شراب لے جانا بالکل منع ہے۔ “
Al-Risala, June 1983, pp. 33–36
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۳ مارچ کو جب کہ ہمارا جہاز ایک گھنٹے کے لئے کویت کے ہوائی اڈہ پر کھڑا تھا، اس وقت ہمارے دو ساتھی کویت کے دورہ پر تھے۔ دہلی سے ٹیلی فون کی گفتگو میں ان کو میرا پروگرام بتایا جا چکا تھا۔ اگر ٹرین کی طرح ہوائی جہازوں پر بھی آکر ملنے کی اجازت ہوتی تو وہ ضرور اندر آکر مجھ سے ملاقات کرتے۔ مگر ہوائی جہاز کے مخصوص قوانین کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ ”ٹرین“ بھی سواری ہے اور ”ہوائی جہاز“ بھی سواری۔ اس لفظی اشتراک کی بنا پر اگر کوئی شخص ”پلیٹ فارم“ ٹکٹ لینے کے لئے ہوائی اڈہ پہنچ جائے تو اس کے حصہ میں ناکام واپسی کے سوا اور کچھ نہیں آئے گا۔ دہلی سے دہلی اور کویت تک کافی ہندوستانی مسافر جہاز میں تھے ۔ وہ زور زور سے باتیں کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے جہاز کے اندر سکون کی فضا برہم ہو رہی تھی۔ ۳۰؍ اگست ۱۹۸۲ کا دن یاد آیا جب کہ میں مالٹا سے فرانس کی طرف سفر کر رہا تھا۔ میں مجھ سے ملی ہوئی دو سیٹوں پر دو فرانسیسی بچے تھے ۔ دونوں بھائی بہن تھے اور برابر آپس میں باتیں کر رہے تھے ۔ مگر وہ دونوں اتنے آہستہ بولتے تھے کہ میں بالکل ان کی بغل میں ہونے کے باوجود ان کی گفتگو کا ایک لفظ بھی سمجھ نہ سکا۔ کتنا فرق ہے ایک انسان اور دوسرے انسان میں ۔ میں نے ان سے بعض سوالات کئے تو انہوں نے اتنے مہذب انداز میں ان کے جوابات دئے کہ ہندوستان میں بہت کم اس کی امید کی جاسکتی ہے۔ ۲۴ مارچ کو میں لندن پہنچا۔ وہاں چند روز قیام کے بعد ۲۹ مارچ ۱۹۸۳ء کو آگے کے لئے روانگی ہوئی۔ برٹش ایرویز کی فلائٹ نمبر ۲۵ ہم کو لے کر اٹلانٹک کے اوپر اڑ رہی تھی۔ آٹھ گھنٹہ مسلسل سمندر کے اوپر اڑنے کے بعد جہاز اینٹی گا (Antigua) اترا۔ یہ بہت چھوٹا جزیرہ ہے۔ جزیرہ میں ہر طرف ہریالی نظر آئی۔ صنعتی کثافت سے دور ہونے کی وجہ سے یہاں بڑے شہروں کے وہ لوگ کثرت سے آتے ہیں جو اپنے شہر کی انسان کش خصوصیات سے گھبرا اٹھتے ہیں اور چھٹیاں گزارنے کے لئے قدرت کا سادہ ماحول چاہتے ہیں۔ جہاز سے بہت سے مسافر یہاں اترے اور دوبارہ بہت سے سوار ہوئے۔ یہ سب سیاح تھے ۔ اس دنیا میں اگر ترقی یافتہ ہونے کی قیمت ہے تو ان لوگوں کی بھی قیمت ہے جو ترقی کی دوڑ میں ابھی پیچھے ہوں ۔ اینٹی گاسے تقریباً ایک گھنٹہ کی پرواز کے بعد ۲۹ مارچ کی شام کو ہم باربیڈوز پہنچے
جو اس سفر میں ہماری اصل منزل تھی ۔ لندن سے احمد ڈرامٰی کا ساتھ ہو گیا تھا۔ (افریقہ) کے رہنے والے ہیں۔ ہوائی اڈہ پر احمد ڈرامٰی عام مسافروں کے ساتھ باہر نکل آئے۔ امیگریشن کی کھڑکی پر انہیں فوراً دس دن کا ویزا دے دیا گیا ۔ مگر مجھے روک لیا گیا ۔ دیر تک میرے کاغذات کی جانچ ہوتی رہی۔ اس کے بعد میرا پاسپورٹ مجھے واپس دیا گیا تو اس پر صرف ایک دن کی اجازت مندرجہ ذیل الفاظ میں لکھی ہوئی تھی :
Permitted to enter & remain in the Island for one day میرے مقامی ساتھیوں نے اس کے بعد ویزا میں دو ہفتہ کی توسیع کرا لی۔ تاہم مجھے یہ کھوج تھی کہ میرے ساتھ امتیازی سلوک کیوں کیا گیا۔
اس فرق کا راز مجھے اس وقت معلوم ہوا جب کہ میں باربیڈ وز شہر (برج ٹاؤن) پہنچا۔ یہاں لوگوں نے بتایا کہ باربیڈ وز چونکہ سیاحوں کا جزیرہ ہے، یہاں آنے والوں کے لئے داخلہ کے قوانین بہت نرم ہیں۔ پہلے یہ اجازت عام تھی ۔ اب اس میں ہندوستان اور پاکستان کا استثناء ہو گیا ہے ۔ ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں نے ضابطہ کی خلاف ورزی کی انہوں نے اپنے لوگوں کو یہاں بلایا اور غلط معلومات پیش کر کے ان کو باربیڈوز کا شہری حکومت کو جب اس کا علم ہوا تو اس نے یہ قانون بنا دیا کہ ہندوستان اور پاکستان سے آنے والے لوگوں کے کاغذات کی سخت جانچ کی جائے اور ان کو پیشگی ویزا کے بغیر باربیڈوز آنے سے روکا جائے ۔ اپنے بھائیوں کے کردار کی یہ قیمت تھی جو مجھ کو باربیڈوز ہوائی اڈہ پر ادا کرنی پڑی۔
یورپ اور امریکہ کے سیاح جو یہاں آتے ہیں وہ تفریح کی غرض سے آتے ہیں۔ خرچ کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہندوستان کے لوگ یہاں کمانے کے لئے آتے ہیں ۔ ایک دینے کے لئے آتا ہے اور دوسرا لینے کے لئے۔ اور دینے والا ہمیشہ مطلوب ہوتا ہے اور لینے والا ہمیشہ غیر مطلوب۔
باربیڈوز میں ہندوستان سے آئے ہوئے کافی لوگ ہیں ۔ یہ برطانی شہنشاہیت کے زمانہ میں یہاں لائے گئے۔ برطانیہ نے اپنے عروج کے زمانہ میں دنیا کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا ۔ ان میں بے شمار چھوٹے چھوٹے جزیرے بھی شامل تھے ۔ میں کریبین سمندر کے کئی جزائر بھی شامل ہیں جن میں سے ایک باربیڈوز ہے۔ سو سال پہلے یہ
جزیرے زیادہ تر غیر آباد تھے ۔ مگر ان پر قدرتی وسائل کافی مقدار میں موجود تھے ۔ نے انیسویں صدی کے آخر میں ان جزائر کے وسائل کو استعمال کرنے کے لئے باہر سے مزدور بھرتی کئے اور ان کو پانی کے جہازوں کے ذریعہ لاکر یہاں بسایا ۔ باربیڈوز میں زیادہ تر گنے کی کاشت کے لئے یہ مزدور لائے گئے ۔ کسی جزیرے میں قیمتی لکڑی تھی اور وہ برطانیہ کو اپنے فرنیچر اور اپنے مکانوں کی تعمیر کے لئے مطلوب تھی ۔ ان مقاصد کے تحت ابتداً و اِن جزائر میں مزدور قسم کے لوگ لائے گئے ۔ تاہم اب ترقی کرتے کرتے ان جزائر کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے ۔ یہاں ہندوستان کے مقابلہ میں کمائی زیادہ کی جاسکتی ہے اور پر امن طور پر رہا جاسکتا ہے ۔
سابق مسلمانوں کے لڑکے اور پوتے اب تعلیم یافتہ ہو کر ایک ترقی یافتہ ملک کے شہری بن گئے ہیں ۔ باربیڈوز میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً پانچ سو ہے ۔ حال یہ ہے کہ ہندو صاحبان کی بڑی بڑی دکانیں اور اسٹور ہیں ۔ مسلمانوں کی زیادہ تعداد پھیری کرکے مال فروخت کرتی ہے ۔ ان کی یہ پھیری کاروں پر ہوتی ہے ۔ مقامی باشندے ان مسلمانوں کو قلی مان (قلی مین) کہتے ہیں ۔ میں مسلمانوں کو مہندروں سے شکایت ہے ۔ مگر باربیڈوز میں وہ اپنے سو اکس کو پائیں گے جس کی شکایت کریں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ اور تابعین اس طرح دنیا میں پھیلے کہ وہ ہر ملک میں اور ہر مقام پر نظر آنے لگے ۔ آج بھی یہ حال ہے کہ آپ جس ملک میں جائیں اور جس علاقہ کو دیکھیں وہاں آپ مسلمانوں کو پائیں گے ۔ تاہم ظاہری یکسانی کے باوجود دونوں واقعات میں زبردست فرق ہے ۔ صحابہ اور تابعین کو دعوت کے محرک نے پھیلایا تھا ، اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو معاش کے محرک نے ۔ تابعین اس تڑپ کے تحت سارے عالم میں پھیل گئے کہ وہ دوسری قوموں کو حق کا پیغام پہنچائیں اور موجودہ مسلمان صرف اس لئے پھیلے ہیں کہ وہ دوسروں کے مادی دسترخوان میں سے اپنے لئے کچھ حصہ لے سکیں ۔ ہمارے اسلاف دینے کے لئے گئے تھے اور ہم لینے کے لئے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ لوگ ہر جگہ مقامی آبادی کا مطلوب اور محبوب بنے اور ہم ہر جگہ صرف مبغوض بن رہے ہیں ۔
بار بیڈ وز (اور اس طرح کے دوسرے مقامات پر) جو مسلمان ابتدا ئر آئے تھے ، ان کی اکثریت قدیم اسلامی (بالفاظ دیگر مشرقی) انداز زندگی پر قائم ہے ۔ مگر ان کی نئی نسل کا رنگ بالکل دوسرا ہے ۔ یہ لوگ مغرب کے آزاد ماحول سے شدت کے ساتھ متاثر ہو رہے ہیں ۔ وہ اپنی مادری زبان کم اور انگریزی زبان زیادہ سمجھتے ہیں ۔ اور مغربی فکر ان کے اندر تیزی سے سرایت کر رہا ہے ۔ ان کے بڑے ان سے کسی بات کے لئے کہتے ہیں تو وہ نہایت آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ میرے لئے نہیں (Not me) یہ میرا کام نہیں ہے :