Al-Risala · July 1983

ارتقاءء

Al-Risala, July 1983, pp. 13–15

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ کے علمائے حیاتیات عام طور پر نظریہ ارتقاء کو تسلیم کر چکے ہیں۔ کا کہنا ہے کہ ارتقاء محض ایک نظریہ نہیں، وہ ایک مسلمہ سائنسی حقیقت ہے۔ مگر جہاں تک دلیل کا تعلق ہے یہ دعوی ابھی تک ثابت نہ کیا جا سکا۔

نظریہ ارتقاء کے حق میں تین قسم کی دلیلیں دی جاتی ہیں۔

ماں کے پیٹ میں انسان کا جنین مچھلی، چھپکلی، سور اور بندر کے جیسی صورتوں سے گزر کر انسان کی صورت تک پہنچتا ہے ۔ ارتقا پسند علماء کے نزدیک یہ مشاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان اپنی تاریخ کے پچھلے دور میں انہیں جانوروں جیسا تھا۔ ان کے نقطہ نظر کے مطابق ماں کا پیٹ نو مہینوں میں انسان کی اس طویل حیاتیاتی تاریخ کو دہراتا ہے جو پیٹ کے باہر اربوں سال کے اندر وقوع میں آئی تھی۔

جانوروں اور انسان کے ڈھانچہ میں ایک ارتقائی مشابہت پائی جاتی ہے۔ مچھلی سے لے کر انسان تک جانوروں کی جو مختلف قسمیں ہیں، ان کی ہڈیوں کے ڈھانچہ کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں بنیادی یکسانیت کے ساتھ ایک ارتقائی نسبت ہے ۔ اوپر کی سطح کے جانور نچلی سطح کے جانور کی ارتقاء یافتہ صورتیں معلوم ہوتے ہیں۔ حتی کہ انسان تک پہنچ کر یہ عمل ارتقاء اپنی کامل صورت اختیار کر لیتا ہے۔

چٹانوں کی تہوں میں قدیم جانداروں کی ہڈیاں متحجر حالت (Fossilised State) میں پائی چٹانوں کا کیمیائی مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی تہیں ایک کے بعد ایک مختلف زمانوں میں اس طرح یہ چٹانی تہیں گویا کتاب فطرت کے اوراق ہیں جو ماضی بعید کی داستان ہم کو بتاتے ہیں۔ چٹانوں کی مختلف تہوں میں متحجر ہڈیوں کے مطالعہ سے دریافت ہوا ہے کہ زمین کے اوپر جانداروں کی جو قسمیں پائی جاتی ہیں، وہ سب کی سب اول روز سے موجود نہ تھیں۔ بلکہ ان کے ظہور میں ایک ارتقائی ترتیب ہے ۔ قدیم ترین تہوں میں مچھلی کی قسم کے جانوروں کی متحجر ہڈیاں ملتی ہیں، پھر چھپکلی کی قسم کے جانور، پھر دودھ پلانے والے جانور، پھر بندر، اور آخر میں انسان ۔

یہ مشاہدات جن کے اوپر ارتقاءء کی استدلال بنیاد قائم کی گئی ہے ، وہ بجائے خود واقعہ ہو سکتی ہے ۔ مگر خالص علمی اعتبار سے دیکھا جائے تو ان کا کوئی بھی تعلق ارتقا کے مفروضہ سے نہیں ہے ۔ ان کے ذریعہ اس نظریہ کے حق میں دلیل قائم نہیں ہوتی ۔

یہ بات بجائے خود ایک واقعہ ہے کہ انسان کے بچہ کا مشاہدہ جب ماں کے پیٹ میں کیا جاتا ہے تو ابتدائی ایام میں اس کے اور جانور کے بچہ میں بہت کم ظاہری فرق ہوتا ہے ۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مچھلی اور چوپائے کی شکلوں سے گزر کر انسان کی صورت اختیار کر رہا ہے ۔ اس مشاہدہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قدرت پانچ سو ملین سال کے عمل کو نو مہینوں میں دہراتی ہے ، جس قدرت کو اس سے پہلے ایک انسان بنانے میں پانچ سو ملین سال لگ گئے ، وہ اب صرف نو مہینوں میں کروڑوں انسان کس طرح بنا رہی ہے ۔ اور اگر قدرت کے عمل کو مختصر کرنا ممکن ہے تو ایک عالم حیاتیات کے لئے یہ ممکن ہونا چاہئے کہ وہ ایک مچھلی کا انڈہ لے اور اس کو اپنی لیبوٹری میں رکھ کر نو مہینے یا نو سال کے اندر اس کو انسان کی صورت میں تبدیل کر دے ۔ جب کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ بالکل نا ممکن ہے ۔

اس نظریہ کے بے بنیاد ہونے کی اس سے بھی زیادہ بڑی دلیل یہ ہے کہ فرد کی تمام خصوصیات اول روز ہی سے جین میں موجود ہوتی ہیں ۔ بڑا ہو کر آدمی جن اوصاف کا حامل ہوتا ہے ، وہ سب اس کے اولین ڈھانچہ میں مکمل طور پر موجود رہتا ہے ۔ اس کا قد ، اس کا رنگ ، اس کا مزاج ، اس کی ذہانت ، سب کچھ اول دن ہی سے اس کے اندر پایا جاتا ہے ۔ بالفاظ دیگر ، انسان کا بچہ پہلے دن سے انسان کا بچہ ہوتا ہے ، وہ کسی لمحہ بھی مچھلی یا چھپکلی کا بچہ نہیں ہوتا ۔ حالت میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ماں کے پیٹ کے ابتدائی ہفتوں میں اور ہمارے مشاہدے کے پیمانہ میں وہ کس صورت کا دکھائی دے رہا ہے ۔

ڈھانچہ میں ارتقائی مشابہت سے بھی اصلاً جو بات ثابت ہوتی ہے وہ صرف یہ کہ مختلف جاندار ، اپنے بنیادی ڈھانچہ کے اعتبار سے ، ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ نہیں ہیں ۔ بلکہ ان میں بعض پہلوؤں سے مشابہت پائی جاتی ہے ۔ مگر اس سے کسی بھی طرح یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ ایک قسم کا جانور دوسری قسم کے جانور کے پیٹ سے نکلا ہے ۔ بیل گاڑی ، گھوڑا گاڑی اور کار کے ڈھانچوں میں بعض پہلوؤں سے مشابہت ہے ۔ مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کس

قدر عجیب ہوگا کہ بیل گاڑی کے بطن سے گھوڑا گاڑی نکلی ہے اور گھوڑا گاڑی کے بطن سے کار نے جنم لیا ہے۔ اور کار کے بطن سے ہوائی جہاز برآمد ہوا ہے۔

متحجرات (Fossils) کے مشاہدہ میں بھی مذکورہ بالا نظریہ کے لئے کوئی لازمی دلیل اس سلسلے میں طبقاتی ترتیب کو اگر بلا بحث مان لیا جائے جب بھی اس سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ زمین کے اوپر حیوانات کی آباد کاری میں ایک ترتیب ہے۔ قسم کے جانور ایک زمانہ میں وجود میں آئے ۔ دوسری قسم کے جانور دوسرے زمانہ میں۔ جس زمانہ میں بندر تھا، انسان نہیں تھا۔ اسی طرح جس زمانہ میں مچھلیاں اور چھپکلیاں بنیں ، بندر نہیں پایا جاتا تھا۔ مگر یہاں یکساں قوت کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے تخلیق کی ترتیب ثابت ہوتی ہے نہ کہ ارتقاء کی ترتیب ۔ ایک کے پیٹ سے دوسرا ، دوسرے کے پیٹ سے تیسرا نکلا، یہ ایک علیحدہ مفروضہ ہے ۔ مذکورہ مشاہدات میں اس کے لئے براہ راست دلیل موجود نہیں ہے ۔ متحجر ہڈیوں کے مطالعہ میں خواہ کتنی ہی احتیاط برتی جائے ، ان سے جو بات ثابت ہوگی ، وہ صرف یہی ہے کہ کس قسم کے جانور کی ہڈیاں کتنے ہزار سال سے زمین میں دفن ہیں ، نہ یہ کہ کون سا جانور کس کے بطن سے نکلا ہے۔

موجودہ ارتقائی تحقیقات سے اگر کوئی چیز ثابت ہوئی ہے تو صرف یہ کہ زمین پر جو مختلف قسم کے جاندار پائے جاتے ہیں وہ سب بیک وقت وقتِ اول روز سے زمین پر موجود نہیں ہو گئے ہیں۔ بلکہ ان کی تخلیق میں ایک زمانی ترتیب ہے۔ اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ ہر جاندار اپنے وقت میں مستقل طور پر پیدا کیا گیا یا ایسا ہوا کہ بطریق تناسل ایک جاندار کے بطن سے دوسرا جاندار نکلتا رہا۔

جب اس تک دوسرے مفروضہ کا تعلق ہے اس کے حق میں ابھی تک کوئی دلیل یا مشاہدہ سامنے نہیں آیا۔ دوسری طرف جاندار اول کی حد تک سائنسداں یہ مانتے ہیں کہ وہ پہلی بار مستقل طور پر وجود پھر جو مفروضہ پہلے جاندار کے لئے صحیح سمجھا گیا ہے وہی دوسرے جاندار کے لئے بھی کیوں صحیح نہیں جبکہ تحقیقات نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ پہلا جاندار (Amoeba) اپنے جسمانی نظام میں بعض اعتبار سے وہی تمام پیچیدگیاں رکھتا ہے جو آخری جاندار (انسان) میں پائی جاتی ہیں۔ اگر پہلے پیچیدہ جاندار کو پہلی بار وجود میں لانا قدرت کے لئے ممکن تھا تو دوسرے پیچیدہ جاندار کو پہلی بار وجود میں لانا اس کے لئے کیوں ناممکن ہوگیا۔

Printed page