It's not my business
Al-Risala, June 1983, pp. 36–38
By Maulana Wahiduddin Khan
نقشہ سامنے رکھیے ۔ ایک طرف یورپ اور افریقہ ہے اور دوسری طرف امریکی براعظم کے دونوں حصے ۔ درمیان میں اٹلانٹک سمندر ہے ۔ اگر اٹلانٹک کی دونوں خشکی کو قریب لایا جائے تو دونوں اس طرح ایک دوسرے سے مل جائیں گے جیسے کہ وہ ایک ہی ٹکڑا تھاجس کو توڑ کر الگ کر دیا گیا ۔ جدید جغرافی تحقیق کے مطابق یہ محض قیاس نہیں ۔ بلکہ واقعہ ہے۔ ماضی میں فی الواقع یہ دونوں خشکی کے ٹکڑے آپس میں ملے ہوئے تھے ، پھر وہ ٹوٹ کر جدا ہو گئے۔ اس نظریہ کو جغرافی اصطلاح میں انتشار براعظم (Drifting Continent) کہا جاتا ہے ۔ بار بیڈ وز اسی علاقہ میں بحر اٹلانٹک کے انتہائی مغربی کنارے پر واقع ہے ۔ ہوائی جہاز کی انفلا ئٹ میگزین میں بحر اٹلانٹک اور اس کے دونوں طرف خشکی کا نقشہ دکھایا گیا تھا ۔ اور اس کے نیچے لکھا ہوا تھا ہم آپ کو اٹلانٹک کے اس پار ایک عظیم ہوٹل میں اتار سکتے ہیں :
We can land you in a great hotel across the Atlantic ۲۹ مارچ ۱۹۸۳ کو میرے ساتھ گویا اسی قسم کا ایک واقعہ پیش آیا ۔ میں ہندوستان سے چل کر بار بیڈ وز کے ہوٹل سام لارڈ کیسل (Sam Lord's Castle) میں پہنچا تو نہ صرف بحر اٹلانٹک بلکہ خشکی کا بھی بڑا حصہ طے کر چکا تھا ۔ چنانچہ ہندوستان میں میں مغرب کی سمت نماز ادا کرتا تھا ۔ مگر بار بیڈ وز میں مجھے مشرق کی جانب نماز ادا کرنی پڑی ۔ براعظم امریکہ کے دونوں خشکی کے ٹکڑوں کے درمیان میں تقریباً بیس جزیرے ہلال کی صورت میں ہیں جن کو سمندر کا ہار کہا جاتا ہے ۔ انہیں میں سے ایک جزیرہ
ہار بیڈوز (Barbados) ہے ۔ اس جزیرہ کا دار السلطنت برج ٹاؤن (Bridgetown) اسی مقام پر دوسری کریبین اسلامک کانفرنس ہوئی جو ۳۱ مارچ سے لیکر ۴ اپریل ۱۹۸۳ تک جاری رہی۔
بار بیڈوز کا نام اس جزیرہ کو پر تعالیوں نے دیا۔ پر تنگیری سب سے پہلے ۱۵۳۶ء میں اس جزیرہ سے گزرے۔ اس وقت یہ جزیرہ بالکل غیر آباد تھا۔ یہاں کے ساحلوں پر اس وقت خاص طرح کے درختوں کی کثرت تھی جن میں ریشے لٹکتے ہیں۔ اس کو دیکھ کر پر تنگیریوں نے کہا (Los Barbados) یہ اسپینی زبان کا لفظ ہے اس کے معنی ہوتے ہیں۔ " داڑھی والا " یہ کہہ کر پر تنگیری آگے بڑھ گئے۔ اس کے بعد ۱۶۲۵ء میں انگریز یہاں آتے تو انہوں نے اسی نام کے ساتھ اس کو آباد کیا۔
بار بیڈوز کے خوبصورت ہوٹلوں میں سب سے زیادہ عام منظر یورپ اور امریکہ کے سفید فام سیاح ہیں جو نیم برہنہ لیٹے، بیٹھے یا گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان مردوں اور عورتوں کا کام صرف دو ہے شراب پینا اور باہم عیش کرنا ۔ ان میں سے کچھ افراد سے ہماری باتیں ہوئیں ۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ کیا واقعی انہیں زندگی کی لذت حاصل ہے۔ گفتگو اور ان کے مشاہدے سے میں نے یہی سمجھا کہ وہ صرف لذت کی تلاش میں ہیں۔ ان کی مطلوبہ لذت حاصل نہیں۔
مغرب کے لوگ شادی کرتے ہیں۔ جب اس سے انہیں مطلوبہ لذت نہیں ملتی تو طلاق دے کر دوسری شادی کر لیتے ہیں۔ اس سے بھی مقصد حاصل نہیں ہوتا تو آزاد معاشرہ (Permissive Society) کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ اس سے بھی تسکین نہیں ہوتی تو ننگے پن کی طرف دوڑتے ہیں۔ وہ انہیں چیزوں میں اپنا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ مایوسی کے عالم میں مرجاتے ہیں۔ ان کا یہ ناکام خاتمہ صرف اس نادانی کی قیمت ہے کہ انہوں نے موجودہ زندگی میں وہ چیز حاصل کرنی چاہی جو موجودہ دنیا میں ملنے والی نہیں ۔
بار بیڈوز کی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے اس کو مختلف نام دیئے گئے ہیں ۔ Tropical Paradise - Happiness Island - Jewel of the Caribbean جزیرہ بار بیڈوز اٹلانٹک کے بار کا ایک موتی کہا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی صرف ۲۱ میل
اور چوڑائی ۴ میل ہے۔ مجموعی رقبہ ١٦٦ میل ہے۔ اس کی صورت تقریباً سری لنکا یہاں آپ انٹرنیشنل ڈرائیور لائسنس پر گاڑی چلا سکتے ہیں۔ ایسے آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ جب وہ ہوائی اڈہ پر اترے تو وہاں پندرہ ڈالر (باربیڈین) دے کر اپنا نام
باربیڈوز میں قتل اور اس طرح کے دوسرے جرائم نہیں ہوتے۔ اس لئے یہاں وردی پوش پولیس بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ یہاں کی کل آبادی ۲۵۰۰۰۰ ہے۔ باربیڈوز کے لوگوں کا نظریہ بس کھانا کمانا اور خوش رہنا ہے۔ یہاں ہر قسم کے کھیلوں کا انتظام ہے ۔ سب سے پہلے سولہویں صدی میں جنوبی امریکہ کے لوگ یہاں آکر آباد ہوئے ۔ اس کے بعد یہ جزیرہ برطانیہ کے قبضہ میں چلا گیا۔ ۱۹۶۶ میں باربیڈوز نے برطانیہ سے سیاسی آزادی حاصل کی۔ اب وہ کامن ویلتھ کا ممبر ہے۔ باربیڈوز لندن سے ۴۵۰ ، ۴ میل دور واقع ہے ۔ مگر وہ برطانی کلچر سے اتنا زیادہ متاثر ہے کہ اس کو چھوٹا انگلینڈ (Little England) کہا جاتا ہے ۔ آب و ہوا بہت اچھی ہے ۔ سب کی سب عیسائی ہے۔ خاص پیداوار شکر ہے۔ اس کے بعد آمدنی کے ذرائع مچھلی اور سیاحت اور جہاز رانی ہیں ۔ رسمی طور پر یہاں کی حکمراں ملکہ برطانیہ ہے ۔ انگریزی زبان باربیڈوز کی سرکاری زبان ہے ۔
باربیڈوز سیاحوں کا جزیرہ ہے۔ یہاں تفریح مذہب ہے۔ باربیڈوز کی تعارفی کتاب میں ہم کو یہ جملہ لکھا ہوا ملا کہ کرکٹ ہمارا دوسرا مذہب ہے :