Where Cross and Cresent Meet
Al-Risala, June 1983, pp. 46–32
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مضمون میں صلاح الدین ایوبی کی ایک دلچسپ کہانی درج تھی۔ عمان اور عقبہ کے درمیان گزرنے والی سڑک پر قدیم شہر موآب ہے۔ اس میں کراک کا قلعہ واقع ہے۔ پہاڑ کے اوپر ہے جہاں سے بحر مردار دکھائی دیتا ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی ۱۱۸۳ء میں یہاں داخل ہوا، اس کو معلوم ہوا کہ یہ عین وہی دن ہے جب کہ یروشلم کی شہزادی از میلا کی شادی تورون کے شہزادہ ہمفری سے ہوئی ہے۔ دلہن کی ماں نے شادی کے
ناشتہ کا کچھ سامان صلاح الدین ایوبی کے پاس بھجوایا۔ صلاح الدین ایوبی نے پوچھا کہ قلعہ کے کس ٹاور میں نوجوان میاں بیوی رات گزاریں گے۔ جب اس کو بتایا گیا تو اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیدیا کہ اس ٹاور پر گولے نہ پھینکے جائیں۔ اس قصہ کو بیان کرنے کے بعد مضمون نگار نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ کاش یہ مثال بار بار دہرائی جاتی : One wishes that the example could have been more frequently followed ہائی لائف میگزین میں اشتہار کی اپیل کرتے ہوئے ایک دلچسپ مکالمہ درج ہے۔ I hear that High Life has an audience of over 1.25 million air travellers a month. Yes, and 64% are bussiness people. In fact, High Life has more business readers than most business oriented publications. یہ مکالمہ ظاہری طور پر درست ہے۔ مگر اس کو سمجھنے کے لئے اس میں اتنا اور اضافہ کرنا ہوگا کہ ہائی لائف کی قسم کے "ان فلائٹ میگزین اتنے کم دلچسپ ہوتے ہیں کہ بہت تھوڑے ہوائی مسافر ان کو باقاعدہ پڑھنے کی زحمت گوارہ کرتے ہیں۔ "شماریات" کی زبان بظاہر بڑی قطعی معلوم ہوتی ہے ۔ مگر اکثر اوقات حقیقت اس سے زیادہ وسیع ثابت ہوتی ہے کہ وہ شماریات کی حد بندی میں سما سکے ۔
گیارہ بجے ہم دبئی پہنچے۔ ہوائی جہاز کو یہاں ایک گھنٹہ ٹھہرنا تھا۔ دبئی کا ہوائی اڈہ ان ہوائی اڈوں میں سے ہے جہاں آگے جانے والے مسافروں کو وقتی طور پر اترنے کی اجازت ہے۔ آپ "ٹرانزٹ پاس" لے کر ایک گھنٹہ کے لئے یہاں اتر سکتے ہیں۔ ہوائی جہاز سے نکل کر ایک عرب ملک کی زمین پر قدم رکھنا بظاہر برٹش دنیا" سے نکل کر "مسلم دنیا" میں قدم رکھنا تھا۔ مگر مغربی تہذیب کے غلبہ نے موجودہ زمانہ میں اس فرق کو بہت کم باقی رکھا ہے۔ جب ہوائی جہاز سے نکل کر باہر آتا ہے تو وہ ایک دنیا اور دوسری دنیا میں بظاہر بس اتنا فرق پاتا ہے کہ جہاز کے اندر تختیوں پر انگریزی الفاظ اوپر لکھے ہوئے تھے اور عربی الفاظ اس کے برعکس باہر کی دنیا میں تمام تختیوں پر عربی الفاظ اوپر لکھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور انگریزی الفاظ نیچے ۔ تاہم چھ گھنٹہ کی اڑان کے بعد جہاز کویت کی فضا میں پہنچا تو یہاں دوسرے اعلانات کے ساتھ عملہ کی طرف سے یہ اسلامی اعلان بھی کیا گیا کہ "جو مسافر یہاں اتر رہے ہیں ان کی اطلاع کے لئے بتایا جاتا ہے کہ کویت کے اندر