I just want to stay in Barbados forever
Al-Risala, June 1983, pp. 38–43
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی ابدی جنت چاہتا ہے مگر اس کو موجودہ زندگی میں صرف وقتی جنت دی گئی ہے۔ ہندوستان سے نکل کر بحرین سمندر میں پہنچنا گویا کرہ ارض کا تقریباً نصف حصہ طے
کرنا ہے ۔ اس قسم کا سفر کیسا عجیب ہے ، اس کا تصور آپ اس طرح کر سکتے ہیں کہ جب میں ہندوستان میں تھا تو گویا میں زمین کے اوپر کھڑا ہوا تھا ۔ مگر جب میں اپنی منزل پر پہنچا تو ہندوستان کی نسبت سے وہاں میں زمین کے نیچے لٹکا ہوا تھا ۔
میرا قیام سام لارڈ کیسل کے کمرہ نمبر ۴۲۲ میں تھا ۔ یہ ہوٹل دراصل ایک رزورت (Resort) ہے جو سمندر کے کنارے ۷۲ ۷ ایکڑ رقبہ میں پھیلا ہوا ہے ۔ ہمارے کمرہ کے ایک طرف سرسبز پھولوں کا قدرتی منظر تھا ۔ اور دوسری طرف بحر اٹلانٹک کا پانی ہر وقت موجیں مارتا ہوا نظر آتا تھا ۔ یہ ایک ایسا ماحول تھا جہاں ایک طرف اتھاہ سمندر خدا کی عظمت کا اعلان کر رہا تھا ۔ دوسری طرف پھولوں اور درختوں کا ہرا بھرا منظر اور ان میں اڑتی ہوئی چڑیوں کی آوازیں خدائی حمد کے نغمے بکھیر رہی تھیں ۔ دہلی اور بمبئی میں آدمی اپنے آپ کو تمدن کے پنجرے میں بند پاتا ہے ۔ یہاں وہ ہر آن محسوس کرتا ہے کہ ہم خدا کے پڑوس میں ہیں ۔ ہم قدرت کی فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں ۔
بار بیڈوز میں میں نے جو چیزیں دیکھیں ان میں ایک خاص چیز ہیر لیسن غار (Harrison's Cave) تھے ۔ یہ غار اولاً ایک مغربی سیاح نے دریافت کئے ۔ کے اندر قدرت کے بعض عجیب مناظر ہیں اور ان کے اندر آبشار اور چشمے جاری ہیں ۔ مجموعی طور پر تقریباً ایک میل کی لمبائی میں سرنگ کھود کر سڑک بنائی گئی ہے ۔ اندر خاص طرح کی ٹرام کے ذریعہ دیکھنے والے اندر جاتے ہیں ۔ اور مصنوعی روشنی میں غار کے مناظر دیکھ کر باہر آتے ہیں ۔
غار کے وسط میں پہنچ کر ایک منٹ کے لئے تمام روشنیاں بجھا دی جاتی ہیں تاکہ زائرین کو غار کے اندر کی صورت حال کا صحیح اندازہ ہو سکے ۔ ہم نے ۱۶ اپریل کو یہ غار اندر پہنچ کر جب روشنی بجھائی گئی تو وہاں مکمل تاریکی تھی کسی بھی قسم کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی تھی ۔ آنکھ رکھتے ہوئے ہم سب لوگ اندھے تھے ۔ غار کے باہر سورج روشن تھا ۔ مگر غار کے اندر تاریکی ہی تاریکی تھی ۔ روشنی خدا کا ایک عجیب و غریب انعام ہے ۔ اگر خدا کسی سے روشنی واپس لے لے تو اس کے بعد اس کے لئے اس دنیا میں اندھیرے کے سوا اور کچھ نہیں ۔ من لم يجعل الله له نوراً فما له من نور ۔ کا نفرنس میں کریبین جزائر کے نمائندے شریک ہوئے ۔ اس کے علاوہ دیگر
ممالک کے اہل علم بھی معقول تعداد میں مدعو تھے ۔ مجموعی طور پر تقريباً دودر جن ملکوں کی نمائندگی یہاں موجود تھی ۔ ڈیلی گیٹوں کی تعداد ایک سو سے زیادہ تھی ۔ کانفرنس کی کاروائی ۳۱ مارچ ۱۹۸۳ء کی شام کو تلاوتِ قرآن سے شروع ہوئی ، پہلے دن افتتاحی کاروائی کے بعد صدر کا نفرنس کا خطاب ہوا۔ میں چھ مقالے پیش ہوئے ۔ ہر مقالہ اولاً پڑھا گیااوراس کے بعد اس کے بارہ میں سوال و جواب ہوا۔
پروگرام کے مطابق یہاں تین دن کے اندر چھ مقالے پیش کئے گئے۔ پہلا مقالہ میرا تھا جو ۲ اپریل ۸۳ کو پیش کیا گیا ۔ یہ علاقہ چونکہ مغربی علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگوں کی مادری زبان انگریزی ہے۔ کانفرنس کی تمام کاروائی انگریزی میں ہوئی۔ اس لئے یہ مقالہ میں نے انگریزی میں تیار کیا۔ مقالہ تقریباً ۴۵ منٹ کا تھا۔ مقالہ پڑھنے کے بعد لوگوں نے سوالات کئے، جن کے جوابات بھی میں نے انگریزی میں دئے۔
یہ میری زندگی میں غالباً پہلا موقع تھا کہ میں نے انگریزی میں مقالہ پیش کیا اور انگریزی زبان میں لوگوں کے سوالات کے جواب دئے ۔ امریکہ کے ایک نومسلم عبدالله مصطفی (قدیم نام اسٹیواسکلر کئی بار ہمارے دفتر میں آئے ہیں۔ میرے خیالات سننے کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ کے لئے دعوتی کام کا اصل میدان امریکہ ہے۔ دوسرے حضرات جو اس وقت وہاں اسلام کی نمائندگی کر رہے ہیں، ان کے مقابلہ میں آپ کا اندازِ دعوت مغرب کو زیادہ اپیل کرنے والا ہے ۔ میں نے کہا امریکہ میں کام انگریزی زبان میں کرنا ہوگا ۔ اور مجھ کو انگریزی بولنے کی زیادہ مشق نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آخر مجھ سے آپ انگریزی میں بات کرتے ہیں اور میں اچھی طرح آپ کے نقطہ نظر کو سمجھ لیتا ہوں ۔ آپ کا اندازِ سائنٹفک ہوتا ہے اس لئے وہ جلد سمجھ میں آ جاتا ہے ۔ مجھے ابھی تک عبداللہ مصطفی صاحب کی بات پر زیادہ یقین نہیں تھا۔ مگر باربیڈوز کی کانفرنس کے تجربہ کے بعد اس بارے میں اب خدا کے فضل سے مجھے اعتماد ہو گیا ہے۔
میں نے اپنا مقالہ ۲ اپریل ۱۹۸۳ء کی صبح کی نشست میں پڑھا۔ مقالہ ختم کرنے کے فوراً بعد ایک صاحب کھڑے ہوئے۔ میں سمجھا کہ وہ کوئی اعتراض کرنے کے لئے کھڑے ہوئے مگر انہوں نے یہ کہا کہ یہ مقالہ ایسا نہیں ہے کہ وہ صرف ایک بار پڑھ دیا جائے ۔
مستقل اہمیت رکھتا ہے ۔ اس لئے ہم سب لوگوں کو اس کے ایک ایک نسخے فراہم کئے جائیں ۔ صدر اجلاس کی طرف سے یہ جواب دیا گیا کہ مقالہ کی کاپیاں تیار کی جارہی ہیں اور اسی اجلاس کے دوران وہ تمام لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے گا ۔ اگلے دن مقالہ کی مطبوعہ کاپی ہر شریک اجتماع کی میز پر موجود تھی ۔ پانچ دن کی ہر نشست قرآن کی تلاوت سے شروع ہوئی ۔ مسلمانوں کا ہر اجتماع ہمیشہ قرآن کی تلاوت سے شروع ہوتا ہے ۔ جب بھی اس طرح کا موقع آتا ہے تو مجھ پر ایک عجیب احساس ہوتا ہے ۔ قرآن کا معاملہ یہ ہے کہ اس کے ہر صفحہ پر آخرت اور جنت اور دوزخ کا بیان ہے ۔ چنانچہ جب بھی قرآن کا کوئی حصہ قاری پڑھتا ہے تو اس میں ہمیشہ آخرت کا اور جنت دوزخ کا بیان انتہائی شدت کے ساتھ ہوتا ہے ۔ بات ہے کہ یہی وہ بات جو بطور " تلاوت " ہر اجتماع میں دہرائی جاتی ہے وہی آج تک میرے کانوں نے خود اجتماع کی کاروائیوں میں کہیں نہیں سنی ۔ دوسرے لوگ جو کسی اجتماع سے لوٹ کر آتے ہیں ان سے بھی جب متعلقہ اجتماع کی کاروائی کے بارہ میں میں پوچھتا ہوں تو ہمیشہ ایسی تفصیلات سننے کو ملتی ہیں جن میں سب کچھ ہوتا ہے مگر یہی ایک چیز نہیں ہوتی ۔ اجتماع کا خاتمہ ۴ اپریل ۱۹۸۳ء کو قرآن کی تلاوت اور دعا پر ہوا ۔ ڈاکٹر معتوق الزبیدی نے اپنی تقریر میں ایک ایمان افروز واقعہ بیان کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ویٹیکن کے پوپ نے ساحل العاج (Ivory Coast) کا دورہ کیا۔ کی آمد پر حکومت نے ہدایت جاری کی کہ تمام لوگ ، خواہ وہ جس مذہب کے بھی ہوں پوپ کے استقبال کے لئے نکلیں ۔ چنانچہ مسلمانوں کو بھی اس عمومی حکم کے تحت نکلنا پڑا ۔ دوسرے لوگوں کے ساتھ میدان میں جمع ہوئے ۔ وہاں ظہر کا وقت آگیا ۔ یہ کیا کہ وہیں بلند آواز سے اذان دی اور میدان میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ پوپ نے باجماعت نماز کا منظر دیکھا تو اس پر بہت اثر ہوا ۔ نے کہا : جب تک مسلمان کے اندر یہ اتحاد اور اسپرٹ باقی ہے ہمارا وجود یہاں بالکل بے معنی ہے ۔
ایک مصری عالم (عبد المنعم الخطاب) جو امریکہ میں رہتے ہیں ، نے بتایا کہ امریکہ کے بلیک مسلم آج اس سے مختلف ہیں جو اس کے ابتدائی بانی ایلجا محمد کے زمانہ میں تھے ۔
الیجا محمد سفید فام تہذیب کا ردعمل تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام صرف کالوں کا مذہب جنت میں کالے لوگ جائیں گے ۔ انہوں نے رسول خدا ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ مگر بلیک مسلم کے موجودہ قائد جو الیجا محمد کے لڑکے ہیں، جن کا اصل نام اکبر ہے انہوں نے الازہر (قاہرہ) میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد بلیک مسلم طبقہ کے لوگ کثرت سے مسلم ممالک میں گئے ۔ انہوں نے مسلموں کو دیکھا ۔ وہ حج کرنے گئے ۔ ان تجربات نے ان میں بنیادی تبدیلیاں کیں۔ خاص طور پر حج میں انہوں نے دیکھا کہ کالے اور گورے ہر قسم کے لوگ ایک ہی قسم کا لباس پہنے ہوئے کعبہ کے گرد طواف کر رہے ہیں ۔ بھی اگر چہ بلیک مسلمانوں میں کچھ خرابیاں ہیں مگر اب انہیں پہلے کی طرح گمراہ نہیں کہا
کانفرنس کی کاروائیاں (برج ٹاؤن) سے باہر ایک ہوٹل میں ہوئیں۔ ٹاؤن میں پانچ سو سے کچھ زیادہ مسلمان آباد ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ میرے پاس آئے اور شہر جانے کے لئے اصرار کیا۔ چنانچہ میں کانفرنس سے فارغ ہو کر شہر چلا گیا ۔ چار روز برابر قیام رہا۔
باربیڈوز میں مسلمان نسبتاً زیادہ ہیں۔ تاہم کریببین کے اکثر جزیروں میں مسلمان یہ لوگ ابتداً برطانوی سلطنت کے زمانہ میں انیسویں صدی میں یہاں آئے۔ انگریز ان کو زرعی مزدور کے طور پر یہاں لائے تھے ۔ اب یہ لوگ یہاں کے باشندے ہیں اور زیادہ تر تجارت کا کام کرتے ہیں۔
باربیڈوز (برج ٹاؤن) میں دو مسجدیں ہیں۔ دونوں آباد ہیں۔ ان دونوں مسجدوں میں اور مسجد کے باہر میری چند تقریریں ہوئیں ۔ لوگ بہت دلچسپی کے ساتھ سنتے رہے۔ وہ مصر تھے کہ میں مزید کچھ دن باربیڈوز میں ٹھہروں ۔ کچھ لوگ مجھ کو باصرار ٹرینیڈاڈ لے جانا چاہتے تھے۔ اور وہاں کم از کم دو ہفتہ کا پروگرام رکھ رہے تھے۔ مگر بعض فوری کاموں کی وجہ سے مجھے دہلی جلد واپس آنا ضروری تھا اس لئے میں ٹرینیڈاڈ (Trinidad) کا سفر نہ کر سکا۔
باربیڈوز میں جو مسلمان ہیں وہ زیادہ تر گجرات (ہندوستان) کے علاقہ سے آئے یہ لوگ زیادہ تر پھیری کی تجارت کرتے ہیں۔ وہ برج ٹاؤن کی بڑی بڑی
دکانوں سے مختلف مال (مثلاً کپڑا وغیرہ) خریدتے ہیں اور اس کو کار پر رکھ کر بستیوں میں جاتے ہیں اور ادھار فروخت کرتے ہیں ۔ ان کا کاروبار زیادہ تر ان لوگوں کے درمیان ہوتا ہے جو نقد ادائیگی کی طاقت نہیں رکھتے ۔ اور سامان خرید کر قسطوں میں اس کی ادائیگی کرتے ہیں ۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر یہ مسلمان تاجر دونی قیمت پر ان کے ہاتھ مال بیچتے ہیں اور عام دکانداروں سے زیادہ نفع کماتے ہیں۔ یہاں کی زبان میں ان کو قلی مان" کہا جاتا ہے۔ یعنی "قلی مین" ۔
باربیڈوز کے لوگ اب اس حقیقت کو جاننے لگے ہیں۔ ۵ اپریل ۱۹۸۳ء کو اسی قسم کے ایک مسلمان مجھے اپنی تجارتی گاڑی پر لے کر جا رہے تھے ۔ ہم لوگ یہاں کا ایک تاریخی مقام دیکھنے جارہے تھے ۔ راستہ میں باربیڈوز کے کچھ عیسائی نوجوان ملے جو مذکورہ " قلی مان" کے گاہک تھے ۔ ایک نوجوان نے ان کو دیکھا تو ہنس کر کہا ـــــ تم غریب کو دھوکہ دے کر لوٹنے جارہے ہو :