اور اللہ ان لوگوں پر گندگی ڈال دیتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے ۹۹ – ۱۰۰
تیر اب چاہتا تو سارے لوگ مومن بن جاتے " کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے لئے یہ ممکن تھا کہ انسانی دنیا کا نظام بھی اسی طرح بنائے جس طرح بقیہ دنیا کا نظام ہے۔ جہاں ہر چیز مکمل طور پر خدا کے حکم کی پابند بنی ہوئی ہے۔ مگر انسان کے سلسلہ میں خدا کی یہ اسکیم ہی نہیں۔ کے سلسلہ میں خدا کی اسکیم یہ ہے کہ آزادانہ ماحول میں رکھ کر انسان کو موقع دیا جائے کہ وہ خود اپنے ذاتی فیصلے سے خدا کا فرماں بردار بنے۔ وہ اپنے اختیار سے وہ کام کرے جو بقیہ دنیا بے اختیاری کے ساتھ کر رہی ہے ، جنت کی ابدی نعمتیں اسی اختیاری نہ اطاعت کی قیمت ہیں۔
"کوئی شخص خدا کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لاسکتا " کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کو ایمان کی نعمت ملے گی تو اس طریقہ کی پیروی کر کے ملے گی جو خدا نے اس کے لئے مقرر کر دیا ہے۔ میں ایمان کو پانے کا راستہ یہ ہے کہ آدمی ایمان کی دعوت کو اپنی عقل کے استعمال سے سمجھے۔ کی عقل کے اوپر اس کی دنیوی مصلحتیں غالب آجائیں اس کی عقل گویا گندگی کی کیچڑ میں لت پت ہو گئی ہے۔ ایسے شخص کے لئے اس دنیا میں ایمان کی نعمت پانے کا کوئی سوال نہیں ۔ قُلِ انْظُرُوا مَاذَا فِي السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَا يُؤْمِنُونَ © فَهَلْ يَنْتَظِرُونَ إِلَّا مِثْلَ أَيَّامِ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ قُلْ فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ © ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا ۚ كَذَلِكَ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِينَ © کہو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے دیکھو اور نشانیاں اور ڈراوے ان لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچاتے جو ایمان نہیں لاتے ۔ وہ تو بس اس طرح کے دن کا انتظار کر رہے ہیں جس طرح کے دن ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو پیش آئے کہو، انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں ۔ پھر ہم بچا لیتے ہیں اپنے رسولوں کو اور ان کو جو ایمان لائے۔ اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ہم ایمان والوں کو بچا لیں گے ۔ ۱۰۳ - ۱۰۱ ہمارے چاروں طرف جو کائنات ہے اس میں بے شمار نشانیاں موجود ہیں جو خدا کے وجود کو ثابت کرتی ہیں۔ اور اسی کے ساتھ یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس کائنات کے بارہ میں خدا کا منصوبہ کیا ہے۔ مزید یہ کہ دنیا میں ڈراوے ( اندھی اور بھونچال ) جیسے واقعات بھی پیش
آتے رہتے ہیں جو انسان کو خدا اور آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ بنائیں ۔ مگر یہ سب کچھ عالم امتحان میں ہوتا ہے ، یعنی ایسی دنیا میں جہاں آدمی کو اختیار ہے کہ مانے یا نہ مانے۔ یہ کرتا ہے کہ جب نشانیاں اور ڈراوے سامنے آتے ہیں تو وہ ان کی کوئی نہ کوئی خود ساختہ توجیہہ کر کے بات کو دوسرے رخ کی طرف پھیر دیتا ہے اور نصیحت سے محروم رہ جاتا ہے۔ جب آدمی دلیل کی زبان میں بات کو نہ مانے تو گویا وہ صرف اس دن کا انتظار کر رہا ہے جب کہ امتحان کا پردہ ہٹا دیا جائے اور خدا اپنا آخری فیصلہ سنانے کے لئے سامنے مگر وہ دن جب آئے گا تو وہ آج کے دن سے بالکل مختلف ہوگا۔ آج تو ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں بظاہر یکساں حالت میں نظر آتے ہیں۔ مگر جب فیصلہ کا دن آئے گا تو اس کے بعد وہی لوگ امن میں رہیں گے جو حق پرست ثابت ہوئے تھے ۔ بقیہ تمام لوگ اس طرح عذاب کی لپیٹ میں آجائیں گے کہ اس کے بعد ان کے لئے کوئی راہ نہ ہوگی جس سے بھاگ کر وہ نجات حاصل کریں۔
قُلْ یٰأَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي شَكٍّ مِّنْ دِيْنِيْ فَلَا أَعْبُدُ الَّذِيْنَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُوْنِ اللَّهِ وَلٰكِنْ أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذِيْ يَتَوَفَّاكُمْ وَأُمِرْتُ أَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ * وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿ وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذَا مِنَ الظَّلِمِينَ ﴾ وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُو وَإِنْ يُرْدِكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ يُصِيْبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ کہو، اے لوگو اگر تم میرے دین کے متعلق شک میں ہو تو میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو اللہ کے سوا۔ بلکہ میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تم کو وفات دیتا ہے اور مجھ کو حکم ملا ہے کہ میں ایمان والوں میں سے بنوں۔ اور یہ کہ اپنا رخ یکسو ہو کر دین کی طرف کروں۔ میں سے نہ بنوں۔ اور اللہ کے علاوہ ان کو نہ پکارو جو تم کو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ تم ایسا کرو گے تو یقیناً تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ۔ اور اگر اللہ تم کو کسی تکلیف میں پکڑلے تو
اس کے سوا کوئی نہیں جو اس کو دور کرسکے۔ اور اگر وہ تم کو کوئی بھلائی پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔ وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے - ۱۰۶-۱۰۷ داعی اولاً دلیل کی زبان میں اپنی بات کہتا ہے۔ مگر جب لوگ دلیل سننے کے باوجود شک و شبہہ میں پڑے رہتے ہیں تو اس کے پاس آخری چیز یہ رہ جاتی ہے کہ عزم کی زبان میں اپنے پیغام کی صداقت کا اظہار کر دے۔
توحید کے داعی کا مشرک کے پرستاروں سے یہ کہنا کہ "میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی عبادت تم لوگ کرتے ہو، محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں ایک دلیل بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں بھی تمہارے جیسا ایک انسان ہوں۔ میرے پاس بھی وہی عقل ہے جو تمہارے پاس پھر جس بات کی صداقت میری سمجھ میں آرہی ہے اس کی صداقت تمہاری سمجھ میں آخر کیوں نہیں آتی۔ سچائی اگر ایک انسان کی سطح پر قابل فہم ہو جائے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے لئے بھی قابل فہم تھی۔ اس کے باوجود اگر دوسرے لوگ انکار کریں تو یقیناً اس کی وجہ خود ان کا اپنا کوئی نقص ہوگا نہ کہ دعوت حق کا نقص ۔ جس چیز کو ایک آنکھ والا دیکھ رہا ہو اور دوسرا آنکھ والا شخص اسے نہ دیکھے تو وہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آنکھ والا حقیقۃ آنکھ والا کیونکہ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ جس چیز کو ایک آنکھ والا دیکھ لے اس کو دوسرا شخص آنکھ رکھتے ہوئے نہ دیکھ سکے ۔
موت اس بات کا اعلان ہے کہ آدمی اس دنیا میں کامل طور پر بے اختیار ہے۔ موت ان تمام چیزوں کو باطل ثابت کر دیتی ہے جن کے سہارے سے آدمی انکار اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ موت ایک طرف آدمی کو اپنے عجز اور دوسری طرف خدا کی قدرت کا تعارف کراتی ہے۔ ہے کہ اس دنیا میں کوئی نہیں جس کو نفع دینے یا نقصان پہنچانے کا اختیار حاصل ہو۔ موت آدمی کو ہر دوسری چیز سے کاٹ کر خدا کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ مکمل طور پر انسان کو خدا کا پرستار بناتی ہے۔ اگر آدمی کے اندر سبق لینے کا ذہن ہو تو صرف موت کا واقعہ اس کی اصلاح کے لئے کافی ہو جائے۔
ہر انسان پر ایک وقت آتا ہے جب کہ وہ بے بسی کے ساتھ اپنے آپ کو موت کے حوالے کر دیتا ہے۔ اسی طرح کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ فائدہ اور نقصان کے معاملہ میں وہی ہونے دے جو وہ چاہتا وہ مطلوب فائدہ کو ہر حال میں پالے اور غیر مطلوب نقصان سے ہر حال میں محفوظ رہے۔
یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ انسان ایک بے اختیار مخلوق ہے۔ وہ ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں کوئی اور بھی ہے جو اس کے اوپر حکمرانی کر رہا ہے۔
قُلْ یٰاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنِ اهْتَدٰى فَإِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهِ ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَمَا اَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ ۭ وَاتَّبِعْ مَا يُوْحٰى إِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ کہو، اے لوگو تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس حق آگیا ہے۔ جو ہدایت قبول کریگا وہ اپنے ہی لئے کرے گا اور جو بھٹکے گا تو اس کا وبال اسی پر آئے گا، اور میں تمہارے اوپر ذمہ دار نہیں ہوں۔ اس کی پیروی کرو جو تم پر وحی کی جاتی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۱۰۸ - دعوت کا کام اصلاً اعلان حق کا کام ہے۔ کسی گروہ کے اوپر اس وقت پیغام رسانی کا حق ادا ہو جاتا ہے جب کہ داعی امر حق کو دلیل کے ذریعہ پوری طرح واضح کر دے اور اسی کے ساتھ اس بات کا ثبوت دیدے کہ وہ اس معاملہ میں پوری طرح سنجیدہ ہے۔
داعی اگر وقت کے معیار کے مطابق امر حق کو مدلل کر دے۔ وہ نفع نقصان سے بے نیاز ہو کر حق کی مکمل گواہی دیدے۔ وہ ہر تکلیف اور ناخوش گواری کو برداشت کرتا ہوا اپنے دعوتی کام کو جاری رکھے تو اس کے بعد مخاطب کے اوپر وہ اتمام حجت ہو جاتا ہے جس کے بعد خدا کے یہاں کسی کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہے۔
داعی کا کام اصلاً اتباع وحی ہے۔ یعنی اپنی ذات کی حد تک عملاً مرضی رب پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کو مرضی رب کی طرف پکارتے رہنا۔ اس کام کو ہر حال میں حکمت اور صبر اور خیر خواہی کے ساتھ مسلسل جاری رکھنا ہے۔ اس کے بعد جتنے بقیہ مراحل ہیں وہ سب براہِ راست طور پر خدا سے متعلق داعی کی طرف سے کوئی دوسرا عملی اقدام صرف اس وقت درست ہے جب کہ خود خدا کی طرف سے اس کا فیصلہ کیا جا چکا ہو ۔ اور اس کے آثار ظاہر ہو جائیں۔
خدا کا فیصلہ ہمیشہ حالات کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب خدا کے علم میں داعی کا دعوتی کام مطلوب حد کو پہنچ چکا ہوتا ہے تو خدا حالات میں ایسی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے جس کو استعمال کر کے داعی اپنے عمل کے اگلے مرحلہ میں داخل ہو جائے۔