ایک نے مار کھائی دوسرا بچ گیا
Al-Risala, January 1983, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
سالم بن ابی جعد کہتے ہیں کہ حضرت ابو الدردار کے سامنے سے دو بیل گزرے جو ایک گاڑی میں جتے ہوئے تھے۔ ایک ان میں سے کام پر لگا رہا اور دوسرا رک گیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابو الدردار نے کہا: اس میں بھی عبرت ہے۔ یعنی رکنے والے نے ڈنڈا کھایا اور دوسرا بچ گیا مر ثوران علی ابی الدردار وہما يعملان فقام احد ھماد وقعت الآخر فقال ابو الدر دار : ان في هذا المعتبر اء ، صفوة الصفوة جلد (1) سوچنا اور عبرت پکڑ نا سب سے بڑا عمل ہے حضرت عون بن عبد اللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ام الدردار سے پوچھا کہ حضرت ابو الدردار کا اکثر عمل کیا ہوتا تھا۔ انھوں نے جواب دیا : سوچنا اور عبرت پکڑنا (قيل لام الدردار ما كان اكثر عمل ابی الدر دار رضى الله عنه قالت التفكر والاعتبار ، حلیۃ الاولياء لابی نعیم جلد 1)
صحابہ کرام کی عبادت خدا اور آخرت میں غور کرنا تھا حضرت محمد بن واسع کہتے ہیں کہ حضرت ابو ذر کی وفات کے بعد ایک شخص بصرہ سے سوار ہو کر مدینہ آیا اور ان کی اہلیہ ام ذر سے ملا تاکہ حضرت ابو ذر کی عبادت کے بارے میں معلوم کرے۔ ام ذر نے کہا: وہ سارے دن تنہا غور و فکر کرتے رہتے تھے (ان رجلاً من البصرة ركب الى ام ذر رضی الله عنھا بعد وفاة ابی ذر رضى الله عنه یسألھا عن عبادة ابی ذر فاتا ها فقال : جئتك لتخبريني من عبادة ابی ذر رضی الله عنه، قالت : كان النھار اجمع خاليا يتفكر، حليتہ الاولياء لأبی نعیم جلد (1)