Al-Risala · August 1983

She never smiled in public

Al-Risala, August 1983, pp. 19–22

By Maulana Wahiduddin Khan

برطانیہ کا بادشاہ برطانی لوگوں کی روایت پرستی کی بنا پر ابھی تک بادشاہ بنا ہوا ہے۔ مگر زمانہ کی تبدیلی نے موجودہ زمانہ کے بادشاہ کے لئے ایسے مسائل پیدا کردئے ہیں جن کا حل بظاہر آسان نہیں ۔

موجودہ زمانہ آزادی خیال کا زمانہ ہے ۔ جابرانہ حکومتیں بھی موجودہ زمانہ میں یہ نہیں کر پاتیں کہ وہ پریس کی آزادی پر پابندی لگا دیں ۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ لطیفہ مشہور ہے۔ کے جنرل ڈیگال جب اپنے ملک میں برسراقتدار آئے تو ابتدا اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے لئے انہوں نے کافی جبر سے کام لیا۔ لوگوں پر مظالم بھی کئے گئے۔ مگر اسی زمانہ میں مشہور فلسفی سارتر آزاد تھا اور حکومت کی پالیسیوں پر کھلی تنقیدیں کرتا تھا۔ کسی نے جنرل ڈیگال سے کہا کہ آپ کی حکومت نے سارترے کے مخالف قلم کو آزاد کیوں چھوڑ رکھا ہے۔ ڈیگال نے جواب دیا : سارترے جیسے لوگ حکومتوں کا ضمیر ہوتے ہیں اور ضمیر کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ برطانی پریس نے آجکل شاہی خاندان کے اندرونی حالات چھاپنے شروع کر دئے ہیں۔ لندن کے اخبار سن (Sun) نے شہزادی ڈائنا کے بارہ میں لکھا کہ محل کے باورچی خانہ میں وہ ننگے پاؤں تھیں اور ٹوسٹ پر مکھن لگا رہی تھیں۔ اس طرح کے انکشافات شاہی خاندان کی عظمت (Majesty) کو مجروح کرتے ہیں۔ چنانچہ ملکہ الزبتھ نے لندن کی عدالت میں مذکورہ اخبار کے خلاف مقدمہ دائر کیا کہ اس کو محل کی اندرونی باتوں کو چھاپنے سے روکا جائے ۔ اسی طرح ۱۹۸۲ میں جب مسٹر فاگن (Michael Fagan) محل میں داخل ہوا اور ملکہ کی

خواب گاہ تک پہنچ گیا جہاں وہ اکیلی تھیں تو لوگوں نے سوال کرنا شروع کیا کہ فلپ صاحب کہاں تھے : Where was Philip اس کے بعد اخباروں نے انکشاف کیا کہ چونکہ مسٹر فلپ (ملکہ کے شوہر) سوتے وقت خراٹا لیتے ہیں اس لئے ان کو ملکہ کے کمرہ میں سونے کی اجازت نہیں ۔ وہ رات کے وقت دوسرے کمرہ میں سوتے ہیں ، کالم نگار اپنی رپورٹ ان الفاظ پر ختم کرتا ہے :

It must be a hard life for the royal family these days trying to keep sane, trying to be both human and royal at the same time. The more they try to maintain that dignity in public, the more hysterical they are likely to get in private. And with cooks ready to tell all to the press, they have no place to laugh or cry. It is a dilemma of our times. شاہی خاندان کے لئے یقیناً یہ بڑی سخت زندگی ہے کہ ان حالات میں وہ اپنے آپ کو اعتدال پر قائم ایک ہی وقت میں وہ عام آدمی بھی ہوں اور بادشاہ بھی ۔ عوام میں وہ جتنا زیادہ اپنی شاہی عظمت کو باقی رکھنے کی کوشش کریں گے اتنا ہی زیادہ اندیشہ ہے کہ وہ اپنی نجی زندگی میں جذباتی بن ایسے باورچیوں کے ساتھ جو پریس کو ہر بات بتانے کے لئے تیار رہتے ہیں ، ان کے لئے نہ ہنسنے کا موقع باقی رہا ہے اور نہ چیخنے کا ۔ یہ ہمارے وقت کی ایک دو طرفہ مشکل ہے ۔ ایک ملکہ یا شہزادہ باہر سے دیکھنے میں لوگوں کو پرکشش معلوم ہوتے ہیں ۔ مگر ان کو اندر سے دیکھئے تو صورتِ حال بالکل مختلف ہوگی ۔

ہفتہ وار ٹائم (نیویارک) میں خطوط کے کالم میں شاہی تعاقب (Royal Hunt) کے عنوان کے تحت ایک خاتون لکھتی ہیں :

When I was little, I dreamed of marrying a prince. After reading about how the press pursues the princess of Wales I realize how nice it is that my prince is a pharmacist. جب میں چھوٹی تھی تو میں کسی شہزادہ سے شادی کرنے کا خواب دیکھتی تھی ۔ اب یہ پڑھنے کے بعد کہ پریس کس طرح شہزادی ویلز کا پیچھا کرتا ہے ، میری سمجھ میں آیا کہ یہ کتنا اچھا ہے کہ میرا " شہزادہ “ ایک دوا ساز ہے ۔

شاہی ادارہ کو باقی رکھ کر برطانی لوگ زبردست فائدہ اٹھار ہے ہیں ۔ شاہ اور ملکہ کا

لفظ برطانیہ میں سیکڑوں سال کی قابل احترام تاریخ رکھتا ہے۔ اس طرح شاہ اور ملکہ برطانی عوام کے لئے اتحاد اور اتفاق کا مرکزی نقطہ (فوکس) فراہم کرتے ہیں۔ یہ وہ فائدہ ہے جو اندرونی اتحاد کی صورت میں برطانیہ کو شاہی ادارہ سے حاصل ہوتا ہے۔

آسٹریلیا میں یہ ذہن ابھرا کہ آسٹریلیا کا مل طور پر برطانیہ سے موجودہ دستوری رشتہ کو ختم برطانیہ نے یہ کیا کہ شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈائنا کو وہاں بھیج دیا ۔ میں جن دنوں لندن میں تھا، دونوں شاہی افراد آسٹریلیا کے دورہ پر تھے ۔ ٹائمس (۲۶ مارچ ۱۹۸۳) نے رپورٹ شائع کی تھی کہ شاہی جوڑا جب سڈنی پہنچا تو عوام بیتاب ہو کر سڑکوں پر نکل پڑے۔ میں ایک شخص نے پلے کارڈ بلند کیا جس پر لکھا ہوا تھا کہ شاہ واپس جاؤ (Go Home Royals) ایک معمر خاتون لپک کر آئیں اور پلے کارڈ چھین کر اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ عظمت اور تقدس کی طویل روایت کے ساتھ آسٹریلیا کے شاہی دورہ نے وہاں کے معاملہ کو ٹھنڈا کر دیا۔ برطانیہ نے اگر چہ اپنا سیاسی امپائر کھو دیا ہے ۔ مگر اس نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ اپنی عالمی تصویر کو محفوظ رکھا ہے ۔ پاکستان ایرویز کے بعد برٹش ایرویز غالبا واحد ہوائی کمپنی ہے جس کے جہازوں میں چھ زبانوں کے ساتھ اردو زبان میں بھی ہدایات لکھی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس طرح انگریز اپنی عالمی تصویر کو باقی رکھے ہوئے ہیں ۔ اس سے ان کو زبردست سیاسی اور تجارتی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔

جو ممالک اب بھی ” برطانی کا من ویلتھ “ کے نام سے برطانیہ کی چھتری میں موجود ہیں۔ ان کو اپنے ساتھ باندھے رکھنے کے لئے بھی بادشاہت کا ادارہ بہت موثر ہے ، جب بھی کسی ملک میں ناراضگی کی لہر اٹھتی ہے تو انگریز اپنے بادشاہ یا ملکہ کو وہاں بھیج دیتے ہیں ۔ جا کر کیمرہ کے سامنے مسکراتا ہے اور ہاتھ ہلا کر لوگوں کو مبارک باد دیتا ہے ۔ اس کے بعد تمام مسئلے اپنے آپ ختم ہو جاتے ہیں۔

اس طرح برطانیہ نے اپنے پچھلے مقبوضات میں بہت بڑے پیمانہ پر اپنے اقتصادی مفادات محفوظ کر رکھے ہیں۔

لندن کے قیام کے زمانہ میں میں نے اپنی گھڑی میں تبدیلی نہیں کی تھی ۔ چنانچہ جب لندن میں چھ بجے کا وقت ہوتا تو میری گھڑی میں بارہ بج رہے ہوتے ۔ ایک مرتبہ جب میں نے اچانک اپنی گھڑی دیکھی تو ایک لمحہ کے لئے مجھے ایسا محسوس ہوا گو یا میں لندن والوں کے مقابلہ میں چھ گھنٹے

آگے ہوں ۔ مگر بہت جلد میری غلط فہمی دور ہوگئی جب مجھے یاد آیا کہ میرا آگے ہونا صرف اس بنا پر ہے کہ میں لندن میں بیٹھ کر دہلی کی گھڑی اپنے ہاتھ پر باندھے ہوئے ہوں ۔ اس طرح کی خوش فہمی اس وقت بڑی خطر ناک ہوتی ہے جب کہ وہ فکری اور اعتقادی روپ اختیار کر کے آدمی کے ذہن میں داخل ہو جائے ۔ ایسا آدمی اپنے جھوٹے تخیلات کی بنا پر بڑے بڑے اقدامات کر گزرتا ہے ۔ اور جب قانون قدرت کے مطابق وہ ناکامی سے دوچار ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کے لئے مزید غلطی یہ کرتا ہے کہ دوسروں کو اپنی ناکامی کا ذمہ دار قرار دے کر ان کے خلاف احتجاج اور شکایت کا طوفان جاری کر دیتا ہے ۔ پہلے اگر اس نے فرضی اقدام کی نادانی کی تھی تو اب وہ فرضی شکایت کی نادانی میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ وہ اپنے وقت اور اپنے مسائل کو بر باد کرتا رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ اپنے آخری انجام کو پہنچ کر قبر میں چلا جاتا ہے تا کہ وہاں تقدیر کے پردہ پر اپنی حقیقی تصویر کو دیکھے ، صرف اس قیمت پر کہ دوبارہ اس کے لئے لوٹنے یا تلافی کرنے کا موقع نہ ہو۔

واپسی کے وقت ایک عجیب لطیفہ پیش آیا۔ روم سے ہیں ایر انڈیا پر سفر کر رہا تھا ۔ ایر انڈیا میں انگریزی کے ساتھ ہندی میں اعلان ہوتا ہے ۔ اناؤنسر نے اعلان کرتے ہوئے کچھ الفاظ کہے تو مجھے سنائی دیا :

Printed page