Ladies and Gentlemen
Al-Risala, January 1983, pp. 32–44
By Maulana Wahiduddin Khan
I am very thankful to you for according me the honour of presiding over this international assembly of Muslim scholars and preachers. May God help us to carry out His will. First, I congratulate the Govt. of Libya, Dr M.A. Sharief, and other members of the Jamiat Ad-Dawah Al-Islamia for affording us the opportunity of having Muslims from all over the world under one roof, discussing matters of Islamic Dawah. The most obvious lesson of this universal gathering of Muslims is that Islamic Dawah is the most certain base of unity among Muslims. Dawah is the only issue about which there is no controversy among different sects of Muslims; moreover, this is the only field of work where we can enjoy the cooperation of the Muslim rulers of our day. This great conference of Islamic Call is an incontrovertible proof of this. Let us avail of this opportunity and open a new page of our history, one of unity, of joint effort, and of result-oriented struggle. May Allah bless you and bestow upon you the wisdom which leads to ultimate success and salvation. Finally, I would request all the learned speakers to observe the time limit (for speech) and in this too, set an example of Islamic Now I request Shaikh Dr Mostafa Al-Hamshary to carry on the
جہاں لوگوں کے پاس صرف اپنے تالے کی کنجیاں ہوں وہاں لوگ اکثر یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ کوئی ایسی شاہ کلید بھی ہو سکتی ہے جس کے ذریعہ ان کے اپنے تالے سمیت تمام تالوں کو کھولا جا سکے۔
ہندوستان میں ’’بائیں چلو‘‘ کا اصول ہے اور لیبیا میں ’’دائیں چلو‘‘ کا اصول۔ نئی دہلی کا کوئی آدمی ایسا نہیں کرے گا کہ وہ طرابلس کی سڑک پر ’’بائیں چلو‘‘ کے اصول پر اپنی گاڑی دوڑانے لگے۔ طرابلس کا ایک آدمی کبھی ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ نئی دہلی کی سڑک پر ’’دائیں چلو‘‘ کے اصول پر عمل کرے اور اپنی گاڑی لے کر دائیں رخ پر دوڑنے لگے۔ سڑکوں کے بارے میں ہر آدمی اس قانون کو جانتا ہے مگر زندگی کے معاملے میں ہر آدمی اس اصول کو بھول جاتا ہے۔ یہاں ہر آدمی اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ اسے کسی ’’خارجی قانون‘‘ کی پابندی کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے ذوق کے مطابق خواہ دائیں طرف اپنی زندگی کی گاڑی دوڑائے یا بائیں طرف۔
کانفرنس کا افتتاح ۱۴ اگست کی شام کو ہوا۔ اس کے بعد پانچ روز تک باقاعدہ کارروائی جاری رہی۔ ہر روز کا اجلاس کسی خاص آدمی کی صدارت میں ہوا۔ ایک دن (۱۵ اگست) کی نشست کے لئے راقم الحروف کو صدر جلسہ (یہاں کی اصطلاح میں امین جلسہ) بنایا گیا۔ میں نے اپنی صدارتی تقریر انگریزی میں کی اور اس میں چند باتیں کہیں۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اس وقت دنیا بھر کے مسلمان یہاں ایک چھت کے نیچے جمع ان کو جس چیز نے یکجا کیا ہے وہ اسلامی دعوت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی دعوت ایک ایسا عنوان ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اتحاد ہو سکتا ہے۔ پھر کیوں ہم ان عنوانات پر زور آزمائی کریں جن میں مسلمان ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ اس کے بجائے ہم کو دعوت کے مقصد کو لے کر آگے بڑھنا چاہئے جو اتحاد و اتفاق پیدا کرتا ہے اور اتحاد و اتفاق بلا شبہ سب سے بڑی قوت ہے۔ کانفرنس کی کارروائی چھ دن جاری رہی۔ پروگرام کی تفصیل مطبوعہ نقشہ کے مطابق حسب ذیل تھی: ۱۴ اگست الافتتاح ۱۵ اگست الدعوۃ الاسلامیة فی عالمنا المعاصر ۱۶ اگست الدعوۃ الاسلامیة ومشکلات المسلمین ۱۷ اگست قضیة الحریة فی العالم الاسلامی ۱۸ اگست الاسلام وتحدیات العصر ۱۹ اگست بیان الموتمر والتوصیات الختامیہ
آخری دن کی کارروائی میں اتفاق رائے سے اسلامی دعوت کا کام انجام دینے کے لئے مختلف ملکوں سے ایک عالمی کونسل مجلس عالمی للـدعوة الاسلامیہ بنائی گئی جو اس مؤتمر عام کے لئے مجلس تنفیذی کے طور پر کام کرے گی۔ اس کونسل میں راقم الحروف کا نام شامل کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس عالمی کونسل کا ہر سال کم از کم ایک اجلاس طرابلس میں ہوا کرے گا۔ اس کے ممبران کی مجموعی تعداد ۳۷ ہے۔
۱۶ اگست ۱۹۸۲ کو میرا مقالہ تھا۔ میرے مقالہ کے ساتھ عجیب قصہ پیش آیا۔ طرابلس کے سفر سے پہلے مجھے لندن کا سفر کرنا پڑا۔ وہاں سے واپسی کے فوراً بعد طرابلس کے لئے روانی تھی۔ اس ہنگامی صورت ہال کی وجہ سے طرابلس کی کانفرنس کے لئے کوئی مستقل مقالہ تیار کرنے کا موقع نہ تھا۔ لندن کے سفر پر جاتے ہوئے میں نے برادرم مولانا محسن عثمانی ندوی ایم اے کو اپنی مطبوعہ کتاب الاسلام متحدی دی اور ان سے کہا کہ اس سے معلومات لے کر ایک مقالہ تیار کر دیں۔ انھوں نے مقالہ تیار کیا اور وہ ہندوستان کے لیبی سفارت خانہ کی معرفت طرابلس پہنچ کر وہاں سائیکلو اسٹائل بھی ہو گیا۔
میں اسی مقالہ کو لے کر طرابلس پہنچا اور ذہن میں یہ تھا کہ اسی کو وہاں کی کانفرنس میں پڑھنا ہے۔ درمیان میں ایسا ہوا کہ میں نے ایک امریکی نو مسلم کو ایک دن پہلے یہ مقالہ پڑھنے کے لئے دیا جو عربی زبان اچھی طرح جانتے تھے۔ انھوں نے پڑھنے کے بعد کہا کہ یہ تو آپ کی کتاب الاسلام متحدی کا خلاصہ ہے۔ اس کے بعد معلوم ہوا کہ تقریباً پانچ سو آدمی جو مقالہ پڑھتے وقت حال میں موجود ہوں گے ان میں سے بیشتر الاسلام متحدی کو پڑھ چکے ہیں۔ وہ یقینی طور پر محسوس کریں گے کہ وہی پچھلی بات ان کے سامنے دہرادی گئی ہے۔ یہ خبر میرے لئے بڑی سخت تھی۔ کیونکہ اگلے ہی دن مقالہ پڑھا جانے والا تھا اور درمیان میں صرف ایک رات کا موقع تھا۔ بہرحال میں نے اللہ کے بھروسہ پر ایک نیا فیصلہ کیا۔ میں نے طے کیا کہ میں ایک نیا مقالہ تیار کروں گا۔ میں نے ذمہ داروں سے نیا مقالہ پڑھنے جانے کی اجازت لی۔ اس کے بعد ایک مصری نوجوان کو معاونت کے لئے تیار کیا۔ یہ تھے :
محمد سعید مراد - ۱۲ شارع سعيد - متفرع من شارع طومان بای - حليتة الزيتون - القاهره طے شدہ پرو گرام کے مطابق ہم دونوں فندق باب البحر (طرابلس) کی گیارہویں منزل پر کمرہ نمبر ۴۱ میں عشاء کی نماز پڑھ کر بیٹھے۔ طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ مقالہ کا مضمون میں اپنی ہندوستانی عربی میں کہتا اور کبھی کبھی انگریزی میں اس کی تشریح کرتا۔ اس کے بعد محمد سعید مراد مصری اس کو اپنی فصیح عربی میں لکھتے۔ یہ سلسلہ ساری رات جاری رہا۔ یہاں تک کہ جب فجر کی اذان ہوئی تو ہمارا مقالہ تیار ہو چکا تھا۔ اگلے دن دوپہر بعد کی نشست میں اس کو پڑھنا اس وقت تک سائیکلو اسٹائل ہو کر اس کی کاپیاں بھی تیار ہوگئیں۔
آدھ گھنٹہ کے اس مقالہ کا عنوان تھا " القرآن فی مواجہۃ التحدیات العصریۃ" مقالہ پیش کرنے کے بعد جو ملاقاتیں ہوئیں ان سے اندازہ ہوا کہ لوگوں نے اس کو غیر معمولی طور پر پسند کیا۔ کسی نے کہا: واللہ اسلوب کسی نے کہا : کان ممتازاجداً۔ کسی نے کہا: لقد اعجبنی کثیراً۔ یہ عربی مقالہ اولاً مؤتمر کی طرف سے سائیکلو اسٹائل کرایا گیا تھا۔ اس کے بعد وزیر اطلاعات عبدالرحمن شلقم کی خصوصی ہدایت کے تحت فوری طور پر اس کو پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا گیا۔ مؤتمر میں پڑھے جانے والے مقالات میں راقم الحروف کا مقالہ واحد مقالہ تھا جس کو اس طرح پمفلٹ کی صورت میں چھاپا گیا۔
آدھ گھنٹہ کے مقالہ میں میں نے یہ دکھایا کہ جدید تحدیات دراصل جدید امکانات ہیں۔ اگر ان کو قرآن کی رہنمائی میں استعمال کیا جائے تو وہ ہمارے لئے نیا مستقبل پیدا کرنے کا زینہ بن سکتے ہیں۔ آخری پیرا گراف یہ تھا :
رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں بظاہر اسلام کو العدو والقوی سے معاملہ پیش آیا۔ العد والقوی کے اندر حقیقۃً المومن القوی کے امکانات چھپے ہوئے تھے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں اگر چہ ہم کو سخت ترین حالات کا سامنا ہے مگر یہ حالات اسلام کے لئے زینے ہیں۔ اگر ہم قرآن کو لے کر اٹھ جائیں تو تاریخ دوبارہ ثابت کرے گی کہ یہ ساتویں صدی ہجری کی مانند گویا ایک تاتاری تلوار تھی جو صرف اس لئے ظاہر ہوئی تھی کہ بالآخر خدا کے دین کی خدمت وحمایت کے لئے وقت ہو جائے۔
ایک صاحب امریکہ سے آئے تھے۔ عربی اور انگریزی دونوں زبانیں یکساں روانی کے ساتھ بولتے کھانے کی میز پر ان کا ساتھ ہو گیا۔ بات چیت کے دوران انھوں نے میرا نام پوچھا۔ میں نے کہا "وحید الدین" انھوں نے کہا " وحید الدین خان" میں نے کہا ہاں۔ اس کے بعد وہ بڑے زور کے ساتھ وہ میری عربی کتابیں پڑھے ہوئے تھے۔ اسی طرح کا واقعہ اکثر لوگوں کے ساتھ پیش آیا۔ خاص طور پر الاسلام یتحدی، بار بار چھپ کر تقریباً پوری مسلم دنیا میں پھیلی ہے اور تعلیم یافتہ طبقہ عام طور پر اس کو پڑھ چکا ہے۔ یہاں اگر چہ دنیا کے مختلف حصوں کے لوگ ہیں تقریباً سارے ہی لوگ الاسلام یتحدی کو پڑھے ہوئے نظر آئے۔ ایسے لوگ بھی ملے جنھوں نے کہا کہ الاسلام یتحدی ابھی میں نے پڑھی نہیں ہے مگر اس کا نام کافی سنا ہے اور پڑھنے کا اشتیاق ہے۔
مزید معلوم ہوا کہ الاسلام یتحدی (مذہب اور جدید چیلنج) کا ترجمہ عربی کے علاوہ اور کئی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ مثلاً یو گو سلاویہ کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک ماہوار رسالہ (Educata Islame) یہ رسالہ یوگو سلاویہ کی البانوی زبان میں ہے۔ انھوں نے اس یوگو سلاوی زبان میں الاسلام یتحدی
کا ترجمہ کیا ہے۔ فی الحال اس کو انھوں نے اپنے رسالہ کے نمبر کے طور پر شائع کیا ہے اور آئندہ کتابی صورت میں چھاپنے والے ہیں۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے :
Mr Sherif Ahmad, direktor medrese Alauddin P. F. 89, Pristina, Yugoslavia اس طرح ہماری معلومات کے مطابق یہ کتاب اردو کے علاوہ عربی، ترکی، فرانسیسی اور یوگوسلاوی زبانوں میں شائع ہوچکی ہے۔
الاسلام تتحدى عرب دنیا میں اس قدر مقبول ہوئی ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر تعلیم یافتہ آدمی اس سے باخبر ہے اور اس سے غیر معمولی طور پر متاثر ہے۔ اکثر ایسا ہوا کہ کسی سے پوچھا گیا کہ آپ نے الاسلام تتحدی پڑھی ہے، اس کا جواب یہ ہوتا تھا: عدۃ مرات (کئی بار)
ہماری معلومات کے مطابق ، الاسلام تتحدى اب تک پانچ عرب ملکوں کی جامعات میں باقاعدہ طور پر داخل نصاب ہو چکی ہے قاہرہ، طرابلس ، قطر ، خرطوم اور تیونس۔ یہاں آنے والوں کے ذریعہ معلوم ہوا کہ کئی عرب یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اساتذہ مستقل طور پر اس سے استفادہ کرتے ہیں اور اس کے مضامین کواپنے لکچروں میں استعمال کرتے ہیں۔ مگر جہاں تک راقم الحروف کا علم ہے، ہندوستان اور پاکستان کی کسی بھی درس گاہ کے نصاب میں اب تک وہ داخل نہ کی جاسکی۔ ہمارے قائدین اور ہمارے مدارس کے ذمہ دار یہ اعلان تو بار بار کرتے رہتے ہیں کہ " معقولات اور علم کلام پر جدید انداز میں کتاب لکھنے کی ضرورت ہے" مگر جب ایسی کتاب لکھ کر شائع کر دی جائے تو ان کے اندر یہ جذبہ نہیں ابھرتا کہ اُس کو اپنائیں اور عملاً اِس کو استعمال کریں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا ہر آدمی صرف کہنے کا کریڈٹ لینا چاہتا ہے، عمل کا کریڈٹ لینے کا شوق کسی کے اندر نہیں۔
طرابلس میں الاسلام تتحدى سے متعلق ایک عجیب کہانی معلوم ہوئی۔ طرابلس میں محمد سلیمان القائد اور علی مختار الجعیدی ہمارے دعوتی مشن سے بہت متاثر ہیں۔ ۱۹۷۷ء میں وہ ڈاکٹر عبداللہ الهونی (رئیس قسم اللغۃ العربية، كلية التربية ، جامعہ طرابلس) سے ملے اور ان سے کہا کہ اسلامی مرکز کے لئے آپ تعاون دیجئے۔ مذکورہ لیبی نوجوانوں کے قریبی ملاقاتی تھے۔ انھوں نے کہا خدا کی قسم میں تو ایک غریب آدمی ہوں (والله
عبداللہ الهونی کے پاس واقعۃً مال نہ تھا۔ تاہم وہ ایک شریف آدمی تھے۔ رات کو جب وہ بستر پر لیٹے تو ان کے دل نے انھیں ملامت کی کہ تمھارا دوست تم سے ایک نیک کام میں مدد لینے کے لئے آیا اور
تم اس کی کچھ مدد نہ کر سکے ۔ یہ احساس ان پر اس بقدر غالب آیا کہ وہ رات کو ٹھیک سے سو نہ سکے ۔ اس کے بعد ایک عجیب واقعہ ہوا۔ ان کے احتساب خویش نے ان کے سامنے ایک نیا وسیع تر دروازہ وہ " الاسلام ییییتحدی کو پڑھے ہوئے تھے اور اس کی اہمیت کے معترف تھے۔ انھوں نے سوچا کہ اگرچہ میرے پاس مال نہیں ہے اور مال کے ذریعہ میں اس دینی مشن کی مدد نہیں کر سکتا۔ مگر میں ایک تعلیمی ادارہ کا صدر ہوں اور میں ایسا کر سکتا ہوں کہ الاسلام تحدی کو اپنے یہاں تعلیمی نصاب میں داخل کر دوں۔ اگلی صبح کو وہ خود مذکورہ لیبی نوجوان کے گھر پہنچے اور اس نے کہا کہ میں نے تمھارے مشن کی مدد کے لئے ایک اور راستہ پالیا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے بتایا کہ میں نے تمھارے مشن کے تحت شائع شدہ کتاب (الاسلام یتحدی) کو یونیورسٹی کے نصاب میں داخل کر دیا ہے۔ اسی وقت انھوں نے کتاب کے پانچ ہزار نسخوں کا آرڈر لکھ محمد سلیمان القائد کے حوالے کیا اور کہا کہ اس کی فراہمی کا فوراً انتظام کریں۔ چنانچہ کتاب بہت جلد قاہرہ سے منگالی گئی۔
اس کے بعد اگلے چند سالوں میں مزید کتا بیں منگائی گئیں ۔ اندازہ ہے کہ اس کے بعد مجموعی طور پر تقریباً پچاس ہزار کتا بیں لیبیا میں پہنچیں ۔ اس کی قیمت مصری سکہ میں ۵۰ قرش تھی جو لیبیا میں بمشکل ۵۰ پیسہ کے قدر ہے۔ چنانچہ طلبا اور غیر طلبانے کثرت سے خریدا۔ لیبیا اگرچہ رقبہ کے اعتبار سے بڑا ملک ہے۔ کی آبادی بہت تھوڑی ہے۔ چنانچہ چند سالوں کے اندر ایسا ہوا کہ الاسلام تحدی لیبیا کے تقریباً ہر پڑھے لکھے آدمی تک پہنچ گئی۔
لیبیا نیز دوسرے ملکوں کے کئی صحافی حضرات نے انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات میں دو سوال بہت مشترک ایک یہ کہ آپ نے الاسلام تحدی کے بعد اور کیا کیا تحریری کام کئے ہیں۔ میں نے بتایا کہ اس کے بعد کافی تحریری کام ہو چکا ہے مگر عربی میں ان کے ترجمہ اور اشاعت کا کام ابھی باقی ہے۔ دوسرا سوال جو تقریبا ہر اخبار یا رسالہ والے نے کیا وہ یہ کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو مشکلات و مسائل درپیش ہیں ان کا آپ کے نزدیک کیا حل ہے۔ میں نے سب کو ایک ہی جواب دیا۔ وہ یہ کہ تمام مسائل کا ایک ہی یقینی حل دعوت الی اللہ ہے۔ دوسرا کوئی حل نہ اب تک کامیاب ہوا ہے اور نہ آئندہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ ۲۳ اگست کو طرابلس کے ٹیلی وزن پر میرا ایک انٹرویو نشر کیا گیا۔ اس طرح کا انٹرویو عام طور پر ۱۵ منٹ کا ہوتا ہے مگر میرا انٹرویو خاص طور پر ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔ سوالات زیادہ تر دو چیزوں سے متعلق ایک یہ کہ آپ کے مرکز اسلامی کے تحت کیا کیا کام ہو رہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ جدید تحدیات کے مقابلہ میں آپ کے نزدیک اسلام کا موقف کیا ہونا چاہئے ۔
چودہ منزلہ فندق باب البحر کی بالکنی پر کھڑے ہو کر طرابلس کے شہر پر نظر ڈالیں تو وہ خشک عمارتوں کا ایک پتھر ملا جنگل معلوم ہوتا ہے۔ نئی دہلی جیسے سبزہ اور درخت کا یہاں کوئی تصور نہیں۔ ہوٹل میں چاروں طرف کثرت سے ہرے بھرے درخت اور پودے نظر آئے۔ ہم سمجھے کہ یہ ہمارے ملک کی طرح واقعی درخت اور پودے ہیں۔ قریب جا کر گہرائی کے ساتھ مشاہدہ کیا تو وہ سب پلاسٹک کے بنے ہوئے تھے۔ مگر ڈنٹھل اور پتی اور پھول، ہر چیز میں اتنی کامل مشابہت تھی کہ دور سے کوئی کہہ نہیں سکتا کہ یہ پلاسٹک کے بنے ہوئے ہیں۔ — صحرائی ملکوں میں سبزہ کی کمی نے پلاسٹک انڈسٹری کے لئے تجارت کا ایک نیا میدان کھول دیا ہے۔
ہندوستان کے تقریباً پچاس ہزار افراد لیبیا میں کام کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ جو طرابلس میں رہتے ہیں ان سے چند ملاقاتیں ہوئیں، پردیس میں اپنے ہم وطنوں سے ملنا ہمیشہ بہت خوشی کا باعث ہوتا ہے، جن سے میری ملاقاتیں ہوئیں وہ سب تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ ان کے ساتھ چند شام گزری جو بہت دن تک یاد رہے گی۔ ان کے ایک اجتماع میں تقریر کرنے کا موقع ملا۔ میں نے اسلام کے دعوتی پہلو پر اپنے خیالات پیش کئۓ۔ کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کو مختلف تحفے دئیے گئے۔ ان میں سب سے زیادہ کار آمد چیز ایک اس جانماز میں ایک خاص قسم کا قطب نما چپکایا ہوا تھا جس کا نام کاشف الاتجا بات (Direction Finder) رکھا گیا ہے۔ یہ قطب نما دنیا کے کسی بھی مقام پر قبلہ کا رخ بتاتا ہے۔ اس میں گھڑی کی طرح چالیس اعداد چاروں طرف گولائی میں لکھے ہوئے ہیں اور سامنے ایک مینار بنا ہوا ہے۔ ہر عدد دنیا کے کسی خاص شہر کو بتاتا ہے۔ آپ جہاں کہیں ہوں، گائیڈ بک میں اس مقام کا عدد دیکھیں اور پھر جانماز کو بچھا کر گھمائیں۔ قطب نما کی سوئی جب مطلوبہ نمبر پر ٹھہر جائے تو اس وقت مینار کا رخ جس جانب ہوگا وہی اس مقام پر قبلہ کا رخ ہوگا۔
طرابلس کی کانفرنس میں دنیا کے تمام حصوں کے لوگ ساڑھے چار سو کی تعداد میں آئے۔ ممالک سے تقریباً ۵۰ تنظیموں اور اداروں کی نمائندگی یہاں موجود تھی۔ دعوت دین اور احیاء اسلام کے عنوانات پر اس طرح کے اجتماعات مختلف مسلم ملکوں میں کثرت سے کئے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب خاص طور پر اس معاملہ میں کافی آگے ہے ۔ وہ ساری دنیا میں بڑے پیمانہ پر اسلام کی خدمت کرنے والوں کی مدد کر رہا ہے۔ موجودہ مسلم حکمران اگرچہ سیاسی اسلام کا نعرہ لگانے والوں کو بر داشت نہیں کرتے۔ اسلام کی کوششوں کو وہ ہر طرح کا تعاون دینے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ملے ہوئے مواقع کو استعمال کیا جائے نہ کہ ہم اپنی جد و جہد کو اس میدان سے شروع کرنا چاہیں جو ابھی ہم کو حاصل نہیں ہوا۔
۲۹ اگست کو راقم الحروف کے اعزاز میں فندق باب المدینہ میں ایک عشائیہ دیا گیا۔ اس عشائیہ میں وزراء اور سفراء شریک تھے، طرابلس میں ہندوستان کے سفیر مسٹر ارجن اسرانی نے بھی شرکت کی۔ اس قسم کی تقریب شرکاء موتمر میں راقم الحروف کے سوا اور کسی کے لئے منعقد نہیں کی گئی۔ دوسرے معززین کے علاوہ ڈاکٹر طاہر محمد الشوھدی الامین العام للہيئة المشتركة لتاسيس المراكز الثقافية الاسلامیہ) بھی اس موقع پر
طرابلس کا سوق المجمع (سپر بازار) دیکھا۔ اس طرح کے یہاں چار بازار ہیں، نئی دہلی کے سپر بازار کے مقابلہ میں یہاں کے سوق المجمع کی عمارت کافی زیادہ شاندار رکھتی۔ کئی منزلہ عمارت میں خود کار سیڑھیوں کا نہایت عمدہ انتظام تھا۔ حساب کتاب کرنے کے لئے جدید طرز کی درآمد شدہ مشینیں لگی ہوئی تھیں۔ خریداری اور سامان کے اعتبار سے وہ نئی دہلی کے سپر بازار سے کم نظر آيا، اس فرق کے ساتھ کہ دہلی میں تمام سامان ملکی ہوتا ہے اور یہاں تمام سامان باہر سے درآمد کیا ہوا ۔
طرابلس کا متحف (میوزیم) کافی بڑا ہے۔ مگر وہ ترکوں کے ایک قدیم قلعہ میں قائم کیا گیا ہے اس لئے عمارت کے اعتبار سے اس میں وہ خوبیاں نہیں ہیں جو اس عمارت میں ہوتی ہیں جو خاص طور پر میوزیم کے مقصد سے مثال کے طور پر لکھنو کا میوزیم مقابلہ کافی چھوٹا ہونے کے باوجود عمارت کے اعتبار سے طرابلس کے میوزیم سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔
ایک ہندوستانی عالم کے ساتھ عرب دنیا میں بعض اوقات یہ صورت حال پیش آتی ہے کہ وہ بظاہر عربی بولتا ہے مگر عرب اس کو سمجھ نہیں پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ عربی لفظ کو اس کے اردو مفہوم میں استعمال اگر چہ عربی زبان کے بہت سے الفاظ اردو زبان میں رائج ہیں۔ اس لحاظ سے اردو دانی کو عربی دانی کے لئے کارآمد ہونا چاہئے۔ مگر عملاً ایسا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی کے اکثر الفاظ کے معنی اردو میں آکر بدل گئے ہیں۔
مثلاً اردو میں جس چیز کو ہم انقلاب کہتے ہیں، اس کے لئے عربی میں ثورہ کا لفظ ہے۔ میں ثورہ کے معنی ریوولیوشن کے ہیں اس کے مقابلہ میں انقلاب کا لفظ اس مفہوم کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کو انگریزی میں (Coup) کہتے ہیں۔ ہندوستان کے ایک مصنف نے اپنی کتاب کا نام الاقدار الاسلامیہ رکھا ہے، اس سے ان کی مراد اسلامک ویلوز ہے۔ مگر ویلو (Value) کے لئے عربی میں قیمت کا لفظ استعمال ہوتا ہے نہ کہ قدر کا۔ اگر چہ قیمت اور قدر دونوں ہی عربی الفاظ ہیں۔ تاہم عربی میں اس کو القیم الاسلامیہ کہیں گے نہ کہ الاقدار الاسلامیہ ۔ وہ چیز جس کو اردو میں استحصال کہا جاتا ہے اس کے لئے عربی میں استغلال کا
لفظ استعمال ہوتا ہے ، وغیرہ۔
اس سلسلہ میں دوسری مشکل تلفظ کی ہے۔ مثلاً موجودہ عرب اکثر ق کا تلفظ گ سے کرتے ہیں ۔ یعنی وہ اقول لك (میں آپ سے کہتا ہوں) کو اگل لك بولیں گے۔ اسی طرح مثلاً وہ الاستغلال (آزادی) کو اس طرح بولتے ہیں کہ وہ الاستقلال سنائی دیتا ہے۔ چنانچہ اکثر ایسی صورت پیش آتی ہے کہ ہندوستان کا ایک آدمی کسی لفظ کے معنی جانتے ہوئے عربوں کی گفتگو کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر رہتا کبھی لفظ کے دہرے مفہوم کی وجہ سے اور کبھی تلفظ کے فرق کی وجہ سے ۔ اردو داں مسلمانوں کی انفرادیت پسندی کی یہ عجیب قیمت ہے جو ان کو خود مسلم دنیا میں دینی پڑتی ہے۔
۲۷ اگست کو لیبیا میں ہندوستان کے سفیر مسٹر ارجن اسرانی سے ملاقات ہوئی۔ نہایت ذہین اور با اخلاق آدمی ہیں۔ بہت شریفانہ طور پر ملے اور اس کے بعد مزید تفصیلی ملاقات کی غرض سے ۲۹ اگست کو با اصرار اپنے گھر پر کھانے کی دعوت کی۔ کھانے کی میز پر سفیر صاحب کے ساتھ جناب عبدالخالق دہلوی بھی تقریباً ایک گھنٹہ تک دل چسپ اور مفید گفتگو رہی۔ سفیر صاحب نے اسلامیات کے مطالعہ کی خواہش ظاہر کی۔ چنانچہ میں نے چند مقات ان کی خدمت میں پیش کئے ۔
اس سفر میں میری ملاقات ایک تعلیم یافتہ عرب سے ہوئی۔ وہ ایک ملک میں اچھے عہدہ پر ہیں ۔ ان کو میں جانتا تھا۔ مگر مجھ کو یہ معلوم نہ تھا کہ وہ ہمارے مشن سے کس حد تک قریب ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میری عربی کتا ہیں انھوں نے بار بار پڑھی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی اردو کتابوں اور الرسالہ کے بہت سے مضامین کو ہندوستانی یا پاکستانی عربی دانوں کے ذریعہ ترجمہ کرا کر سمجھا ہے۔ اب وہ ہمارے مشن کو پوری طرح پا گئے ہیں اور صدق دل سے اس سے متفق ہیں ۔
مذکورہ عرب بزرگ نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کے ملک میں لوگوں کا معاملہ آپ کے ساتھ کیا ہے۔ میں نے کچھ تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایک طبقہ ہمارا سخت مخالفت ہو گیا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اس پر تل گیا ہے کہ ہماری جڑ اکھاڑ کر اس مشن کا خاتمہ کر دے۔ یہ لوگ ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کر رہے ہیں۔ ہماری معاشیات کو برباد کرنے کی تدبیریں کرتے ہیں۔ ہم کو اتنا زیادہ پریشان کرنا چاہتے ہیں کہ ہم تنگ آکر اس مشن کو چھوڑ دیں۔
یہ سن کر عرب بزرگ بولے ۔ آپ کا یہ اسلامی مشن بالآخر ایک تاریخ بننے والا ہے ۔ آئندہ بننے والی تاریخ میں یہ لوگ اپنا نام آخر کس خانہ میں لکھوانا چاہتے ہیں ۔