ایک سفر
Al-Risala, January 1983, pp. 29–30
By Maulana Wahiduddin Khan
جمعيۃ الدعوۃ الاسلامیۃ (لیبیا) کی دوسری عالمی کانفرنس ۱۹۸۲ء ۱۹ اگست کو طرابلس میں ہوئی ۔ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے مجھے مدعو کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں طرابلس کا سفر ہوا ۔ کو میں طرابلس پہنچا اور ۳۰ اگست تک وہاں قیام رہا ۔ مولانا محمد ہاشم القاسمی بھی اس سفر میں میرے ساتھ
جمعيۃ الدعوۃ الاسلامیۃ کے تخیل اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں جو تعارفی کتاب ادارہ کی طرف سے شائع کی گئی ہے ، اس کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں :
پہلی دعوتی کانفرنس جو طرابلس میں ۱۳ شوال ۱۳۹۰ھ مطابق ۱۰ دسمبر ۱۹۷۰ء کو ہوئی ، اس کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ جمعیۃ الدعوۃ الاسلامیۃ کا قیام عمل میں آیا تاکہ وہ خدا کی طرف اور اس کے سچے دین اسلام کی طرف دعوت دینے کے معاملات کو سنبھالے اور دین اسلام کو آباد دنیا کے تمام لوگوں تک پہنچائے ۔ ایک فرض ہے جو مسلمانوں کے کندھوں پر ان کے بھائیوں کے حق میں ڈالا گیا ہے۔ دعوت کی ادائیگی ہے جس کی امت اسلامیہ مکلف ہے جو کہ خیر امت ہے اور لوگوں کے لئے نکالی گئی ہے تاکہ وہ انسان کی خدمت کرے جو حیرت کے اندھیروں میں گم ہے اور اسلام کا محتاج ہے۔ کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانیت کو حیرانگی اور گمراہی سے نکالے اور اس کو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرے اور اس کی مشکلات کو حل کرے اور اس کو اس سعادت سے ہم کنار کرے جس کو دنیا کے تمام نظام فراہم کرنے سے عاجز رہے ہیں (عربی سے ترجمہ)
جمعيۃ الدعوۃ الاسلامیۃ کے موجودہ ذمہ دار (امین) ڈاکٹر محمد احمد الشریف ہیں۔ اس ادارہ کے مقاصد میں سے خاص مقاصد یہ ہیں ۔ داعی اور استاد تیار کرنا ، اسلامی دعوت کے اداروں کو تعاون دینا ، قرآن اور دوسری اسلامی کتابیں شائع کرنا۔ جمعيۃ الدعوۃ الاسلامیۃ نے افریقہ، ایشیا، یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا میں تقریباً ساڑھے تین سو داعی اور اساتذہ بھیجے ہیں۔ ان لوگوں نے مختلف ملکوں میں ، ہزاروں آدمیوں کو اسلام میں داخل کیا ہے۔ جمعيۃ الدعوۃ نے مختلف ممالک میں مسجدیں اور اسلامی مراکز قائم کئے ہیں اور ایک سو سے زیادہ اسلامی اداروں کو گراں قدر امداد فراہم کی ہے ، بڑی تعداد میں اسلامی کتابیں چھاپ کر ساری دنیا میں تقسیم کی گئی ہیں۔ جمعیۃ الدعوۃ کے تحت ۱۹۷۷ء میں ایک تربیتی کالج قائم کیا گیا جس کا نام کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ ہے۔
یہ ادارہ طرابلس میں قائم ہے اور اپنی وسعت کے اعتبار سے ایک یونیورسٹی کا درجہ رکھتا ہے۔ کا مقصد یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کو اسلام کے ماضی اور حال سے واقف کرایا جائے، اسلام کی فکری عظمت اور اس کی عملی افادیت ان کے ذہن پر بٹھائی جائے۔ ایسے داعی تیار کئے جائیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں اسلام کی دعوت کا کام کریں۔ اس کلیہ میں تعلیم کی مدت چار سال ہے اور اس میں ایم اے اور ڈاکٹریٹ کے درجہ تک کی ڈگریاں دی جاتی ہیں۔ اس کا نصاب کلیہ کے مطبوعہ پمفلٹ کے مطابق حسب ذیل مضامین پر مشتمل ہے :
التفسير و علوم القرآن، الحديث وعلوم السنه، الفقه الاسلامی، تاريخ التشريع الاسلامی، التاريخ الاسلامی، الاستشراق والتبشير، حاضر العالم الاسلامی، علم النفس العام، علم الاجتماع، الادیان ومقارنتہا، الفرق الاسلامية، التيارات الفكرية المعاصره، التصوف و تاريخہ، علم الاخلاق، الحضارة الاسلامية، الفلسفة الاسلامية، علم النفس الاجتماعي، اللغات الاوروبيه، اللغات الشرقية ہندوستان اور طرابلس کے درمیان چھ ہزار کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ ہندوستان میں "طرابلس" کا لفظ غالباً سب سے پہلے ۱۹۱۱ میں عام ہوا جب کہ اٹلی کی ۳۵ سالہ حکومت نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے لیبی عوام پر مظالم کئے ۔ اس وقت ہندوستان کے اخبارات نے مضامین لکھے اور شاعروں نے نظمیں کہیں ۔ اسی زمانہ میں اقبال نے اپنی مشہور نظم کہی تھی اس کے دو اشعار یہ تھے :