Al-Risala · July 1983

روزہ کے بارہ میں

Al-Risala, July 1983, pp. 5–6

By Maulana Wahiduddin Khan

آل انڈیا ریڈیو (نئی دہلی) نے ۱۹ اگست ۱۹۷۸ء کی شام کو ساڑھے نو بجے ایک پروگرام اس کا عنوان تھا " روزہ کیا ہے"۔ یہ آدھ گھنٹہ کی ایک ریڈیائی بات چیت تھی جس میں تین مذاہب کے نمائندوں کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ اپنے اپنے مذہب کے مطابق روزہ کے تصورات

راقم الحروف نے اسلام کی نمائندگی کی ۔ بقیہ دو صاحبان حسب ذیل تھے : پنڈت سچیدانند شاستری (ہندو دھرم)

آرک بشپ ناصر (عیسائیت)

راقم الحروف کو اس ریڈیائی بات چیت کا کو آرڈینٹر بنایا گیا تھا۔ ہر ایک نے اپنے اپنے مذہب کی روشنی میں بتایا کہ اس کے نزدیک روزہ کیا ہے اور وہ اس کے مذہب میں کس لئے اور کس شکل میں فرض کیا گیا ہے۔

روزہ ، جس کو عربی میں صوم ، ہندی میں برت اور انگریزی میں فاسٹنگ کہتے ہیں ، ہر مذہب میں کسی نہ کسی طور پر پایا گیا ہے۔ اگر چہ اس کی مدت اور اس کی شکل میں ایک مذہب اور دوسرے مذہب کے درمیان اختلاف ہے مگر وہ ایک یا دوسری صورت میں ہر جگہ موجود

اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ نفس کو کنٹرول میں لانے کی تربیت ہے اور نفس پر کنٹرول (یا نفس کشی) کو ہر مذہب میں خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ مذہب جس قسم کے انسان بنانا چاہتا ہے ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کا نفس اس کی عقل کے قبضہ میں ہو اور روزہ آدمی کو اسی کے لئے تیار کرتا ہے۔

آدمی دو چیزوں کا مجموعہ ہے۔ جسم اور روح ۔ جسم مادی اور کثیف ہے۔ روح غیر مادی اگر ہم جسم کی ہر خواہش کو بے روک ٹوک پورا کرتے رہیں تو جسم زور آور بن جائے گا اور وہ روح کے اوپر غالب آجائے گا۔ روزہ اسی آزادی پر پابندی لگانے کا دوسرا نام ہے۔ آدمی کے جسم کو ایک حد کے اندر رکھ کر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ اس کی روح اس کے جسم کے

اوپر حکمرانی کرے ۔ اس کا لطیف وجود اس کے کثیف وجود کو اپنے قبضہ میں رکھے۔ دونوں صاحبان نے اسی بات کو اپنے اپنے انداز اور اپنے اپنے لفظوں میں بیان کیا ۔ راقم الحروف نے جو بات کہی وہ یہ تھی کہ روزہ محض اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے مطلوب نہیں یعنی ایسا نہیں ہے کہ آدمی صبح سے شام تک کھانا پینا بند رکھے تو بس اس کا روزہ ہو گیا۔ کی یہ ظاہری صورت دراصل ایک علامت ہے اور اس کے ذریعہ ایک خاص روحانی اور اخلاقی سبق دینا مقصود ہے ۔

وہ سبق یہ ہے کہ دنیا میں آدمی کو چاہیے کہ وہ صحیح اور غلط اور جائز اور ناجائز میں فرق کرے، وہ صحیح اور جائز کو لے لے اور غلط اور ناجائز سے اپنے آپ کو بچائے ۔ یہی وہ چیز ہے جو اس کی آخرت میں آنے والی مستقل زندگی کو کامیاب بناتی ہے۔

یہ روزہ دراصل زندگی کا ایک گہرا اصول ہے ۔ دنیا میں ایک تاجر اپنے کو فضول خرچی سے بچاتا ہے ۔ ایک طالب علم اپنے اوقات کو بیکار ضائع کرنے سے بچاتا ہے ۔ ایک مزدور اپنے آپ کو کاہلی اور بددیانتی سے بچاتا ہے ۔ اس طرح بچاؤ کی زندگی گزارنے ہی کا نام موجودہ دنیا کی کامیابی ہے ۔ کاہلی ، فضول خرچی ، عیاشی ، ضیاع وقت سے آدمی اپنے آپ کو نہ بچائے تو وہ کسی طرح امتحان کی اس دنیا میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔

ایسا ہی کچھ معاملہ آخرت کا بھی ہے۔ اسلام کے نزدیک آخرت کی کامیابی کا راز روزہ دار زندگی“ آدمی کو اپنی اگلی زندگی کو کامیاب بنانے کے لئے یہ کرنا ہے کہ وہ موت سے پہلے والی زندگی میں متقیانہ روش اختیار کرے ۔ وہ کچھ چیزوں سے اپنے آپ کو بچا کر رکھے ۔ آخرت کو برباد کرنے والی چیزوں سے بچنا اور ان کو چھوڑ کر حلال دائرہ میں زندگی گزارنا، یہی وہ سبق ہے جس کو دینے کے لئے روزہ فرض کیا گیا ہے۔

پھر اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو شخص دن بھر روزہ رکھتا ہے ، اس کو شام کے وقت کھانے کی لذت ملتی ہے۔ اسی طرح جو شخص دنیا میں خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے گا وہی آخرت میں زندگی کی حقیقی لذتوں کو پائے گا ۔ دن کا روزہ اگر موجودہ دنیا کی مشقتوں کی علامت ہے تو شام کا کھانا آخرت کی راحتوں کی علامت ۔

Printed page