حج کا سفر
Al-Risala, July 1983, pp. 30–46
By Maulana Wahiduddin Khan
اگست ۱۹۸۲ میں میں بعض ملکوں کے سفر پر نکلا۔ اس سفر میں ’’حج‘‘ کا پروگرام شامل نہ تھا۔ حتیٰ کہ میرے ذہن میں اس کا تصور بھی نہ تھا۔ روانڈا (افریقہ) پہنچا تو وہاں سے اچانک سفر حج کے اسباب پیدا ہو گئے۔ اس معاملہ میں میرے ساتھ بالکل وہ صورت پیش آئی جو کسی شاعر نے اپنے اس شعر میں بیان کی ہے:
خدا کے دین کا موسیٰ سے پوچھے احوال کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے حج کا یہ سفر اسلامک سنٹر (کیگالی) کے ڈائریکٹر جناب محمد سلیمان القائد کے ساتھ ہوا۔ اس سے پہلے دو بار حج کر چکے تھے اس لئے پورے سفر میں ان کی رہنمائی بہت مفید ثابت ہوئی۔ کیگالی سے ہم ایتھوپین ایئرلائنز کے ذریعہ ۱۵ ستمبر ۱۹۸۲ کی صبح کوروانہ ہوئے۔ ہماری پہلی منزل اینٹی (Entebbe) تھی۔ یہاں جہاز ایک گھنٹہ ٹھہرا اور ہم کو موقع ملاکہ ہم یوگنڈاکے اس شہر پر ایک طائرانہ نظر ڈال سکیں۔ اینٹی ایک چھوٹا ہوائی اڈہ ہے۔ مگر چاروں طرف پھیلی ہوئی شادابی نیز سمندر کے ساحل نے اس کو کافی خوبصورت بنا دیا ہے۔ اسی مقام پر ۱۹۷۸ میں ہائی جیکنگ کا مشہور واقعہ پیش آیا تھا جب کہ فلسطینیوں نے ایک اسرائیلی جہاز کو بحر اینٹی کے ہوائی اڈہ پر اتار لیا تھا۔ چند روز تک غیر یقینی صورت حال رہی۔ اس کے بعد اچانک اسرائیلی ہوائی جہاز اینٹی کے ہوائی اڈہ پر اترے۔ انہوں نے حیرت انگیز مہارت کے ساتھ فلسطینیوں کو مغلوب کیا اور پھر اپنے تمام آدمیوں کو لے کر اسرائیل پہنچ گئے۔
ہماری دوسری منزل عدیس ابابا تھی۔ یہاں سے ہمیں ہوائی جہاز بدلنا تھا۔ اس سلسلے میں یہاں ایک روز قیام رہا۔ عدیس ابابا، ایتھوپیا کا دارالسلطنت ہے۔ ایتھوپیا (حبشہ) وہ ملک ہے جہاں صحابہ کرام نے پہلی ہجرت کی تھی ۔ اسی خاک سے بلال حبشی پیدا ہوئے۔ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہاں کا حکمران نجاشی تھا۔ وہ نہایت عادل حکمراں تھا اور اس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ تاہم یہاں کی اکثر آبادی بدستور اپنے عیسائی مذہب پر قائم رہی۔ ایتھوپیا کے ایک سرحدی علاقہ اریٹیریا) میں مسلمانوں کی آبادی ہے ۔ مگر ان مسلمانوں کو اس کے سوا اور کوئی کام معلوم نہیں کہ یہاں کی عیسائی حکومت سے بے معنی سیاسی لڑائی
لڑتے رہیں ۔ وہ یہاں کے عیسائیوں کو دین خدا کا مدفونہ بنا سکے ۔ البتہ اپنی ناکام سیاست کے ذریعہ انہوں نے یہاں کے عیسائیوں کو اپنا قومی حریف ضرور بنا لیا ہے ۔ ۱۵ ستمبر کو ہم جدہ پہنچے ۔ یہاں کے ہوائی اڈہ پر بڑا سخت مرحلہ پیش آیا ۔ ہم چیکنگ کے مقام پر پہنچے تو میدان حشر کا منظر تھا۔ بے رحم چہرے کھڑے ہوتے لوگوں کے سامان کی بری طرح تفتیش کر رہے تھے ۔ جس چیز کو چاہتے توڑ دیتے ۔ جس چیز کو چاہتے اٹھا کر اپنے پیچھے رکھے ہوئے بڑے بڑے ٹب میں ڈال دیتے ۔ بالآخر میری باری آئی ۔ میرے پاس کپڑے اور قلم اور مسواک جیسی چند چیزیں تھیں ۔ البتہ کا غذات کا کافی ذخیرہ تھا ۔ یہ مختلف مضامین اور تاثرات تھے جو میں پچھلے ایک مہینے کے سفر میں لکھتا رہا تھا ۔ چیکنگ پوسٹ پر کھڑے ہوتے آدمی نے بے رحمی کے ساتھ تمام کاغذات کو لپیٹ کر فاتحانہ انداز سے اپنے قبضہ میں لے لیا ۔ میری ہر اپیل اس کے لئے قطعی غیر مؤثر ثابت ہو رہی تھی ۔ غیر مطبوعہ مضامین کی اس طرح بربادی میرے لئے ناقابل برداشت تھی ۔ اپنی اس بے بسی کو دیکھ کر میں انہیار عصبی کے مرحلہ کو پہنچنے والا تھا کہ اچانک ایک معجزہ پیش آیا ۔ ہوائی اڈہ کے اسٹاف کا ایک عرب نوجوان وہاں آگیا ۔ اس نے میرے بکس پر میرا نام اور پتہ دیکھا اور بولا : هل انت وحید الدین خان ، صاحب السلام علیکم۔ میں نے کہا ۔ اس کے بعد اس نے فورا مذکورہ آدمی سے کہا : ان کو میں جانتا ہوں ۔ بہت خاص آدمی ہیں ، انہیں چھوڑ دو ۔ اس کے بعد آدمی نے میرے تمام کاغذات میرے حوالے کر دئے اور میری جان میں جان آئی ۔
یہ صورت حال در اصل ، اس تخریبی سیاست کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے جس میں بہت سی نام نہاد اسلامی جماعتیں اور اسلامی حکومتیں شریک ہیں ۔ یہ لوگ اپنے ہم قوموں اور مسلم حکمراںوں کے خلاف تخریبی کاروائیوں میں سرگرم ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ حکمران طبقہ باہر سے آنے والوں کے بارے میں انتہائی حد تک شکی ہو گیا ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص باہر سے آ رہا ہے وہ کسی سازشی منصوبہ کا جز ہے۔ اس کے پاس اگر کوئی بیگ ہے تو وہ اس لئے ہے کہ اس میں وہ ہتھیار چھپا کر لائے ۔ اس کے پاس اگر کچھ کا غذات ہیں تو وہ یقیناً کوئی باغیانہ لٹریچر ہے جو ان کے ملک میں باہر سے در آمد کیا جا رہا ہے ۔ اسلام کے نام پر جاری ہونے والی اس تخریبی سیاست نے اسلام یا مسلمانوں کو کوئی فائدہ تو نہیں پہنچایا البتہ ان کو نئے نئے عذاب میں یقینا مبتلا کر دیا ہے ۔
مکہ میں مجھے ایک اسپتال میں جانا پڑا۔ قاعدہ کے مطابق میں نے پہلے ایک کاغذ لکھوایا جس میں میرا نام اور ”الہند“ لکھا ہوا تھا۔ اس کے بعد مجھے دوسری منزل پر ایک کمرہ میں داخل کیا گیا جہاں ایک عرب ڈاکٹر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ میں وہی وحید الدین خان ہوں جس نے الاسلام یتحدی لکھی ہے تو وہ بیتاب ہوگیا۔ اس نے کہا کہ میں نے الاسلام یتحدی اس نے اپنے اسٹاف کے آدمیوں کو بلاکر کہا ھذاشیخ کبیر ولہ كتاب عظيم۔ فارغ ہوکر میں اس کے کمرہ سے نکلا تو خلاف معمول وہ باہر تک مجھے پہنچانے آیا۔ مکہ میں ہم جس مطوف (احمد حسین خوان، شارع ابراہیم الخلیل) کے یہاں ٹھہرے تھے، ان کا مکان باب الھجرہ کی جانب حرم سے بہت قریب تھا۔ اس کی وجہ سے بہت سا وقت حرم میں گزارنے کا اتفاق ہوا۔ کعبہ کے پردہ تک پہنچ کر دعائیں مانگنے کی توفیق بھی ملی۔ مذکورہ مکان میں پہلی منزل پر ہم سے ملے ہوئے کمرہ میں تیونس کی وزارتِ تعلیم کے (مفتش اول) مقیم تھے۔ ہمارے کمرہ کا نمبر ۱ تھا، ان کے کمرہ کا نمبر ۲۔ ۱۸ ستمبر کو ایک ملاقات میں انہیں معلوم ہوا کہ میں ”وحید الدین خاں“ ہوں تو وہ بہت خوش ہوئے۔ میں نے پوچھا، کیا آپ نے الاسلام یتحدی پڑھی ہے۔ وہ فوراً بولے نعم بل ھو احسن ما قرآت (ہاں، بلکہ وہ سب سے اچھی کتاب ہے جو میں نے پڑھی) انہوں نے بتایا کہ تیونس کے تمام مدارس ثانویہ میں آپ کی کتاب کو بطور ٹیکسٹ بک کے داخل کردیا گیا ہے۔ اور وہ ہمارے یہاں فلسفہ اور اسلامیات کے موضوع کے تحت باقاعدہ پڑھائی جاتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے کمرہ سے اپنے صاحبزادہ کو بلایا اور کہا کہ ان سے ملو۔ یہ وقت کے سب سے بڑے عالم ہیں۔ (اکبر علماء المعاصرین) تیونس کے جریدہ الہدایہ کے لئے انہوں نے میرا انٹرویو بھی لیا۔ حج میں بار بار ایسے مواقع آتے ہیں جو طبیعت پر بے حد شاق معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع پر آدمی اگر اپنے آپ کو اللہ کی طرف متوجہ کرلے تو وہی چیز اس کے لئے رزق ربانی کا سبب بن جائے گی جو عام حالات میں صرف رزق نفسانی کا ذریعہ بنتی ہے۔ مثلاً آپ مسجد حرام میں نماز پڑھ رہے ہیں اور انسانوں کا ہجوم آپ کے سامنے اس طرح کھڑا ہوگیا کہ آپ نہ صحیح طور پر رکوع کر سکیں اور نہ صحیح طور پر سجدہ۔ ایسے موقع پر اگر آپ سامنے والے انسان کو دیکھیں تو صرف غصہ اور نفرت پیدا ہوگا۔ اس کے برعکس
اگر آپ یہ کہہ اٹھیں کہ خدایا میری اس ٹوٹی پھوٹی نماز کو قبول کرلے۔ کیونکہ میری بظاہر صحیح نماز بھی اتنی ہی ٹوٹی پھوٹی نماز ہے جتنی کہ میری یہ نماز ، تو آپ کا ذہن بالکل دوسری طرف پھر جائے گا اور آپ کو خدا کارزق ملنے لگے گا۔ اسی طرح رمی اور دوسرے مواقع پر انسان کا بے پناہ ہجوم ،منیٰ اور عرفات میں گرمی کی شدت ، پانی لینے کے لئے ایک کا دوسرے پر ٹوٹنا و غیرہ ۔ ان مواقع پر اگر آپ صرف سامنے کے انسان کو دیکھیں تو آپ کے اندر صرف غصہ اور نفرت کی آگ بھڑک اٹھے گی ۔ اس کے برعکس اگر آپ سوچنے لگیں کہ دنیا کی معمولی مصیبت کا یہ حال ہے تو آخرت کی بڑی مصیبت میں میرا کیا حال ہوگا تو اچانک آپ محسوس کریں گے کہ جو چیز بظاہر مصیبت نظر آ رہی تھی اس نے خدا کی رحمت بن کر آپ کے اوپر سایہ کر لیا ہے ۔
ہم ۶ ستمبر کو جدہ سے مکہ پہنچے تو ہمارے ساتھی محمد سلیمان القائد نے اپنے سامان کو چیک کرتے ہوئے پایا کہ وہ اپنا کیس (حقبہ) جدہ کے ہوائی اڈہ پر چھوڑ آئے ہیں۔ میں ان کے بیس ہزار ریال تھے ۔ یہ حادثہ بڑا سخت تھا۔ اس کے بعد میں مکہ میں ٹھہرا اور وہ امید و بیم کی کیفیت لے کر دوبارہ جدہ کے لئے روانہ ہوئے کہ شاید بیگ دوبارہ مل جائے۔ مجھے سخت تشویش تھی۔ میں نماز کے لئے کھڑا ہوا تو بے اختیار میری زبان سے نکلا : اللهم اجعله لنا درسا ولا تجعله لنا خسارة (یعنی خدایا! بیگ ضائع نہ ہو اور وہ دوبارہ مل کر ہمارے لئے سبق کا ذریعہ بن جائے۔ دن بھر اسی قسم کی دعا دل سے نکلتی رہی ۔ محمد سلیمان القائد صاحب مغرب بعد جدہ سے لوٹے تو ان کے ہاتھ میں بیگ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ۔ شرطہ کے دفتر میں بیگ مل گیا ۔ اس کی پوری رقم اور دوسرے کا غذات بدستور اس میں موجود تھے ۔ جدہ کے ہوائی اڈہ پر میری بھی دو چیزیں گم ہوئیں ۔ گھڑی اور قلم۔ مگر وہ دوبارہ نہ مل سکیں ۔ ممکن ہے اس میں اس کا بھی دخل ہو کہ میں نے زیادہ تلاش نہیں کیا ۔ حج کے بہت سے پہلو ہیں مگر اس کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ حج حق تعالیٰ سے ملاقات آدمی جب سفر کر کے مقامات حج تک پہنچتا ہے تو اس پر خاص طرح کی کیفیات طاری اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ”اپنی دنیا“ سے نکل کر ”خدا کی دنیا “ میں پہنچ وہ اپنے خدا کو چھوڑ رہا ہے وہ اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ وہ اس کی طرف دوڑ رہا ہے ۔ وہ اس کی خاطر سفر کر رہا ہے ۔ وہ اس کے حضور قربانی پیش کر رہا ہے۔
وہ اس کے دشمن کو کنکریاں مار رہا ہے ۔ وہ اس سے مانگ رہا ہے جو کچھ وہ مانگنا چاہتا ہے ۔ اس سے پا رہا ہے جو کچھ اسے پانا چاہئے۔
عرفات کا میدان اس سلسلہ میں بڑا عجیب منظر پیش کرتا ہے ۔ خدا کے بندے قافلہ در قافلہ چاروں طرف سے چلے آ رہے ہیں ۔ سب کے جسم پر ایک ہی سادہ لباس ہے ۔ اپنی امتیازی صفت کو کھو چکا ہے ۔ سب کی زبان پر ایک ہی لفظ جاری ہے۔ لبيك، لبيك اللھم لبيك ۔ یہ منظر دیکھ کر قرآن کی وہ آیت یاد آنے لگتی ہے ۔ في الصور فاذ اھم من الاجداث الى ربھم ينسلون - حقیقت یہ ہے کہ عرفات کا اجتماع حشر کے اجتماع کی ایک دنیوی تصویر ہے ۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہےالحج عرفة (عرفات کے میدان میں قیام ہی حج ہے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کا اہم ترین فائدہ کیا ہے ۔ وہ یہ کہ آدمی میدان حشر میں خدا کے سامنے اپنی حاضری کو یاد کرے ۔ جو کچھ کل عملاً بیتنے والا ہے اس کو آج ہی ذہنی طور پر اپنے اوپر طاری کرلے ۔
کعبہ خدائے واحد کا گھر ہے ۔ جس کو دو پیغمبروں (حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ) نے مل کر بنایا ۔ ان پیغمبروں کی خدا پرستی اور خدا کے لئے ان کی قربانی کے حیرت انگیز واقعات اس مسجد سے وابستہ ہیں ۔ پھر پیغمبر اسلام اور آپ کے پاک اصحاب کی زندگیاں اور ان کی تمام خدا پرستانہ سرگرمیاں اس کی فضاؤں میں بسی ہوئی ہیں ۔
خدا پرستی اور خدا کے لئے قربانی کی اس طویل تاریخ کو آدمی کتابوں میں پڑھتا ہے۔ اس کے حافظہ کے خانہ کا جز بنی ہوئی ہوتی ہیں ۔ اس کے بعد جب وہ کعبہ کے سامنے پہنچتا ہے تو حافظہ کی تمام یادیں اچانک جاگ اٹھتی ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو ایک تاریخ کے سامنے کھڑا ہوا پاتا ہے ۔ خدا سے خوف اور محبت کی تاریخ ، خدا کے لئے قربان ہو جانے کی تاریخ، خدا کو اپنا سب کچھ بنانے کی تاریخ ، خدا کو قادر مطلق کی حیثیت سے پالینے کی تاریخ ، خدا کی خاطر اپنے آپ کو مٹا دینے کی تاریخ ۔
اس قسم کی ایک عظیم ربانی تاریخ اس کے سامنے کعبہ کی صورت میں مجسم ہو جاتی ہے۔ وہ حجری حروف میں لکھی ہوئی اس کو نظر آنے لگتی ہے ۔ یہ تجربہ اس کے دماغ کو ہلاتا ہے اور اس کے سینہ کو پگھلا دیتا ہے ۔
یہ میری محرومی تھی کہ میں نے ابھی تک حج کا پروگرام نہیں بنایا تھا ۔ اس سال میں
ایک اور سفر کے لئے نکلا۔ مگر خدا نے عجیب و غریب طور پر ایشیا اور یورپ اور افریقہ کا سفر کراتے ہوئے مجھ کو حجاز پہنچا دیا تا کہ میں حج کی سعادت حاصل کر سکوں ۔ حج کرنے والا اگر چہ میں تھا، مگر حج کرانے والا صرف خدا تھا۔ اس میں کسی اور کا کوئی دخل نہ تھا۔
حرم میں پہنچ کر جب کعبہ پر نظر پڑی تو یہ ایک ایسا منظر تھا جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کعبہ کو دیکھنا اور کعبہ کے پڑوس میں اپنے آپ کو پانا اتنا لذیذ تجربہ ہے جس کے اظہار سے میرا قلم عاجز ہے۔ اس غیر متوقع نعمت کو پا کر دل کی عجیب کیفیت ہوئی۔ میں نے کہا، خدایا، میں نے ابھی تک اپنی زندگی میں حج کا پروگرام نہیں بنایا تھا۔ گویا کہ میں حج کئے بغیر مرنے پر راضی تھا۔ تیرا یہ کیسا احسان ہے کہ تو نے مجھ کو اس محرومی سے بچالیا۔
کعبہ زمین پر خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ وہاں بھٹکی ہوئی انسانی روحوں کو خدا کا آغوش دیا جاتا ہے ۔ وہاں پتھرائے ہوئے سینوں میں عبدیت کے چشمے جاری کئے جاتے ہیں۔ وہاں بے نور آنکھوں کو خدا کی تجلیات دکھائی جاتی ہیں۔ تا ہم سب کچھ اس کے لئے ہے جو اس کی استعداد لے کروہاں جائے۔ بے استعداد لوگوں کے لئے حج بس ایک قسم کی سیاحت ہے۔ وہاں جاتے ہیں تاکہ جیسے گئے تھے ویسے ہی دوبارہ واپس چلے آئیں ۔
وہاں میں نے جو خدائی مناظر دیکھے جس طرح وہ ناقابل بیان ہیں اسی طرح وہ انسانی مناظر بھی ناقابل بیان ہیں جو وہاں مجھے دیکھنے کو ملے۔ میں نے دیکھا کہ لوگ یا تو دنیا کی باتیں کرنے میں مشغول ہیں یا دنیا کا سامان خریدنے میں ہیں۔ کچھ لوگ دوسروں کو دھکا دے کر اپنی پرجوش مذہبیت کا ثبوت دے رہے تھے حالانکہ اس قسم کی چیزیں حرم میں جائز نہیں ۔ جہاں ہر طرف خدا کے جلوے بکھرے ہوئے تھے تاکہ آدمی ان میں محو ہو جائے وہاں لوگ انسانی جلووں میں گم تھے۔ جہاں خدا کے فرشتے اترے ہوئے تھے تاکہ لوگ ان سے باتیں کریں وہاں لوگ انسانوں سے باتیں کرنے میں مشغول تھے۔ جہاں ہر طرف آخرت کا سامان بک رہا تھا وہاں لوگوں کو دنیا کا سامان خریدنے کے سوا کسی اور چیز سے دلچسپی نہ تھی۔ جس جگہ کا یہ حق تھا کہ خدا کا ڈر انہیں پیچھے کردے وہاں لوگ دوسروں کو دھکا دے کر آگے بڑھ جانے میں تیزی دکھارہے تھے۔
مسجد حرام نہایت وسیع ہے اور ویسی ہی ہے جیسا کہ اس کو ہونا چاہئے۔ کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ، اس وسعت کے باوجود، اس کو تنگ کر دیا ہے۔ تاہم ایک چیز
مجھے شدت سے محسوس ہوئی ۔ اور وہ مسجدِ حرام کے باہر کا ماحول ہے۔ مسجدِ حرام کے باہر کھلی ہوئی جگہ نہیں ۔ مسجدِ حرام کو بستی سے جو چیز جدا کرتی ہے وہ صرف ایک سڑک ہے۔ ضروری تھا کہ مسجدِ حرام کے چاروں طرف نہایت وسیع کھلا ہوا میدان ہوتا۔ مگر موجودہ حالت یہ ہے کہ مسجدِ حرام کو چاروں طرف سے ہوٹلوں کی اونچی عمارتوں کے جنگل نے گھیر رکھا ہے۔ سعودی حکومت نے اگرچہ اطراف کے بہت سے مکانات کو خرید کر حرم کی توسیع کی ہے مگر یہ کام ابھی اور کرنا باقی ہے۔
حاجیوں کو میں نے دیکھا کہ ارکان حج ادا کرتے ہوئے وہ بس رٹی ہوئی دعائیں دہراتے ہیں یا کتاب ہاتھ میں لے کر اس سے پڑھتے رہتے ہیں۔ حج کی فقہی ادائیگی اگرچہ اس سے ہو جاتی ہے مگر حج کے دوران ذکر و دعا سے جو چیز مطلوب ہے اس کا حق اس طرح ادا نہیں ہوتا۔ دوران آدمی پر وہ کیفیت گزرنی چاہئے جو حضرت ابراہیم اور ان کے خاندان پر گزری تھی۔ مثلاً جب آدمی سعی کرتا ہے تو اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلنے چاہئیں کہ خدایا تو نے اس سعی کے بعد ہاجرہ کے لئے برکت کا ابدی چشمہ جاری کر دیا تھا، میری سعی کو بھی تو ایسی سعی بنا دے جس کے بعد میرے لئے خیر کے ایسے چشمے جاری ہو جائیں جو دنیا سے آخرت تک مجھے برکت دیتے رہیں ۔
السید سابق نے اپنی مشہور کتاب فقہ السنہ میں بجاطور پر لکھا ہے :
ويستحب له ان يكثر من الذكر والدعاء طواف کرنے والے کو چاہئے کہ طواف کے وقت خوب ويتخير منهما ما ينشرح له صدره دون ذکر اور دعا کرے اور ان میں سے جن پر اسے شرح صدر ان يتقيد بشيئ۔ اور يردد ما يقوله المطوفون ہو ان کو اختیار کرلے۔ بغیر اس کے کہ اپنے کو کسی سے مقید فليس في ذلك ذكر محدود الزمن الشارع به کرلے یا معلمین کے کہے کو دہراتا رہے۔ کیونکہ طواف میں وما يقوله الناس من اذكار و ادعية في کوئی متعین ذکر نہیں ہے جس کا شارع نے ہم کو پابند کیا ہو۔ الشوط الاول والثاني وهكذا فليس له اور عوام جو اذکار اور دعائیں شوط اول‘ شوط ثانی وغیرہ اصل ولم يحفظ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ میں پڑھتے ہیں ان کی کوئی اصل نہیں۔ اور اس سلسلے وسلم شيئ من ذلك فلٹأ لك ان يدعو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ثابت نہیں۔ نفسه ولاخوانه بما شاء من خيرى الدنيا کرنے والے کو چاہئے کہ وہ اپنے لئے اور اپنے بھائیوں کیلئے والآخرة (المجلد الاول ، صفحه ۴۶۹) جس طرح چاہے دنیا اور آخرت کی بہتری مانگے۔
حج کے مسائل جو قرآن وحدیث میں ہیں وہ اتنے کم ہیں کہ چند صفحات میں لکھے جا سکتے ہیں ۔ مگر فقہاء نے ، دوسری عبادات کی طرح حج کے بے شمار مسائل وضع کر رکھے ہیں جن کا احاطہ عام آدمی کے لئے ممکن نہیں۔ اس ” اضافہ “ کے حق میں دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ حجاج کی سہولت کے لئے کیا گیا ہے۔ مگر اس استدلال میں کوئی وزن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ محض فقہی مسائل پڑھ کر کوئی شخص نہ نماز پڑھ سکتا اور نہ حج کر سکتا۔ یہ کام ایسا ہے جو دیکھ کر ہی کیا جا سکتا ہے ۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے مفصل احکام بتانے کے بجائے یہ فرمایا ۔ صلو ا كما رأيتموني اصلي (جس طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو اسی طرح تم بھی نماز
یہی اصل طریقہ ہے ۔ رسول اللہ کو دیکھ کر صحابہ نے نماز پڑھی ۔ صحابہ کو دیکھ کر تابعین تابعین کو دیکھ کر تبع تابعین نے ۔ جس طرح یہ سلسلہ آج تک چلا جا رہا ہے۔ اگر لوگوں کے پاس صرف فقہ کے نام نہاد تفصیلی مسائل ہوتے تو لوگ کبھی صحیح طور پر نماز نہ پڑھ سکتے۔ ابوحنیفہ اس فن کے سب سے بڑے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ مگر صحیح کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ نے ان سے کہا کہ میں نے مناسک کی ادائیگی میں پانچ غلطیاں کیں۔ پھر ایک حجام نے مجھے بتا یا: (قال وكيع : قال لى ابو حنيفه . اخطأت فى خمسة ابواب من المناسك فعلمنيها حجام. ذكره المحب الطبرى بالتفصيل)
حاجیوں میں تقریباً ۹۵ فی صد تعداد زیادہ عمر والوں کی نظر آئی۔ ان میں بہت سے ایسے تھے جو بے حد بوڑھے ہو چکے تھے ۔ حتی کہ ایسے بھی تھے جنہیں بار بار کف آتا تھا اور وہ تھوکنے پر مجبور تھے ۔ بعض لوگوں کو میں نے دیکھا کہ وہ پلاسٹک کا تھیلا لئے ہوئے ہیں اور اس کے اندر تھوک رہے ہیں۔ یہ منظر بھی نظر آیا کہ کاغذ میں تھوک کر کاغذ کو حرم میں ڈال دیا۔ اس قسم کے تمام لوگوں کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنا حج بدل کرائیں۔ حج بدل جو موجودہ زمانہ میں مُردوں کے لئے عام ہو گیا ہے وہ شریعت میں اصلاً ایسے ہی لوگوں کے لئے حدیث میں آیا ہے :
عن الفضل بن عباس ان امرأة من خثعم فضل بن عباس کہتے ہیں کہ بنو خثعم کی ایک قالت يا رسول الله ان فريضة الله على عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبادہ فی الحج ۔ ادرکت ابی شیخاً كبيراً سے کہا کہ حج بندوں کے اوپر خدا کا فریضہ ہے
لا يستطيع ان يثبت على الراحلة افاج حج عنه. وذلك في حجة الوداع (رواه الجماعة) میرا ایک بوڑھا باپ ہے، وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتا ۔ کیا میں اس کی طرف سے حج کروں ۔ آپ نے فرمایا ہاں ۔ یہ حجة الوداع کا واقعہ ہے ۔ حج بدل کی دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی مرگیا ہو اور یہ وصیت کی ہو کہ میری طرف سے حج ادا کر دینا۔ یہ صورت استنباطی طور پر نکلتی ہے امام مالک کے نزدیک مُردہ کی طرف سے حج بدل اسی وقت ہے جب کہ موت سے پہلے اس نے وصیت کی ہو۔ قال مالك : انما يحج عنه اذا اوصي، اما اذا لم یوص فلایحج عنه. لان الحج عبادة غلب فيه جانب البدنية فلا يقبل النيابة، فقه السنة، المجلد الاول صفحه ،۲۳) حج ہر صاحب استطاعت پر عمر میں ایک بار فرض ہے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے (الحج المبرور ليس له جزاء الا الجنة ، (بخاری ومسلم) حضرت عمر بن العاص کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : لما جعل الله الاسلام فى قلبی اتیت رسول الله صلی الله علیہ وسلم فقلت ابسط يدك فلابایعک - قال فبسط فقبضت یدى فقال مالك یا عمرو - قلت اشترط - قال تشترط ماذا - قلت ان یغفرلی - قال اما علمت ان الاسلام یہدم ما قبله وان الهجرة تہمدم ما قبلها وان الحج يهدم ما قبله (رواه مسلم)
جب اللہ نے اسلام میرے دل میں ڈالا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اپنا ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں بیعت کروں۔ کہتے ہیں کہ پھر آپ نے ہاتھ پھیلایا۔ نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ آپ نے کہا اے عمرو ایسا کیوں ۔ میں نے کہا کہ میری ایک شرط ہے۔ آپ نے فرمایا، تمہاری کیا شرط ہے۔ کہا یہ کہ مجھے بخش دیا جائے۔ آپ نے فرمایا، کیا تم کو نہیں معلوم کہ اسلام پچھلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔ اور ہجرت پچھلے گناہوں کو ختم کردیتی ہے اور حج پچھلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔
حج مبرور کو اکثر لوگ حج مقبول کے ہم معنی سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا حج جس کے ساتھ گناہ شامل نہ ہو ( الحج الذی لا یمخالطہ اثم)
حسن بصری تابعی نے کہا ہے کہ حج مبرور وہ ہے جس ئے آدمی اس طرح لوٹے کہ وہ دنیا سے بے رغبت ہو اور آخرت کا شوق اس کے اندر پیدا ہو جائے (ان یرجع زاهد آفی الدنيا راغباً في الآخرة) حقیقت یہ ہے کہ حج کو اگر صحیح شعور اور جذبہ کے ساتھ کیا جائے تو نہ صرف دورانِ حج آدمی گناہوں سے بچار ہے گا بلکہ اس طرح لوٹے گا کہ ہر برائی سے اس کا دل متنفر ہو اور ہر بھلائی کی طرف اس کے اندر رغبت پیدا ہو چکی ہو۔ میں جب بھی حرم میں گیا تو حجر اسود کے پاس بھیڑ دیکھی اس لئے میں نے حجر اسود تک جانے کی کوشش نہیں کی۔ طواف بھی اشارہ کے ذریعہ کیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حجر اسود کی صورت میں اسلام کے اندر بھی ایک بت موجود ہے ۔ مگر یہ بات سراسر واقعہ کے خلاف ہے۔ بت (صنم) کس چیز کا نام ہے ۔ یہ دراصل خدا کے شرکا ر مقرر کرنے کا نام ہے۔ کچھ انسانی یا غیر انسانی ہستیوں کو خدا کا شریک فرض کر لیا جاتا ہے اور ان کی صورت بنا کر انہیں پوجا جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی "خدائے واحد" کا کوئی بت موجود نہیں۔ جو قومیں ایک خدا سے برتر کے ساتھ بہت سے دوسرے خداؤں کو مانتی ہیں ان کے یہاں صرف دوسرے خداؤں کے بت پائے جاتے ہیں ، خدا سے برتر کا کوئی بت ان کے یہاں نہیں پایا جاتا کیونکہ بت پرستی لازماً "شرکت" کو چاہتی ہے ، شرکت کے بغیر بت پرستی کا کوئی وجود نہیں ۔
اسلام میں شرکت کا کوئی تصور نہیں۔ اسی لئے حجر اسود کے ساتھ بھی بت کا کوئی تصور حجر اسود صرف ایک علامتی پتھر ہے۔ مومن اس پتھر کو چھو کر یا اس کی طرف اشارہ کر کے علامتی طور پر گویا خدا کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے۔ یہ ایک قسم کی براہ راست بیعت ہے ، جب کہ دوسری بیعت بالواسطہ بیعت ہوتی ہے ۔ حجر اسود خدا سے واحد سے عہد کی علامت (Symbol) ہے ۔ جب کہ بت خدا سے واحد کے سوا دوسرے شریکوں کی شکل (Image) ہوتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ حجر اسود کو بت سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے شراب کو خمر کے ہم معنی سمجھ اس سلسلے میں یہاں میں ایک لطیفہ بیان کروں گا ۔ ایک بار دہلی میں ایک صاحب نے مجھ سے کہا : عرب تو کھلم کھلا شراب پیتے ہیں ۔ حتیٰ کہ میں نے حرم کی سیڑھیوں پر لوگوں کو شراب پیتے ہوئے دیکھا “ اس عجیب و غریب قسم کی غلط فہمی کا راز میری سمجھ میں اس وقت آیا
جب کہ میں نے حج کیا۔ اصل یہ ہے کہ عربوں میں بند ڈبے کی مشروبات پینے کا بہت رواج ہے۔ سڑکوں پر جگہ جگہ لڑکے بالیوں میں بند ڈبے کی مشروبات بھرے ہوتے فروخت کرتے رہتے ہیں اور لوگ انہیں لے لے کر پیتے رہتے ہیں۔
ان ڈبوں میں ایسے ڈبے بھی ہوتے ہیں جن پر موٹے حرفوں میں "شراب" لکھا ہوا شراب کا لفظ موجودہ عربی میں مشروب (Drink) کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، ان ڈبوں میں پھلوں کے رس طبی طور پر تیار کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ بعض ڈبوں میں ایک سے زیادہ چیزوں کے رس ہوئے ہیں ان پر لکھا ہوا ہوتا ہے شراب فواکہ مشکله (Mixed Nectar) ۔ چیز کو ہندوستان میں شراب کہا جاتا ہے اس کو عربی میں خمر کہتے ہیں۔ ۱۴۰۲ھ کا حج ستمبر ۱۹۸۳ء میں پڑا۔ اس موقع پر تمام دنیا کے مسلمان تقریباً ۲۵ لاکھ کی تعداد میں حرمین کے علاقہ میں جمع ہوئے۔ خوش قسمتی سے میں بھی حج کے اس عالمی اجتماع میں شریک تھا۔ اس موقع پر سب سے زیادہ عجیب چیز جو میں نے دیکھی وہ یہ کہ ان مسلمانوں کے چہروں یا ان کی سرگرمیوں پر اس تازہ حادثہ کا کوئی اثر نہ تھا جو عین انہی دنوں میں فلسطینیوں کے ساتھ لبنان میں پیش آیا۔ تمام دنیا کے مسلم اخبارات و جرائد ان دنوں اسرائیلی مظالم کی داستانوں سے بھرے ہوئے تھے ۔ مگر حج کیلئے جمع ہونے والے مسلمانوں پر بظاہر اس کا کوئی اثر نہیں دکھائی دیتا تھا۔ وہ بدستور ہنس رہے تھے۔ ان کے چہرے بدستور غفلت اور بے حسی کا نشان بنے ہوئے تھے۔ مکہ اور مدینہ کے بازاروں میں خرید و فروخت کی چہل پہل بدستور اسی طرح جاری تھی جیسے ہر سال ان دنوں میں یہاں جاری رہتی ہے۔ یہ حج ایسے وقت میں پڑا جو بلاشبہ مسلمانوں کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ کا سب سے زیادہ نازک وقت تھا۔ ایک ایسی قوم جس کو ہم مردود اور مغضوب سمجھتے ہیں اس نے ایک ایسے مسئلہ میں مسلمانوں کو بدترین شکست دی جس کے معاملہ میں تمام دنیا کے مسلمان بلا اختلاف ہم آواز ہیں۔ یہودیوں نے زبردستی فلسطین پر قبضہ کیا ۔ اپنے علاقہ کو کئی گنا حد تک بڑھالیا۔ فلسطینیوں کو نہ صرف ان کے وطن سے بلکہ اطراف کے تمام علاقوں سے نکلنے پر مجبور کیا۔ آخری سرحدی قیام گاہ لبنان تھی، یہاں بھی اس نے مسلسل بمباری کے ذریعہ فلسطینیوں کو اس قدر تباہ و برباد کیا کہ وہ اس پر راضی ہو گئے کہ لبنان میں اپنے ہتھیاروں کو چھوڑ کر دور کے علاقوں میں چلے جائیں۔ چند سال پہلے تک دنیا کا کوئی مسلمان اسرائیل کا وجود
تسلیم کرنے پر راضی نہ تھا۔ انور سادات نے ۱۹۷۸ میں کیمپ ڈیوڈ کے معاہدے کے تحت اسرائیل کے وجود کو تسلیم کیا تو تمام دنیا کے مسلمانوں نے انور سادات کو غدار کہا، حتیٰ کہ اسے قتل کر ڈالا۔ مگر آج فلسطینی مجاہدوں سمیت تمام مسلمان ذہنی طور پر اس کے لئے راضی ہو چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لیں۔
ایسی ذلت آمیز شکست مسلمانوں کو اپنی طویل تاریخ میں کبھی پیش نہیں آئی مگر حج کے عالمی اجتماع میں اس کا کوئی قابل مشاہدہ اثر پانا ناممکن تھا۔ میرے علم کے مطابق صرف یہ واقعہ ہوا کہ کچھ ایرانیوں نے منیٰ کی سڑکوں پر ”مرگ بر اسرائیل“ کے مگر جن لوگوں کو مسلم ممالک کی سیاست کا اندازہ ہے انہیں یہ سمجھنے میں دشواری نہ ہوگی کہ یہ نعرہ حقیقتاً سعودی حکومت کے خلاف تھا نہ کہ اسرائیلی حکومت کے یہ مجاہدین اسلام اگر واقعۃً اسرائیل کی ہلاکت چاہتے ہیں تو کیوں نہ انہوں نے اپنی فوجیں لبنان یا اسرائیل کے اندر داخل کردیں۔ کیوں ایسا ہے کہ وہ مسلم ملک میں داخل ہو کر اسرائیل کے خلاف نعرے لگارہے ہیں۔
اس الم ناک صورت حال کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف مسٹر صادق میہوم نے اپنی ایک گفتگو میں اشارہ کیا۔ صادق نیہوم عربی سمیت چھ زبانوں کے ماہر ہیں اور اس وقت جنیوا میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا : اسرائیل ہم کو نہیں مارتا، ہم تو پہلے ہی سے مرے ہوئے لوگ ہیں (اس ائیل لہ تقتلنا ، نحن موتی من قبل) ہماری قیام گاہ حرم سے بہت قریب شارع ابراہیم الخلیل پر تھی۔ اور سونے کے علاوہ میرا بیشتر وقت حرم میں گزرتا تھا۔ میرا معمول تھا کہ باب الہجرہ کے پاس زمزم کے پانی سے وضو کرتا اس کے بعد سیر ہو کر زمزم پیتا اور پھر حرم میں داخل ہو جاتا۔ اکثر اوپر کے حصہ میں ، کیونکہ اوپر کے حصہ میں زیادہ سکون رہتا تھا۔ وہاں نماز پڑھتا ، تلاوت کرتا ، کعبہ کو دیکھتا۔ روزانہ گھنٹوں اس طرح گزر جاتے کہ وقت کا کچھ اندازہ نہ ہوتا۔ خواہ کتنی ہی زیادہ دیر ہو چکی ہو ، جب لوٹتا تو معلوم ہوتا کہ ابھی طبیعت سیر نہیں ہوئی۔ کعبہ کے سامنے بیٹھ کر دل کی جو کیفیت ہوتی تھی اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میں چونکہ افریقہ کی طرف سے انٹر نیشنل پاسپورٹ پر یہاں آیا تھا ۔ اور عربوں کے ساتھ ٹھہرا تھا، اس لئے ہندستانی حاجیوں سے میری واقفیت نہ ہوسکی۔ البتہ میرے تھکے
ثانی اثنین نے ٹیلی فون پر بتایا تھا کہ نور الدین آزاد صاحب (بمبئی) حج کے لئے جا رہے ہیں۔ لئے ان سے ملنے کی خواہش تھی۔ میں نے کئی دن ادھر ادھر دیکھا۔ مگر وہ نظر نہ پڑے۔ ان کی قیام گاہ کا مجھے علم نہ تھا۔ آخر میں مایوس ہو گیا۔ اور بطور خود سمجھ لیا کہ اب ان سے مکہ میں ملاقات نہ ہو سکے گی۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ ۴ ستمبر کی شام کو میں حرم میں لیٹا ہوا تھا کہ خواب میں دیکھا کہ میں حرم میں داخل ہوا ہوں تو سامنے نور الدین آزاد صاحب کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ بعینہ اسی صورت میں اگلے دن (یکم اکتوبر کو) پیش آیا۔ میں داخل ہو کر ابھی صحن میں کھڑا تھا کہ اچانک نور الدین آزاد صاحب نظر پڑ گئے۔ ساتھ بمبئی کے کچھ اور حجاج سے ملاقات ہوئی۔
۴ اکتوبر ۱۹۸۲ کی شام ہم نے طواف وداع کیا، اور رات کو مکہ سے مدینہ کے لئے روانہ کعبہ کا آخری طواف کر کے جب میں حرم سے نکلا تو میری عجیب کیفیت تھی۔ بار بار مڑ کر حرم کو دیکھتا تھا۔ قدم آگے کی طرف بڑھ رہے تھے اور دل پیچھے کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میں اپنے وطن اصلی سے نکل کر اپنے دار الہجرت کی طرف جا رہا اس طرح کی کیفیات کے ساتھ ہم مسجد حرام سے رخصت ہو کر ۴ اکتوبر کی شب کو مکہ سے مدینہ کے لئے روانہ ہوئے۔
مکہ میں حراء وغیرہ دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ مدینہ میں مسجد نبوی کے علاوہ بدر، جبل احد، مسجد قبا، جبل جن، وادی عقیق، جنت البقیع وغیرہ مقامات دیکھے۔ کی جامعۃ الاسلامیہ (مدینہ یونیورسٹی) بھی دیکھی۔ وہاں کے اعلیٰ ذمہ داروں (رئیس اور امین عام وغیرہ) سے ملاقات ہوئی۔ یہ سب لوگ الاسلام المتحدی کو پڑھے ہوئے تھے۔ ۹ اکتوبر ۱۹۸۲ کو مدینہ یونیورسٹی کے طلبہ کے سامنے ایک تقریر ہوئی ۔ زیادہ تر ہندوستانی اور کچھ عرب طلبہ اجتماع میں شریک تھے۔ تقریر کا موضوع یہ تھا کہ امت مسلمہ کا اصل مقصد دعوت الی اللہ ہے نہ کہ اس قسم کی سیاسی اور قومی سرگرمیاں جو آج تمام مسلم ملکوں میں پائی جا رہی ہیں۔
حرم نبوی میں داخلہ بڑا اثر انگیز تھا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کی ایک پوری تاریخ آنکھوں کے سامنے گھوم گئی۔ میری زبان سے یہ دعا نکلی کہ خدایا، میں تیرے رسول پر صلوۃ و سلام مجھ کو اپنے رسول کی امت میں شامل کر لے ۔ مجھ کو ان لوگوں میں لکھ لے جن
کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن شفاعت فرمائیں گے۔ اور جن کی شفاعت کو قبول کرکے آپ انہیں جہنم سے بچا لیں گے اور جنت میں داخل کریں گے۔ عجیب ہے وہ دن جو آچکا ہے اور کیسا عجیب ہے وہ دن جو آنے والا ہے۔
۵ اکتوبر ۱۹۸۲ کو ہم مدینہ پہنچے۔ راستہ میں بدر اور دوسرے مقامات ملے۔ مگر آج کا ” بدر “ بس نام کا بدر ہے۔ اس کو دیکھ کر حافظہ کے خانہ میں ضرور یہ تصور جاگتا ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام اور غیر اسلام کی پہلی فیصلہ کن جنگ لڑی گئی تھی۔ مگر موجودہ بدر کا ظاہری ماحول اس کی تصویر پیش کرتا ہوا نظر نہیں آتا۔ تاہم بعض شہداء بدر کی قبریں اب بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔
مدینہ میں ہمارا قیام مسجد نبوی کے بالکل قریب ایک ہوٹل میں تھا۔ اذان اور تکبیر تک کی آواز ہمارے کمرہ میں پہنچتی تھی۔ کئی دن تک مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی توفیق نصیب مگر نمازیوں کا ہجوم اس قدر ہوتا ہے کہ بمشکل کسی کو سکون اور توجہ کے ساتھ نماز پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ مکہ کے قیام کے ابتدائی دنوں میں میرے ساتھ یہی صورت پیش آئی اس کے بعد میں مسجد حرام کی اوپر کی منزل پر نماز پڑھنے لگا۔ وہاں مجھے کافی سکون رہتا مسجد نبوی کو معلوم نہیں کس مصلحت کی بنا پر دو منزلہ نہیں بنایا گیا کہ میرے جیسا کوئی آدمی وہاں پناہ لے سکے۔
مسجد نبوی غیر معمولی طور پر وسیع اور شاندار ہے۔ مگر زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد نے، تمام وسعتوں کے باوجود اس کو ناکافی بنا دیا ہے۔ تاہم میرے جیسے آدمی کے لئے یہ منظر کوئی خوشگوار منظر نہ تھا کہ مسجد نبوی کے اطراف کو دکانوں اور ہوٹلوں نے گھیر رکھا ہے۔ صرف ایک طرف کا حصہ دکانوں اور ہوٹلوں سے خالی ہے جس کے اوپر خیمہ نما تعمیرات نمازیوں کے لئے کھڑی ہوئی ہیں۔ کاش مسجد کے چاروں طرف کھلا ہوا میدان ہوتا تو مسجد کی عظمت زیادہ نمایاں ہوتی۔
آج کے مدینہ میں قدیم زمانہ کے مدینہ کا کوئی منظر دکھائی نہیں دیتا۔ آج کا مدینہ بس جدید طرز کی عمارتوں کا ایک شہر ہے۔ تاہم وہ جدید طرز کی شہری منصوبہ بندی کی خصوصیات سے خالی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نو تعمیر عمارتوں کا ایک جنگل ہے جو عدم تخطیط کی زمین پر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ غالباً اسی عدم تخطیط یا سوء تخطیط کا یہ نتیجہ ہے کہ مسجد نبوی
کے چاروں طرف اس کے شایان شان زمین خالی چھوڑی نہ جاسکی۔
یہی حال مکہ کا ہے اور یہی حال مدینہ کا ، مکہ اور مدینہ دونوں اسلامی تاریخ کے اہم ترین مقامات ہیں۔ سو سال پہلے یہاں کثرت سے تاریخی آثار موجود تھے۔ مجاہدین نے ان تمام آثار کو بدعت کے مقامات قرار دے کر مٹا دیا۔ ہمارے مصلحین کو واقعہ کا صرف ایک پہلو معلوم تھا۔ یہ کہ یہاں بعض جاہل قسم کے لوگ بدعتی افعال کرتے انہیں اس کی خبر نہ ہوسکی کہ یہ اسلامی تاریخ کے زندہ نشانات ہیں۔ اور ان کو مٹا کر وہ اسلامی تاریخ کو اس کے ایک قیمتی جزرسے محروم کر رہے ہیں جس کی تلافی کبھی ممکن موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں علمی ذوق کی کمی نے اسلام کو کیسے کیسے نقصانات پہنچائے ہیں۔
۴ ستمبر ۱۹۸۲ کو حج کے مناسک کی تکمیل ہوئی ۔ اور ہم دوبارہ مکہ واپس آئے۔ دار الثقافہ (مکہ) کی طرف سے ہر سال حاجیوں کے اعداد و شمار شائع کئے جاتے ہیں ۔ کے اعلان کے مطابق اس سال (۱۴۰۲ھ) سعودی عرب کو چھوڑ کر دوسرے تمام ممالک سے آنے والے حاجیوں کی کل تعداد ۸۵۳۵۵۵ تھی۔ زیادہ تعداد والے چند ملکوں کے نام یہ ہیں:
۹۸۲۰۸ مصر ۰۱ ۸۹۵۰۳ ایران ۰۲ ۸۱۱۲۸ نائیجیریا ۰۳ ۷۲۸۴۴ پاکستان ۰۴ ۵۷۲۷۸ انڈونیشیا ۰۵ ۵۳۶۸۸ ترکی ۰۶ ۴۰۲۰۰ الجزائر ۰۷ ۲۷۸۹۰ شام ۰۸ ۲۶۲۲۹ ہندوستان ۰۹ سعودی حکومت کے بے شمار انتظامات نے موجودہ زمانہ میں حج کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ تاہم ایک چیز ایسی ہے جس کا اس کے پاس شاید کوئی حل نہیں۔
وہ حاجیوں کا ہجوم ہے۔ خاص طور پر شیطان کو پتھر مارنے کے موقع پر لوگ جس طرح بیک دوسرے کے اوپر ٹوٹتے ہیں وہ انتہائی حد تک افسوس ناک ہے۔ بے شمار انسان ایک وقت شیطان کو مارنے کے لئے اس طرح ہجوم کرتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علامتی شیطان کو کنکری مارنے کا انہیں اتنا جوش ہے کہ اس کی خاطر وہ حقیقی انسان کو کچل دینا خدا کے ایک حکم کی تعمیل کے شوق میں خدا کے دوسرے حکم کو نظر انداز کرنے کی اس سے زیادہ بری مثال اب تک میں نے اپنی نگاہوں سے نہیں دیکھی تھی۔ کئی آدمی ایسے نظر پڑے جن کے ہاتھ یا پاؤں میں پلاسٹر بندھا ہوا تھا۔ ایک منظر یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ رمی کے وقت ایک حاجی گر پڑا اور حاجیوں کے قدموں کے نیچے کچل کر ختم ہو گیا۔ بتایا کہ اس طرح کے واقعات ہر سال ہوتے رہتے ہیں۔ کیسا عجیب ہے وہ حج جس میں انسانی دشمن کی ایک علامت کو مارنے کے جوش میں خود انسان کو مار ڈالا جائے۔ حج ایک قسم کا تجدید ایمان ہے ۔ حج سے پہلے کا ایمان گویا ایک موقت ایمان ہے۔ اس کے بعد مومن جب مکہ پہنچتا ہے اور لبیک لبیک کہہ کر بیت اللہ کا طواف کرتا ہے تو گویا وہ اپنے ایمان کی تجدید کرتا ہے ۔ وہ براہ راست خدا سے "بیعت" ہوتا ہے۔ حج کے بعد گناہوں کی معافی عین اس قانون کے تحت ہے جو قبولیت اسلام سے اسلام قبول کرنے کے بعد آدمی کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ کے ساتھ یہ معاملہ ایمان اول کے بعد شروع ہو جاتا ہے۔ اور ایمان ثانی کے بعد گویا اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ ایمان اول اگر بالواسطہ ایمان تھا تو ایمان ثانی براہ راست ایمان ہے۔ معذوری کی حالت میں ایمان اول ہی خدا کی رحمت سے آدمی کے گناہوں کی معافی کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔ مگر صاحب استطاعت کے لئے ایمان ثانی کے بعد اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ شاید اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص استطاعت رکھتا ہو اور پھر بھی حج ادا کئے بغیر مر جائے تو خدا کو اس کی پروا نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرا یا نصرانی ہو کر مرا (من ملك زاداً وراحلة تبلغه حج بيت الله الحرام ولم يحج فلا عليه ان يموت يهوديا او نصرانيا، رواه الترمذي والبيهقي)
حقیقت یہ ہے کہ حج تمام عبادتوں کا سردار ہے۔ کعبہ کا جو درجہ دوسری مسجدوں کے درمیان ہے وہی درجہ حج کا دوسری عبادتوں کے درمیان۔
آپ کے نام مکرمی و محترمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اسلامی مرکز کی ابتدا نومبر ۱۹۷۰ء میں ہوئی۔ ۱۹۷۶ء میں ماہنامہ الرسالہ جاری ہوا۔ مکتبہ الرسالہ قائم ہوا۔ ان کا خاص مقصد اسلامی تعلیمات کو عصری اسلوب میں پیش کرنا تھا۔ بفضلہ تعالیٰ یہ کام اردو زبان میں کامیاب طور پر جاری ہے۔ فکری طور پر اسلامی مرکز کا فکر سب سے زیادہ غالب فکر بنتا جا رہا ہے۔ یہ مشن اب ملکی حدود سے گزر کر بین اقوامی حدود میں داخل ہو چکا ہے۔
اب یہ طے کیا گیا ہے کہ اسلامی مرکز کے منصوبہ کے تحت مزید شعبوں کو بھی باقاعدہ طور پر قائم کیا جائے مثلاً دار التصنیف، دار الترجمہ، جدید طرز کی اسلامی درس گاہ، داعیوں کی تربیت کا کورس، مختلف زبانوں میں پریس، مکمل اسلامی لائبریری۔ تربیتی اور تبلیغی ادارہ، الرسالہ کا انگریزی اور عربی ایڈیشن، مکتبہ الرسالہ کی کتابوں کی دوسری عالمی زبانوں میں اشاعت و طباعت کا انتظام وغیرہ اس جامع منصوبہ کو بروئے کار لانے کے لئے کثیر وسائل کی ضرورت ہے۔ کارکنوں کی ایک ٹیم اور دوسرے ضروری وسائل کے بغیر یہ کام نہیں کیا جا سکتا۔ اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے ہم کو آپ کے خصوصی مالی تعاون کی شدید ضرورت ہے۔
ہماری آپ سے اپیل ہے کہ آپ خود بھی اس مالی تعاون میں حصہ لیں اور اپنے حلقہ تعارف میں دوسروں کو بھی اس اہم ترین دینی کام میں حصہ لینے پر آمادہ کریں۔ واضح ہو کہ اسلامی مرکز میں ہر نوعیت کے مختلف شعبے ہیں۔ اور ان کے لئے عام عطیات و تعاون کے علاوہ زکوۃ و صدقات کی مد کی رقمیں بھی بھیجی جا سکتی ہیں۔ رقم بھیجتے ہوئے براہ کرم اس کی مد کی صراحت فرمائیں۔
اسلامی مرکز کا مقصد دور جدید میں اسلام کا احیاء اور ملت اسلامی کی تعمیر ہے۔ وقت کا اہم ترین کام ہے۔ ہم کو پوری امید ہے کہ آپ اس سلسلے میں ہمارے ساتھ مالی تعاون کریں گے اور اپنے بس بھر اس میں پوری شرکت فرمائیں گے۔