مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں
Al-Risala, January 1983, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
جھلکتی ہے تری امت کی آبرو اس میں طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں میں طرابلس ایسے موقع پر پہنچا جب کہ لبنان میں فلسطینی مسلمانوں کے اوپر اسرائیل کے وحشیانہ مظالم (۱۹۸۲) اس کے بعد جس طرح ذلت کے ساتھ فلسطینیوں کو لبنان چھوڑنا پڑا، اس کی چیخ و پکار سے تمام عرب اخبارات بھرے ہوئے نظر آئے۔ اگر مذکورہ تقابل کو دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ملت اسلامیہ نے ۱۹۱۱ سے لے کر ۱۹۸۲ تک آگے کی طرف سفر طے نہیں کیا۔ ملت اسلامیہ ستر سال پہلے جس طرح ظالموں کے مقابلہ میں بے بس تھی۔ اسی طرح وہ ستر سال بعد بھی ظالموں کے مقابلہ میں بے بس ہے ــــــــ جس ملت کے لئے دور اول میں غلبہ مقدر کیا گیا تھا، کیا بعد کے دور میں اس کے لئے مظلومیت اور مغلوبیت مقدر کر دی گئی ہے ۔
دہلی سے لیبیا کے لئے ابھی تک براہ راست ہوائی سروس نہیں ہے۔ ہم نے دہلی سے ایتھنز تک ڈچ ہوائی کمپنی (KLM) کے ذریعہ سفر کیا اور ایتھنز سے طرابلس کے لئے اوپمک ایرویز کے ذریعہ ۔
۱۳ اگست کو ایک دن ایتھنز (یونان) میں قیام رہا۔ یونان کی زمین پر یہ مختصر قیام بڑا عبرت انگیز تھا۔ اس کو دیکھ کر خیال آیا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں دور قدیم کے بڑے بڑے حکماء اور فلاسفر پیدا ہوئے ۔ کے بعد یہ دوسرا مقام ہے جہاں سے اسلام نے " مغرب" کی طرف پیش قدمی کی تھی۔ مگر آج انھیں راستوں سے " مغرب " اسلامی دنیا میں داخل ہو رہا ہے۔ بلکہ اس کو اپنے نفوذ کے لئے قدیم روایتی راستوں کی وہ بے شمار نئے راستوں سے اس طرح عالم اسلام میں گھس رہا ہے کہ اس پر قرآن کے یہ الفاظ صادق آتے ہیں۔ ودهم من كل حدب ينسلون ۱۳ اگست کو جب کہ ہم طرابلس سے بہت دور ایک غیر ملک (یونان) میں تھے۔ ہوائی اڈہ کی ایک خاتون آئیں اور ہمارا تعارف حاصل کرنے کے بعد ہم کو خوش آمدید کہا۔ ان کو حکومت لیبیا کی طرف سے ٹیلكس پر ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ہم سے ملیں اور ہماری مدد کریں۔ چنانچہ وہ ہم کو عام ہوائی مسافروں کی صف سے نکال کر ایک خصوصی مہمان خانہ میں لے گئیں۔ یہاں کھانے اور دوسری ضروریات کا اعلیٰ انتظام جب اگلے جہاز کا وقت آیا تو خاتون دوبارہ آئیں اور عام مسافروں سے الگ ایک خصوصی گاڑی پر سوار کر کے ہم کو طرابلس جانے والے جہاز تک پہنچایا۔
یہ منظر دیکھ کر مجھے آخرت کا معاملہ یاد آگیا۔ جنت میں کسی آدمی کا داخلہ اگر چہ حشر میں حساب کتاب کے بعد ہوگا ۔ مگر حدیث میں بتایا گیا ہے کہ آدمی کا اخروی انجام اس کی موت کے بعد ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اس پر کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جب آدمی کے ابدی انجام کا فیصلہ قیامت کے بعد ہوگا تو قیامت سے پہلے کسی آدمی کے لئے اس کا تجربہ کیسے ممکن ہے۔ مذکورہ واقعہ تمثیلی انداز میں اس کا ایک جواب ہے۔ ہماری میزبانی کا اصل مقام اگرچہ براعظم افریقہ کے ایک ملک (لیبیا) میں تھا۔ مگر چونکہ یہ سرکاری میزبانی تھی اس لئے اس کا آغاز بہت پہلے براعظم یورپ کے ایک ملک (یونان) سے شروع ہو گیا جب کہ ابھی ہم میزبان ملک کی سرحد میں داخل بھی نہیں ہوئے تھے۔
طرابلس میں ایک روز میں اپنے ہوٹل کے کمرہ میں تھا کہ دروازہ باہر سے مقفل ہو گیا۔ اس طرح بنائے گئے ہیں کہ نہ باہر کی آواز اندر آئے اور نہ اندر کی آواز باہر جائے۔ ایسی حالت میں دروازہ کو دوبارہ کھلوانے کے لئے مجھے کافی شور وغل کرنا ہوتا۔ مگر مجھے سادہ طور پر صرف یہ کرنا پڑا کہ میں نے انٹرکام پر نمبر 17 کو ڈائل کیا۔ اُدھر سے ہلو کی آواز آئی تو میں نے بتایا کہ میں کمرہ نمبر 48 اا میں ہوں اور میرا کمرہ باہر سے مقفل ہو گیا ہے۔ چنانچہ ایک منٹ میں ہوٹل کا آدمی آیا اور اس نے دروازہ کھول دیا۔ ان کے پاس ماسٹر کی ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ ایک ہی کنجی سے پوری منزل کے تمام دروازے کھول سکتے