Al-Risala · August 1983

Gurinder Singh Mandla: Broke school rules

Al-Risala, August 1983, pp. 10–19

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک سکھ نوجوان گورندر سنگھ منڈلا (۱۸ سال) پارک گروو اسکول (برمنگھم) میں پڑھتا تھا۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر مسٹرلی (Audley Dowell Lee) نے اس کی پگڑی پر اعتراض کیا۔ اسکول یونیفارم کے خلاف تھا۔ سکھ طالب علم نے اس کی تعمیل نہیں کی ۔ چنانچہ ہیڈ ماسٹر نے اس کا نام اسکول سے خارج کر دیا ۔

اس کیس کو فیڈریشن آف سکھ آرگنائزیشن نے اپنے ہاتھ میں لیا ۔ انہوں نے اس پر پچاس ہزار پونڈ خرچ کئے اور پانچ سال تک مقدمہ لڑتے رہے ۔ وہ عدالت سے اپنا مقدمہ ہار گئے۔ تا ہم وہ ہمت نہیں ہارے ۔ اب انہوں نے اپنا مسئلہ برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز میں پیش کیا۔ ہاؤس آف لارڈز نے کافی بحث و مباحثہ کے بعد فیصلہ دیا کہ برطانیہ کے قانون نسلی تعلقات کے تحت سکھ طالب علم کو پگڑی پہننے سے روکا نہیں جاسکتا ۔ کیونکہ )Race Relations Act( یہ ان کے خلاف ایک امتیاز (Discrimination) کا معاملہ ہوگا ۔ اس فیصلہ سے ان تمام سکھوں کو فائدہ پہنچے گا جو دو لاکھ پچاس ہزار کی تعداد میں برطانیہ میں آباد ہیں۔ انگریز اپنی روایات کے بے حد پابند ہیں ۔ وہ اسکول یونیفارم کے معاملہ میں اس قسم کی خلاف ورزی کو سخت ناپسند کرتے ہیں ۔ مگر قانون کی موجودگی میں وہ دھاندلی کا طریقہ اختیار نہیں کرسکتے تھے ۔ اس لئے سخت ناپسندیدگی کے باوجود انہوں نے سکھوں کو یہ اجازت دیدی کہ وہ اسکول یونیفارم کی خلاف ورزی کریں ۔ اور پگڑی پہن کر اسکول میں آئیں ۔ کو نہ توڑنے کا یہی مزاج ہے جو کسی قوم کو کرپشن سے بچاتا ہے۔ اصول کو توڑنا روایت کو توڑنا ہے۔ اگر آپ غیروں کی ضد میں اصول توڑیں تو اپنوں کے درمیان بھی آپ اصول کا احترام باقی نہیں رکھ سکتے۔ انگریزوں نے جب عراق پر قبضہ کیا تو اس زمانہ کا ایک لطیفہ ہے جو انگریزی قوم کے مزاج کو بہت خوبی کے ساتھ بتاتا ہے ۔ سرپرسی کاکس (Sir Percy Cox) بصرہ میں انگریز گورنر کی حیثیت سے مقیم تھا۔ کہا جاتا ہے کہ صبح کے وقت قریب کی مسجد سے موذن نے فجر کی اذان دی۔ سرپرسی کاکس کے لئے یہ نئی آواز تھی ۔ اس نے متعجب ہو کر پوچھا کہ یہ کیسی آواز ہے۔ بتایا گیا کہ یہ

مسلمانوں کی اذان ہے ۔ وہ ہر نماز کے وقت نمازیوں کو باخبر کرنے کے لئے اس قسم کی اذان دیتے سر پرسی کا کس نے کہا :

" اس سے ہمارے ایمپائر کو کوئی خطرہ تو نہیں "

کہا گیا کہ نہیں ۔ اس نے کہا ؛ پھر انہیں کرنے دو جو وہ کر رہے ہیں ۔ اس سے انگریز قوم کا مزاج معلوم ہوتا ہے اور غالباً ان کا یہ مزاج بھی سکھوں کو پگڑی کا حق دینے کا سبب ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں نے نو آباد یاتی دور میں انگریزوں کے اس مزاج کو استعمال نہیں کیا ۔ مثلاً اگر وہ غیر مسلموں میں تبلیغ و دعوت کا کام کرتے تو انگریز قطعاً اس میں رکاوٹ نہ ڈالتے ۔ بلکہ تاریخی ریکارڈ سے ثابت ہے کہ انگریزوں نے خود یہ چاہا کہ مسلمان سیاسی لڑائی چھوڑ کر تعلیم اور تبلیغ کے کام میں لگ جائیں ۔ جس میں ان کے نزدیک ان کی ایمپائر کے لئے کوئی خطرہ نہیں تھا ۔ اگر مسلمان اس موقع کو استعمال کرتے تو آج یقینی طور پر تاریخ بالکل دوسری ہوتی ۔ جس عمل کو انگریز اپنے ایمپائر کے لئے بے خطر سمجھتا تھا ، اسی میں سارے باطل ایمپائر کی موت چھپی ہوئی تھی لیکن مسلم لیڈروں کو سب کچھ معلوم ہے مگر یہی اہم ترین بات ان میں سے کسی کو نہیں معلوم ۔

مسلم قوموں کا تقابل اگر موجودہ زمانہ کی مغربی قوموں سے کیا جائے تو ایک عجیب فرق نظر آئے گا۔ مغربی قوموں میں حقیقت پسندی ہے اور مسلم قوموں میں جذباتیت ۔ فرق اتنا زیادہ عام ہے کہ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں نظر آتا ہے ۔ ادب ، سیاست ، معاشرت، اقتصادیات ، تعلیم ، غرض کوئی شعبہ اس سے خالی نہیں ۔

اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ جدید دور میں مغربی قوموں کا مزاج سائنس کی فضا میں بنا اور مسلمانوں کا مزاج سیاست کی فضا میں ہیں ۔ اور یہ ایک معلوم واقعہ ہے کہ سائنس حقیقت پسندی پیدا کرتی ہے اور سیاست جذباتی ہنگامہ آرائی ۔

ہم میں سے جن لوگوں کی عمریں پچاس سال سے اوپر ہیں ، ان کو ہندوستان کی تقسیم سے پہلے کے وہ مناظر اچھی طرح یاد ہیں جب کہ " تقسیم ہند “ کو مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل سمجھ لیا گیا تھا ۔ اقبال اس نظریہ کو پیش کرنے کے نتیجہ میں مفکر اعظم اور محمد علی جناح اس کو لیکر اٹھنے کی بنا پر قائد اعظم بن گئے تھے ۔

لندن کے قیام کے زمانہ میں مجھے ایک کتاب پڑھنے کو ملی جس میں اس گزرے ہوئے دور کا

ایک عبرت ناک ور ق موجود تھا۔ یہ ورق یہاں نقل کرنے کے قابل ہے ۔ مارچ ۱۹۴۰ میں لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس ہوا جس میں ”پاکستان“ کی تجویز اتفاق رائے سے منظور ہوئی۔ مسٹر جناح اس اجلاس کے صدر تھے ۔ انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا : The problem in India is not of an inter-communal character but manifestly of an international one, and it must be treated as such. So long as this basic and fundamental truth is not realized, any constitution that may be built will result in disaster and will prove destructive and harmful not only to the Musalmans but to the British and Hindus also. If the British government are really in earnest and sincere to secure peace and happiness of the people of this sub-continent, the only course opened to us all is to allow the major nations separate homelands by dividing India into 'autonomous national states.' There is no reason why these states should be ant- agonistic to each other. On the other hand, the rivalry and the natural desire and efforts on the part of one to dominate the social order and establish political supremacy over the other in the govern- ment of the country will disappear. It will lead more towards natural goodwill by international pacts between them, and they can live in complete harmony with their neighbours. This will lead to further a friendly settlement all the more easily with regard to minorities by reciprocal arrangments and adjustments between Muslim India and Hindu India, which will far more adequately and effectively safeguard the rights and interests of Muslims and various other minorities "ہندوستان کا مسئلہ دو فرقوں کا مسئلہ نہیں بلکہ دو قوموں کا مسئلہ ہے، اور اس کو اسی طرح حل کیا جانا چاہئے۔ اس بنیادی حقیقت کو جب تک تسلیم نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک جو دستور بھی بنایا جائے گا وہ تباہ کن ہوگا ۔ وہ نہ صرف مسلمانوں کے لئے نقصان کا باعث ہوگا بلکہ برطانیہ اور ہندوؤں کے لئے بھی ۔ برطانی حکومت اگر فی الواقع اس برصغیر کے لوگوں کو امن اور خوشی دینا چاہتی ہے تو ہم سب کے لئے ایک ہی کھلا ہوا راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم ملک کو آزاد قومی ریاستوں میں تقسیم کر کے ہر ایک کو علیحدہ وطن دیدیں۔ اس کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ ریاستیں کیوں ایک دوسرے کی مخاصم ہو جائیں گی۔ اس کے بجائے یہ ہوگا کہ اس کے بعد باہمی رقابت اور ایک دوسرے کے اجتماعی نظام پر غلبہ حاصل کرنے کا جذبہ اور ایک دوسرے پر سیاسی برتری حاصل کی خواہش ختم ہو جائے گی ۔ اس طرح کی تقسیم ان کے درمیان مزید بین الاقوامی معاہدات کے ذریعہ باہم اچھے تعلقات کا سبب ہوگی ۔ اور وہ کامل ہم آہنگی سے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اس کے بعد زیادہ آسانی کے ساتھ یہ ممکن ہو جائے گا کہ اقلیتوں کے بارہ میں دو طرفہ بنیاد پر دوستانہ معاملہ کیا جا سکے اور مسلم انڈیا اور ہند و انڈیا کے درمیان بہتر تعلقات قائم

کے جاسکیں جو زیادہ مناسب اور زیادہ مؤثر طور پر مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے گا۔ اس تقریر کو پڑھ کر مجھے خیال آیا کہ جن خوبصورت الفاظ پر چالیس سال پہلے پوری قوم کی قوم دوڑ پڑی تھی وہ الفاظ حقیقتِ واقعہ سے کتنا زیادہ دور تھے ۔ لندن میں میری ملاقات بہت سے ہندوستانیوں اور پاکستانیوں سے ہوئی ۔ سب سے زیادہ عجیب بات جو میں نے محسوس کی وہ یہ کہ آزاد اور مدنی کے سیکولر ہندوستان اور اقبال اور جناح کے اسلامی پاکستان سے زیادہ یہ لوگ انگریزوں کے لندن میں اپنے آپ کو محفوظ اور کامیاب سمجھتے ہیں ، وہی انگریزوں کا لندن جس کو دونوں گروہوں نے مشترک طور پر جہنم فرض کر لیا تھا اور اپنے خوابوں کے دیس کو اپنے لئے جنت یقین کر رکھا تھا ۔

امریکہ کے سابق صدر مسٹر رچرڈ نکسن نے ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے قائدین (Leaders) اس کتاب میں بہت سی دوسری باتوں کے علاوہ مصنف نے ہندوستان اور پاکستان کے لیڈروں کے بارہ میں بھی اپنے خیالات پیش کئے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ جنگِ عظیم ثانی کے بعد کی تاریخ میں بے معنی فوجی اخراجات کی سب سے زیادہ المناک مثالوں میں سے ایک وہ ہے جو ہندوستان اور پاکستان کے جھگڑے کی صورت میں پائی جاتی ہے :

The Indo-Pakistani conflict was one of the most tragic examples of senseless military spending in post-war history. رچرڈ ڈنکسن کے الفاظ خواہ ہمیں کتنے ہی ناپسند ہوں ۔ مگر یہ خود ہمارے اپنے لیڈروں کے پیدا کردہ ہیں ۔ ہندوستان اور پاکستان کے موجودہ حالات اگر ایسے نہ ہوتے تو امریکہ کے سابق صدر کو یہ کہنے کی بھی جرأت نہ ہوتی ۔

یہاں جو ایشیائی مقیم ہیں ان کے دو سب سے بڑے مسئلے ہیں ۔ کا انہیں حقیر سمجھنا ۔ اور اپنے بچوں کے بارہ میں ان کی بے بسی ۔

انگریز قوم بے حد متحمل مزاج قوم ہے ۔ اس لئے بہت زیادہ کھلے طور پر ایشیائیوں سے اس کی بیزاری کا اظہار نہیں ہوتا ۔ مگر روزمرہ کی زندگی میں ایشیائیوں کو بار بار اس کا تلخ تجربہ اٹھانا پڑتا ہے ۔ مثلاً ایک ایشیائی خاندان کا بچہ ایک روز باہر سے آیا اور غم زدہ ہو کر اپنی ماں سے بولا ’’ ممی انگریز بچے ہم کو بلیک ( کالا ) کیوں کہتے ہیں ۔ ہم بلیک تو نہیں ہیں ‘‘ ایک صاحب جنہوں نے

انگریز خاتون سے شادی کی ہے۔ ان کے اپنے بچے جب خفا ہوتے ہیں تو اپنے والد کو کہتے ہیں "بلیک" جو بچے یہاں پیدا ہوتے ہیں وہ انگریزی اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ انگریزی ٹیلی وژن دیکھتے چنانچہ وہ صرف انگریزی میں بول سکتے ہیں وہ اپنے والدین کی زبان نہیں جانتے۔ حال یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں سے اپنی مادری زبان میں بات نہیں کرسکتے۔ اس سے بھی زیادہ بڑا مسئلہ بچوں کی آزادی ہے جو یہاں کا پورا ماحول انہیں سکھارہا ہے۔ موجودہ مغرب کا خاص مزاج ہے اپنے آپ سے باہر کسی اتھارٹی کو نہ ماننا۔ بچے یہاں کی فضا میں ہر وقت یہی سبق سیکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ نہ صرف خدا و رسول سے منحرف ہورہے ہیں بلکہ اپنے ماں باپ کی بات ماننے کو اپنی انفرادی آزادی کے خلاف سمجھتے ہیں۔ وہ صفائی سے کہتے ہیں کہ دوسرا کوئی شخص ہمارے اوپر پابندی کیسے لگا سکتا ہے ۔ ہم جو کچھ کریں گے اپنی سمجھ سے کریں گے نہ کہ دوسرے کی سمجھ سے۔ کچھ ایشیائی خاندان مقاومت کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ بہت سے خاندانوں نے حالات سے مصالحت کرلی ہے۔ ایک دیندار خاندان کی بچی جو اپنے گھر میں یہ سنتی تھی کہ صرف ذبیحہ کا گوشت کھانا چاہئے ۔ اس سے اسکول میں ایک دوسرے مسلمان خاندان کی بچی نے کہا کہ ہم لوگ ذبیحہ اور غیر ذبیحہ کا فرق نہیں کرتے ۔ ہم وہی کھاتے ہیں جو بازار میں ملتا ہے۔ پہلے خاندان کی بچی اپنے گھر آئی تو اس نے اپنی ماں سے کہا، "ممی آپ ہم لوگوں کو غیر ذبیحہ کا گوشت کھانے سے منع کرتی ہیں۔ فلاں مسلمان گھر کے لوگ غیر ذبیحہ کا گوشت کھاتے ہیں۔ کیا وہ مسلمان نہیں ہیں۔ کیا ہمارا اسلام دوسرا ہے اور ان کا اسلام دوسرا؟

ایشیائی لوگ مغربی ملکوں میں زیادہ کمائی کے لئے جاتے ہیں۔ تاہم میرے نزدیک اس کی بہت زیادہ اہمیت نہیں ۔ محنتی آدمی اپنے ملک میں بھی کافی کمائی کرسکتا ہے۔ اگر چہ یہ فرق ضرور ہے ہے کہ باہر جو کچھ کم محنت کرکے مل جاتا ہے اس کو اپنے ملک میں پانے کے لئے زیادہ محنت کا ثبوت دینا ہوگا ۔

البتہ مغربی ملکوں میں ایک خاص چیز ہے جو ہندوستان جیسے ملکوں میں موجود نہیں۔ ہے معاملات میں دیانت داری ۔ ایک صاحب نے لندن کی ایک دکان سے جوتا خریدا۔ ہی استعمال میں پھٹ گیا ۔ ان کے پاس خریداری کی رسید محفوظ نہ تھی ۔ تاہم انہوں نے جوتا کمپنی کے ہیڈ کوارٹر کو خط لکھا ۔ اس کے جواب میں ان کے پاس جو معذرت نامہ آیا اس کے ساتھ لفافہ میں پوری قیمت کا بینک چیک بھی موجود تھا ۔

یہاں پیدائش کے بعد فوراً ہی بچہ کو حکومت سے وظیفہ لینے کا حق ہو جاتا ہے۔ خواہ وہ بچہ ایک ایسے ماں باپ کا ہو جو یہاں اپنے ملکی پاسپورٹ پر مقیم ہیں۔ آپ کو صرف ایک بار ضروری فارم لینے کے لئے متعلقہ دفتر جانا پڑے گا۔ آپ فارم پر کر کے بھیج دیجئے اور ڈاک سے آپ کے یہاں ہر مہینہ چک کے ذریعہ وظیفہ کی رقم آتی رہے گی۔ لندن کے لوگ اگرچہ ایشیائی لوگوں سے نفرت کرتے ہیں۔ مگر قانونی طور پر ان کے جو حقوق ہیں ان کو دینے میں کبھی ان کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جاتا۔ سے امتیازی سلوک کرنا اپنے نظام کو خراب کرنے کی قیمت پر ہوگا ، اور وہ پسند نہیں کرتے کہ دوسروں کی ضد میں خود اپنے نظام کو خراب کر لیں۔

ایشیائی لوگوں سے امتیاز کی بات مجھ سے یہاں کے کچھ ایشیائی لوگوں نے کہی۔ اس کے بعد میں نے اس کا ذکر ایک انگریز سے کیا۔ اس نے کہا کہ یہ جنرلائزیشن ہے۔ یعنی جزئی واقعات کو عمومی واقعات بنا دیا گیا ہے۔ اس نے کہا کہ انگریزوں کے اندر نسلی تعصب نہیں پایا جاتا۔ عام انگریز ایشیائی لوگوں کو بھی اسی نظر سے دیکھتا ہے جس نظر سے وہ خود اپنے درمیان ایک دوسرے کو دیکھتا ہے۔ انگریز جنہوں نے نو آبادیاتی زمانہ دیکھا ہے ان میں کچھ احساس برتری ضرور ہے۔ مگر نئی نسل کے نوجوانوں میں ایسا بالکل نہیں۔

میں اب تک جن جن ملکوں میں گیا ہوں ، ان میں کم از کم ایرپورٹ پر مجھے سب سے زیادہ بہتر اخلاق کا ثبوت لندن میں ملا ہے۔ مثلاً نیویارک کے ایرپورٹ پر جن امریکی نوجوانوں سے میرا سابقہ پیش آیا ان میں سے اکثر کے اندر میں نے احساس برتری کی جھلک دیکھی۔ مگر لندن کے ہوائی اڈہ پر جو انگریز نوجوان ڈیوٹی پر متعین تھے ۔ انہوں نے ہمیشہ نرمی اور شرافت کا ثبوت دیا۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ انڈیا اور انگلستان کے درمیان تعلقات دوسرے تمام ملکوں کے مقابلہ میں زیادہ گہرے ہیں۔ اس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ ہندوستان اور بیرونی دنیا کے درمیان ٹیلی فونی کا ربط سب سے پہلے انگلینڈ کے واسطہ سے قائم ہوا۔ ایشیا اور یورپ کے یہ دو اہم ملک یکم مئی ۱۹۳۳ء کو ٹیلی فون کے ذریعہ مربوط ہوئے۔ آج بھی یہ حال ہے کہ ہندوستان سے بیرونی ٹیلی فون ٹرافک کا تقریباً چالیس فی صد حصہ لندن ہو کر گزرتا ہے۔

اس ٹیلی فون ربط کی پچاس سالہ تقریب ۳ مئی ۱۹۸۳ کو لندن اور نئی دہلی میں بیک وقت منائی گئی ۔ اس موقع پر تقریب کا آغاز کرتے ہوئے وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی نے وزیر اعظم انگلستان مسز مارگریٹ تھیچر سے ٹیلی فون پر بات کی۔

ہندوستان میں زندہ رہنے کے لئے آدمی کو دو چیزوں کی ضرورت ہے ـــــ قوتِ خریداری اور خریدی جانے والی چیز کے بارے میں جانکاری ۔ چونکہ زندگی کی ضروریات بے شمار ہیں ۔ کمانے اور قوتِ خرید حاصل کرنے میں اتنا مصروف ہونا پڑتا ہے کہ وہ ہر چیز کے بارے میں جانکاری حاصل نہیں کر سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں خریدار کو بار بار دھوکا کھانا پڑتا ہے ۔ وہ اپنی محنت سے کمائے ہوئے پیسہ کو بازار میں اس طرح دے دیتا ہے کہ اس کے بدلے میں اس کو ایسی چیز ملتی ہے جو چند دن کے استعمال کے بعد صرف اس کے مکان کے کباڑ میں اضافہ کرے ۔

لندن میں اور مغرب کے دوسرے شہروں میں یہ مسئلہ نہیں ہے ۔ یہاں آپ کو صرف ایک کام کرنا ہے۔ اور وہ یہ کہ آپ محنت کرکے کمائیں ۔ اگر آپ کے پاس رقم ہے تو آپ بازار سے اس اطمینان کے ساتھ خریداری کر سکتے ہیں کہ آپ جو چیز حاصل کرنا چاہتے تھے وہی چیز آپ نے پائی ہے نہ کہ کوئی دوسری حتیٰ کہ اگر آپ کے پاس بازار جاکر خریداری کرنے کا وقت نہیں ہے تو آپ اپنی ضرورت کی ہر چیز ٹیلی فون پر منگا سکتے ہیں ۔ اور اس طرح منگائی ہوئی چیز بھی دوبارہ عین آپ کی مرضی کے مطابق ہوگی ۔

مغربی قوموں میں یہ چیز غالباً سائنسی روایات سے آئی ہے ۔ سائنس حقیقت پسندی کا ذہن پیدا کرتی ہے اور یہ تمام خصوصیات بلا شبہ حقیقت پسندی کے مختلف نتائج ہیں۔ ۲۵ مارچ کو لندن میں میری قیام گاہ پر ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ معلوم ہوا کہ ڈاکٹر رشید صدیقی مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ موصوف یو کے اسلامک مشن (لندن) کے صدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے یہاں میرا پر وگرام رکھنا چاہتے ہیں میں نے رضا مندی دیدی ۔ لندن سے میری روانگی ۲۹ مارچ کو تھی، اس لئے یہ طے ہوا کہ ۲۸ مارچ ۱۹۸۳ کی شام کو پروگرام رکھا جائے ۔ یو کے اسلامک مشن کا صدر دفتر لینڈس ڈاؤن روڈ (لندن) میں قائم ہے۔ اس کے علاوہ انگلستان میں اس کی ۳۵ شاخیں ہیں ۔ مرکزی دفتر میں کچھ تعلیم یافتہ افراد جمع ہوئے۔ سوال وجواب کی صورت میں بات چیت ہوئی ۔ مختلف دینی موضوعات زیرِ بحث آئے ۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ جہالت ہے۔ اگر وہ تعلیم یافتہ ہوجائیں تو ان کے اکثر مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے ۔ یہ سن کر ایک نوجوان نے کہا :

مغرب میں تو تعلیم بہت عام ہے۔ مگر یہاں کے مسائل ابھی تک حل نہیں ہوئے۔

یہاں کے لوگ اب De-learning کی بات کرنے لگے ہیں ۔ وہ اب سوچ رہے ہیں کہ بے تعلیمی شاید زیادہ بہتر طور پر انسانی مسائل کو حل کرے گی ۔

مذکورہ مسلم نوجوان انگلستان کے ایک انگریزی پر چہ میں کام کرتے ہیں ۔ میرے دل میں آیا کہ میں ان سے کہوں کہ آپ جو اپنے وطن سے آکر یہاں رہ رہے ہیں تو کیا یہاں آپ اپنی بے علمی کی قیمت پا رہے ہیں ۔ اگر بے علمی کا حل ہو تو آدمی کو سب سے پہلے اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو بے علم بنانا چاہئے ۔ مگر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے علم کو نمبر ایک اہمیت دیتے ہوئے ہیں اور ملت کے بچوں کو وہ بے علمی کا سبق دے رہا ہے ۔ یہی غیر سنجیدگی ہے جس نے موجودہ زمانہ میں ہمارے تمام مسائل پیدا کئے ہیں ۔

مصر کے سابق صدر جمال عبد الناصر کے بارہ میں مشہور ہے کہ انہوں نے ایک تقریر میں اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ، نحن ابناء الفراعنہ سنز ميكم فى البحر( (ہم فرعونوں کی اولاد ہیں۔ ہم تم کو سمندر میں پھینک دیں گے) لندن میں معلوم ہوا کہ یہ سراسر یہودیوں کی اختراع تھی۔ انہوں نے خود سے اس کو وضع کرکے اس کو مشہور کر دیا تا کہ ان کے لئے زیادہ سے زیادہ اسلحہ جمع کرنے کا جواز فراہم ہو سکے ۔

انگلستان کے ایک مورخ ارسکن چائلڈرس (Erskine Childers) نے یہودیوں کی اکاذیب پر ایک کتاب لکھی ہے جس میں صدر ناصر کے مذکورہ فقرہ کا بھی جائزہ لیا ہے۔ نے اپنی تحقیق ناصر کی زندگی میں شروع کی تھی۔ اس نے جب اخبارات میں یہ رپورٹ پڑھی تو اس نے صدر ناصر کو خط لکھا کہ آپ نے یہ بات اپنی کس تقریر میں کہی ہے ، ناصر نے لکھا کہ مجھ کو یاد نہیں کہ میں نے کبھی یہ بات کہی ہو۔ تاہم میں نے اپنے عملہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ میری تمام تقریروں کا جائزہ لے ۔

ناصر کی تمام تقریروں کا ٹیپ موجود تھا ، وہ سب کا سب دوبارہ سنا گیا ۔ معلوم ہوا کہ یہ سراسر گھڑی ہوئی بات ہے۔ ورنہ ناصر نے کبھی ایسی بات نہیں کہی ، یہودیوں نے اپنے سیاسی مقصد کے تحت یہ جھوٹ گھڑا ۔ اور مسلمانوں کا حال چونکہ یہ ہے کہ اپنے مخالف کے بارہ میں ہر الٹی بات کو فوراً مان لیتے ہیں ۔ چنانچہ جو صدر ناصر کے مخالف تھے وہ اس کو لے اڑے ۔ چائلڈرس نے اپنی کتاب میں اس کی تفصیل بیان کی ہے ۔

راقم الحروف جمال عبد الناصر کا کسی درجہ میں بھی حامی نہیں ۔ مگر کسی آدمی کی طرف وہی

بات منصوب کرنی چاہئے جو فی الواقع اس نے کی ہو یا کہی ہو۔ مثلاً جمال عبد الناصر نے ۱۹۵۵ء میں نہرسوئز کو نیشنلائز کیا میں اس کو سراسر حماقت سمجھتا ہوں ۔ اپنی قیادت کو نمایاں کرنے کے سوا اس کا کوئی وجہ جواز نہیں ۔ نہر سوئز ایک بین اقوامی معاہدہ کے تحت برطانیہ اور فرانس کے زیر انتظام تھی ۔ یہ معاہدہ صرف چند سال بعد ختم ہونے والا تھا۔ اگر ناصر صبر کرتے تو چند سال بعد وہ اپنے آپ ختم ہو جاتا ، مگر ناصر نے اپنی قیادت کو نمایاں کرنے کے لئے غیر ضروری طور پر قبل از وقت اس کو نیشنلائز کیا اور اس کی قیمت مصر کو بہت بڑی تباہی کی صورت میں بھگتنی پڑی۔ ہانگ کانگ کو برطانیہ نے پٹہ پر چین سے لیا تھا ۔ اس کی مدت ۱۹۹۷ میں ختم ہونے والی ہے ۔ چینی بالکل خاموش بیٹھے ہوئے ہیں کہ جب یہ مدت ختم ہو تو معاہدہ کی تجدید نہ کر کے دوبارہ ہانگ کانگ پر اپنا قبضہ بحال کر لیں ۔ اسی طرح کیوبا میں ایک جزیرہ سابق معاہدہ کے تحت امریکی فوج کے قبضہ میں ہے ۔ اس کو بھی وہاں کا موجودہ حکمران کیسٹرو برداشت کر رہا حالانکہ وہ امریکہ کا سخت مخالف ہے ۔ وہ اس انتظار میں ہے کہ چند سال بعد جب معاہدہ کی مدت ختم ہو تو اس کی تجدید سے انکار کر دے اور اس طرح امریکی فوجوں کو واپس بھیج دے۔ مگر جمال عبد الناصر نے انتہائی غیر مدبرانہ طور پر نہر سوئز کو قبل از وقت قومی ملکیت میں لینے کا اعلان کیا اور اس کے نتیجہ میں مصر اور خود نہر سوئز دونوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ شاہ فاروق مصر کے آخری بادشاہ تھے۔ انہوں نے اپنے زوال کے وقت کہا تھا کہ دنیا میں بالآخر پانچ بادشاہ رہ جائیں گے ۔ چار تاش کا اور ایک برطانیہ کا ۔ شاہ فاروق کی یہ بات لفظ بلفظ درست ثابت ہوئی ۔ آج فی الواقع یہی پانچ بادشاہ دنیا میں باقی رہ گئے ہیں ۔ چار تاش کے ، کیونکہ تاش کے بادشاہ کو اپنی بادشاہت باقی رکھنے کے لئے کسی ملک کی وہ کاغذ کے ایک ٹکڑے پر بھی اپنی بادشاہت کو قائم رکھ سکتا ہے ۔ تک برطانیہ کے بادشاہ کا تعلق ہے ، اس کو برطانی قوم کی بڑھی ہوئی روایت پسندی نے قائم کر رکھا ہے ۔

اس وقت ملکہ الزبتھ برطانیہ کی تاجدار ہیں ۔ بادشاہ یا ملکہ کا لفظ بظاہر بڑا پرکشش معلوم ہوتا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بادشاہ یا ملکہ بننا اتنی زیادہ قیمت مانگتا ہے کہ اس کو جاننے کے بعد ایک حقیقت پسند آدمی کی نظر میں اس کی اہمیت بہت زیادہ گھٹ جاتی ہے۔ بادشاہ اپنے ملک کا سب سے بڑا قیدی ہوتا ہے ۔ لندن کے سفر کے زمانہ میں یہاں

کی ملکہ کے بارہ میں ایک دلچسپ مضمون نظر سے گزرا ۔ اس کا پہلا جملہ یہ تھا : Mystery is the Secret the Royalty (بادشاہت کا راز اس کا پراسرار ہونا ہے) اگر لوگ یہ جان لیں کہ بادشاہ بھی انہیں جیسا ایک انسان ہے تو بادشاہت کی جڑیں اکھڑ جائیں۔ " کو اگر یہ چاہتا ہے کہ وہ کوئل دکھائی دے تو اس کو سب سے دور کی شاخ پر بیٹھنا چاہئے، اور اسی کے ساتھ اپنے منہ کو بند رکھنا چاہئے، "لوگوں کے اوپر بادشاہ بننے کے لئے ضروری ہے کہ لوگ بادشاہ کو اپنے سے زیادہ عقل مند اور بڑا اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ بادشاہ مسلسل لوگوں سے دور رہے اور کم سے کم بولے۔ کہا جاتا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کبھی عوام کے درمیان ہنسی نہیں :

Printed page