روزہ اور عید
Al-Risala, August 1983, p. 2
By Maulana Wahiduddin Khan
روزہ ہماری دنیا کی زندگی کی علامت ہے اور عید ہماری آخرت کی زندگی کی علامت۔ روزہ گویا امتحان ہے اور عید اس کا انجام۔ روزہ پابندیوں کا مرحلہ ہے اور عید آزادی کا مرحلہ۔ روزہ مشقت اور محنت کا دور ہے اور عید آرام اور خوشی کا دور۔
روزہ میں صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک کی ساری زندگی طرح طرح کی پابندیوں میں گزرتی ہے۔ یہ کرو اور وہ نہ کرو، اس وقت کھاؤ اور اس وقت نہ کھاؤ، کب سوؤ اور کب بستر سے اٹھ جاؤ۔ غرض پورا ایک مہینہ اس طرح گزارا جاتا ہے گویا کہ آدمی کی پوری زندگی دوسرے کے قبضہ میں ہے۔ آدمی کو اپنی مرضی پر نہیں، بلکہ دوسرے کی مرضی پر چلنا ہے۔ اس طرح روزہ آدمی کو یہ سبق دیتا ہے کہ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح خدا کی نگرانی میں دئے ہوئے ہو، وہ ہر معاملہ میں خدا کے حکموں کی پابندی کر رہا ہو۔
اس طرح کے ایک پرمشقت مہینہ کے بعد عید کا دن آتا ہے۔ عید کے دن اچانک تمام احکام بدل جاتے ہیں ۔ پہلے روزہ رکھنا فرض تھا، اب روزہ رکھنا حرام ہے۔ ضرورتوں تک پر پابندی لگی ہوئی تھی اب کہہ دیا گیا کہ آزادی سے گھومو پھرو اور خوشیاں حتی کہ غریبوں کے لئے صاحب حیثیت لوگوں پر صدقہ فطر مقرر کیا گیا تاکہ وہ بھی آج کے دن کی خوشیوں سے محروم نہ رہیں۔ یہ گویا آخرت کی زندگی کی ایک تصویر ہے۔ یہ اس دن کو یاد دلاتا ہے جب کہ خدا کے سچے بندوں پر سے ہر قسم کی پابندیاں اٹھالی جائیں گی۔ آرام اور ابدی خوشی کی جنتوں میں داخل کر دئے جائیں گے، خواہ آج وہ ظاہر بہنوں کو کمزور اور بے قیمت کیوں نہ نظر آتے ہوں ۔
حقیقت یہ ہے کہ روزہ اور عید ہماری زندگی کے دو مرحلوں کی یاد دلانے کے لئے ہیں۔ روزہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کے مرحلہ میں ہمیں کس طرح رہنا ہے۔ اور عید ہم کو بتاتی ہے کہ آخرت کے آنے والے مرحلہ میں ہماری زندگی کیسی زندگی ہوگی۔ ایک دنیا کی زندگی کی ابتدائی علامت ہے اور دوسری آخرت کی زندگی کی ابتدائی علامت۔