You are going to cheat the poor
Al-Risala, June 1983, pp. 43–47
By Maulana Wahiduddin Khan
اس نوجوان نے یہ بات اگرچہ مذاق کے طور پر کہی ۔ تا ہم یہ واقعہ ہے کہ یہاں کی نئی نسل میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ ہندوستانی لوگ ان کو لوٹتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہاں کے ہندوستانی مسلمانوں کے لئے عقل مندی یہ ہے کہ وہ اپنے کو حالات کے مطابق بنالیں قبل اس کے کہ مذاق حقیقت کی صورت اختیار کرلے۔
" قلی مان" لوگوں کا کام چونکہ کار کے ذریعہ ہوتا ہے۔ اس لئے تھوڑے دنوں میں وہ ایک " شاندار " کار خرید لیتے ہیں ۔ اب مقامی لوگ جب ان کو شاندار کاروں میں سفر کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ باہر سے آنے والوں کے پاس شاندار کاریں ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں۔ کار کو چلتی پھرتی دکان کی صورت دینا بہت عمدہ ہے مگر موجودہ حالت میں وہ غیر ضروری طور پر مسلمانوں کی خوشحالی کا چلتا پھرتا اعلان بن گیا ہے اور مقامی باشندوں میں ان کے خلاف حسد اور رقابت کے جذبات کو بڑھا رہا ہے۔
۸ اپریل ۱۹۸۳ء کو میں نے باربیڈوز سے نیویارک کے لئے سفر کیا۔ بی ڈبلیو آئی اے (BWIA) کی فلائٹ سے پانچ گھنٹہ کی پرواز تھی۔ باربیڈوز سے نیویارک کا سفر پورا کا پورا
اٹلانٹک کے اوپر ہوا۔ پانچ گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد ہم جان کینیدی ایئر پورٹ یہ امریکی ایئر پورٹ کافی بڑا ہے مگر وہ جدہ کے بین الاقوامی ایئر پورٹ سے کم شاندار نظر آیا۔
مجھے بعض ضرورتوں کے تحت جلد دہلی پہنچنا تھا۔ اس لئے اصرار کے باوجود میں باربیڈوز میں کم ٹھہرا اور وہاں سے ٹرینیڈاڈ بھی نہ جاسکا، چنانچہ میں نیو یارک میں بھی زیادہ قیام نہ کر سکتا تھا۔ صرف ایک دن وہاں گزارے۔ خوش قسمتی سے مجھے ایک امریکن مل گیا۔ یہ سیکورٹی گارڈ کا ایک افسر تھا اور بہت شریف اور معقول آدمی تھا۔ اس سے میں نے اپنا تعارف کرایا۔ انگریزی چیزیں اس کو دیکھنے کے لئے دیں۔ اور پھر اس سے کہا کہ نیو یارک میں میرے لئے زیادہ قیام کا وقت نہیں ہے۔ البتہ میں نیو یارک کو ایک نظر دیکھنا چاہتا ہوں۔ وہ بخوشی راضی اس نے مجھ کو اپنی گاڑی پر بٹھایا اور نیو یارک کی سڑکوں پر گھماتار ہا۔ اس طرح چند گھنٹوں کے اندر میں نے نیو یارک شہر پر ایک طائرانہ نظر ڈال لی۔
مگر یہاں بھی وہی بات پیش آئی جو میں نے کینیدی ایئر پورٹ کے بارے میں لکھی نیو یارک کی ظاہری عظمتوں میں مجھے ایک قسم کی پستی لپٹی ہوئی نظر آئی۔ اونچی اونچی عمارتیں مجھے عمودی سلم (Vertical Slum) کے روپ میں دکھائی دیں۔ کی مادی رونقوں میں روحانی تاریکی کا احساس ہوا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں مادی ترقی کے قبرستان میں پہنچ گیا ہوں نہ کہ کسی قسم کی مادی ترقیات کی جنت میں۔ آخر میں جب مذکورہ امریکی نے مجھے ہوائی اڈہ پر لا کر چھوڑا تو میں نے اس کا نام و پتہ پوچھا۔ اس نے اپنا نام لوئی (Mr. Louis) بتایا۔ مگر پتہ بتانے سے یہ کہہ کر معذرت کردی ــــــــ "ہم سیکورٹی کے لوگ ہیں، ہم کو اپنا پتہ بتانے کی اجازت نہیں“ میرا یہ سفر دہلی سے شروع ہوا۔ اور لندن ، باربیڈوز اور نیو یارک ہوتا ہوا دوبارہ دہلی پر ختم ہوا۔ اس پورے سفر کی مسافت تقریباً ۲۴ ہزار میل تھی، یعنی تقریباً اتنی ہی جتنی زمینی گولائی کی کل مسافت ہے۔
مختصر مدت میں یہ طویل سفر طے کر کے میں ۲۰ اپریل ۱۹۸۳ء کو ایر انڈیا کی فلائٹ نمبر ۱۱۰ سے دہلی ایئر پورٹ پر اترا تو میرے ذہن میں ایک عجیب خیال آیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ قیامت قریب آگئی ہے اور خدا نے مادہ (Matter) کو حکم دے دیا ہے کہ وہ زندگی کے سفر کو
انتہائی تیزرفتاری کے ساتھ تمام کر دے تاکہ خدا اپنی آخری عدالت قائم کرے جہاں خدا کے گواہ لوگوں کے بارہ میں اپنی گواہیاں پیش کریں اور ہر ایک کے لئے اس کے عمل کے مطابق ابدی جنت یا ابدی جہنم کا فیصلہ کر دیا جائے۔
آج زمین پر بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں مگر وہی کام نہیں ہو رہا ہے جو سارے تخلیقی منصوبہ کا اصل مطلوب ہے۔ یعنی حمد خداوندی۔ موجودہ انسانی دنیا اپنے وجود کا جواز کھو چکی ہے۔ اب آخری طور پر وہ لمحہ آچکا ہے جب کہ موجودہ امتحانی دنیا کو ختم کر دیا جائے اور وہ معیاری دنیا شروع ہو جہاں خدا کے سوا کسی اور کی حمد نہ کی جاسکے۔ حقیقی بھی ہو اور اسی کے ساتھ ابدی بھی۔
اس کے باوجود موجودہ دنیا کیوں ختم نہیں کی جارہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کو ایک آخری عمل کا انتظار ہے جو ابھی تک اُن ہوا پڑا ہے۔ یہ عمل ہے آج کے انسانوں کے اوپر اتمام حجت۔ جب تک یہ نہ ہو کہ دعوت حق اٹھائی جائے اور اس کو ابلاغِ تام کی حد تک پہنچا دیا جائے۔ اس وقت تک موجودہ دنیا کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اس عمل کی تکمیل تک قیامت معلق پڑی رہے گی۔ خدا کو آج سب سے زیادہ اعلان حق کا انتظار ہے۔ مگر دین کے نام پر بے شمار سرگرمیوں کے با وجود یہی وہ کام ہے جس کا کرنے والا کوئی ہر آدمی خود ساختہ دین کی تبلیغ میں مصروف ہے نہ کہ حقیقت حمد خدا کے دین کی تبلیغ میں۔
مسلمانوں میں اسلام کی دھوم تو در کنار ہندوستان کے ہندوؤں یا افریقہ کے مشرک قبیلوں میں دین کا پیغام پہنچانے سے بھی اتمام حجت کی وہ شرط پوری نہیں ہوتی جو آج خدا کو مطلوب ہے ۔ آج خدا کو عالمی اتمام حجت کا انتظار ہے اور عالمی اتمام حجت صرف اس وقت متحقق ہوگا جب کہ وہ ان قوموں پر انجام دیا گیا ہو جن کو آج کی دنیا میں لیڈر شپ کا مقام حاصل ہے۔ یعنی مغربی قومیں، خاص طور پر امریکہ۔ جن قوموں کو آج عالمی لیڈر شپ کی حیثیت حاصل ہے ان پر اتمام حجت ہی سے عالمی اتمام حجت کی شرط پوری ہوگی اور اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ خدا اسرافیل کو حکم دے کہ اب صور پھونک دو تاکہ تخلیقی منصوبہ کے آخری مرحلہ کی تکمیل کی جاسکے۔
مسلمانان عالم کو آج یہی کام انجام دینا ہے۔ اسی پر ان کی قسمت کا آخری فیصلہ معلق ہے، دنیا کی قسمت کا بھی اور آخرت کی قسمت کا بھی۔
جواہر الحدیث (اردو)
تالیف : شمس پیر زادہ ۔
جس میں حیات طیبہ کی چند جھلکیاں ، تعمیر کردار ، بگاڑ پیدا کرنے والی باتیں ، سیاست و حکومت ، دنیا کی حیثیت ، مشرک و بدعت ، رسالت محمدی ، زندگی بعد موت اور قبول اسلام کے واقعات جیسے عنوانات پر ارشادات رسول پیش کئے گئے ہیں اور احادیث کے انتخاب میں صحت کو پوری طرح ملحوظ رکھا گیا ہے۔ دعوت واصلاح کے پہلوؤں کو لئے ہوئے ۔
عربی متن ، سلیس ترجمہ اور دل نشیں تشریح ۔ مسلم اور غیر مسلم دونوں کے لئے مفید ۔ تحفہ میں پیش کرنے کے لائق ۔
عمدہ طباعت اور دیدہ زیب ٹائٹل ۔ صفحات ۱۹۲ ۔ قیمت صرف سات روپے اداره دعوة القرآن ۵۹ - محمد علی روڈ، بمبئی ۳ قرآن کی بے شمار تفسیریں ہر زبان میں لکھی گئی ہیں۔ مگر تذکیر القرآن اپنی نوعیت کی پہلی تفسیر ہے۔ تذکیر القرآن میں قرآن کے اساسی مضمون اور اس کے بنیادی مقصد کو مرکز توجہ بنایا گیا ہے۔ جزئی تفصیلات اور غیر متعلق معلومات کو چھوڑتے ہوئے اس میں قرآن کے اصل پیغام کو کھولا گیا ہے اور عصری اسلوب میں اس کے تذکیری پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔ تذکیر القرآن عوام و خواص دونوں کے لئے یکساں طور پر مفید ہے ۔ وہ طالبین قرآن کے لئے فہم قرآن کی کنجی ہے۔ هدیه مجلد : پچاس روپے جمیعہ بلڈنگ - قاسم جان اسٹریٹ ۔
THE INTRODUCTION TO ISLAM The INTRODUCTION TO ISLAM SERIES is the rendering into English of the Urdu Ta'arufi Set by Maulana Wahiduddin Khan. It provides the general public with an understanding of the basic teachings of divinely The titles in this series:
1. The Way to Find God 2. The Teachings of Islam 3. The Good Life 4. The Garden of Paradise 5. The Fire of Hell Jamiat Building, Qasimjan Street, Delhi 110 006