سبب یہاں ہے
Al-Risala, July 1983, pp. 16–18
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک امریکی خاتون لندن گئیں۔ وہاں انہوں نے ایک اخبار فروش سے پوچھا کہ با ربیکن (Barbican) کا راستہ کون سا ہے۔ اخبار فروش نے بتایا تو تیزی سے اپنے الفاظ ادا اس کے بعد خاتون نے کہا ” مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کو دوبارہ بتانے کی زحمت دے رہی ہوں ۔ میں سمجھ نہ سکی کہ آپ نے کیا کہا ۔ اخبار فروش نے جواب دیا : You know your trouble, love, you were listening with an American accent. محترمہ آپ کو اپنی مشکل معلوم ہے۔ آپ میری بات کو امریکی لہجہ میں سن رہی تھیں (آر۔
اس طرح کی مشکل اکثر سننے والے اور سنانے والے کے درمیان پیش آتی ہے۔ راجستھان کے ایک شہر میں میری تقریر ہوئی۔ تقریر کا موضوع سیرت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے اپنی ڈیڑھ گھنٹہ کی تقریر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سبق آموز واقعات اور آپ کے اقوال سادہ انداز میں بیان کئے۔
جب میں اجتماع گاہ سے باہر آیا تو ایک صاحب ملے۔ انہوں نے کہا ” آپ سیرت پر تو کچھ بولے نہیں “ مجھے یہ سن کر سخت حیرانی ہوئی۔ کیونکہ میرا خیال تھا کہ میں نے خالص سیرت پر تقریر کی ہے اس میں کوئی دوسری چیز شامل نہیں کی ہے۔ مزید پوچھنے پر معلوم ہوا کہ موصوف کے نزدیک سیرت کی تقریر یہ تھی کہ معجزات اور فتوحات اور خرق عادت کی قسم کے واقعات بیان کئے جائیں۔ چونکہ میں نے سادہ واقعات اور نصیحت کی باتیں بیان کی تھیں اس لئے موصوف کو ایسا محسوس ہوا گویا میں نے سیرت پر تقریر ہی نہیں کی۔
یہاں بھی وہی بات ہے جو مذکورہ صدر واقعہ میں نظر آتی ہے۔ میں نے ہدایت اور نصیحت کی زبان میں بات کی ، جب کہ سننے والے بزرگ اس کو فتوحات اور کرامات کی زبان میں سن رہے تھے۔ ایسی صورت میں وہ میری بات کیوں کر سمجھتے۔
اسی طرح کہنے والا اگر ” اسلام “ کی زبان میں کہہ رہا ہو اور سننے والا اس کو ” قوم “ کی زبان میں سنے۔ کہنے والا ” دعوت “ کی زبان میں بولے اور سننے والے کے پاس اس کو سمجھنے کے لئے
”سیاست“ کی زبان ہو۔ تو ایسی تمام صورتوں میں سنانے والے اور سننے والے کے درمیان ایک ایسا فصل (Gap) پیدا ہو جائے گا کہ بے حد واضح بات بھی سننے والے کی سمجھ میں نہیں آئے انتہائی مدلل بات بھی سننے والے کو بے دلیل معلوم ہوگی ۔
یہی بات قرآن وحدیث کے بارہ میں بھی صحیح ہے۔ قرآن وحدیث کی بات کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی اس کو اسی ”زبان“ میں سنے جس زبان میں وہ کہی جارہی ہے۔ اگر وہ کسی دوسری زبان میں سننے لگے تو وہ سن کر بھی نہیں پائے گا۔ وہ پڑھ کر بھی اس کی حقیقت سے محروم
ایک مثال لیجیے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو توحید کی طرف بلایا۔ مگر اس نے انکار بالآخر حضرت موسیٰ کو خدا نے بتایا کہ فرعون مع اپنے لشکر کے تباہ کیا جانے والا ہے۔ تم اس کے انکار پر دل گرفتہ نہ ہو، البتہ اپنے مسلک پر صبر کے ساتھ قائم رہتے ہوئے اس کو حق کی دعوت اس موقع پر ارشاد ہوا ہے : پس تم اور ہارون دونوں قائم رہو اور ان لوگوں کے طریقہ کی پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے (یونس (۸۹)
اس آیت کا جو مطلب مفسرین نے لیا ہے وہ صفوۃ التفاسیر کے الفاظ میں حسب ذیل ہے: ( ولا تتبعان سبيل الذين لا يعلمون ) بے علموں کے طریقہ کی پیروی نہ کرو، یعنی جلد اى لا تسلكا سبيل الجهلة في الاستعجال بازی اور خدا کے وعدہ کے بارہ میں بے یقینی میں او عدم الاطمئنان بوعد الله تعالی قال پڑ کر جاہلوں کے راستہ پر نہ چلو۔ طبری نے کہا ہے الطبری ، روی انه مکث بعد هذه الدعوة کہ روایت کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ اس دعا اربعين سنة ثم اغرق الله فرعون ۔ کے بعد چالیس سال تک مصر میں رہے ۔ فرعون کو اللہ تعالیٰ نے غرق کر دیا۔
مذکورہ تفسیر کے مطابق آیت میں جس چیز کو بے علمی کہا گیا ہے وہ دعوة الى اللہ کے کام میں بے صبری اور جلد بازی ہے۔ مگر ایک مفسر قرآن نے اپنی مخصوص ذہنی ساخت کی بنا پر اس سے بالکل دوسرا مطلب نکال لیا۔ وہ اپنے تفسیری حاشیہ میں لکھتے ہیں :
”جو لوگ حقیقت کو نہیں جانتے اور اللہ تعالیٰ کی مصلحتوں کو نہیں سمجھتے وہ باطل کے مقابلہ میں حق کی کمزوری اور اقامت حق کے لئے سعی کرنے والوں کی مسلسل ناکامیاں اور ائمہ باطل کے ٹھاٹھ اور ان کی دنیوی سرفرازیاں دیکھ کر یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ کو یہی
منظور رہے کہ اس کے باغی دنیا پر چھائے رہیں ۔ اور شاید حضرت حق خود ہی باطل کے مقابلہ میں حق کی تائید کرنا نہیں چاہتے۔ پھر وہ نادان لوگ آخر کار اپنی بد گمانیوں کی بنا پر یہ نتیجہ نکال بیٹھتے ہیں کہ اقامت حق کی سعی لاحاصل ہے اور اب مناسب یہی ہے کہ اس ذراسی دینداری پر راضی ہو کر بیٹھ رہا جائے جس کی اجازت کفر و فسق کی سلطانی میں مل رہی ہو ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو اور ان کے پیروؤں کو اسی غلطی سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔ خداوندی کا منشا یہ ہے کہ صبر کے ساتھ انہیں ناموافق حالات میں کام کئے جاؤ ۔ نہ ہو کہ تمہیں بھی وہی غلط فہمی ہو جائے جو ایسے حالات میں جاہلوں اور نادانوں کو عموماً لاحق ہو جایا کرتی ہے ۔ اس آیت میں دعوتی عمل کے ذیل میں بے صبری اور جلد بازی سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے ۔ اور اس کمزوری کو بے علمی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ دعوتی عمل میں آدمی جب صبر اور حکمت کے خلاف کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ تخلیق کے بارہ میں خدا کے منصوبہ کو نہیں سمجھتا ۔ مگر مذکورہ بالا تفسیر میں عجیب و غریب طور پر یہ معنی نکال لئے گئے کہ کفر و فسق کی سلطانی قبول کر کے ذراسی دینداری پر راضی ہو جانا بے علمی ہے۔ اس تفسیر میں اور قرآن کی آیت میں صرف ”بے علمی “ کا لفظ مشترک ہے ، باقی سب کچھ مفسر کا اپنا اضافہ ہے ۔ مزید یہ کہ اس تفسیر نے دین کے پورے معاملے کو الٹ دیا ہے۔ وہ بڑی دینداری کو ” ذراسی دینداری “ قرار دے رہی ہے اور ذراسی دینداری کو بڑی دینداری۔ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھیوں کو زمانہ دعوت میں فرعون کے ملک میں جس دینداری کا موقع حاصل تھا وہ بس ” ذراسی دینداری “ تھی ۔ خدا نے کہا کہ اس ذراسی دینداری پر قانع نہ ہو جاؤ ورنہ تم جاہل ٹھہر وگے ۔
اب دیکھئے کہ حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو کیا چیز حاصل تھی ۔ ان کو ” سلطانی باطل “ کے باوجود یہ موقع حاصل تھا کہ وہ خدا کی عبادت کریں۔ وہ آخرت کی فکر کریں۔ وہ خدا سے ڈریں اور اس سے وہ اپنے رب کی یادوں میں جئیں ۔ وہ دعوت و شہادت کا کام کریں اور خدا کے بندوں کو خدا کی طرف بلائیں۔ اخبات وانابت اور خشوع و تضرع سے لے کر بندوں کے ساتھ انصاف اور خیر خواہی تک سب کچھ کرنے کا موقع انہیں ملا ہوا تھا اور وہ پوری طرح اس میں مشغول تھے۔ مگر یہ تمام اہم ترین چیزیں ، مذکورہ تشریح کی روشنی میں ” ذراسی دینداری “ بن کر رہ گئیں ۔