Al-Risala · August 1983

پانے کے باوجود محروم

Al-Risala, August 1983, pp. 3–4

By Maulana Wahiduddin Khan

چارلی چپلن (۱۹۶۶-۱۸۸۹) فلمی دنیا کا ایک مشہور ترین آدمی تھا۔ وہ فلموں میں ہنسانے کا کردار ادا کرتا تھا۔ اس نے ۵۲ سالہ فلمی زندگی میں بے شمار دولت کمائی۔ چارلی چپلن ایک انگریز اس نے امریکہ میں فلمی ترقی حاصل کی اور پھر سوئٹزرلینڈ میں اس نے ۳ ایکڑ زمین خرید کر وہاں اپنے لئے ایک شاندار مکان بنایا۔ جب وہ مرا تو اس کی ملکیت میں دس ملین پونڈ موجود اس کو بڑے بڑے انعامات اور خطابات سے نوازا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ چارلی چپلن کو دنیا کے ہر حصہ میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کی تقریباً ۸۰ فلمیں ایسی ہیں جو مسلسل کہیں نہ کہیں دکھائی جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ ۱۹۱۷ء میں اپنی ابتدائی زندگی میں اس نے جن فلموں میں کام کیا تھا وہ فلمیں بھی ابھی تک تاجرانہ حیثیت سے کامیاب ہیں۔ ابتدائی فلمیں بھی آج محض تاریخی یادگار کے طور پر نہیں دکھائی جاتیں بلکہ جدید تفریح کے معیار سے ان کو دیکھا جاتا ہے۔ چارلی چپلن موجودہ زمانہ کا واحد فلمی کردار ہے جو اب بھی اتنے شوق سے دیکھا جاتا ہے۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ۳۰۰ ملین ایسے لوگ ہیں جنہوں نے چارلی چپلن کی ۸۰ فلموں میں سے ایک ایک فلم کو دیکھا ہے ۔

چارلی چپلن کی ابتدائی زندگی نہایت غربت میں گزری تھی ۔ چنانچہ بعد کو کثیر دولت کا مالک ہونے کے باوجود اس کو ہمیشہ یہ ڈر لگا رہتا تھا کہ کہیں وہ دوبارہ مفلس نہ ہو جائے ۔ اس نے ایک کے بعد ایک چار شادیاں کیں۔ آخر عمر میں وہ بالکل ناکارہ ہو گیا۔ اس کی زندگی وہیل چیئر (پہیہ دار کرسی) پر گزرتی تھی۔ اس کی نگاہ بے حد کمزور ہو گئی تھی۔ اس کے بولنے اور سننے کی طاقتیں جواب دے گئی تھیں۔ حقیقی چارلی چپلن بستر پر ناکارہ پڑا ہوا تھا۔ مگر فلمی چارلی چپلن بدستور سینما ہاوسوں میں لوگوں کی تفریح کا مرکز بنا ہوا تھا۔

چارلی چپلن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ”اس نے کسی بھی دوسرے انسان کے مقابلہ میں زیادہ لوگوں کو زیادہ خوشی دی اور زیادہ ہنسایا “ مگر اس کا اپنا انجام یہ ہوا کہ وہ آخر عمر میں اپنے بڑھاپے کو بے بسی کے ساتھ دیکھا کرتا تھا اور اس کا ہنسنا اس سے رخصت ہو چکا تھا ۔ ۲۵ دسمبر ، ۱۹۷۷ء کو چار بجے صبح اس وقت اس کا انتقال ہو گیا جب کہ صرف چند گھنٹے بعد اس کا خاندان کرسمس کی سالانہ تقریبات منانے کی تیاریاں کر رہا تھا۔

چارلی چپلن کے ایک سوانح نگار (Denis Gifford) نے اس کے انجام کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں:

وہ جب کام کرتا تھا تو وہ محض فلم سے کچھ زیادہ کی تخلیق کرتا تھا۔ ہنسی اور محبت کے ساتھ جینا، خواب اور امیدیں ۔ مگر ہمیشہ خوشیوں پر خاتمہ کہاں تھا، اگر بالآخر وہ کل کی سڑک پر قدم رکھنے سے زیادہ کچھ نہ ہو (آر ۔ ڈی جون ۱۹۷۸)

چارلی چپلن کی موت کے بعد ایک مبصر نے اس کی بابت حسب ذیل الفاظ لکھے تھے : Chaplin's life has been filled to the brim with what most lives consist of yearning after...... wealth and fame and creative play and beautiful women...... but he does not know how to enjoy any of the four. Max Eastman in Ladies Home Journal چارلی چپلن کی زندگی ان چیزوں سے آخری کنارے تک بھری ہوئی تھی جس کی دوسرے اکثر لوگ صرف تمنا کرتے ہیں دولت، شہرت، تخلیقی اداکاری اور خوبصورت عورتیں ۔ مگر اس کو نہیں معلوم تھا کہ ان چاروں میں کسی ایک سے بھی وہ کس طرح لطف اندوز ہو۔ چارلی چپلن کی یہ کہانی تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگ چارلی چپلن کی طرح پا کر محروم رہتے ہیں ۔ اور دوسرے لوگ پائے بغیر محروم۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں پانے والا بھی اتنا ہی محروم ہے جتنا نہ پانے والا ۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس سب سے بڑی حقیقت کو جانتے ہوں۔

امریکہ کی ایک نوجوان عورت نے خود کشی کر لی ۔ اس کی جیب میں ہاتھ سے لکھا ہوا ایک اس میں درج تھا : مجھے خوشی کی تلاش تھی ۔ اس کے لئے میں نے نشہ کا استعمال کیا۔ میں جنسی آوارگی کی حد تک گئی ۔ مگر مجھے کہیں خوشی نہیں ملی ۔ اب میں مایوس ہو کر اپنے آپ کو ۔ ختم کر رہی ہوں ۔

اکثر آزاد خیال مردوں اور عورتوں کا یہی حال ہے ۔ وہ خوشی کی تلاش میں سب کچھ کر ڈالتے مگر آخر میں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان کی تلاش کا جواب موجود نہیں۔ اس کے بعد کچھ مایوسانہ زندگی گزار کر طبعی موت مرتے ہیں اور کچھ لوگ جھنجھلاہٹ میں آکر خود کشی کر لیتے ہیں۔ کتنے بے خبر ہیں وہ لوگ جو اپنے کو جاننے والا سمجھتے ہیں ۔ کیسے ناکام ہیں وہ لوگ جن کا نام کامیاب انسانوں کی فہرست میں سب سے آگے لکھا ہوا ہے ۔

Printed page