Al-Risala · July 1983

نماز

Al-Risala, July 1983, pp. 20–25

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت کے ساتھ جس عبادت کا حکم دیا گیا ہے وہ نماز ہے۔ ہے کہ نماز ادا نہ کرنے والے کا ٹھکانا جہنم ہوگا (مدثر ۴۳)

نماز کی حقیقت کیا ہے اور کون سی نماز خدا کی نظر میں نماز ہے ، اس سلسلے میں تمام ضروری تفصیلات قرآن میں موجود ہیں۔ قرآنی آیات کے مطالعہ سے ان کو واضح طور پر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ نماز کی حقیقت اور اس کے آداب سے متعلق قرآن کے کچھ حوالے یہاں نقل کئے جاتے ہیں : ہر نماز کا ایک وقت ہے اور اس کی ادائیگی میں وقت کی پابندی ضروری ہے نساء ۱۰۳ جب کوئی شخص نماز پڑھنے کے لئے اٹھے تو پہلے اپنے کو پاک صاف کر لے مائدہ ۶ نماز کی ادائیگی کے وقت نمازی کو اپنے ماحول سے الگ ہو کر خدا کی طرف متوجہ ہونا چاہئے مزمل ۸ نماز پڑھنے والا نماز اس طرح پڑھے کہ اس کا شعور پوری طرح نماز میں شامل ہو جائے نساء ۴۳ چاہئے کہ نماز آدمی کے اوپر نگراں بن جائے جو اس کو تمام برے کاموں سے روکے عنکبوت ۴۵ نماز کی جانچ کا معیار یہ ہے کہ وہ آدمی کو خدا کی یاد کرنے والا بنا دے طہٰ ۶ نماز کے وقت خدا کا اس طرح استحضار ہو جانا چاہئے کہ آدمی کے اوپرپستی کا احساس طاری مومنون ۲ جب نماز کا وقت آ جائے تو دوسرے تمام کام کو چھوڑ کر نماز کی طرف دوڑ پڑو جمعہ ۹ نماز کا جماعت کے ساتھ ادا کرنا نمازیوں کے لئے باہم مل کر رہنے کا سبق ہے بقرہ ۴۳ نماز ایک واسطہ ہے جس کے ذریعہ آدمی خدا سے اس کی مدد مانگتا ہے بقرہ ۱۵۳ نماز میں آدمی جب پوری طرح مشغول ہوتا ہے تو وہ خدا کے قریب ہو جاتا ہے علق ۱۹ نماز اس بات کا پیغام دیتی ہے کہ آدمی تمام جاہلی طریقوں کو چھوڑ دے ہود ۸۷ نماز وہ ہے جو آدمی کے اوپر اس طرح چھائے کہ وہی اس کی پہچان بن جائے فتح ۲۹ نماز کسی آدمی کے لئے اس کی تنہائیوں کی بہترین ساتھی ہے فرقان ۶۲ نماز ہر آدمی پر ساری عمر تک کے لئے فرض ہے معارج ۲۳ نماز کی اسی طرح حفاظت کرو جس طرح تم اپنے مال کی حفاظت کرتے ہو بقرہ ۲۳۸ نماز کی حقیقت آخرت کے ڈر کی وجہ سے خدا کے سامنے گر پڑنا ہے زمر ۹ نماز میں آدمی کھڑا ہو تو اس کو ایک عاجز اور محتاج بندہ کی طرح کھڑا ہونا چاہئے بقرہ ۲۳۸

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝ الرَّ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ ۙ اَلَّا تَعْبُدُوۡاۤ اِلَّا اللَّهَ اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ ۙ وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوۡا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوۡۤا اِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهُ ؕ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّيْ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ ؕ اِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ ۚ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ۝ سورة هود مكيه - ۱۱ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ال ر - یہ کتاب ہے جس کی آیتیں پہلے محکم کی گئیں پھر ایک دانا اور خیر ہستی کی طرف سے ان کی تفصیل کی گئی کہ تم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو۔ میں تم کو اس کی طرف سے ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں ۔ اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، وہ تم کو ایک مدت تک برتائے گا اچھا برتونا، اور ہر زیادہ کے مستحق کو اپنی طرف سے زیادہ عطا کرے گا۔ اور اگر تم پھر جاؤ تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔ تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۴ - ۱ قرآن کی دعوت یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے ۔ وہ ایک خدا کو اپنا سب کچھ بنائے ۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی سے امید رکھے ۔ اس کے ذہن ودماغ پر اسی کا غلبہ ہو۔ اپنی زندگی کے معاملات میں وہ سب سے زیادہ اس کی مرضی کا لحاظ کرے ۔ وہ اپنے آپ کو نابعد کے مقام پر رکھ کر خدا کو معبود کا مقام دینے پر راضی ہو جائے ۔

پیغمبرانہ دعوت دراصل اسی چیز سے انسان کو باخبر کرنے کی دعوت ہے ۔ قرآن میں اس کو انتہائی محکم زبان اور واضح اسلوب میں بیان کر دیا گیا ہے ۔ اب انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ اس کے مقابلہ میں صحیح رد عمل پیش کرے ۔ حسد ، گھمنڈ ، مصلحت بینی اور گروہ پرستی جیسی چیزوں کے زیر اثر آکر وہ اس کو نظر انداز نہ کر دے ۔ بلکہ سیدھی طرح اس کو مان کر خدا کی طرف پلٹ آئے ۔ وہ اپنے ماضی کی غلطیوں کے لئے خدا سے معافی مانگے اور مستقبل کے لئے خدا سے مدد

کی درخواست کرے ۔

آدمی کے سامنے کھانا پیش کیا جائے اور وہ کھانے کو قبول کرلے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی جسمانی پرورش کا انتظام کیا۔ اس کے برعکس اگر وہ کھانا قبول نہ کرے تو گویا اس نے اپنے آپ کو جسمانی پرورش سے محروم رکھا۔ ایسا ہی معاملہ دعوت حق کا ہے۔ جب آدمی حق کو قبول کرتا ہے تو درحقیقت وہ اس رزق ربانی کو قبول کرتا ہے جو اس کے اندر داخل ہو کر اس کی روح اور اس کے جسم کی صالح پرورش کا سبب بنے اور بالآخر اس کو روحانی ترقی کے ان منازل کی طرف لے جائے جو اس کو جنت کے باغوں کا مستحق بناتی ہے ۔

جو شخص دعوت حق کو قبول نہ کرے اس نے گویا اپنی روح کو ربانی پرورش کے مواقع سے حق کو ماننے والا اگر تواضع میں جی رہا تھا تو یہ دوسرا شخص گھمنڈ کی نفسیات میں جئے گا۔ حق کو ماننے والے کے لمحات اگر خدا کی یاد میں بسر ہو رہے تھے تو اس کے لمحات غیر خدا کی یاد میں بسر ہوں گے۔ حق کو ماننے والا اگر مواقع حیات میں اطاعت خداوندی کا رویہ اختیار کئے ہوئے تھا تو یہ اس کی جگہ سرکشی کا رویہ اختیار کرے گا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلا شخص اس دنیا سے اس حال میں جائے گا کہ اس کی روح صحت مند اور ترقی یافتہ روح ہوگی اور جنت کی فضاؤں میں بسائے جانے کی مستحق ٹھہرے گی ۔ اور دوسرے شخص کی روح بیمار اور پھڑی سی ہوئی روح ہوگی اور صرف اس قابل ہوگی کہ اس کو جہنم کے کوڑا خانہ میں پھینک دیا جائے ۔

الا انهُمْ يَشْتُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ الاحينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلُّ فِي كِتَبِ مُبِينٍ دیکھو، یہ لوگ اپنے سینوں کو لپیٹتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں ۔ خبردار، جب وہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں، اللہ جانتا ہے है جو کچھ وہ چھپاتے ہیں और जो वह ظاہر کرتے ہیں۔ وہ دلوں کی بات تک جاننے والا ہے۔ اور زمین پر کوئی چلنے والا ایسا نہیں جس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو۔ اور وہ جانتا ہے جہاں کوئی ٹھہرتا ہے اور جہاں وہ سونپا جاتا ہے۔ سب کچھ ایک کھلی کتاب میں موجود ہے 6-5

قریش کے بعض سرداروں نے ایسا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی تو وہ بے پروائی کے ساتھ اٹھے۔ اپنی چادر اپنے اوپر ڈالی اور روانہ ہو گئے۔ یہ دراصل کسی بات کو نظر انداز کرنے کی ایک صورت ہے۔ کوئی آدمی جب داعی کو حقیر سمجھے اور اس کے مقابلہ میں اپنے کو بر تر خیال کرے تو اس وقت وہ اسی قسم کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ بھول جاتا ہے کہ جس نفسیات کے تحت وہ ایسا کر رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے۔ ایک انسان (داعی) کو نظر انداز کرنا نہیں ہے بلکہ خود خدا کو نظر انداز کرنا ہے جو ہر کھلے اور چھپے کو جاننے والا ہے۔

پھر آدمی کا حال اس وقت کیا ہوگا جب وہ خدا کا سامنا کرے گا۔ وہ دیکھے گا کہ جس خدا کو اس نے نظر انداز کیا تھا وہی وہ ہستی تھا جس سے اس کو وہ سب کچھ ملا تھا جو اس کے پاس تھا۔ حتیٰ کہ وہ اسباب بھی جن کے بل پر اس نے خدا کی بات کو نظر انداز کر دیا تھا۔ آدمی خدا کی دنیا میں ہے اور بالآخر وہ خدا کی طرف جانے والا ہے۔ مگر وہ اس طرح رہتا ہے جیسے کہ آج خدا سے اس کا کوئی تعلق ہے اور نہ آئندہ اس کا خدا سے کوئی واسطہ پڑنے والا ہے۔

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَلَئِنْ قُلْتَ إِنَّكُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرُ مُبِينٌ وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَى أُمَّةٍ مَعْدُودَةٍ لَيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُ أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ اور اس کا عرش پانی پر تھا، تاکہ تم کو آزمائے کہ کون تم میں اچھا کام کرتا ہے۔ اور اگر تم کہو کہ مرنے کے بعد تم لوگ اٹھائے جاؤ گے تو منکرین کہتے ہیں یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ اور اگر ہم کچھ مدت تک ان کی سزا کو روک دیں تو کہتے ہیں کہ کیا چیز اس کو روکے ہوئے آگاہ ، جس دن وہ ان پر آپڑے گا تو وہ ان سے پھیرا نہ جاسکے گا اور ان کو گھیر لے گی وہ چیز جس کا وہ مذاق اڑا رہے تھے ۔

ایک ایسا دور گزرا ہے جب کہ اس کی سطح پانی سے ڈھکی ہوئی تھی ۔ خدا کی سلطنت کے اس حصہ میں اس وقت صرف پانی نظر آتا تھا ۔ اس کے بعد خدا کے حکم سے خشکی کے علاقے ابھر آئے اور پانی سمندروں کی گہرائی میں جمع ہو گیا ۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ زمین پر موجودہ انواع حیات ظہور میں آئیں ۔ خدا اگر چہ قادر ہے کہ واقعات کو اچانک ظاہر کر دے ۔ مگر یہ دنیا انسان کے لئے بطور امتحان گاہ بنائی گئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو منصوبہ کے تحت بنایا اور اپنی تخلیقات پر اسباب کا پردہ قائم رکھا ۔

دنیا کی پیدائش اور اس پر انسان کی آباد کاری سے خدا کا مقصود اچھا عمل کرنے والے کا انتخاب " اچھا عمل “ دراصل حقیقت پسندانہ عمل کا دوسرا نام ہے ۔ یعنی کسی دباؤ کے بغیر وہ کرنا جو از روئے حقیقت آدمی کو کرنا چاہیے ۔ حقیقت پسند شخص وہ ہے جو اسباب کے ظاہری پردہ سے گزر کر خدا کی چھپی ہوئی کار فرمائی کو دیکھ لے ۔ بظاہر اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو بے اختیار کرلے ۔ کی زندگی گزارنے کا موقع رکھتے ہوئے خدا کا تابعدار بن جائے ۔

موجودہ دنیا میں ایسے ہی حقیقت پسند انسانوں کا چناؤ ہو رہا ہے ۔ جب چناؤ کی یہ مدت ختم ہوگی تو موجودہ نظام کو ختم کرکے دوسرا معیاری نظام بنایا جائے گا جہاں تمام اچھی چیزیں صرف اچھا عمل کرنے والوں کے لئے ہوں گی اور تمام بری چیزیں صرف برا عمل کرنے والوں کے لئے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے قانون مہلت کی وجہ سے منکروں اور سرکشوں کو فوراً نہیں پکڑتا۔ انتہائی حد تک موقع دیتا ہے کہ وہ یا تو متنبہ ہو کر اپنی اصلاح کر لیں یا آخری طور پر اپنے آپ کو مجرم ثابت کر دیں ۔ یہ قانون مہلت بعض سرکشوں کے لئے غلط فہمی کا سبب بن جاتا ہے ۔ وہ اپنی حیثیت کو بھول کر بڑی بڑی باتیں کرنے لگتے ہیں ۔ مگر جب وہ خدا کی پکڑ میں آجائیں گے اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ وہ خدا کے مقابلہ میں کس قدر بے بس تھے ۔

وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لیئوس كَفُورٌ ﴿٩﴾ وَلَئِنْ أَذَقْنَهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيَّاتُ عَنِّي ۚ إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ ﴿١٠﴾ إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ ﴿١١﴾ اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت سے نوازتے ہیں پھر اس سے اس کو محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس اور ناشکرا بن جاتا ہے ۔ اور اگر کسی تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی تھی ، اس کو ہم نعمت سے نوازتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ ساری مصیبتیں مجھ سے دور ہو گئیں ، وہ اترانے والا اور اکڑنے والا بن جاتا ہے ۔ مگر جو لوگ

موجودہ دنیا میں آدمی کو کبھی راحت دی جاتی ہے اور کبھی مصیبت ۔ مگر یہاں نہ راحت انعام کے طور پر ہے اور نہ مصیبت سزا کے طور پر۔ دونوں ہی کا مقصد جانچ ہے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں انسان کے ساتھ جو کچھ پیش آتا ہے وہ صرف اس لئے ہوتا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ مختلف حالات میں آدمی نے کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔

وہ آدمی ناکام ہے جس کا حال یہ ہو کہ جب اس کو خدا کی طرف سے کوئی راحت پہنچے تو وہ فخر کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے ۔ اور جو افراد اس کو اپنے سے کم دکھائی دیں ان کے مقابلہ میں وہ اسی طرح وہ شخص بھی ناکام ہے کہ جب اس سے کوئی چیز چھنے اور وہ مصیبت کا شکار ہو تو وہ ناشکری کرنے لگے۔ کسی محرومی کے بعد بھی آدمی کے پاس خدا کی دی ہوئی بہت سی چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ مگر آدمی ان کو بھول جاتا ہے اور کھوئی ہوئی چیز کے غم میں ایسا پست ہمت ہوتا ہے گویا اس کا سب کچھ لٹ گیا ہے۔

اس کے برعکس ایمان میں پورا اترنے والے وہ ہیں جو صابر اور صالح العمل ہوں۔ یعنی ہر جھٹکے کے باوجود اپنے آپ کو اعتدال پر باقی رکھیں اور وہی کریں جو خدا کا بندہ ہونے کی حیثیت سے انہیں

صبر یہ ہے کہ آدمی کی نفسیات کے زیر اثر نہ بنے بلکہ اصول اور نظریہ کے تحت بنے۔ حالات خواہ کچھ ہوں وہ ان سے بلند ہو کر خالص حق کی روشنی میں اپنی رائے بنائے ۔ وہ حالات سے غیر متأثر رہ کراپنے عقیدہ اور شعور کی سطح پر زندہ رہنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اسی قسم کی زندگی نیک عملی کی زندگی ہے۔ جو لوگ اس نیک عملی کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو اگلی زندگی میں خدا کی رحمتوں کے حصہ دار ہوں گے اور خدا کی ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے۔

فَلَعَلَّكَ تَارِكَ بَعْضَ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَضَائِقُ بِهِ صَدْرُكَ أَنْ يَقُولُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ أَوْ جَاءَ مَعَهُ مَلَكُ إِنَّمَا أَنْتَ نَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ * أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ * فَإِلَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا

Printed page